اب ہم قرآن مجید کی آخری دو سورتوں (مُعَوِّذَتَین) کا مطالعہ کرنے جا رہے ہیں۔ یہ سورتیں گویا قرآن مجید کے اختتام پر دو پہرے دار ہیں۔ صحیح بخاری کی ایک روایت میں آتا ہے کہ مدینہ کے ایک یہودی نے حضورﷺ پر جادو کر دیا تھا۔ اس کی وجہ سے آپؐ بعض باتیں بھول جاتے تھے اور آپؐ کو جسمانی طور پر بھی تکلیف رہتی تھی ۔ اس صورتِ حال پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ سورتیں نازل ہوئیں۔ حضورﷺ ان سورتوں کی کثرت سے تلاوت کرتے رہے تاآنکہ آپؐ سے جادو کے اثرات زائل ہو گئے۔
جدید دور کے عقلیت پسند (rationalists) ’’اہل علم‘‘ خصوصی طور پر منکرین احادیث ایسی روایات کو تسلیم کرنے میں پس و پیش کرتے ہیں‘ بلکہ ان کے خیال کے مطابق توایسا سمجھنا حضورﷺ کی توہین کے مترادف ہے۔ اس قسم کے دلائل کاجواب یہ ہے کہ بلاشبہ حضورﷺ کامل ترین انسان ہیں اور معراجِ انسانیت کے درجے پر فائز ہیں۔ آپؐ کی عصمت و عظمت کے مراتب بلاشبہ ہمارے تصور سے بھی ماوراء ہیں‘ لیکن اس کے باوجود یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عام بشری کیفیات آپؐ کی ذات پر بھی اثر انداز ہوتی تھیں۔ مقامِ غور ہے کہ اگر حضورﷺ کو بخار ہو تا تھا‘ اگر آپؐ تلوار کے وار سے زخمی ہوئے تھے‘ اگر زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے آپؐ پر نقاہت طاری ہوئی تھی اور اگر آپؐ پر نزع کی تکلیف واردہوئی تھی تو آخر جادو آپؐ پر کیونکر اثر انداز نہیں ہو سکتا تھا۔ البتہ یہ بات واضح رہے کہ جادو کا اثر حضورﷺ کی جسمانی صحت تک محدود تھا‘ رسالت کا کوئی پہلو قطعاً اس سے متاثر نہ تھا۔ بہرحال جادو اپنی جگہ پر ایک حقیقت ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ حضورﷺ پر جادو کیا گیا اور اس کے منفی اثرات کی وجہ سے آپﷺ کو تکلیف کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اور اسی سبب سے اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی امت کو ان سورتوں کا بیش بہا تحفہ عطا کیا۔
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک روز رسول اللہﷺ نے مجھ سے فرمایا: حدیث((اَلَـمْ تَرَ آیَاتٍ اُنْزِلَتِ اللَّـیْلَۃَ لَمْ یُرَ مِثْلُـھُنَّ قَطُّ؟ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ))۱ یعنی تمہیں خبر ہے اللہ تعالیٰ نے آج رات ایسی آیات نازل فرمائی ہیں جن کی پہلے کوئی مثال نظر نہیں آتی؟ وہ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ہیں۔
یہ دونوں سورتیں مدنی ہیں اور ان دونوں کا مضمون ایک ہی ہے ۔ یہ مضمون ایک سورت کی شکل میں بھی نازل ہو سکتا تھا‘ لیکن قرآن مجید کا عمومی مزاج چونکہ ایسا ہے کہ زیادہ تر سورتیں جوڑوں کی شکل میں نازل ہوئی ہیں‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے بنیادی مضمون کو دو حصوں میں تقسیم کر کے دو الگ الگ سورتوں کی شکل میں نازل فرمایا۔ مضمون کی اس تقسیم کے مطابق سورۃ الفلق میں ان چیزوں یا ان شرور سے پناہ طلب کرنے کا حکم دیا گیا ہے جو انسان پر باہر سے حملہ آور ہوتی ہیں‘ جبکہ سورۃ الناس میں اندرونی طور پر اثر انداز ہونے والے شرور کا ذکر ہے۔ بہرحال ہمیں چاہیے کہ ان تمام شرور کے اثراتِ بد سے بچنے کے لیے ہم ان سورتوں کے ذریعے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے رہیں۔
(۱)صحیح مسلم‘ کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا‘ باب فضل قراء ۃ المعوذتین۔
