تَبَّتۡ یَدَاۤ اَبِیۡ لَہَبٍ وَّ تَبَّ ؕ﴿۱﴾
’’ٹوٹ گئے ابولہب کے دونوں ہاتھ اور وہ تباہ و برباد ہو گیا۔‘‘
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
تحریر
آیات ۱ تا ۵
بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد
قرآنترجمہتشریححدیثشعر
حضورﷺ اپنی بعثت کے بعد تقریباً تین سال تک دعوت و تبلیغ کا فریضہ زیادہ تر ذاتی سطح کی انفرادی ملاقاتوں (PP calls) کے ذریعے سرانجام دیتے رہے۔ اسی دوران آپؐ نے اپنے خاندان یعنی بنوہاشم کے لوگوں کو دعوت کی غرض سے دو مرتبہ کھانے پر مدعو کیا۔ بعض مستشرقین نے آپؐ کے اس دور کے دعوتی رابطوں کو زیرزمین (under ground) سرگرمیوں کا نام دیا ہے جو کہ بالکل خلافِ حقیقت بات ہے‘ البتہ اسے دھیمے انداز کی (low key) دعوت کہا جا سکتا ہے۔
بہرحال جب سورۃ الحجر کی آیت {فَاصۡدَعۡ بِمَا تُؤۡمَرُ وَ اَعۡرِضۡ عَنِ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۹۴﴾} کے ذریعے آپؐ کو حکم ملا کہ آپؐ اپنی دعوت کو ڈنکے کی چوٹ عام کریں تو آپؐ نے قریش مکہ کو کھلے عام دعوت دینے کا فیصلہ کیا ۔ اس کے لیے آپﷺ نے معاشرے کے عام رواج کے مطابق ایک دن کوہِ صفا پر کھڑے ہو کر وَاصَبَاحَا کا نعرہ بلند کیا۔اس زمانے میں دستور تھا کہ اگر کوئی شخص لوگوں کو کسی اہم خبر سے متنبہ کرنا چاہتا تو وہ برہنہ حالت میں کسی بلند جگہ پر کھڑے ہو کر وَاصَبَاحَا کی آواز بلند کرتا۔ عرب میں یہ نعرہ خطرے کا الارم سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ جو کوئی بھی اسے اس حالت میں دیکھتا یا اس کی آواز سنتا وہ اس کی بات سننے کے لیے فوراً اس کی طرف دوڑ پڑتا۔اس زمانے میں زیادہ تر خبریں مخالف قبیلوں کے حملوں وغیرہ کے بارے میں ہوتی تھیں‘ اس حوالے سے کلمہ وَاصَبَاحَا کامفہوم یہ تھا کہ کل تم لوگ بہت بری صبح کا سامنا کرنے جا رہے ہو۔ ( اس زمانے میں یہ گویا ہنگامی پریس کانفرنس کا ایک انداز تھا۔) چنانچہ حضورﷺ نے اسی رواج پر جزوی انداز سے عمل کرتے ہوئے کوہِ صفا پر کھڑے ہو کر وَاصَبَاحَا کے اعلان سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ۔گویا آپؐ بھی ان لوگوں کو ایک بھیانک صبح کی خبر دینے والے تھے‘ اگرچہ یہ خبر اگلے دن کی معمول کی صبح کی نہیں تھی بلکہ صبح قیامت سے متعلق تھی : ؎
بات کوئی تو ہنسی کی نکلے
خندۂ صبح قیامت ہی سہی!
بہرحال جب قریش کے لوگ جمع ہو گئے تو آپؐ نے انہیں مخاطب کر کے انذارِ آخرت کے بارے میں ایک مدلل و مؤثر خطبہ ارشاد فرمایا۔ ابولہب آپؐ کے گھر کھانے کی دعوت میں آپؐ کی یہ باتیں پہلے بھی سن چکا تھا۔اس نے اس موقع پر انتہائی گستاخانہ انداز میں کہا: تَبًّا لَکَ اَلِھٰذَا جَمَعْتَنَا؟ کہ تیرے ہاتھ ٹوٹ جائیں (معاذاللہ! نقل کفر کفر نباشد) تم نے صرف اس بات کے لیے ہمیں بلایا تھا؟ چنانچہ اس کے اس رویے اور اس جملے کے جواب میں یہ سور ت نازل ہوئی اور اسے ترکی بہ ترکی جواب دیا گیا کہ ہاتھ تو دراصل تمہارے ٹوٹے ہیں اور تم اپنی بیوی سمیت دہکتی آگ کے گڑھے میں بھی گر چکے ہو۔
اپنے مضمون کے اعتبار سے اس سورت کا انداز سورۃ الکوثر کی آخری آیت {اِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الۡاَبۡتَرُ ٪﴿۳﴾} سے ملتاجلتاہے۔ سورۃ الکوثر کی اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کے دشمنوں کے گستاخانہ فقروں کاجواب خود دیا تھا اور ان پر واضح کر دیا تھا کہ ’’ابتر‘‘ تو حقیقت میں تم لوگ ہواور تمہارے بعد دنیا میں تمہارا کوئی نام لیوا نہیں ہو گا۔
تَبَّتۡ یَدَاۤ اَبِیۡ لَہَبٍ وَّ تَبَّ ؕ﴿۱﴾ مَاۤ اَغۡنٰی عَنۡہُ مَالُہٗ وَ مَا کَسَبَ ؕ﴿۲﴾ سَیَصۡلٰی نَارًا ذَاتَ لَہَبٍ ۚ﴿ۖ۳﴾ وَّ امۡرَاَتُہٗ ؕ حَمَّالَۃَ الۡحَطَبِ ۚ﴿۴﴾ فِیۡ جِیۡدِہَا حَبۡلٌ مِّنۡ مَّسَدٍ ٪﴿۵﴾
تَبَّتۡ یَدَاۤ اَبِیۡ لَہَبٍ وَّ تَبَّ ؕ﴿۱﴾
’’ٹوٹ گئے ابولہب کے دونوں ہاتھ اور وہ تباہ و برباد ہو گیا۔‘‘
مَاۤ اَغۡنٰی عَنۡہُ مَالُہٗ وَ مَا کَسَبَ ؕ﴿۲﴾
’’کچھ کام نہ آیا اس کے اس کا یہ مال اور وہ کمائی جو اس نے کی ہے۔‘‘
سَیَصۡلٰی نَارًا ذَاتَ لَہَبٍ ۚ﴿ۖ۳﴾
’’عنقریب وہ جھونکا جائے گا بھڑکتی ہوئی آگ میں۔‘‘
لَہَب کے معنی آگ کے شعلے اور انگارے کے ہیں۔ اس شخص کی کنیت(ابولہب) کے حوالے سے یہاں اس لفظ کا استعمال ’’صنعتِ لفظی‘‘کی بہترین مثال ہے۔ اس کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا‘ لیکن اپنی سرخ و سفید رنگت کی وجہ سے ’’ابولہب‘‘ (شعلہ رو)کی کنیت سے مشہور تھا۔ ظاہری اعتبار سے ابولہب بہت وجیہہ اور خوبصورت شخص تھا ۔اس پس منظر میں اس آیت کے الفاظ گویا یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اس شخص کو سرخ و سفید رنگت اور خوبصورت شکل و صورت بھی ہم نے عطا کی ہے اور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں بھی اسے ہم ہی جھونکیں گے۔
[قرآن مجید کا یہ واحد مقام ہے جہاں دشمنانِ اسلام میں سے کسی شخص کا نام لے کر اس کی مذمت کی گئی ہے‘ حالانکہ مکہ‘ مدینہ اور دیگر قبائل عرب میں حضورﷺ کے دشمنوں اور بدخواہوں کی کمی نہ تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ابولہب حضورﷺ کا حقیقی چچا اور قریب ترین ہمسایہ ہونے کے باوجود آپﷺ کی مخالفت میں پیش پیش تھا اور اس شخص نے اسلام کی دشمنی اور کفر کی محبت میں صلہ رحمی اور خاندانی حمیت جیسی عرب روایات کا بھی کچھ پاس نہ کیا۔]
وَّ امۡرَاَتُہٗ ؕ
’’اور اُس کی بیوی بھی۔‘‘
