اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃِ الۡقَدۡرِ ۚ﴿ۖ۱﴾
’’یقینا ہم نے اتارا ہے اس (قرآن) کو لیلۃ القدر میں۔‘‘
’’اَنْزَلْنٰـہُ‘‘ کی ضمیر مفعولی کا مرجع بالاتفاق قرآن مجید ہی ہے۔ نوٹ کیجیے! ان سورتوں کے مضامین کے اندر ایک ربط پایا جاتا ہے ‘یعنی پہلی وحی (سورۃ العلق) کے فوراً بعد بتایا جا رہا ہے کہ ہم نے اس کلام کو لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ قدر کا معنی تقدیر اور قسمت بھی ہے اور عزت و منزلت بھی۔ یہاں دونوں معنی مراد لیے جاسکتے ہیں۔ یعنی ہم نے اس قرآن کو اس رات میں اتارا ہے جو قدر و منزلت کے اعتبار سے بے مثل رات ہے‘ یا اس رات میں اتارا ہے جو تقدیر ساز ہے۔ سورۃ الدخان میں اس رات کا ذکر لَیْلَۃ مُبَارَکَۃ کے نام سے آیا ہے: {اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ } (آیت ۳) ’’یقینا ہم نے نازل کیا ہے اس (قرآن) کو ایک مبارک رات میں‘‘۔یہ کونسی رات ہے؟اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہابیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: حدیث((تَحَرَّوْا لَیْلَۃَ الْقَدْرِ فِی الْوِتْرِ مِنَ الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ))۱’’لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو‘‘۔ زیادہ تر لوگوں کاخیال ہے کہ ستائیسویں رمضان کی شب ہی لیلۃ القدر ہے۔ لیکن جیسا کہ سورۃ الفجر کی آیت ۳کے ضمن میں بھی وضاحت کی جا چکی ہے‘ قمری کیلنڈر کی طاق اور جفت راتوں کی گنتی دنیا کے مختلف خطوں میں مختلف ہوتی ہے۔ مثلاً آج ہمارے ہاںجو طاق رات ہے سعودی عرب میں ممکن ہے وہ جفت رات ہو۔ اس لیے لیلۃ القدر کو تلاش کرنے کا محتاط طریقہ یہی ہے کہ اسے رمضان کے آخری عشرے کی تمام راتوں (جفت اور طا ق دونوں)میں تلاش کیا جائے۔ اور اگر واقعی ستائیسویں رمضان کی شب ہی لیلۃ القدر ہے تو اس بارے میں میرا اپنا خیال یہ ہے کہ پھر یہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی ستائیسویں شب ہے ۔ واللہ اعلم!
اس رات میں قرآن نازل کرنے کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس رات کو پورا قرآن مجید لوحِ محفوظ سے حاملینِ وحی فرشتوں کے سپرد کر دیا گیا اور پھر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ۲۳ سال کے دوران میں حضرت جبرائیل علیہ السلام اس کی آیات اور سورتیں رسول اللہﷺ پر نازل کرتے رہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے نزول کی ابتدا اس رات سے ہوئی ۔
(۱) صحیح البخاری‘ کتاب صلاۃ التراویح‘ باب تحری لیلۃ القدر فی الوتر من العشر الاواخر۔ وصحیح مسلم‘ کتاب الصیام‘ باب فضل لیلۃ القدر …