وَ الۡعَصۡرِ ۙ﴿۱﴾
’’زمانے کی قسم ہے۔‘‘
یعنی اس حقیقت پر زمانہ گواہ ہے یا پوری تاریخ انسانی شاہد ہے کہ:
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
تحریر
آیات ۱ تا ۳
بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد
قرآنترجمہتشریححدیثشعر
سورۃ العصر قرآن مجید کی مختصر ترین اور جامع ترین سورتوں میں سے ہے۔ اس کی جامعیت کے بارے میں امام شافعی رحمہ اللہ علیہ کے درج ذیل دو اقوال بہت اہم ہیں:
(۱) لَوْ لَمْ یُنَزَّلْ مِنَ الْقُرْآنِ سِوَاھَا لَکَفَتِ النَّاسَ
’’اگر قرآن مجید میں سوائے اِس (سورۃ العصر) کے کچھ اور نازل نہ بھی ہوتا تو لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے یہی کافی ہوتی۔‘‘
(۲) لَــوْ تَدَبَّرُ النَّاسُ ھٰذِہِ السُّوْرَۃ لَــوَسِعَتْھُمْ
’’اگر لوگ تنہا اسی ایک سورت پر غور کریں تو یہ ان کے لیے کافی ہو جائے۔‘‘
یہ سورت ’’مطالعہ قرآن حکیم کے منتخب نصاب‘‘ کا نقطہ آغاز بھی ہے۔ یعنی ہمارے منتخب نصاب کا پہلا درس سورۃ العصر کے بارے میں ہے۔ اس سورت پر میری ایک کتاب اور ایک مختصر کتابچہ بھی موجود ہے۔ تفصیلی معلومات کے لیے ان سے استفادہ کرنا مفید رہے گا۔
وَ الۡعَصۡرِ ۙ﴿۱﴾ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَفِیۡ خُسۡرٍ ۙ﴿۲﴾ اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوۡا بِالۡحَقِّ ۬ۙ وَ تَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ ٪﴿۳﴾
وَ الۡعَصۡرِ ۙ﴿۱﴾
’’زمانے کی قسم ہے۔‘‘
یعنی اس حقیقت پر زمانہ گواہ ہے یا پوری تاریخ انسانی شاہد ہے کہ:
اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَفِیۡ خُسۡرٍ ۙ﴿۲﴾
’’یقینا انسان خسارے میں ہے۔‘‘
اگلی آیت میں اس نقصان اور خسارے سے بچاؤ کے لیے چارشرائط بتائی گئی ہیں‘لیکن ان میں سے کوئی ایک یا دو یا تین شرائط پوری کر دینے سے مذکورہ خسارے سے بچنے کی امید نہیں کی جا سکتی۔ کامیابی کے لیے بہرحال چاروں شرائط پر عمل درآمد ضروری ہے۔
اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوۡا بِالۡحَقِّ ۬ۙ وَ تَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ ٪﴿۳﴾
’’سوائے اُن کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے اور انہوں نے ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور انہوں نے باہم ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی۔‘‘
ان شرائط میں پہلی اور بنیادی شرط یہ ہے کہ انسان ایمان لائے۔ اس میں ایمان باللہ ‘ایمان بالرسالت اور ایمان بالآخرت سمیت تمام ایمانیات شامل ہیں۔ یعنی انسان اس کائنات کے مخفی اور غیبی حقائق کو سمجھے‘ ان کا شعور حاصل کرے اور ان کی تصدیق کرے۔ایمان لانے کے بعد دوسری شرط اس ایمان کے عملی تقاضوں کو پورا کرنے سے متعلق ہے۔ یعنی اگر انسان اللہ پر ایمان رکھتا ہے تو اس کے عمل اور کردار سے ثابت ہونا چاہیے کہ وہ اللہ کا فرمانبردار بندہ ہے اور اس کی نافرمانی سے ڈرتا ہے۔ غرض وہ ہر اس عمل کو اپنے شب و روز کے معمول کا حصہ بنانے پر کمربستہ ہو جائے جس کا اللہ اور اس کے رسولﷺ نے حکم دیا ہے اور ہر اس فعل سے اجتناب کرنے کی فکرمیں رہے جس سے اللہ اور اس کے رسول ﷺنے منع کیا ہے۔
تیسری شرط ’’تواصی بالحق‘‘ کی ہے ۔یعنی جس حق کو انسان نے خود قبول کیا ہے اور اپنی عملی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالا ہے اس حق کی تبلیغ و اشاعت کے لیے وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا علمبردار بن جائے۔ اس کے بعد چوتھی اور آخری شرط ’’تواصی بالصبر‘‘ کی ہے اور یہ ’’تواصی بالحق‘‘ کا لازمی اور منطقی نتیجہ بھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا جو بندہ ’’تواصی بالحق‘‘ کا علم اٹھائے گا اسے شیطانی قوتوں کی مخالفت مول لے کر آزمائش و ابتلا کی مشکل گھاٹیوں سے بھی گزرنا ہوگا اور اس راستے پر چلتے ہوئے نہ صرف اسے خود صبر و استقامت کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھنا ہو گابلکہ اسے اپنے ہمراہیوں اور ساتھیوں کو بھی اس کی تلقین و نصیحت کرنا ہو گی۔ اسی لیے حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو جب امر بالمعروف کی نصیحت کی تو ساتھ ہی صبر کی تلقین بھی کی تھی: {یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ وَ اۡمُرۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ انۡہَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ اصۡبِرۡ عَلٰی مَاۤ اَصَابَکَ ؕ } (لقمٰن:۱۷) ’’اے میرے بچے! نماز قائم کرواور نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکواور جو بھی تکلیف تمہیں پہنچے اس پر صبر کرو!‘‘
بہرحال راہِ حق کے مسافروں کو پہلے سے معلوم ہونا چاہیے کہ یہ راستہ آزمائش و ابتلا کے خارزاروں سے ہو کر گزرتا ہے: {وَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَ الۡجُوۡعِ وَ نَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَنۡفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿ۙ۱۵۵﴾} (البقرۃ) ’’اورہم تمہیں لازماً آزمائیں گے کسی قدر خوف اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور ثمرات کے نقصان سے۔ اور (اے نبیﷺ!) بشارت دیجیے ان صبر کرنے والوں کو۔‘‘ ؎
یہ شہادت گہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا!
اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ! اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ! آمین!