اَلَمۡ تَرَ کَیۡفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصۡحٰبِ الۡفِیۡلِ ؕ﴿۱﴾
’’کیا تم نے دیکھا نہیں کیا حشر کیا تمہارے رب نے ان ہاتھی والوں کا ؟‘‘
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
تحریر
آیات ۱ تا ۵
بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد
قرآنترجمہتشریححدیثشعر
سورۃ الفیل اور اس کے بعد کی سورتوں میں سے اکثر کا تعلق حضورﷺ کی سیرت یا آپﷺ کے زمانے کے عرب معاشرے کے ماحول اور حالات سے ہے۔ جیسے سورۃ الفیل میں جس واقعہ کا ذکر ہے یہ واقعہ اسی سال پیش آیا جس سال حضورﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی۔ بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ آپؐ کی ولادت عین اس واقعہ کے دن ہوئی تھی۔ البتہ کچھ ایسی روایات بھی ملتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ اس واقعہ کے پچاس دن بعد پیدا ہوئے تھے۔
اس واقعہ کا پس منظر یوں ہے کہ یمن کے عیسائی بادشاہ اَبرہہ نے خانہ کعبہ کے مقابلے میں ایک عالیشان کلیسا اس غرض سے تعمیر کرایا کہ عرب کے لوگ خانہ کعبہ کا حج کرنے کے بجائے اس کلیسا میں حاضری دیا کریں۔لیکن اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود وہ لوگوں کی توجہ اس طرف مبذول کرانے میں ناکام رہا۔ اسی دوران کسی عرب نے شرارتاً اس کلیسا میں رفع حاجت کر کے غلاظت بکھیر دی۔ ابرہہ تو پہلے ہی حسد کی آگ میں جل رہا تھا‘ اس واقعہ کو بہانہ بنا کر ا س نے کعبہ کومسمار کرنے کے ارادے سے مکہ مکرمہ پر باقاعدہ چڑھائی کر دی۔ مکہ پر حملہ آورہونے والے ابرہہ کے لشکر کی تعداد ساٹھ ہزار تھی اور ان کے ساتھ بہت سے ہاتھی بھی تھے۔ اسی لیے عربوں نے اس لشکر کو ’’اصحاب الفیل‘‘ کا نام دیا اور جس سال یہ لشکر حملہ آور ہوا تھا وہ سال ان کے ہاں ’’عام الفیل‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر اپنے گھر کی حفاظت فرمائی اور ابرہہ کے لشکر کو چھوٹے چھوٹے پرندوں کے ذریعے نیست و نابود کر دیا۔
اَلَمۡ تَرَ کَیۡفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصۡحٰبِ الۡفِیۡلِ ؕ﴿۱﴾ اَلَمۡ یَجۡعَلۡ کَیۡدَہُمۡ فِیۡ تَضۡلِیۡلٍ ۙ﴿۲﴾ وَّ اَرۡسَلَ عَلَیۡہِمۡ طَیۡرًا اَبَابِیۡلَ ۙ﴿۳﴾ تَرۡمِیۡہِمۡ بِحِجَارَۃٍ مِّنۡ سِجِّیۡلٍ ۪ۙ﴿۴﴾ فَجَعَلَہُمۡ کَعَصۡفٍ مَّاۡکُوۡلٍ ٪﴿۵﴾
اَلَمۡ تَرَ کَیۡفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصۡحٰبِ الۡفِیۡلِ ؕ﴿۱﴾
’’کیا تم نے دیکھا نہیں کیا حشر کیا تمہارے رب نے ان ہاتھی والوں کا ؟‘‘
اَلَمۡ یَجۡعَلۡ کَیۡدَہُمۡ فِیۡ تَضۡلِیۡلٍ ۙ﴿۲﴾
’’کیا اُس نے ان کی تمام تدبیروں کو بے کار اور غیر مؤثر نہیں کر دیا؟‘‘
اَبرہہ کی اس لشکر کشی کا مقصد انہدامِ کعبہ کے علاوہ عرب میں عیسائیت پھیلانا اور اُس تجارت پرقبضہ کرنا بھی تھا جو بلادِ مشرق اور رومی مقبوضات کے درمیان عربوں کے ذریعے ہوتی تھی۔
وَّ اَرۡسَلَ عَلَیۡہِمۡ طَیۡرًا اَبَابِیۡلَ ۙ﴿۳﴾
’’اور اُن پر بھیج دیے جھنڈ کے جھنڈ اُڑتے ہوئے پرندوں کے۔‘‘
تَرۡمِیۡہِمۡ بِحِجَارَۃٍ مِّنۡ سِجِّیۡلٍ ۪ۙ﴿۴﴾
’’جو اُن پر مارتے تھے کنکرکی پتھریاں۔‘‘
رَمٰی یَرْمِی رَمْیًا کا معنی ہے پھینکنا‘ مارنا۔ حج کے دوران شیطان کو کنکریاں مارنے کے عمل کو بھی ’’رمی جمرات‘‘ کہا جاتا ہے۔
لفظ سِجِّیْل دراصل فارسی ترکیب ’’ سنگِ گل‘‘ سے معرب ہے (فارسی کی ’’گ‘‘ عربی میں آ کر ’’ج‘‘ سے بدل گئی ہے)۔فارسی میں سنگ بمعنی پتھر اور گل بمعنی مٹی استعمال ہوتا ہے۔ چنانچہ سنگِ گل کے لغوی معنی ہیں مٹی کا پتھر۔ اس سے مراد وہ کنکریاں ہیں جو ریتلی زمین پر ہلکی بارش برسنے اور بعد میں مسلسل تیز دھوپ چمکنے کی وجہ سے وجود میں آتی ہیں۔ یعنی بارش کے ایک ایک قطرے کے ساتھ جو ریت ملی مٹی گیلی ہو جاتی ہے وہ بعد میں مسلسل تیز دھوپ کی حرارت سے پک کر سخت کنکری بن جاتی ہے۔
ابرہہ کے لشکرجرار کو تباہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کو کسی غیر معمولی طاقت کے استعمال کی ضرورت نہ پڑی‘ بلکہ اُس نے چھوٹے چھوٹے پرندوں کے جھنڈ بھیج دیے جو ساحل سمندر کی طرف سے اُمڈ پڑے اور چند لمحوں کی سنگ باری سے اس لشکر کا بھرکس نکال دیا۔ ان میں سے ہر پرندہ تین چھوٹی چھوٹی کنکریاں اٹھائے ہوئے تھا‘ ایک اپنی چونچ میں اور دو اپنے پنجوں میں ۔
فَجَعَلَہُمۡ کَعَصۡفٍ مَّاۡکُوۡلٍ ٪﴿۵﴾
’’پھر اُس نے کر دیا ان کو کھائے ہوئے بھس کی طرح۔‘‘
یعنی اس پورے لشکر کی حالت اس چارے یا بھس کی طرح ہو گئی جسے جانوروں نے کھا کر چھوڑ دیا ہو۔