بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

الهمزة

آیات ۱ تا ۹

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

تمہیدی کلمات

سورۃ العصر میں نسل انسانی کو ایک بہت بڑے ممکنہ خسارے کی وعید سنائی گئی ہے اور ساتھ ہی اس خسارے سے بچنے کا طریقہ بھی بتایا گیاہے۔ اب سورۃ الھمزہ میں تصویر کے دوسرے رخ کے طور پر ان لوگوں کے کردار کی جھلک دکھائی جا رہی ہے جو آخرت کے بارے میں کسی تنبیہہ یا وعید کو درخور اعتناء نہیں سمجھتے اور اندھا دھند اسی راستے پر بھاگے چلے جا رہے ہیں جو حقیقت میں خسارے اور بربادی کا راستہ ہے۔ دراصل جب انسان کے سامنے کوئی اعلیٰ نصب العین یا آدرش (ideal) نہیں ہوتا تو اس کی شخصیت پستی کی طرف مائل ہو تی چلی جاتی ہے۔ اس روش پر چلتے چلتے وہ پستی کی اس حد تک پہنچ جاتا ہے جہاں اس کے اخلاق و کردار میں خیر اور بھلائی کی کوئی رمق بھی باقی نہیں رہتی۔ایسا انسان معاشرے میں رہتے ہوئے کسی کی غیبت کرتا ہے تو کسی پر طعنہ زنی کرتا ہے‘کسی کی عزت پر حملہ کرتا ہے تو کسی کا مال ہڑپ کرتا ہے ۔حتیٰ کہ اگر کسی وقت وہ کوئی نیک کام بھی کرتا دکھائی دیتا ہے تو اس کے پیچھے بھی اس کا کوئی ذاتی مفاد پوشیدہ ہوتا ہے۔ غرض اس کی ہر حرکت اس کی پست سوچ کی مظہر اور اس کا ہر فعل اس کے گھٹیا کردار کا عکاس ہوتا ہے۔ پھر جب کسی معاشرے کے انسانوں کی غالب اکثریت پستی اور گھٹیا پن کا یہ رنگ اپنا لیتی ہے تو وہ معاشرہ مجموعی طور پر ہر قسم کے خیر سے محروم ہو کر گندگی اور غلاظت کے متعفن ڈھیر کا روپ دھار لیتا ہے۔

ایسے معاشرے کو دیکھ کر ایک حساس انسان بجاطور پر مایوسی کی اَتھاہ گہرائیوں میں ڈوب جاتا ہے ۔ دوسری طرف اس معاشرے کے فلسفی اور حکماء انسان کے بارے میں ایسے فتوے جاری کرنے میں خود کو حق بجانب سمجھنے لگتے ہیں کہ انسان تخلیقی اعتبار سے محض حیوانی داعیات و شہوات کا پتلا اور گندگی کی ایک پوٹ ہے اور یہ کہ اس میں خیر اور بھلائی کا کوئی عنصر سرے سے موجود ہی نہیں۔ ایسے ہی منفی نظریات و خیالات کے جواب کے طور پر سورۃ التین میں نسل انسانی کی چار عظیم شخصیات (حضرت نوح علیہ السلام ‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام ‘حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمدﷺ)کے اخلاق و کردار کو بطور نمونہ پیش کر کے ثابت کیا گیا ہے کہ انسان بنیادی طور پر احسن تقویم کی سطح پر پیدا ہوا ہے۔ البتہ جب یہ اپنے فطری شرف سے غافل ہو جاتا ہے اور اپنی اصل عظمت کو فراموش کر دیتا ہے تب یہ پستی میں گرتے گرتے اَسفل سافلین کے زمرے میں شمار ہوجاتا ہے۔ بہرحال اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان جب شرفِ انسانیت کی خلعتِ فاخرہ کو اُتار پھینکتا ہے اور اپنے حیوانی داعیات کی تسکین و تشفی کو ہی اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیتا ہے تو پھر یہ خنزیر سے بڑھ کر شہوت پرست‘ اونٹ سے بڑھ کر کینہ پرور اور بھیڑیے سے بڑھ کر سفاک بن جاتا ہے۔یعنی یہ اشرف المخلوقات جب حیوان بنتا ہے تو بے حیائی‘ خود غرضی اور خونخواری کی دوڑ میں تمام حیوانوں کو پیچھے چھوڑ دیتاہے۔

1-3

مال کا ڈھیر لگانے والوں کے لیے شدید مذّمت اور وعید

ویڈیو

وَیۡلٌ لِّکُلِّ ہُمَزَۃٍ لُّمَزَۃِۣ ۙ﴿۱﴾ الَّذِیۡ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَہٗ ۙ﴿۲﴾ یَحۡسَبُ اَنَّ مَالَہٗۤ اَخۡلَدَہٗ ۚ﴿۳﴾

آیت 1

وَیۡلٌ لِّکُلِّ ہُمَزَۃٍ لُّمَزَۃِۣ ۙ﴿۱﴾

’’بڑی خرابی ہے ہر اُس شخص کے لیے جو لوگوں کے عیب چنتا رہتا ہے اور طعنے دیتا رہتا ہے۔‘‘

