بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

الإخلاص

آیات ۱ تا ۴

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

تمہیدی کلمات

سورۃ الاخلاص قرآن مجید کی مختصر ترین سورتوں میں سے ہے اور توحید باری تعالیٰ کے موضوع پر یہ قرآن مجید کی جامع ترین سورت ہے۔ اسی لیے حضورﷺ نے اس سورت کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔ ’الاخلاص‘ اس سورت کا نام ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے مضمون کا عنوان بھی ہے‘ کیونکہ اس میں خالص توحید بیان کی گئی ہے ۔

1-4

اللہ کے یکتا ہونے کا بیان

ویڈیو

قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ ۚ﴿۱﴾ اَللّٰہُ الصَّمَدُ ۚ﴿۲﴾ لَمۡ یَلِدۡ ۬ۙ وَ لَمۡ یُوۡلَدۡ ۙ﴿۳﴾ وَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ ٪﴿۴﴾

آیت 1

قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ ۚ﴿۱﴾

’’کہہ دیجیے وہ اللہ یکتا ہے۔‘‘

اَحَد : وہ اکیلا اور یکتا جس کی ذات اور صفات میں کوئی شریک نہیں۔وہی اکیلا ربّ ہے‘ کسی دوسرے کا ربوبیت اور اُلوہیت میں کوئی حصہ نہیں۔ وہی تنہا کائنات کا خالق‘ مالک الملک اور نظامِ عالم کا مدبر و منتظم ہے۔

آیت 2

اَللّٰہُ الصَّمَدُ ۚ﴿۲﴾

’’اللہ سب کا مرجع ہے۔‘‘

صَمَد کے لغوی معنی ایسی مضبوط چٹان کے ہیں جس کو سہارا بنا کر کوئی جنگجو اپنے دشمن کے خلاف لڑتا ہے تاکہ دشمن پیچھے سے حملہ نہ کر سکے ۔بعد میں یہ لفظ اسی مفہوم میں ایسے بڑے بڑے سرداروں کے لیے بھی استعمال ہونے لگا جو لوگوں کو پناہ دیتے تھے اور جن سے لوگ اپنے مسائل کے لیے رجوع کرتے تھے۔ اس طرح اس لفظ میں مضبوط سہارے اور مرجع (جس کی طرف رجوع کیا جائے) کے معنی مستقل طو رپر آ گئے۔ چنانچہ اَللّٰہُ الصَّمَدُ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوقات کا مرجع اور مضبوط سہارا ہے۔ وہ خود بخود قائم ہے‘ اسے کسی سہارے کی ضرورت نہیں ۔ باقی تمام مخلوقات کو اس کے سہارے کی ضرورت ہے اور تمام مخلوق کی زندگی اور ہر چیز کا وجود اسی کی بدولت ہے۔ {وَ لَا یُحِیۡطُوۡنَ بِشَیۡءٍ مِّنۡ عِلۡمِہٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ } (البقرۃ: ۲۵۵) ’’اور وہ احاطہ نہیں کر سکتے اللہ کے علم میں سے کسی شے کا بھی سوائے اس کے جو وہ خود چاہے‘‘۔ ظاہر ہے وہ الحی اور القیوم ہے‘ یعنی خود زندہ ہے اور تمام مخلوق کو تھامے ہوئے ہے۔ باقی تمام مخلوقات کے ہر فرد کا وجود مستعار ہے اور کائنات میں جو زندہ چیزیں ہیں ان کی زندگی بھی مستعار ہے۔ جیسے ہم انسانوں کی زندگی بھی ’’عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن!‘‘کے مصداق اسی کی عطا کردہ ہے۔

آیت 3

لَمۡ یَلِدۡ ۬ۙ وَ لَمۡ یُوۡلَدۡ ۙ﴿۳﴾

’’نہ اُس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا۔‘‘

یعنی نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اُس کی کوئی اولاد ہے۔ یہ نکتہ سورۃ الجن میں بایں الفاظ واضح فرمایا گیا: {مَا اتَّخَذَ صَاحِبَۃً وَّ لَا وَلَدًا ۙ﴿۳﴾} ’’اس نے اپنے لیے نہ کوئی بیوی اختیار کی ہے اور نہ کوئی اولاد‘‘۔ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیتے ہیں اور یہودیوں کے بعض فرقے حضرت عزیر علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا مانتے تھے۔ مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بتاتے تھے۔ اس آیت میں ایسے تمام عقائد باطلہ کی نفی کر دی گئی ہے ۔

آیت 4

وَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ ٪﴿۴﴾

’’اور کوئی بھی اُس کا کفو نہیں ہے۔‘‘

کُفْو کے معنی ہم سر کے ہیں‘ جو قدرت‘ علم‘ حکمت اور دیگر صفات میں ہم پلہ اور ہم پایہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کا نہ تو کوئی ہم پلہ اور برابری کرنے والا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی ضد‘ ند‘ مثل‘مثال ‘مثیل وغیرہ ہے۔

یوٹیوب پر دیکھیے