بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

البينة

آیات ۱ تا ۸

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

تمہیدی کلمات

سورۃ البیِّنَۃ کو قرآن مجید کے اکثر نسخوں میں ’’مدنیہ‘‘ لکھا گیا ہے ۔مفسرین کے نزدیک اس کے مکی یا مدنی ہونے میں اختلاف ہے۔ البتہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکا قول ہے کہ یہ مکی سورت ہے۔ قرآن مجید کی ترتیب مصحف میں اس کو سورۃ العلق اور سورۃ القدر کے بعد رکھنا نظم قرآن کے اعتبار سے بہت اہم اور معنی خیز ہے۔ سورۃ العلق میں پہلی وحی درج کی گئی ہے۔ سورۃ القدر میں بتایا گیا ہے کہ اس قرآن کا نزول کب ہوا اور اس سورت میں واضح کیا گیا ہے کہ اس قرآن کے ساتھ ایک رسول بھیجنا کیوں ضروری تھا۔

1-4

بیّنہ کی وضاحت و افادیت

ویڈیو

لَمۡ یَکُنِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ وَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ مُنۡفَکِّیۡنَ حَتّٰی تَاۡتِیَہُمُ الۡبَیِّنَۃُ ۙ﴿۱﴾ رَسُوۡلٌ مِّنَ اللّٰہِ یَتۡلُوۡا صُحُفًا مُّطَہَّرَۃً ۙ﴿۲﴾ فِیۡہَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ ؕ﴿۳﴾ وَ مَا تَفَرَّقَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡہُمُ الۡبَیِّنَۃُ ؕ﴿۴﴾

آیت 1

لَمۡ یَکُنِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ وَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ مُنۡفَکِّیۡنَ حَتّٰی تَاۡتِیَہُمُ الۡبَیِّنَۃُ ۙ﴿۱﴾

’’نہیں تھے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تھا اہل کتاب میں سے اور مشرکین میں سے الگ ہونے والے (یا باز آنے والے)جب تک کہ ان کے پاس البیّنہ نہ آ جاتی۔‘‘

ظاہر ہے وہ لوگ سیدھے راستے سے بھٹک کر گمراہی میں مبتلا ہو چکے تھے۔ اب جب تک ان کے سامنے کوئی بین (واضح) دلیل نہ آ جاتی جس سے انہیں معلوم ہو جاتا کہ وہ گمراہ ہیں یا انہیں بہت واضح انداز میں بتا نہ دیا جاتا کہ وہ جس راہ پر چل رہے ہیں وہ راہِ ہدایت نہیں ‘ اس وقت تک انہیں رشد و ہدایت کی راہ پر چلنے والوں سے علیحدہ نہیں کیاجا سکتا تھا۔ اس کا مفہوم یوں بھی ہو سکتا ہے کہ جب تک ان لوگوں کے پاس البینہ نہ آجاتی وہ اپنے کفر سے باز آنے والے نہیں تھے------- مُنْفَکِّیْنَ : اِنْفِکاک (فَکَّ سے باب اِنْفعال ) سے ہے‘ جس کا مفہوم ہے کسی چیز کا کسی چیز سے الگ ہو جانا‘ جدا ہو جانا۔

وہ البیِّنہ کیا ہے؟ اس کی وضاحت اگلی آیات میں کی جا رہی ہے:

آیت 2

رَسُوۡلٌ مِّنَ اللّٰہِ یَتۡلُوۡا صُحُفًا مُّطَہَّرَۃً ۙ﴿۲﴾

’’ایک رسول (ﷺ) اللہ کی جانب سے جو تلاوت کرتے ہیں پاکیزہ اوراق کی ۔‘‘

ان اوراق میں کیا ہے؟

آیت 3

فِیۡہَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ ؕ﴿۳﴾

’’ان میں بڑے مضبوط احکام (تحریر) ہیں۔‘‘

لفظ ’’کتاب‘‘ کے بارے میں قبل ازیں بھی متعدد بار واضح کیا جا چکا ہے کہ قرآن مجید میں یہ لفظ عام طور پر احکامِ شریعت کے لیے آتا ہے۔ تو پتا چلا کہ اللہ کے رسول ﷺاور اللہ کی کتاب کا اکٹھا نام البیِّنہ ہے۔یہ وہی بات ہے جو قبل ازیں ہم لفظ ’’ذِکْرًا‘‘ کے حوالے سے سورۃ الطلاق میں بھی پڑھ چکے ہیں۔ وہاں اہل ایمان کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے : {قَدۡ اَنۡزَلَ اللّٰہُ اِلَیۡکُمۡ ذِکۡرًا ﴿ۙ۱۰﴾رَّسُوۡلًا یَّتۡلُوۡا عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ مُبَیِّنٰتٍ …} ’’اللہ نے تمہاری طرف ذکر نازل کر دیا ہے۔ایک رسولؐ جو اللہ کی آیاتِ بینات تم لوگوں کو پڑھ کر سنا رہاہے…‘‘گویا تعبیر اور تعریف (definition) کے اعتبار سے اَلْبَـیِّنَہ اور ذِکْرًا ہم معنی اصطلاحات ہیں۔یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے واضح احکام کتاب کی صورت میں نازل کیے اور اس کتاب کی تفہیم و تعلیم کے لیے رسولﷺکو بھی مبعوث فرمایا۔ اللہ کے رسولﷺ نے وہ تمام احکام اس انداز میں کھول کر بیان فرما دیے کہ اب اس کے بعد ان مخاطبین کے پاس کفر و شرک کے ساتھ چمٹے رہنے اور ضلالت و گمراہی سے باز نہ آنے کا کوئی جوازباقی نہیں رہا۔

آیت 4

وَ مَا تَفَرَّقَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡہُمُ الۡبَیِّنَۃُ ؕ﴿۴﴾

’’اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی انہوں نے تفرقہ نہیں کیا تھا مگر اس کے بعد جبکہ ان کے پاس البیِّنہ آ چکی تھی۔‘‘

یعنی اسی طرح اس سے پہلے بنی اسرائیل کے پاس بھی البیِّنہ (اللہ کا رسولؐ اور اس کی کتاب) آئی تھی‘ مگر وہ لوگ اس کے بعد بھی راہِ راست پر آنے کے بجائے تفرقہ بازی میں پڑ گئے۔ ان میں سے کچھ لوگ یہودی بن گئے اور کچھ نصاریٰ ۔ بعد میں نصاریٰ مزید کئی فرقوں میں بٹتے چلے گئے۔ چنانچہ البَیِّنہ کے آ جانے کے بعد بھی راہِ راست پر نہ آنے کے جرم کی پاداش میں وہ لوگ شدید ترین سزا کے مستحق ہو چکے ہیں۔

5

خالص دین کیا ہے؟

ویڈیو

وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعۡبُدُوا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ۙ حُنَفَآءَ وَ یُقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ یُؤۡتُوا الزَّکٰوۃَ وَ ذٰلِکَ دِیۡنُ الۡقَیِّمَۃِ ؕ﴿۵﴾

آیت 5

وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعۡبُدُوا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ۙ حُنَفَآءَ

’’اور انہیں حکم نہیں ہوا تھا مگر یہ کہ وہ بندگی کریں اللہ کی ‘اپنی اطاعت کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے ‘بالکل یکسو ہو کر‘‘

یہ حکم گویا پورے دین کا خلاصہ ہے جو اس سے پہلے سورۃ الزمر (آیات ۲‘۳‘۱۱اور ۱۴) میں بہت تاکید اور شدومد کے ساتھ بیان ہو چکا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت اس کی پوری اطاعت کے ساتھ کریں۔ یہ نہیں کہ نماز بھی پڑھے جا رہے ہیں اور حرام خوریوں سے بھی باز نہیں آتے۔ گویا اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ ساتھ اپنے نفس کی اطاعت بھی جاری ہے۔ ایسی آیات دراصل ہمیں خبردار کرتی ہیں کہ جزوی بندگی اور ساجھے کی اطاعت اللہ تعالیٰ کو ہرگز قابل قبول نہیں۔ اور یہ کہ اگر ہم اس جرم کا ارتکاب کریں گے تو ہم بھی اسی وعید کے مستحق ہوں گے جو اس حوالے سے بنی اسرائیل کو سنائی گئی تھی۔ ملاحظہ ہوں اس وعید کے یہ الفاظ : {اَفَتُؤۡمِنُوۡنَ بِبَعۡضِ الۡکِتٰبِ وَ تَکۡفُرُوۡنَ بِبَعۡضٍ ۚ فَمَا جَزَآءُ مَنۡ یَّفۡعَلُ ذٰلِکَ مِنۡکُمۡ اِلَّا خِزۡیٌ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یُرَدُّوۡنَ اِلٰۤی اَشَدِّ الۡعَذَابِ ؕ } (البقرۃ:۸۵) ’’تو کیا تم کتاب کے ایک حصے کو مانتے ہو اور ایک کو نہیں مانتے؟ تو نہیں ہے کوئی سزا اس کی جو یہ حرکت کرے تم میں سے سوائے ذلت و رسوائی کے دنیا کی زندگی میں ‘اور قیامت کے روز وہ لوٹا دیے جائیں گے شدید ترین عذاب کی طرف‘‘۔ بلکہ اس حوالے سے اصل حقیقت تو یہ ہے کہ اس آیت میں دنیا کے جس عذاب کا ذکر ہے {خِزۡیٌ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ } وہ اس وقت بحیثیت اُمت ہم پر مسلط ہو بھی چکا ہے ۔ مقامِ عبرت ہے! آج مسلمانوں کی آبادی دو ارب سے بھی زیادہ ہے‘ دنیا کے بہترین خطے اور بہترین وسائل ان کے قبضے میں ہیں‘ مگر اس کے باوجود عزت نام کی کوئی چیز ان کے پاس نہیں۔ بین الاقوامی معاملات کے حوالے سے مسلمان حکمرانوں کی حالت یہ ہے کہ ’’کس نمی پرسد کہ بھیا کیستی؟‘‘یعنی عالمی معاملات میں کوئی ان کی رائے لینا بھی گوارا نہیں کرتا۔ بلکہ مسلمان ملکوں کی اپنی پالیسیوں کا اختیار بھی ان کے پاس نہیں۔ ان کے سالانہ بجٹ بھی کہیں اور سے بن کر آتے ہیں۔