ہُمَزَۃ اور لُمَزَۃ دونوں الفاظ معنی کے اعتبار سے باہم بہت قریب ہیں ۔ بعض اہل لغت کے نزدیک روبرو طعنہ زنی کرنے والے کو ہُمَزَۃ اور پس پشت عیب جوئی کرنے والے کو لُمَزَۃ کہتے ہیں‘ جبکہ بعض اہل لغت نے ان کا معنی برعکس بیان کیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ہر چغلی کھانے والے‘ دوستوں میں جدائی اور تفرقہ ڈالنے والے‘ بے قصور اور بے عیب انسانوں میں نقص نکالنے والے کو ہُمَزَۃ اور لُمَزَۃ کہتے ہیں۔

آیت 2

الَّذِیۡ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَہٗ ۙ﴿۲﴾

’’جو مال جمع کرتا رہا اور اس کو گنتا رہا۔‘‘

جس نے اپنی زندگی اور زندگی کی ساری جدوجہد مال کمانے اور اس کا حساب رکھنے میں برباد کر دی۔ وہ یہی سوچ سوچ کر خوش ہوتا رہا کہ اس ماہ میرے اکائونٹس میں اتنے فیصد اضافہ ہوگیا ہے اور پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال میرے اثاثہ جات اس قدر بڑھ گئے ہیں۔

آیت 3

یَحۡسَبُ اَنَّ مَالَہٗۤ اَخۡلَدَہٗ ۚ﴿۳﴾

’’وہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اسے ہمیشہ باقی رکھے گا۔‘‘

گویا اُس کے مال نے اسے زندئہ جاوید کر دیا ہے۔ ایک دولت مند آدمی اپنی دولت کے ذریعے دنیا میں ایسے آثار و نقوش چھوڑ کر جانا چاہتا ہے جن کی وجہ سے اس کا نام دنیا میں ہمیشہ رہے۔ انسان کی اسی خواہش نے اسے اہرام مصر جیسے عجائبات کی تخلیق پر مجبور کیا۔ مشہور انگریزی نظم The Pyramids کے ان الفاظ میں انسان کی اسی نفسیات کی عکاسی کی گئی ہے :

Calm and self possessed,

Still and resolute,

ؔPyramids echo into eternity,

They defined cry of mans will

To strive & conquer the storms of time.

4-9

مال کا ڈھیر لگانے والے بدترین انجام کا ذکر

ویڈیو

کَلَّا لَیُنۡۢبَذَنَّ فِی الۡحُطَمَۃِ ۫﴿ۖ۴﴾ وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا الۡحُطَمَۃُ ؕ﴿۵﴾ نَارُ اللّٰہِ الۡمُوۡقَدَۃُ ۙ﴿۶﴾ الَّتِیۡ تَطَّلِعُ عَلَی الۡاَفۡـِٕدَۃِ ؕ﴿۷﴾ اِنَّہَا عَلَیۡہِمۡ مُّؤۡصَدَۃٌ ۙ﴿۸﴾ فِیۡ عَمَدٍ مُّمَدَّدَۃٍ ٪﴿۹﴾

آیت 4

کَلَّا لَیُنۡۢبَذَنَّ فِی الۡحُطَمَۃِ ۫﴿ۖ۴﴾

’’ہرگز نہیں ‘وہ تو یقینا جھونک دیا جائے گا حطمہ میں۔‘‘

حُطَمَۃ : حَطَمَ سے ہے‘ یعنی توڑ ڈالنے والی‘ پیس ڈالنے والی‘ چور چور اور ریزہ ریزہ کردینے والی۔ یہ دوزخ کے ایک خاص طبقے کا نام ہے جس کی آگ اتنی تیز ہوگی کہ اس میں جو شے بھی ڈالی جائے گی اس کو آنِ واحد میں پیس کر رکھ دے گی۔

آیت 5

وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا الۡحُطَمَۃُ ؕ﴿۵﴾

’’اور کیا تم جانتے ہو وہ حطمہ کیا ہے؟‘‘

آیت 6

نَارُ اللّٰہِ الۡمُوۡقَدَۃُ ۙ﴿۶﴾

’’وہ آگ ہے اللہ کی بھڑکائی ہوئی۔‘‘

آیت 7

الَّتِیۡ تَطَّلِعُ عَلَی الۡاَفۡـِٕدَۃِ ؕ﴿۷﴾

’’جو دلوں کے اوپر جا چڑھے گی۔‘‘

یعنی اس آگ کی حدت اور تپش انسان کی جلد سے زیادہ اس کے دل پر اثر انداز ہو گی ۔بہرحال آج جب انسان خود Infra red Rays اور Ultra violet Rays سمیت آگ اور حرارت کی رنگا رنگ اقسام ایجاد کر چکا ہے اس کے لیے ’’حُطَمَہ‘‘ کی مذکورہ خصوصیت کو سمجھنا بہت آسان ہو گیاہے۔ایک صاحب نے خیال پیش کیا ہے کہ حُطَمَۃ ایٹمی حرارت کی کوئی شکل ہو گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایٹم سے جو حرارت پھیلتی ہے وہ براہِ راست آگ نہیں ہوتی لیکن انسان کے وجود کو چیرتی چلی جاتی ہے۔

آیت 8

اِنَّہَا عَلَیۡہِمۡ مُّؤۡصَدَۃٌ ۙ﴿۸﴾

’’بے شک وہ (آگ) ان پر بند کر دی جائے گی۔‘‘

تاکہ اس کی تمام تر حرارت ان پر اثر انداز ہو اور انہیں زیادہ سے زیادہ تکلیف پہنچے۔

آیت 9

فِیۡ عَمَدٍ مُّمَدَّدَۃٍ ٪﴿۹﴾

’’بڑے اونچے اونچے لمبے ستونوں میں۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے