بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

القدر

آیات ۱ تا ۵

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

1-3

شبِ قدر کی عظمت و فضیلت

ویڈیو

اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃِ الۡقَدۡرِ ۚ﴿ۖ۱﴾ وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا لَیۡلَۃُ الۡقَدۡرِ ؕ﴿۲﴾ لَیۡلَۃُ الۡقَدۡرِ ۬ۙ خَیۡرٌ مِّنۡ اَلۡفِ شَہۡرٍ ؕ﴿ؔ۳﴾

آیت 1

اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃِ الۡقَدۡرِ ۚ﴿ۖ۱﴾

’’یقینا ہم نے اتارا ہے اس (قرآن) کو لیلۃ القدر میں۔‘‘

’’اَنْزَلْنٰـہُ‘‘ کی ضمیر مفعولی کا مرجع بالاتفاق قرآن مجید ہی ہے۔ نوٹ کیجیے! ان سورتوں کے مضامین کے اندر ایک ربط پایا جاتا ہے ‘یعنی پہلی وحی (سورۃ العلق) کے فوراً بعد بتایا جا رہا ہے کہ ہم نے اس کلام کو لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ قدر کا معنی تقدیر اور قسمت بھی ہے اور عزت و منزلت بھی۔ یہاں دونوں معنی مراد لیے جاسکتے ہیں۔ یعنی ہم نے اس قرآن کو اس رات میں اتارا ہے جو قدر و منزلت کے اعتبار سے بے مثل رات ہے‘ یا اس رات میں اتارا ہے جو تقدیر ساز ہے۔ سورۃ الدخان میں اس رات کا ذکر لَیْلَۃ مُبَارَکَۃ کے نام سے آیا ہے: {اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ } (آیت ۳) ’’یقینا ہم نے نازل کیا ہے اس (قرآن) کو ایک مبارک رات میں‘‘۔یہ کونسی رات ہے؟اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہابیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: حدیث((تَحَرَّوْا لَیْلَۃَ الْقَدْرِ فِی الْوِتْرِ مِنَ الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ))۱’’لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو‘‘۔ زیادہ تر لوگوں کاخیال ہے کہ ستائیسویں رمضان کی شب ہی لیلۃ القدر ہے۔ لیکن جیسا کہ سورۃ الفجر کی آیت ۳کے ضمن میں بھی وضاحت کی جا چکی ہے‘ قمری کیلنڈر کی طاق اور جفت راتوں کی گنتی دنیا کے مختلف خطوں میں مختلف ہوتی ہے۔ مثلاً آج ہمارے ہاںجو طاق رات ہے سعودی عرب میں ممکن ہے وہ جفت رات ہو۔ اس لیے لیلۃ القدر کو تلاش کرنے کا محتاط طریقہ یہی ہے کہ اسے رمضان کے آخری عشرے کی تمام راتوں (جفت اور طا ق دونوں)میں تلاش کیا جائے۔ اور اگر واقعی ستائیسویں رمضان کی شب ہی لیلۃ القدر ہے تو اس بارے میں میرا اپنا خیال یہ ہے کہ پھر یہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی ستائیسویں شب ہے ۔ واللہ اعلم!

اس رات میں قرآن نازل کرنے کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس رات کو پورا قرآن مجید لوحِ محفوظ سے حاملینِ وحی فرشتوں کے سپرد کر دیا گیا اور پھر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ۲۳ سال کے دوران میں حضرت جبرائیل علیہ السلام اس کی آیات اور سورتیں رسول اللہﷺ پر نازل کرتے رہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے نزول کی ابتدا اس رات سے ہوئی ۔

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب صلاۃ التراویح‘ باب تحری لیلۃ القدر فی الوتر من العشر الاواخر۔ وصحیح مسلم‘ کتاب الصیام‘ باب فضل لیلۃ القدر …

آیت 2

وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا لَیۡلَۃُ الۡقَدۡرِ ؕ﴿۲﴾

’’اور تم کیا جانتے ہوکہ لیلۃ القدر کیا ہے!‘‘

آیت 3

لَیۡلَۃُ الۡقَدۡرِ ۬ۙ خَیۡرٌ مِّنۡ اَلۡفِ شَہۡرٍ ؕ﴿ؔ۳﴾

’’لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے بہترہے۔‘‘

یہ بہتری اور افضلیت کس اعتبار سے ہے؟ اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ اس رات کا عملِ خیر ہزار مہینوں کے عملِ خیر سے بہتر ہے جس میں لیلۃ القدر نہ ہو۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: حدیث((مَنْ قَامَ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ اِیْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ))۱’’جو شخص لیلۃ القدر میں ایمان کے ساتھ اور اللہ سے اجر کی امید میں کھڑارہا اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دیے گئے‘‘۔ اس رات کی افضلیت کے ضمن میں ایک رائے یہ ہے کہ اس ایک رات میں اتنی خیر تقسیم کی جاتی ہے جتنی ایک ہزار مہینہ میں بھی تقسیم نہیں کی جاتی۔ اس رات کی افضلیت کا یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ انسان کی اصلاح اور فلاح کے لیے جو کام (نزولِ قرآن) اس ایک رات میں ہوا‘ خیر اور بھلائی کا اتنا بڑا کام کبھی انسانی تاریخ کے کسی طویل زمانے میں بھی نہ ہوا تھا۔ واضح رہے کہ اہل عرب بڑی کثیر تعداد کا تصور دلانے کے لیے اَلْف (ہزار)کا لفظ بولتے تھے۔

