بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

الماعون

آیات ۱ تا ۷

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

تمہیدی کلمات

سورۃ الماعون میں اس معاشرے کے اخلاقی انحطاط کی جھلک دکھائی گئی ہے جس میں حضورﷺ کی بعثت ہوئی۔ وہ لوگ بظاہر تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پیروکار تھے ‘لیکن عملی طور پر صورتحال یہ تھی کہ ان کے عقائد و نظریات مسخ ہو چکے تھے اور معاشرتی و اخلاقی اقدار بھی ان کے ہاں اب محض روایتوں اور رسموں کی حد تک زندہ رہ گئی تھیں۔ بدقسمتی سے آج اُمتِ مسلمہ بھی ایسے ہی نظریاتی و اخلاقی انحطاط کا نقشہ پیش کر رہی ہے۔

1-7

جزا و سزا جھٹلانے والے پست کردار کا بیان

ویڈیو

اَرَءَیۡتَ الَّذِیۡ یُکَذِّبُ بِالدِّیۡنِ ؕ﴿۱﴾ فَذٰلِکَ الَّذِیۡ یَدُعُّ الۡیَتِیۡمَ ۙ﴿۲﴾ وَ لَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الۡمِسۡکِیۡنِ ؕ﴿۳﴾ فَوَیۡلٌ لِّلۡمُصَلِّیۡنَ ۙ﴿۴﴾ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَنۡ صَلَاتِہِمۡ سَاہُوۡنَ ۙ﴿۵﴾ الَّذِیۡنَ ہُمۡ یُرَآءُوۡنَ ۙ﴿۶﴾ وَ یَمۡنَعُوۡنَ الۡمَاعُوۡنَ ٪﴿۷﴾

آیت 1

اَرَءَیۡتَ الَّذِیۡ یُکَذِّبُ بِالدِّیۡنِ ؕ﴿۱﴾

’’کیا تم نے دیکھا اس شخص کو جوجزا و سزا کو جھٹلاتا ہے؟‘‘

جو نہ تو بعث بعد الموت کا قائل ہے اور نہ ہی آخرت کی جزا و سزا کو مانتا ہے۔ ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ اس زندگی کے سوا ان کی کوئی اور زندگی نہیں ہے: {وَ قَالُوۡا مَا ہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنۡیَا نَمُوۡتُ وَ نَحۡیَا وَ مَا یُہۡلِکُنَاۤ اِلَّا الدَّہۡرُ ۚ } (الجاثیۃ:۲۴) ’’وہ کہتے ہیں کہ نہیں ہے (کوئی اور زندگی )سوائے ہماری دنیا کی زندگی کے‘ ہم خود ہی مرتے ہیں اور خود ہی جیتے ہیں اور ہمیں نہیں ہلاک کرتا مگر زمانہ‘‘۔

آخرت کے احتساب کا انکار کر کے انسان دراصل جائز و ناجائز اور حلال و حرام کی پابندیوں سے آزاد ہوجاتا ہے اور اس کا کردار ؏ ’’بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست‘‘ کے فلسفے کا چلتا پھرتا اشتہار بن کررہ جاتا ہے۔

آیت 2

فَذٰلِکَ الَّذِیۡ یَدُعُّ الۡیَتِیۡمَ ۙ﴿۲﴾

’’یہ وہی ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔‘‘

ظاہر ہے جو انسان اچھے برے اعمال کی جزا و سزا کو نہیں مانتا وہ معاشرے کے ایسے افراد کے لیے اپنا مال بھلا کیوںـ ضائع کرے گاجن سے اسے کسی فائدے کی توقع نہیں؟

آیت 3

وَ لَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الۡمِسۡکِیۡنِ ؕ﴿۳﴾

’’اورنہ وہ مسکین کو کھانا کھلانے کی تلقین کرتا ہے۔‘‘

اس میں انسان کی اس اخلاقی کمزوری کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جس نیک کام پر وہ خود کاربند نہیں ہے اس کے بارے میں دوسروں کو کس منہ سے نصیحت کرے۔

آیات 4–5

فَوَیۡلٌ لِّلۡمُصَلِّیۡنَ ۙ﴿۴﴾الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَنۡ صَلَاتِہِمۡ سَاہُوۡنَ ۙ﴿۵﴾

