یَوۡمَئِذٍ یَّصۡدُرُ النَّاسُ اَشۡتَاتًا ۬ۙ
’’اُس دن لوگ علیحدہ علیحدہ ہو کر نکل پڑیں گے‘‘
اَشْتَاتًا جمع ہے شَتٌّ کی‘ یعنی منتشر و متفرق۔ نصب حالیت کی وجہ سے ہے۔ اسی معنی میں یہ لفظ سورۃ اللیل کی اس آیت میں بھی آیا ہے : {اِنَّ سَعۡیَکُمۡ لَشَتّٰی ؕ﴿۴﴾} کہ تم انسان بظاہر ایک جیسے نظر آتے ہو لیکن تمہاری سعی و جہد کے رخ بالکل مختلف ہیں۔
لِّیُرَوۡا اَعۡمَالَہُمۡ ؕ﴿۶﴾
’’تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھا دیے جائیں۔‘‘
اس منظر کی ایک جھلک سورۃ الکہف کی اس آیت میں بھی دکھائی گئی ہے:
دوسرے مقام کی آیتوَ وُضِعَ الۡکِتٰبُ فَتَرَی الۡمُجۡرِمِیۡنَ مُشۡفِقِیۡنَ مِمَّا فِیۡہِ وَ یَقُوۡلُوۡنَ یٰوَیۡلَتَنَا مَالِ ہٰذَا الۡکِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیۡرَۃً وَّ لَا کَبِیۡرَۃً اِلَّاۤ اَحۡصٰہَا ۚ وَ وَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ؕ وَ لَا یَظۡلِمُ رَبُّکَ اَحَدًا ﴿٪۴۹﴾
’’اور رکھ دیا جائے گا اعمال نامہ ‘چنانچہ تم دیکھو گے مجرموں کوکہ ڈر رہے ہوں گے اس سے جو کچھ اس میں ہوگا اور کہیں گے: ہائے ہماری شامت! یہ کیسا اعمال نامہ ہے؟ اس نے تو نہ کسی چھوٹی چیز کو چھوڑا ہے اور نہ کسی بڑی کو‘ مگر اس کو محفوظ کر رکھا ہے۔اور وہ پائیں گے جو عمل بھی انہوں نے کیا ہو گا اُسے موجود۔ اور آپ کا رب ظلم نہیں کرے گا کسی پر بھی۔‘‘
آج کے ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے اس آیت کا مفہوم یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ اس دن ایک بہت بڑا کمپیوٹر سرمحشر نصب کر دیا جائے گا جس میں پوری نوعِ انسانی کے ایک ایک فرد کے اعمال سے متعلق تفصیلی ڈیٹا موجود ہوگا۔ جونہی کسی فرد کو حساب کے لیے پیش کیا جائے گا اس کی پوری زندگی کی آڈیو ویڈیو فلم فوراً سکرین پر چلنا شروع ہوجائے گی۔
فَمَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ ؕ﴿۷﴾
’’توجس کسی نے ذرّہ کے ہم وزن بھی کوئی نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا ۔‘‘
وَ مَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ٪﴿۸﴾
’’اور جس کسی نے ذرّہ کے ہم وزن کوئی بدی کی ہو گی وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔‘‘
عربی لغت کے مطابق چیونٹی کے انڈے سے نکلنے والے بچے کو ’’ذرّہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یعنی بہت چھوٹی اور حقیر چیز۔ اسی مفہوم میں لفظ ’’ذرّہ‘‘ اردو میں بھی مستعمل ہے۔
یہ آیت انسان کو اس اہم حقیقت پر متنبہ کرتی ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی نیکی بھی بہرحال اپنا ایک وزن اوراپنی ایک قدر رکھتی ہے‘ اور چھوٹی سے چھوٹی بدی بھی حساب میں آنے والی چیز ہے۔ بسا اوقات انسان نیکی کے چھوٹے سے کام کو حقیر سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہے‘ اور بعض اوقات صغیرہ گناہوں کی پروا نہیں کرتا۔ یہ درست طرزِعمل نہیں ہے۔ کسی نیکی کو چھوٹا سمجھ کر اسے چھوڑنا نہیں چاہیے اور کسی گناہ کو چھوٹا سمجھ کر اس پر جری نہیں ہونا چاہیے۔
٭٭٭