فَلَقَ یَفْلِقُ کے معنی کسی چیز کو پھاڑنے کے ہیں۔ سورۃ الانعام کی آیت ۹۶ میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے حوالے سے {فَالِقُ الۡاِصۡبَاحِ ۚ } کے الفاظ آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ رات کی تاریکی کا پردہ چاک کر کے سپیدۂ سحر نمودار کرتا ہے۔ البتہ اسی سورت کی آیت ۹۵ میں یہ لفظ دانوں اور گٹھلیوں وغیرہ کے پھاڑنے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوا ہے : {اِنَّ اللّٰہَ فَالِقُ الۡحَبِّ وَ النَّوٰی ؕ } ۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے زمین کے اندر دانوں یا گٹھلیوں کو پھاڑتا ہے تو پودوں یا درختوں کی پتیاں اور جڑیں نکلتی ہیں۔ چنانچہ فلق سے مراد یہاں صرف صبح ہی نہیں بلکہ ہر وہ چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے عدم کا پردہ چاک کر کے وجو د بخشاہے۔ جیسے کہ اگلی آیت میں واضح کر دیا گیا:
آیت 2
مِنۡ شَرِّ مَا خَلَقَ ۙ﴿۲﴾
’’(میں پناہ میں آتا ہوں) اس کی تمام مخلوقات کے شر سے۔‘‘
یعنی ’’شر‘‘ مستقل طور پر علیحدہ وجود رکھنے والی کوئی چیز نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی مختلف مخلوقات کے اندر ہی کا ایک عنصر ہے۔ اس نکتے کو یوں سمجھئے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر قسم کے نقص یا عیب سے پاک ہے۔ لیکن اس کی مخلوق اپنے خالق کی طرح کامل نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ ہر مخلوق کے اندر کمی یا تقصیر و تنقیص کا کوئی نہ کوئی پہلو یا عنصر بالقوہ (potentially) موجود ہے۔ جیسے خود انسان کی متعدد کمزوریوں کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔ سورۃ النساء میں فرمایا گیا : {وَ خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ ضَعِیۡفًا ﴿۲۸﴾} کہ انسان بنیادی طور پر کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل میں {وَ کَانَ الۡاِنۡسَانُ عَجُوۡلًا ﴿۱۱﴾} کے الفاظ میں انسان کی جلد بازی کا ذکر ہوا۔سورۃ المعارج میں اس کی تین کمزوریوں کا ذکر بایں الفاظ ہوا : {اِنَّ الۡاِنۡسَانَ خُلِقَ ہَلُوۡعًا ﴿ۙ۱۹﴾اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوۡعًا ﴿ۙ۲۰﴾وَّ اِذَا مَسَّہُ الۡخَیۡرُ مَنُوۡعًا ﴿ۙ۲۱﴾} ’’یقینا انسان پیدا کیا گیا ہے تھڑدلا۔ جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جانے والاہے۔اور جب اسے بھلائی ملتی ہے تو بہت بخیل بن جاتا ہے۔‘‘
گویا انسان روحانی طور پر اگرچہ احسن تقویم کے درجے میں پیدا کیا گیا ہے ‘لیکن اس کے حیوانی اور مادی وجود میں مذکورہ خامیوں سمیت بہت سی کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔ اسی طرح ہر مخلوق میں مختلف کمزوریوں کے متعدد پہلو پائے جاتے ہیں جن کی وجہ سے ’شر‘ جنم لیتا ہے۔ چنانچہ اس آیت کا مفہوم یوں ہو گا کہ اے پروردگار! تیری جس جس مخلوق میں شر کے جو جو پہلو پائے جاتے ہیں میں ان میں سے ہر قسم کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔
آیت 3
وَ مِنۡ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ ۙ﴿۳﴾
’’اور (خاص طور پر) اندھیرے کے شر سے جب وہ چھا جائے ۔‘‘
ظاہر ہے رات کے اندھیرے میں انسانوں‘ جنوں اور ضرر رساں جانوروں اور کیڑوں مکوڑوں کی صورت میں شر پھیلانے والے عناصر زیادہ فعال اور مستعد ہو جاتے ہیں۔ گویا رات کا اندھیرا بذاتِ خود ایک بہت بڑا شر ہے جس سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنا ضروری ہے۔
آیت 4
وَ مِنۡ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الۡعُقَدِ ۙ﴿۴﴾
’’اور اُن عورتوں کے شر سے جو گرہیں باندھ کر پھونکیں مارتی ہیں۔‘‘
یعنی وہ تمام ٹونے ٹوٹکے ‘تعویذ گنڈے اور سفلی عملیات جن کے ذریعے سے کسی انسان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس موضوع کے حوالے سے یہاں یہ نکتہ اچھی طرح سے سمجھ لیجیے کہ کسی چیز کا بالفعل موجود ہونا اور بات ہے اور اس چیز کا حلال ‘ حرام یا جائز‘ ناجائزہونا الگ بات ہے۔ مثلاً جادو ایک حقیقت ہے لیکن کفر ہے۔ شراب اپنی ایک مخصوص تاثیر رکھتی ہے لیکن حرام ہے۔ اسی طرح علم نجوم‘ پامسٹری(ہاتھ کی لکیروں کا علم) اور سفلی عملیات کی حقیقت اور تاثیر سے انکار نہیں کیا جا سکتا (ظاہر ہے جب ہم اچھے وظائف و کلمات کی اچھی تاثیر کو مانتے ہیں تو ہمیں سفلی و شیطانی کلمات وغیرہ کی منفی تاثیر کا بھی اقرار کرنا پڑے گا) لیکن شریعت نے ہمیں ایسے علوم سے استفادہ کرنے اور ایسے علوم کی بنیاد پر کیے گئے دعووںپر یقین کرنے سے منع کر دیا ہے۔ ظاہر ہے اس نوعیت کی تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر نہ تو مؤثر ہو سکتی ہیں اور نہ ہی کسی کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اس لیے ان کے شر سے بچنے کا آسان اور مؤثر طریقہ یہی ہے کہ انسان خود کو اللہ تعالیٰ کی پناہ میں دے دے۔
آیت 5
وَ مِنۡ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ ٪﴿۵﴾
’’اور حسد کرنے والے کے شر سے بھی (میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں) جب وہ حسد کرے۔‘‘
ظاہر ہے جب ایک انسان کسی دوسرے انسان سے حسد کرتا ہے تو عین ممکن ہے وہ اپنے حاسدانہ جذبات سے مغلوب ہو کر عملی طور پر بھی اسے نقصان پہنچانے کے درپے ہو جائے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: حدیث((اَلْعَیْنُ حَقٌّ))۱ یعنی نظر لگ جانا برحق ہے۔ چنانچہ حاسدانہ نگاہ بذاتِ خود بھی منفی اثرات کی حامل ہو سکتی ہے ۔اس لیے حاسد کے شر سے بچنے کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کی پناہ کی ضرورت ہے۔
بہرحال جادو‘ٹونے‘ تعویذ گنڈے‘ نظر بد وغیرہ کے اثرات اپنی جگہ مسلم ہیں۔ سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۰۲ میں شیاطینِ جن کا ذکر آیا ہے جو حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے۔ بلکہ یہ گھناؤنا کاروبار کسی نہ کسی انداز سے ہر زمانے میں چلتا رہا ہے۔ آج بھی ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ ایسی چیزیں سیکھنے سکھانے اور پھر مختلف دعووں کے ساتھ اپنا کاروبار چمکانے میں مصروف ہیں۔ البتہ جیسا کہ قبل ازیں بھی وضاحت کی جا چکی ہے ہماری شریعت میں ایسی چیزیں سیکھنا اور پھر کسی بھی انداز میں ان سے استفادہ کرنا حرام ہے ۔ اس حوالے سے ایک بندئہ مؤمن کو اپنے دل میں پختہ یقین رکھنا چاہیے کہ ان میں سے کوئی چیز بھی اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر اسے کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی ‘جیسا کہ سورۃ البقرۃ کی مذکورہ آیت میں بھی واضح کیا گیا ہے: {وَ مَا ہُمۡ بِضَآرِّیۡنَ بِہٖ مِنۡ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ } (آیت ۱۰۲) ۔ایک بندۂ مؤمن کو یہ بھی یقین رکھنا چاہیے کہ جو تکلیف بھی آئے گی وہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے ہی آئے گی (یہ بھی ممکن ہے کہ کسی وجہ سے اللہ تعالیٰ خود کسی انسان کو کسی تکلیف یا مشکل سے دوچار کرنا چاہے) اور اللہ کے اذن سے ہی دور ہو گی۔ جہاں تک ایسی چیزوں سے حفاظتی تدابیر اپنانے یاایسے کسی شیطانی حملے کے توڑ کرنے کا تعلق ہے توان دو سورتوں (مُعَوِّذَتَین) کے ہوتے ہوئے ایک بندۂ مسلمان کو کسی اور عمل ‘تعویذ یا تدبیر کی ضرورت نہیں ہے۔ ظاہر ہے یہ سورتیں اسی مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کو سکھائی تھیں اور اس لحاظ سے یہ حضورﷺ کی وساطت سے اُمت کے لیے ایک بیش بہا تحفے کا درجہ رکھتی ہیں۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاروایت کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺکا یہ معمول تھا کہ ہر شب آرام کرنے سے پہلے آخری تینوں سورتیں (سورۃ الاخلاص اور معوذتین) پڑھ کر اپنے مبارک ہاتھوں پر دم فرماتے اور پھر اپنے سارے جسم پر پھیر لیتے۔ مزید برآں شیطانی اثرات اور نظربد وغیرہ سے حفاظت کے لیے احادیث میں متعدد ادعیہ ماثورہ بھی وارد ہوئی ہیں‘جن کو ہمیں اپنا معمول بنانا چاہیے۔
٭٭٭
(۱)صحیح البخاری‘ کتاب الطب‘ باب العین حق۔ وصحیح مسلم‘ کتاب السلام‘ باب الطب والمرض والرقی۔