’’تو بربادی ہے ان نماز پڑھنے والوں کے لیے ‘جو اپنی نمازوں سے غافل ہیں۔‘‘

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورﷺ کی بعثت کے زمانے تک مشرکین عرب کے ہاں نماز کا تصور موجود تھا لیکن اس کی عملی شکل بالکل مسخ ہو چکی تھی ۔جیسا کہ سورۃ الانفال کی اس آیت سے بھی ظاہر ہوتا ہے : {وَ مَا کَانَ صَلَاتُہُمۡ عِنۡدَ الۡبَیۡتِ اِلَّا مُکَآءً وَّ تَصۡدِیَۃً ؕ } (آیت۳۵) ’’اور نہیں ہے ان کی نماز بیت اللہ کے پاس سوائے سیٹیاں بجانا اور تالیاں پیٹنا‘‘۔ظاہر ہے جو لوگ برہنہ ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرتے تھے اور اس طواف کو سب سے اعلیٰ طواف سمجھتے تھے‘ ان کے لیے تو نماز میں سیٹیاں بجانااور تالیاں پیٹنا بھی ایک مقدس عمل اور حصولِ ثواب کا بہت بڑا ذریعہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم مسلمانوں کے ہاں نماز کی ظاہری شکل آج تک اپنی اصلی حالت میں جوں کی توں قائم ہے ۔ حضورﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو نماز پڑھنے کا طریقہ سکھایا اور پھر حکم دیا : حدیث((صَلُّوْا کَمَا رَاَیْتُمُوْنِیْ اُصَلِّیْ))۱ کہ تم لوگ نماز اسی طرح پڑھو جس طرح مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ حضورﷺ کی نماز کا وہ طریقہ اور عملی نمونہ جو صحابہؓ کی وساطت سے ہم تک پہنچا ہے‘ آج ہم اس پر تو کاربند ہیں لیکن بدقسمتی سے نماز کی اصل روح سے ہم بالکل غافل ہو چکے ہیں ۔ نماز کی اصل روح تو نمازی کا خضوع و خشوع اور یہ احساس ہے کہ وہ کس کے سامنے کھڑا ہے اور کس کے حضور کھڑے ہو کر اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ جیسا عہد و پیمان باندھ رہا ہے ۔ بہرحال آج ہماری نمازیں اس روح سے خالی ہو کر محض ایک ’’رسم‘‘ کی ادائیگی کی حیثیت اختیار کر چکی ہیں (الاماشاء اللہ)۔ اقبال نے اپنے خصوصی انداز میں مسلمانوں کی اس زبوں حالی کی تصویر انہیں بار بار دکھائی ہے : ؎

رہ گئی رسم اذاں روحِ بلالیؓ نہ رہی

فلسفہ رہ گیا تلقینِ غزالی نہ رہی!

اور ؎

نماز و روزہ و قربانی و حج

یہ سب باقی ہیں تو باقی نہیں ہے!

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الاذان‘ باب الاذان للمسافر اذاکانوا جماعۃ…‘ح:۶۳۱۔

آیت 6

الَّذِیۡنَ ہُمۡ یُرَآءُوۡنَ ۙ﴿۶﴾

’’یہ وہ لوگ ہیں جو دکھاوا کرتے ہیں۔‘‘

وہ نماز کی ادائیگی سمیت ہر نیک کام لوگوں کو دکھانے کے لیے کرتے ہیں تاکہ ان کی نیکی کا چرچاہو۔

آیت 7

وَ یَمۡنَعُوۡنَ الۡمَاعُوۡنَ ٪﴿۷﴾

’’اور عام استعمال کی چیز بھی (مانگنے پر)نہیں دیتے۔‘‘

مَاعُوْن کے معنی روز مرہ استعمال کی چیزیں ہیں‘ جو ہر پڑوسی بوقت ضرورت اپنے پڑوسی سے عاریتاً لے لیتا ہے اور اپنی ضرورت پوری کر کے واپس لوٹا دیتا ہے۔ ایسے لوگوں کے کردار کی پستی کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے پاس سے آگ کی چنگاری (ماچس وغیرہ) اور نمک جیسی معمولی اشیاء تک بھی کسی کو دینا پسند نہیں کرتے۔

یوٹیوب پر دیکھیے