بہرحال اس آیت کے حکم کا مدعا یہی ہے کہ جسے اللہ کا ’’بندہ‘‘ بننا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی اس کے قانون کے تابع کر کے اس کے حضور پیش ہو۔’’قیصر کا حصہ قیصر کو دو اور خدا کا حصہ خدا کو دو‘‘ والا قانون اللہ تعالیٰ کو قابل قبول نہیں۔چنانچہ ایمان کے دعوے داروں کو چاہیے کہ وہ اللہ کی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے پوری یکسوئی کے ساتھ اس کی عبادت کریں۔

وَ یُقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ یُؤۡتُوا الزَّکٰوۃَ وَ ذٰلِکَ دِیۡنُ الۡقَیِّمَۃِ ؕ﴿۵﴾

’’اور (یہ کہ)نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں ‘اور یہی ہے سیدھا (اور سچا)دین۔‘‘

گویا ان الفاظ سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ ’’بندگی‘‘ اور شے ہے ‘جبکہ نماز اور زکوٰۃ اس کے علاوہ ہے۔ اس نکتے کو یوں سمجھیں کہ بندگی تو پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں دے دینے کا نام ہے۔ بقول شیخ سعدیؔ :

زندگی آمد برائے بندگی

زندگی بے بندگی شرمندگی!

جبکہ نماز ‘ زکوٰۃ (عبادات) وغیرہ اس بندگی کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لوازمات ہیں‘ تاکہ ان کے ذریعے سے بندہ اپنے رب کو مسلسل یاد کرتا رہے اور اس کا تعلق اپنے رب کے ساتھ ہردم‘ ہر گھڑی تازہ رہے۔ حفیظ جالندھری کے اس خوبصورت شعر میں یہی فلسفہ بیان ہوا ہے :

سرکشی نے کر دیے دھندلے نقوشِ بندگی

آؤ سجدے میں گریں لوحِ جبیں تازہ کریں!

گویا ہمارے ’’نقوشِ بندگی‘‘ نفس پرستی کی کثافتوں اور کدورتوں کے گرد و غبار سے اکثر دھندلا جاتے ہیں۔

چنانچہ انہیں تازہ رکھنے کے لیے نماز‘ روزہ‘ زکوٰۃ اور دیگر مراسم عبودیت کے ذریعے ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور مسلسل حاضری دینے کی ضرورت رہتی ہے۔ جیسے ایک بندۂ مسلمان اپنی نماز پنجگانہ کی ہر رکعت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا یہ عہد تازہ کرتا ہے : {اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ4} کہ اے اللہ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں (اور کرتے رہیں گے) اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں (اور مانگتے رہیں گے)۔تصور کیجیے اگر ایک بندہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہو کر یہ عہد پورے ارادے اور شعور کے ساتھ روزانہ بار بار دہرائے گا تو اس سے اس کے تعلق مع اللہ کے چمن میں تروتازگی کی کیسی کیسی بہاروں کا سماں بندھا رہے گا۔

6-8

کھرے اور کھوٹے کا انجام

ویڈیو

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ وَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ فِیۡ نَارِ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمۡ شَرُّ الۡبَرِیَّۃِ ؕ﴿۶﴾ اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ اُولٰٓئِکَ ہُمۡ خَیۡرُ الۡبَرِیَّۃِ ؕ﴿۷﴾ جَزَآؤُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ جَنّٰتُ عَدۡنٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ ؕ ذٰلِکَ لِمَنۡ خَشِیَ رَبَّہٗ ٪﴿۸﴾

آیت 6

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ وَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ

’’بے شک وہ لوگ جنہوں نے کفر کی روش اختیار کی‘ خواہ وہ اہل کتاب میں سے تھے ‘خواہ مشرکین میں سے‘‘

فِیۡ نَارِ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ

’’وہ ہوں گے جہنم کی آگ میں‘ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘

اُولٰٓئِکَ ہُمۡ شَرُّ الۡبَرِیَّۃِ ؕ﴿۶﴾

’’یہی لوگ بدترین خلائق ہیں۔‘‘

آیت 7

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ

’’(اس کے برعکس) وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے‘‘

اُولٰٓئِکَ ہُمۡ خَیۡرُ الۡبَرِیَّۃِ ؕ﴿۷﴾

’’یہی بہترین خلائق ہیں۔‘‘

اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ! اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ان لوگوں میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

آیت 8

جَزَآؤُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ جَنّٰتُ عَدۡنٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ

’’ان کا بدلہ ہو گا ان کے رب کے پاس دائمی قیام کے باغات کی صورت میں جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی ‘ان میں وہ رہیں گے ہمیشہ ہمیش۔‘‘

یہاں پر ضمنی طور پر یہ علمی نکتہ بھی نوٹ کر لیجیے کہ قرآن مجید میں دو مقامات ایسے ہیں جہاں اہل جنت اور اہل جہنم کے فوری تقابل (simultaneous contrast) میں اہل جنت کے لیے {خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ } جبکہ اہل جہنم کے لیے صرف {خٰلِدِیْنَ فِیْہَا} کے الفاظ آئے ہیں۔ ان میں ایک مقام تو یہی ہے۔ یعنی اس سورت کی زیر مطالعہ آیت میں اہل جنت کے لیے {خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ } کے الفاظ آئے ہیں‘ جبکہ اس سے پہلے آیت ۶ میں اہل جہنم کا ذکر کرتے ہوئے {خٰلِدِیْنَ فِیْہَا} کے الفاظ تک اکتفاء فرمایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سورۃ التغابن کی آیت۹ اور آیت ۱۰ میں بھی اہل جنت اور اہل جہنم کے تقابل کے حوالے سے یہی فرق دیکھنے میں آتا ہے۔ ان دونوں مقامات میں مذکورہ فرق کی بنیاد پر اُمت مسلمہ کی دو بہت بڑی علمی شخصیات نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ جنت اور اس کی نعمتیں تو ابدی ہیں ‘لیکن جہنم ابدی نہیں ہے اور یہ کہ کبھی ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب اہل جہنم میں سے خیر کے حامل آخری عناصر کو نکال کر باقی لوگوں کومدتِ مدید تک مبتلائے عذاب رکھنے کے بعد بالآخر اس میں جلا کر معدوم کردیا جائے گا اور اس کے بعد جہنم کو بھی ختم کر دیا جائے گا۔ اس موقف کی حامل دو شخصیات میں ایک تو شیخ اکبر محی الدین ابن عربیؒ ہیں جن کا شمار چوٹی کے صوفیاء میں ہوتاہے اور دوسری شخصیت امام ابن تیمیہ ؒ کی ہے جو سلفی حضرات کے نزدیک اسلامی دنیا کے سب سے بڑے امام اور عالم ہیں۔ امام ابن تیمیہؒ کا اس نکتے پر محی الدین ابن عربی ؒسے متفق ہو جانا یقینا ایک اہم بات اور ’’ متفق گردید رائے بوعلی بارائے من‘‘والا معاملہ ہے ‘کیونکہ مجموعی طور پر وہ محی الدین ابن عربیؒ کے خیالات ونظریات سے شدید اختلاف رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ جہنم کے ابدی نہ ہونے سے متعلق میں نے یہاں مذکورہ دو شخصیات کی آراء کا ذکر محض ایک علمی نکتے کے طور پر کیا ہے ‘ عام اہل سنت کا عقیدہ بہرحال یہ نہیں ہے۔ اہل سنت علماء کے نزدیک جہنم بھی جنت کی طرح ابدی ہی ہے۔

رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ ؕ

’’اللہ ان سے راضی ہو ا اور وہ اس سے راضی ہوئے ۔‘‘

یعنی آخرت میں اللہ تعالیٰ انہیں اتنا کچھ عطا فرمائے گا کہ وہ اللہ سے خوش ہوجائیں گے۔

ذٰلِکَ لِمَنۡ خَشِیَ رَبَّہٗ ٪﴿۸﴾

’’یہ (صلہ)اُس کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے۔‘‘

اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ! اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ! آمین‘ ثم آمین!

یوٹیوب پر دیکھیے