اَلۡقَارِعَۃُ ۙ﴿۱﴾
’’وہ کھٹکھٹانے والی ۔‘‘
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
تحریر
آیات ۱ تا ۱۱
بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد
قرآنترجمہتشریححدیثشعر
اَلۡقَارِعَۃُ ۙ﴿۱﴾ مَا الۡقَارِعَۃُ ۚ﴿۲﴾ وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا الۡقَارِعَۃُ ؕ﴿۳﴾ یَوۡمَ یَکُوۡنُ النَّاسُ کَالۡفَرَاشِ الۡمَبۡثُوۡثِ ۙ﴿۴﴾ وَ تَکُوۡنُ الۡجِبَالُ کَالۡعِہۡنِ الۡمَنۡفُوۡشِ ؕ﴿۵﴾
اَلۡقَارِعَۃُ ۙ﴿۱﴾
’’وہ کھٹکھٹانے والی ۔‘‘
مَا الۡقَارِعَۃُ ۚ﴿۲﴾
’’کیا ہے وہ کھٹکھٹانے والی !‘‘
قَرْع کے معنی ایک چیز کو کسی دوسری چیز پر زور سے دے مارنے کے ہیں۔ جیسے دروازے کو زور زور سے کھٹکھٹانا۔ اس لغوی معنی کی مناسبت سے قارعہ کا لفظ ہولناک حادثے اورعظیم مصیبت کے لیے بولا جاتا ہے۔ چنانچہ جب کوئی قوم کسی حادثہ فاجعہ یا عظیم آفت کا شکار ہو تو عرب کہتے ہیں: قَرَعَتْھُمُ الْقَارِعَۃُ ---- یعنی وہ قیامت جب آئے گی تو پوری کائنات کو کھٹکھٹاڈالے گی اور دنیا کی ہر چیز کو تہ و بالا کر دے گی۔ تمام اجرامِ فلکی آپس میں ٹکرائیں گے جس سے خوفناک دھماکے ہوں گے ا ور دل دہلادینے والی آوازیں پیدا ہوں گی۔
وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا الۡقَارِعَۃُ ؕ﴿۳﴾
’’اور تم کیا سمجھے کہ کیا ہے وہ کھٹکھٹانے والی!‘‘
یَوۡمَ یَکُوۡنُ النَّاسُ کَالۡفَرَاشِ الۡمَبۡثُوۡثِ ۙ﴿۴﴾
’’جس دن لوگ بکھرے ہوئے پتنگوں کی مانند ہوں گے۔‘‘
وَ تَکُوۡنُ الۡجِبَالُ کَالۡعِہۡنِ الۡمَنۡفُوۡشِ ؕ﴿۵﴾
’’اور پہاڑ دُھنی ہوئی اون کی مانند ہو جائیں گے۔‘‘
العِھْن : رنگ دار اون کو کہتے ہیں اور مَنْفُوْش کے معنی ہیں دُھنی ہوئی۔ یعنی پہاڑ اپنی جگہ پر قائم نہیں رہیں گے بلکہ ریزہ ریزہ ہو کر رنگ دار اون کی طرح ہوا میں اُڑ رہے ہوں گے۔
فَاَمَّا مَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِیۡنُہٗ ۙ﴿۶﴾ فَہُوَ فِیۡ عِیۡشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ ؕ﴿۷﴾ وَ اَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِیۡنُہٗ ۙ﴿۸﴾ فَاُمُّہٗ ہَاوِیَۃٌ ؕ﴿۹﴾ وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا ہِیَہۡ ﴿ؕ۱۰﴾ نَارٌ حَامِیَۃٌ ﴿٪۱۱﴾
فَاَمَّا مَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِیۡنُہٗ ۙ﴿۶﴾
’’تو جن لوگوں کے (نیکیوں کے) پلڑے بھاری ہوں گے۔‘‘
یہاں یہ نکتہ خصوصی طور پر لائق توجہ ہے کہ ان آیات میں ایک ہی قسم کے وزن یا میزان کے ایک ہی پلڑے کا ذکر آیا ہے۔اس بارے میں عام رائے یہ ہے کہ ’’مَوَازین‘‘ سے مراد یہاں نیکیوں کا وزن ہے۔ یعنی حساب کے وقت ہر شخص کی نیکیوں کا وزن کر کے دیکھا جائے گا کہ یہ وزن ’’مطلوبہ معیار‘‘ کے مطابق ہے یا نہیں۔ اور یہ ’’مطلوبہ معیار‘‘ بھی ہرشخص کا الگ الگ اس کے ’’شاکلہ‘‘ کے مطابق ہو گا۔ظاہر ہے ہر شخص کی استطاعت (پیدائشی صلاحیتوں اور ماحول کے منفی و مثبت اثرات کے مطابق) دوسرے شخص کی استطاعت سے مختلف ہو گی اور ہر شخص اپنی استطاعت کی حد تک ہی اللہ تعالیٰ کے ہاں مکلف ہو گا : {لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَہَا ؕ} (البقرۃ:۲۸۶) ’’اللہ تعالیٰ نہیں ذمہ دار ٹھہرائے گا کسی جان کو مگر اس کی وسعت کے مطابق‘‘۔ چنانچہ ہر شخص کے شاکلہ یعنی اس کے جینز (genes) کی طرف سے اسے حاصل ہونے والی صلاحیتوں اور ماحول کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے لیے نیکیوں کے وزن کا ایک خاص معیار مقرر کیا جائے گا۔ اگر تو اس کی نیکیوں کے وزن (مَوَازِیْنُـہٗ) کو اس معیار کے مطابق پایا گیا تو اسے کامیابی کا پروانہ مل جائے گا۔
فَہُوَ فِیۡ عِیۡشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ ؕ﴿۷﴾
’’تو وہ ہو گا عیش وعشرت کی زندگی میں۔‘‘
وَ اَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِیۡنُہٗ ۙ﴿۸﴾
’’اور جس (کی نیکیوں) کے پلڑے ہلکے ہوئے۔‘‘
فَاُمُّہٗ ہَاوِیَۃٌ ؕ﴿۹﴾
’’تو اُس کا ٹھکانہ ایک گڑھاہوگا۔‘‘
وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا ہِیَہۡ ﴿ؕ۱۰﴾
’’اور تم کیا جانتے ہو کہ وہ کیا ہے؟‘‘
نَارٌ حَامِیَۃٌ ﴿٪۱۱﴾
’’آگ ہے دہکتی ہوئی!‘‘
اَللّٰھُمَّ اَجِرْنَا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیْرُ یَامُجِیْرُ یَا مُجِیْرُ!!