بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

الناس

آیات ۱ تا ۶

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

تمہیدی کلمات

جیسا کہ سورۃ الفلق کے تعارف کے دوران بھی بتایا جا چکا ہے کہ سورۃ الناس مدنی سورت ہے‘ بلکہ میری تحقیق کے مطابق تو سورۃ الملک سے شروع ہونے والی سورتوں کے اس آخری گروپ میں صرف یہی دو سورتیں (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) ہی مدنی ہیں۔ یہاں ضمنی طور پر مکی مدنی سورتوں کے اس آخری گروپ اور پہلے گروپ کے درمیان مدنی اور مکی قرآن کی مقدار کے حوالے سے پائی جانے والی ایک ’’معکوس (reciprocal) نسبت‘‘ کے بارے میں بھی جان لیجیے۔ یعنی جس طرح سورتوں کے پہلے گروپ میں مکی قرآن بہت تھوڑا (صرف سورۃ الفاتحہ) اور مدنی قرآن کی مقدار نسبتاً بہت زیادہ (سورۃ البقرۃ‘ سورۂ آل عمران‘ سورۃالنساء اور سورۃ المائدۃ پر مشتمل تقریباً سوا چھ پارے) ہے‘ اسی طرح زیر مطالعہ آخری گروپ میں مدنی قرآن کی مقدار بہت کم (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) ہے اور اس کے مقابلے میں مکی قرآن تقریباً دو پاروں پر مشتمل ہے۔

سورۃ الفلق میں ان مضرتوں اور شرانگیزیوں سے پناہ طلب کرنے کا حکم دیا گیا ہے جو انسان کے ظاہری حالات اور جسمانی کیفیات کو متاثر کرتی ہیں‘ جبکہ سورۃ الناس میں ایسے شرور سے پناہ طلب کرنے کی ہدایت کی جارہی ہے جو انسان کے باطن پر اثر انداز ہوتے ہیں اور اس کے ایمان و ایقان پر یلغار کرتے ہیں۔

سورۃ الناس کے حوالے سے ایک اہم نکتہ یہ بھی نوٹ کر لیجیے کہ اس سورت کا سورۃ الفاتحہ کے ساتھ بھی جوڑے کا تعلق ہے ۔ ان دونوں سورتوں کی آیات میں گہری مشابہت اور مناسبت پائی جاتی ہے۔ دونوں سورتوں کا ایک ساتھ مطالعہ کرنے سے یہ مشابہت اور مناسبت صاف نظر آتی ہے۔ مثلاً سورۃ الفاتحہ کی پہلی اور دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ کی حمد و صفات کا بیان اور اس کے ربّ العالمین ہونے کا اقرار ہے‘ جبکہ سورۃ الناس کی پہلی آیت میں تمام انسانوں کے رب سے پناہ طلب کی گئی ہے ۔دونوں سورتوں کی اگلی دونوں آیات (مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۳﴾ اور مَلِکِ النَّاسِ ۙ﴿۲﴾) کی لفظی و معنوی مشابہت بہت ہی واضح ہے۔ اس کے بعد سورۃ الفاتحہ میں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے اور اس کی عبادت کرنے کے عہد کے ساتھ ا س سے ہدایت کی درخواست کی گئی ہے‘ جبکہ اس کے متوازی سورۃ الناس میں اللہ تعالیٰ کی معبودیت (اِلٰہِ النَّاسِ ۙ﴿۳﴾) کے اقرار کے ساتھ شیطان کے وساوس کے خلاف اس کی پناہ طلب کی گئی ہے۔ظاہر ہے سیدھے راستے پر چلنے کے لیے مدد طلب کرنا (استعانت) اور شیطان کے حملوں سے پناہ مانگنا (استعاذہ) باہم ملتی جلتی اصطلاحات ہیں کہ اے اللہ ہم تیری عبادت کا وعدہ کرتے ہیں مگر ہم تیری مدد کے محتاج ہیں۔ اس کے لیے ہمیں تیرے سہارے اور تیری پناہ کی ضرورت ہے تاکہ تیری پناہ میں آ کر ہم شیطان کی وسوسہ اندازی سے محفوظ ہو جائیں۔ اس زاویے سے ان دونوں سورتوں کا جائزہ لیا جائے تو سورۃ الناس‘ سورۃ الفاتحہ کا عکس یا مثنیٰ (duplicate) بنتی نظر آتی ہے۔

1-6

داخلی شرور سے حفاظت کی دعا

ویڈیو

قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ ۙ﴿۱﴾ مَلِکِ النَّاسِ ۙ﴿۲﴾ اِلٰہِ النَّاسِ ۙ﴿۳﴾ مِنۡ شَرِّ الۡوَسۡوَاسِ ۬ۙ الۡخَنَّاسِ ۪ۙ﴿۴﴾ الَّذِیۡ یُوَسۡوِسُ فِیۡ صُدُوۡرِ النَّاسِ ۙ﴿۵﴾ مِنَ الۡجِنَّۃِ وَ النَّاسِ ٪﴿۶﴾

آیت 1

قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ ۙ﴿۱﴾

’’کہیے کہ میں پناہ میں آتا ہوں تمام انسانوں کے رب کی۔‘‘

یہاں سب سے پہلے ’’رَبّ الناس‘‘ (لوگوں کاپروردگار) کے کلمات سے اللہ تعالیٰ کا تعارف کرایا گیا ہے کہ تمہیں ایسی ذات سے پناہ مانگنے کا حکم دیا جا رہا ہے جو تمہاری جملہ ضروریات کا کفیل ہے۔

آیت 2

مَلِکِ النَّاسِ ۙ﴿۲﴾

’’تمام انسانوں کے بادشاہ کی۔‘‘

وہ تمام انسانوں کا صرف پروردگار ہی نہیں‘ ان کا بادشاہ اور فرماں روا بھی ہے۔ اس کا حکم ہر وقت‘ ہر جگہ اور ہر چیز پرنافذ ہے۔

آیت 3

اِلٰہِ النَّاسِ ۙ﴿۳﴾

’’ تمام انسانوں کے معبود کی۔‘‘

انسانوں کا رب اور بادشاہ ہونے کے علاوہ وہ ان کا معبود بھی ہے‘ چنانچہ وہ ان پر کامل اقتدار اور اختیار رکھتا ہے اور ان کی حفاظت پر پوری طرح قادر ہے۔

آیت 4

مِنۡ شَرِّ الۡوَسۡوَاسِ ۬ۙ الۡخَنَّاسِ ۪ۙ﴿۴﴾

’’اس بار بار وسوسہ ڈالنے والے ‘ پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے۔‘‘

شیطان کی وسوسہ اندازی کا طریق کار یہ ہے کہ وہ لگاتار اپنی کوشش جاری رکھتا ہے اور انسان کو گمراہ کرنے کی کوششوں سے تھکتا نہیں۔ کبھی حملہ کرتا ہے‘ کبھی دفاعی پسپائی اختیار کرتا ہے اور پھر پلٹ کر حملہ آور ہوتا ہے۔

آیت 5

الَّذِیۡ یُوَسۡوِسُ فِیۡ صُدُوۡرِ النَّاسِ ۙ﴿۵﴾

’’جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ اندازی کرتا ہے۔‘‘

آیت 6

مِنَ الۡجِنَّۃِ وَ النَّاسِ ٪﴿۶﴾

’’خواہ وہ جنوں میں سے ہو یاانسانوں میں سے۔‘‘

انسان کے دل و دماغ پر شیطانی وساوس کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں اس کی وضاحت حضورﷺ کے اس فرمان سے ملتی ہے۔ اُمّ المؤمنین حضرت صفیہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: حدیث((اِنَّ الشَّیْطَانَ یَجْرِیْ مِنَ الْاِنْسَانِ مَجْرَی الدَّمِ))۱’’شیطان انسان کے وجود میں خون کی مانند گردش کرتا ہے‘‘۔ گویا شیطان نفس انسانی کے اندر موجود حیوانی شہوات اور سفلی داعیات (فرائیڈ اسے id یا libido کا نام دیتا ہے) کو بھڑکاتا ہے۔ حضورﷺ کا فرمان ہے کہ شیطان اپنی تھوتھنی انسان کے دل پر رکھ کر پھونکیں مارتا ہے اور اس طرح اس کے جذبات و شہوات میں اشتعال پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو انسان کے دل میں وسوسے پیدا کرنے اور اس کے جذبات کو انگیخت دینے کی حد تک اختیار دیا ہے۔ اس سے بڑھ کر انسان سے زبردستی کوئی عمل کرانے کا اختیار اسے نہیں دیا گیا۔ بہرحال نفس انسانی بعض اوقات شیطان کے بہکاوے میں آ کر متعلقہ انسان کے لیے شیطان کا نمائندہ بن جاتا ہے اور پھر بالکل شیطان ہی کی طرح اس کے دل میں وسوسہ اندازی شروع کر دیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ قٓ میں ارشاد فرمایا ہے : {وَ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ وَ نَعۡلَمُ مَا تُوَسۡوِسُ بِہٖ نَفۡسُہٗ ۚۖ } (آیت ۱۶) ’’اور ہم نے ہی انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم خوب جانتے ہیں جو اُس کا نفس وسوسے ڈالتا ہے ‘‘۔ایسے نفس انسانی کو سورۂ یوسف ؑکی آیت ۵۳ میں ’’نفس امارہ‘‘ کا نام دیا گیا ہے ۔ اس حوالے سے اہم اور بنیادی بات سمجھنے کی یہ ہے کہ شیطان اُسی دل پر اپنی تھوتھنی رکھ کر پھونکیں مارتا ہے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتا ہے جو دل اللہ کی یاد سے خالی ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جو دل اللہ کی یاد میں مشغول اوراس کے ذکر سے معمور ہوتا ہے شیطان اس سے دور رہتا ہے۔ بہرحال شیطان کے تمام وسوسے اور حربے انسان کے اپنے نفس کے ذریعے سے ہی اس پر اثر انداز ہوتے ہیں اور یہ سورت خصوصی طور پر شیطانی وساوس کے توڑ کے لیے نازل ہوئی ہے۔

بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ونفعنی وایّاکم بالآیات والذّکر الحکیمoo

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الاعتکاف‘ باب زیارۃ المرأۃ زوجھا فی اعتکافہ۔ وصحیح مسلم‘ کتاب السلام‘ باب بیان انہ یستحب لمن رئی خالیا بامرأۃ…

یوٹیوب پر دیکھیے