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الصوم‘ باب من صام رمضان ایمانا واحتسابا ونیۃ۔وصحیح مسلم‘ کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا‘ باب الترغیب فی قیام رمضان وھو التراویح۔

4-5

شبِ قدر میں فیصلوں کا نزول

ویڈیو

تَنَزَّلُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ وَ الرُّوۡحُ فِیۡہَا بِاِذۡنِ رَبِّہِمۡ ۚ مِنۡ کُلِّ اَمۡرٍ ۙ﴿ۛ۴﴾ سَلٰمٌ ۟ۛ ہِیَ حَتّٰی مَطۡلَعِ الۡفَجۡرِ ٪﴿۵﴾

آیت 4

تَنَزَّلُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ وَ الرُّوۡحُ فِیۡہَا بِاِذۡنِ رَبِّہِمۡ ۚ مِنۡ کُلِّ اَمۡرٍ ۙ﴿ۛ۴﴾

’’(اس رات میں) اُترتے ہیں فرشتے اور روح اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے۔‘‘

روح سے مراد یہاں روح الامین یعنی حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں۔ حضرت جبرائیل ؑفرشتوں کے سردار ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں انہیں خصوصی مقام و مرتبہ حاصل ہے ۔جیسا کہ سورۃ التکویر میں فرمایا گیا : {ذِیۡ قُوَّۃٍ عِنۡدَ ذِی الۡعَرۡشِ مَکِیۡنٍ ﴿ۙ۲۰﴾مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیۡنٍ ﴿ؕ۲۱﴾} ’’وہ (جبرائیل ؑ) بہت قوت والا ہے‘ صاحب عرش کے قرب میں اس کا ٹھکانہ ہے۔ اس کی اطاعت کی جاتی ہے اور وہاںوہ امانت دار بھی ہے‘‘۔یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں جہاں کہیں حضرت جبرائیل ؑاور فرشتوں کا ذکر آتا ہے تو ان ؑ(حضرت جبرائیل ؑ)کا ذکر عام طور پر علیحدہ کیا جاتا ہے۔

لیلۃ القدر میں حضرت جبرائیل علیہ السلام اور فرشتوں کا خصوصی نزول دراصل اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل و تنفیذ کے حوالے سے ہوتا ہے۔ سورۃ الدخان میں لیلۃ القدر یا لیلۃ مبارکہ کے بارے میں ایک خصوصی بات یہ بتائی گئی ہے : {فِیۡہَا یُفۡرَقُ کُلُّ اَمۡرٍ حَکِیۡمٍ ۙ﴿۴﴾} کہ اس رات میں تمام پرحکمت امور کے فیصلے صادر کیے جاتے ہیں۔سورۃ الدخان کے مطالعے کے دوران اس آیت کے تحت اس موضوع پر تفصیلی گفتگو ہو چکی ہے۔ مختصراً یہ کہ لیلۃ القدر اللہ تعالیٰ کی تکوینی سلطنت سے متعلق فیصلوں کے لیے سالانہ بجٹ سیشن کا درجہ رکھتی ہے۔ اس رات میں اگلے سال کے لیے تمام اہم امور کے فیصلے کر کے تعمیل و تنفیذ کی غرض سے فرشتوں کے حوالے کر دیے جاتے ہیں۔ چنانچہ فرشتے حضرت جبرائیل ؑکی قیادت میں ان احکامات پر عمل درآمد کے لیے پوری زمین میں پھیل جاتے ہیں۔ نظامِ کائنات سے متعلق اللہ تعالیٰ کی اس ’’تدبیرِ امر‘‘ کا ذکر سورۃ السجدۃ کی اس آیت میں بھی آیا ہے: {یُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَی الۡاَرۡضِ ثُمَّ یَعۡرُجُ اِلَیۡہِ} (آیت۵) ’’وہ تدبیر کرتا ہے اپنے امر کی آسمان سے زمین کی طرف ‘پھر وہ (امر)چڑھتا ہے اُس کی طرف‘‘ ۔گویا اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل کے بعد متعلقہ فرشتے تکمیلی رپورٹیں بھی بھیجتے ہیں ۔

آیت 5

سَلٰمٌ ۟ۛ

’’سراسرسلامتی ہے۔‘‘

اس سلامتی کے بہت سے پہلو ہیں ۔مثلاً اس رات میں لوگوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور عبادت کا ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

ہِیَ حَتّٰی مَطۡلَعِ الۡفَجۡرِ ٪﴿۵﴾

’’یہ (رات) رہتی ہے طلوعِ فجر تک۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے