لِاِیۡلٰفِ قُرَیۡشٍ ۙ﴿۱﴾
’’قریش کے مانوس رکھنے کی وجہ سے ۔‘‘
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
تحریر
آیات ۱ تا ۴
بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد
قرآنترجمہتشریححدیثشعر
لِاِیۡلٰفِ قُرَیۡشٍ ۙ﴿۱﴾ اٖلٰفِہِمۡ رِحۡلَۃَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیۡفِ ۚ﴿۲﴾ فَلۡیَعۡبُدُوۡا رَبَّ ہٰذَا الۡبَیۡتِ ۙ﴿۳﴾ الَّذِیۡۤ اَطۡعَمَہُمۡ مِّنۡ جُوۡعٍ ۬ۙ وَّ اٰمَنَہُمۡ مِّنۡ خَوۡفٍ ٪﴿۴﴾
لِاِیۡلٰفِ قُرَیۡشٍ ۙ﴿۱﴾
’’قریش کے مانوس رکھنے کی وجہ سے ۔‘‘
اٖلٰفِہِمۡ رِحۡلَۃَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیۡفِ ۚ﴿۲﴾
’’(یعنی) سردیوں اور گرمیوں کے سفر سے ان کو مانوس رکھنے کی وجہ سے۔‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ نے قریش کے دلوں میں سردی اور گرمی کے تجارتی سفروں کی الفت و محبت پیدا کر دی۔
اِیْلاف: اَلِفَ یَأْلَفُ اَلْفًا سے باب افعال کا مصدر ہے‘ یعنی مانوس کرنا اور خوگر بنانا۔ اردو میں اُلفت اور مالوف کے الفاظ بھی اسی سے ماخوذ ہیں۔
سورۂ قریش کی پہلی دو آیات میں قریش کی اس اجارہ داری کی طرف اشارہ ہے جو حضورﷺ کی پیدائش سے قبل زمانے میں انہیں مشرق اور مغرب کی تجارت پر حاصل تھی۔ اس زمانے میں مشرقِ بعید کے ممالک (ہندوستان‘ جاوا‘ ملایا‘ سماٹرا‘ چین وغیرہ) سے بحر ہند کے راستے جو سامانِ تجارت آتا تھا وہ یمن کے ساحل پر اترتا تھا۔ دوسری طرف یورپ سے آنے والے جہاز شام اور فلسطین کے ساحل پر لنگر انداز ہوتے تھے۔ اس کے بعد یمن سے سامانِ تجارت کو شام پہنچانے اور ادھر کا سامان یمن پہنچانے کے لیے خشکی کا راستہ استعمال ہوتا تھا۔ چنانچہ یمن اور شام کے درمیان اس راستے کی حیثیت اس زمانے میں گویا بین الاقوامی تجارتی شاہراہ کی سی تھی۔ظاہر ہے یورپ کو انڈیا سے ملانے والا سمندری راستہ (around the cape of good hope) تو واسکوڈے گاما نے صدیوں بعد ۱۴۹۸ء میں دریافت کیا تھا‘ جبکہ بحیرئہ احمر کو بحر روم سے ملانے والی نہر سویز ۱۸۶۹ء میں بنی تھی۔
حضورﷺ کی ولادت سے تقریباً ڈیڑھ دو سو سال پہلے تک اس تجارتی شاہراہ پر قومِ سبا کی اجارہ داری تھی۔ لیکن جب ’’سد مآرب‘‘ ٹوٹنے کی وجہ سے اس علاقے میں سیلاب آیا اور اس سیلاب کی وجہ سے اس قوم کا شیرازہ بکھر گیا تو یہ شاہراہ کلی طور پر قریش مکہ کے قبضے میں چلی گئی ۔ قریش مکہ چونکہ کعبہ کے متولی تھے اس لیے پورے عرب میں انہیں عزت و عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ اس زمانے میں جہاں کوئی بھی تجارتی قافلہ لٹیروں اور ڈاکوئوں کے ہاتھوں محفوظ نہیں تھا وہاں قریش کے قافلوں کو پور ے عرب میں کوئی میلی نظر سے بھی نہیں دیکھتا تھا ۔اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ عرب کے تمام قبائل نے اپنے اپنے بت خانہ کعبہ میں نصب کر رکھے تھے ۔ گویا ہر قبیلے کا ’’خدا‘‘ قریش کی مہربانی سے ہی خانہ کعبہ میں قیام پذیر تھا‘بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ قریش کے پاس یرغمال تھا ۔اس لیے عرب کا کوئی قبیلہ بھی ان کے قافلوں پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہیں کر سکتا تھا۔ چنانچہ قریش کے قافلے سارا سال بلاخوف و خطر یمن سے شام اور شام سے یمن کے راستے پر رواں دواں رہتے تھے ۔ گرمیوں کے موسم میں وہ لوگ شام و فلسطین کے سرد علاقوں جبکہ سردیوں میں یمن کے گرم علاقے کا سفر اختیار کرتے تھے۔ آیت زیر مطالعہ میں ان کے اسی تجارتی سفر کا ذکر ہے۔ ظاہرہے بین الاقوامی تجارتی شاہراہ پر مکمل اجارہ داری‘ تجارتی قافلوں کے ہمہ وقت تحفظ کی یقینی ضمانت اور موسموں کی موافقت اور مطابقت سے سرد و گرم علاقوں کے سفر کی سہولت ‘یہ ان لوگوں کے لیے ایسی نعمتیں تھیں جس پر وہ اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کرتے کم تھا۔ اس لیے ان نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا:
فَلۡیَعۡبُدُوۡا رَبَّ ہٰذَا الۡبَیۡتِ ۙ﴿۳﴾
’’پس انہیں بندگی کرنی چاہیے اس گھر کے رب کی۔‘‘
ظاہر ہے ان کے جدا مجد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کا یہ گھر(؏ ’’دنیا کے بت کدوں میں پہلا وہ گھر خدا کا‘‘) توحید کے مرکز کی حیثیت سے تعمیر کیا تھا ۔حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی اولاد کو اس گھر کے پہلو میں بساتے وقت توحید کے اعتبار سے ان کی ذمہ داری کا ذکر ان الفاظ میں کیا تھا: لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ تاکہ وہ اللہ کی بندگی کے طور پر نماز قائم کریں۔ چنانچہ چاہیے تو یہ تھا کہ جس کعبہ کی تولیت کی وجہ سے انہیں خوشحالی اور عزت ملی تھی وہ اس گھر کے مالک کو پہچانتے اور اس کا حق ادا کرتے ۔لیکن اس کے برعکس انہوں نے اللہ کے اس گھر میں ۳۶۰بت نصب کرکے اسے دنیا کے سب سے بڑے بت کدے میں تبدیل کر دیا اور اس کے اصل مالک کو بالکل ہی فراموش کر دیا۔
الَّذِیۡۤ اَطۡعَمَہُمۡ مِّنۡ جُوۡعٍ ۬ۙ
’’جس نے انہیں بھوک میں کھانے کو دیا‘‘
انہیں رزق عطا فرماکر فاقہ کشی سے محفوظ رکھا۔ جب عرب کے عام لوگ غربت اور تنگ دستی کا شکار تھے اس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے قریشِ مکہ کو کامیاب تجارت اور کعبہ کی تولیت کی وجہ سے معاشی خوشحالی سے نواز رکھا تھا۔
وَّ اٰمَنَہُمۡ مِّنۡ خَوۡفٍ ٪﴿۴﴾
’’اور انہیں خوف سے امن عطا کیا۔‘‘
ان کے قافلے سارا سال یمن اور فلسطین کے درمیان بلاخوف و خطر محوِ سفر رہتے تھے۔ خداداد تحفظ کی یہ ضمانت انہیں اس سرزمین میں میسر تھی جہاں ہر طرف جنگل کے قانون کا راج تھا۔