بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

العاديات

آیات ۱ تا ۱۱

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

تمہیدی کلمات

سورۃ العادیات قرآن مجید کی ان پانچ سورتوں میں پانچویں اور آخری سورت ہے جن کا آغاز ایک جیسے انداز میں پے در پے قسموں سے ہوتا ہے۔ اس فہرست میں اس سورت کے علاوہ سورۃ الصافات‘ سورۃ الذاریات‘ سورۃ المرسلات اور سورۃ النازعات شامل ہیں۔ اس سورت کے بھی مکی یا مدنی ہونے کے بارے میں مفسرین کا اختلاف ہے‘ لیکن سورت کے مضمون اور اندازِ بیان سے صاف ظاہر ہے کہ یہ ابتدائی دور کی مکی سورت ہے۔ اس سورت کے آغاز کی قسموں کے بارے میں تمام مفسرین کا اجماع ہے کہ ان میں گھوڑوں کا ذکر ہے۔

1-8

انسان کی ناشکری کا بیان

ویڈیو

وَ الۡعٰدِیٰتِ ضَبۡحًا ۙ﴿۱﴾ فَالۡمُوۡرِیٰتِ قَدۡحًا ۙ﴿۲﴾ فَالۡمُغِیۡرٰتِ صُبۡحًا ۙ﴿۳﴾ فَاَثَرۡنَ بِہٖ نَقۡعًا ۙ﴿۴﴾ فَوَسَطۡنَ بِہٖ جَمۡعًا ۙ﴿۵﴾ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لِرَبِّہٖ لَکَنُوۡدٌ ۚ﴿۶﴾ وَ اِنَّہٗ عَلٰی ذٰلِکَ لَشَہِیۡدٌ ۚ﴿۷﴾ وَ اِنَّہٗ لِحُبِّ الۡخَیۡرِ لَشَدِیۡدٌ ؕ﴿۸﴾

آیت 1

وَ الۡعٰدِیٰتِ ضَبۡحًا ۙ﴿۱﴾

’’قسم ہے ان گھوڑوں کی جو دوڑتے ہیں ہانپتے ہوئے۔‘‘

آیت 2

فَالۡمُوۡرِیٰتِ قَدۡحًا ۙ﴿۲﴾

’’پھر وہ سم مار کر چنگاریاں نکالتے ہیں۔‘‘

جب سرپٹ دوڑتے ہوئے گھوڑوں کے سم کسی پتھر وغیرہ سے ٹکراتے ہیں تو ان سے چنگاریاں نکلتی دکھائی دیتی ہیں۔

آیت 3

فَالۡمُغِیۡرٰتِ صُبۡحًا ۙ﴿۳﴾

’’پھر وہ علی الصبح غارت گری کرتے ہیں۔‘‘

اس آیت میں گھوڑوں کی خصوصی صفات کے ساتھ ساتھ زمانہ جاہلیت کے عرب تمدن کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔اہل عرب جب لوٹ مار یا قتل و غارت کے لیے کسی قبیلے پر حملے کی منصوبہ بندی کرتے تو اس کے لیے علی الصبح منہ اندھیرے کے اوقات (small hours of the morning) کا انتخاب کرتے تھے۔ اس قسم کی غارت گری کے لیے رات کا پچھلا پہر اس لیے موزوں سمجھا جاتا تھا کہ ا س وقت ہر کوئی بڑی سکون کی نیند سو رہا ہوتاہے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی مریض تکلیف کی وجہ سے ساری رات سو نہ سکے تو رات کے پچھلے پہر اسے بھی نیند آجاتی ہے۔

آیت 4

فَاَثَرۡنَ بِہٖ نَقۡعًا ۙ﴿۴﴾

’’پھر وہ اس سے گرد اُڑاتے ہوئے جاتے ہیں۔‘‘

آیت 5

فَوَسَطۡنَ بِہٖ جَمۡعًا ۙ﴿۵﴾

’’پھر اس کے ساتھ وہ (دشمن کی) جمعیت کے اندر گھس جاتے ہیں۔‘‘

پرانے زمانے کی جنگوں میں گھوڑے بہت مؤثر اور کارآمد ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔ حملے کے وقت گھوڑے اپنے سواروں کے حکم پر مخالف فوج کی طرف سے تیروں کی بوچھاڑ اور نیزوں کی یلغار کی پروا نہ کرتے ہوئے ان کی صفوں میں گھس جاتے تھے ۔ گھوڑے کا اپنے مالک کی فرمانبرداری میں اپنا خون پسینہ ایک کردینے کا جذبہ اور اس کی وفاداری میں اپنی جان کی بازی تک لگادینے کا وصف! یہ ہے دراصل ان قسموں کے مضمون کا مرکزی نکتہ جس کی طرف یہاں توجہ دلانا مقصود ہے۔ چنانچہ گھوڑوں کے ان اوصاف کے ذکر کے بعد تقابل کے طور پر انسان کے کردارکا ذکر یوں کیا گیا ہے:

آیت 6

اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لِرَبِّہٖ لَکَنُوۡدٌ ۚ﴿۶﴾

’’یقیناانسان اپنے رب کا بہت ہی ناشکرا ہے۔‘‘

مطلب یہ کہ ایک طرف وہ جانور ہے جو اپنے مالک کے ایک اشارے پر اپنی جان تک قربان کر دیتا ہے ‘ جو اُس کا خالق نہیں ہے ‘بلکہ صرف اُس کے دانے پانی کا انتظام کرتا ہے‘ اور دوسری طرف یہ باشعور‘ صاحب عقل و دانش اشرف المخلوقات انسان ہے جو اپنے خالق اور مالک کا شکر ادا نہیں کرتا۔

آیت 7

وَ اِنَّہٗ عَلٰی ذٰلِکَ لَشَہِیۡدٌ ۚ﴿۷﴾

’’اور وہ خود اس پر گواہ ہے۔‘‘

وہ اپنے اس طرزِعمل سے خوب واقف ہے۔ جیسا کہ سورۃ القیامہ میں فرمایا گیا: {بَلِ الۡاِنۡسَانُ عَلٰی نَفۡسِہٖ بَصِیۡرَۃٌ ﴿ۙ۱۴﴾} کہ انسان اپنے خیالات‘ جذبات اور کردار کے بارے میں خود سب کچھ جانتا ہے۔ چنانچہ انسان خوب جانتا ہے کہ وہ قدم قدم پر اپنے رب کی ناشکری کا مرتکب ہو رہا ہے۔

آیت 8

وَ اِنَّہٗ لِحُبِّ الۡخَیۡرِ لَشَدِیۡدٌ ؕ﴿۸﴾

’’اور وہ مال و دولت کی محبت میں بہت شدید ہے۔‘‘

مال و دولت کی محبت میں انسان اکثر اوقات حلال و حرام کی تمیز تک بھلا دیتا ہے ۔ حتیٰ کہ حرام کھاتے ہوئے وہ اپنے نفسِ لوامہ (بحوالہ سورۃ القیامہ ‘آیت ۲) اور ضمیر کی ملامت کی بھی پروا نہیں کرتا۔

9-11

نیتوں اورپوشیدہ رازوں کی جانچ پڑتال

ویڈیو

اَفَلَا یَعۡلَمُ اِذَا بُعۡثِرَ مَا فِی الۡقُبُوۡرِ ۙ﴿۹﴾ وَ حُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوۡرِ ﴿ۙ۱۰﴾ اِنَّ رَبَّہُمۡ بِہِمۡ یَوۡمَئِذٍ لَّخَبِیۡرٌ ٪﴿۱۱﴾

آیت 9

اَفَلَا یَعۡلَمُ اِذَا بُعۡثِرَ مَا فِی الۡقُبُوۡرِ ۙ﴿۹﴾

’’تو کیا وہ اُس وقت کو نہیں جانتا جب نکال لیا جائے گا وہ سب کچھ جو قبروں میں ہے۔‘‘

آیت 10

وَ حُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوۡرِ ﴿ۙ۱۰﴾

’’اور ظاہر کر دیا جائے گا جو کچھ سینوں میں ہے۔‘‘

آیت 11

اِنَّ رَبَّہُمۡ بِہِمۡ یَوۡمَئِذٍ لَّخَبِیۡرٌ ٪﴿۱۱﴾

’’یقینا ان کا رب اس دن ان سے پوری طرح باخبر ہوگا۔‘‘

اللہ تعالیٰ کو ان کے تمام اعمال و افعال کا علم ہے اور اس دن وہ ان سے ایک ایک چیز کا حساب لے لے گا ۔ اَللّٰھُمَّ حَاسِبْنَا حِسَابًا یَّسِیْرًا ۔ آمین! انذارِ آخرت کے مضمون کی حامل ان سورتوں میں سے ہر سورت کی تلاوت کے بعد یہ دعا ضرور کرنی چاہیے کہ اے اللہ !تو ہم سے آسان حساب لینا اور اپنی خصوصی رحمت سے ہمارے گناہوں کو معاف کر دینا۔

یوٹیوب پر دیکھیے