ابولہب کی بیوی بھی حضورﷺ کی دشمنی میں ہمیشہ پیش پیش رہتی تھی۔ اس کا نام اَروَہ اور کنیت اُمّ جمیل تھی اور اس کے دل میں حضورﷺ کی عداوت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔حضورﷺ کی دشمنی کے اعتبار سے ان دونوں کے بارے میں جو تفصیلات ملتی ہیں ان سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے کہ میاں بیوی میں سے کون حضورﷺ کا بڑا دشمن تھا۔
قبل ازیں سورۃ التحریم کے آخری رکوع میں ہم خواتین کے کردار کی تین مثالوں کا مطالعہ کر چکے ہیں۔ پہلی مثال میں حضرت لوط اور حضرت نوح علیہ السلام کی کافر بیویوں کا ذکر ہے۔ یہ بہترین شوہروں کے گھروں میں بدترین بیویوں کی مثال ہے۔ پھر فرعون کی بیوی آسیہ رضی اللہ عنہاکا ذکر گویا بدترین شوہر کے ہاں بہترین بیوی کی مثال ہے۔ اس کے بعد حضرت مریم سلامٌ علیہا کے حوالے سے ایک ایسی خاتون کی مثال بیان کی گئی ہے جو خود بھی نیک فطرت تھی اور حضرت زکریا علیہ السلام کی سرپرستی میں انہیں ماحول بھی ایسا ملا جو نیکی اور پاکیزگی کے اعتبار سے اپنی مثال آپ تھا۔ گویا وہاں سورۃ التحریم میں خواتین کے حوالے سے تین قسم کی ممکنہ صورتوں کی مثالوں کا ذکر تو ہو چکا ہے‘جبکہ اس سلسلے کی چوتھی ممکنہ صورت کا ذکر یہاں اس سورت میں ہوا ہے‘ یعنی شوہر بھی بدترین اور بیوی بھی بدترین۔
حَمَّالَۃَ الۡحَطَبِ ۚ﴿۴﴾
’’جو ایندھن اٹھانے والی ہو گی ۔‘‘
روایات میں چونکہ ذکر ملتا ہے کہ یہ دونوں میاں بیوی بہت بخیل تھے ‘اس لیے بعض لوگوں نے ان الفاظ سے یہ سمجھا ہے کہ یہ عورت جنگل سے لکڑیاں چن کر لایا کرتی تھی‘ حالانکہ یہ بات خلافِ عقل و قیاس ہے۔ ابولہب نہ صرف بہت مال دار تھا بلکہ معاشرتی لحاظ سے وہ اپنے زمانے کا بہت بڑا منصب دار بھی تھا۔ وہ حرم کے محکمہ مالیات کا انچارج تھا (اس حیثیت سے اس پر اگرچہ یہ الزام بھی تھا کہ اس نے حرم کے خزانے سے سونے کے دو ہرن چرالیے تھے)۔ چنانچہ یہ دونوں میاں بیوی اپنے معاشرے کی اشرافیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اس اعتبارسے دیکھا جائے تو معاشرے کی ایک وی آئی پی خاتون‘ بنوہاشم کے رئیس کی بیوی‘جسے گویا خاتونِ اوّل کا سا درجہ حاصل تھا‘کے بارے میں جنگل سے لکڑیاں چن کر سرپر گٹھڑ لاد کر لانے والی بات بالکل قرین قیاس نہیں۔ چنانچہ اس آیت کا اصل مفہوم یہ ہے کہ اس عورت کی حرکتیں جہنم کی آگ کا ایندھن اکٹھا کرنے اور اپنے شوہر کی آگ کو مزید بھڑکانے کے مترادف ہیں۔جب یہ اپنے شوہر کے ساتھ جہنم میں جھونکی جائے گی اُس وقت اس کا حال اُس مجرم کا سا ہو گا جو اپنے جلانے کا ایندھن خود اٹھائے ہوئے ہو۔
فِیۡ جِیۡدِہَا حَبۡلٌ مِّنۡ مَّسَدٍ ٪﴿۵﴾
’’اس کے گلے میں بٹی ہوئی رسّی ہو گی۔‘‘
آج یہ عورت اپنے گلے میں جوخوبصورت ہار پہنے پھرتی ہے کل آخرت میں یہی ہار اس کے گلے میں ایک مضبوط بٹی ہوئی رسّی کی صورت اختیار کرلے گاجیسی رسی ایندھن ڈھونڈنے والی لونڈیوں کے گلے میں پڑی ہوتی ہے۔ اس رسّی میں یہ اپنے اعمالِ بد کا ایندھن باندھ کر جہنم میں لے جائے گی اور اپنی اور اپنے شوہر کی آگ کو مزید بھڑکائے گی۔مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے لکھا ہے کہ ’’شاید وہاں زقوم اور ضریع کی (جو جہنم کے خاردار درخت ہیں) لکڑیاں اٹھائے پھرے اور ان کے ذریعے سے اپنے شوہر پر عذابِ الٰہی کی آگ کو تیز کرتی رہے۔‘‘