اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الَّذِیۡ خَلَقَ ۚ﴿۱﴾
’’پڑھیے اپنے اُس رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔‘‘
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
تحریر
آیات ۱ تا ۱۹
بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد
قرآنترجمہتشریححدیثشعر
سورۃ العلق کی ابتدائی پانچ آیات کے بارے میں تمام مفسرین متفق ہیں کہ غارِ حرا میں حضورﷺ پر جو پہلی وحی آئی تھی وہ ان آیات پر مشتمل تھی۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورﷺ پر وحی کی ابتدا سچے خوابوں سے ہوئی۔ رات کو آپ ؐجو خواب دیکھتے دن کو اس کی تعبیر ہوبہو وہی سامنے آجاتی۔ پھر آپؐ خلوت گزینی کی طرف مائل ہو گئے۔ یہی وہ زمانہ تھا جب آپؐ کئی کئی راتوں تک غارِ حرا میں قیام فرمایا کرتے تھے۔ آپؓ فرماتی ہیں فَیَتَحَنَّثُ فِیْہِ یعنی غارِ حرامیں آپؐ عبادت کیا کرتے تھے۔غارِ حرا کی خلوت میں آپؐ کی عبادت کی نوعیت کیا تھی‘اس بارے میں تمام شارحین حدیث کا اجماع ہے کہ وہاں پر آپؐ اپنا وقت غور و فکر اور سوچ بچار (التفکر والاعتبار) میں گزارتے تھے۔ اسی زمانے میں ایک دن آپؐ غارِ حرا میں مصروفِ ذکر وفکر تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور آپؐ سے کہا: اِقْرَاْ کہ پڑھئے۔ آپؐ نے فرمایا: مَا اَنَا بِقَارِیٍٔ کہ میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ اس پر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپﷺ کو سینے سے لگاکر بھینچا اور پھر پڑھنے کو کہا۔ آپؐ نے پھر فرمایا : مَا اَنَا بِقَارِیٍٔ۔ حضرت جبرائیل ؑنے پھر وہی عمل دہرایا اور آپ ﷺنے پھر وہی جواب دیا۔ حتیٰ کہ جب حضرت جبرائیل ؑ نے تیسری مرتبہ آپؐ کو بھینچنے کے بعد فرمایا: {اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الَّذِیۡ خَلَقَ ۚ﴿۱﴾…} الخ تو مذکورہ آیات آپؐ کی زبانِ مبارک پر جاری ہو گئیں۔ اس حوالے سے مجھے اس روایت سے اتفاق ہے کہ اس وحی کے نزول کے وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام آپؐ کے پاس سونے کی ایک تختی لے کر آئے تھے جس پر یہ آیات لکھی ہوئی تھیں۔ ظاہر ہے اگر حضرت جبرائیل ؑ نے آپؐ کو زبانی پڑھانا ہوتا تو آپؐ یقینا مذکورہ جواب نہ دیتے۔ یعنی ضرور آپؐ کے سامنے کوئی ایسی چیز آئی تھی جسے دیکھ کر پڑھنا تھا۔ تبھی آپﷺ نے فرمایا: مَا اَنَا بِقَارِیٍٔ۔
اس وحی کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ اس موقع پر حضرت جبرائیل علیہ السلام آپﷺ کے پاس اپنی اصلی مَلَکی شکل میں آئے تھے۔ اس وقت اگرچہ آپؐ نیم بیداری اور نیم خوابیدگی کی کیفیت میں تھے لیکن آپؐ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی شکل میں دیکھا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب ایک طویل وقفے (فترتِ وحی) کے بعد چوتھی وحی کے نزول کے موقع پر حضرت جبرائیل ؑ آپؐ کو افق پر نظر آئے (اس واقعہ کی تفصیل سورۃ المدثر کے تمہیدی کلمات میں بیان ہو چکی ہے) تو آپؐ نے انہیں دیکھتے ہی پہچان لیا کہ یہ وہی فرشتہ ہے جو قبل ازیں میرے پاس غار حراء میں آیا تھا۔
اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الَّذِیۡ خَلَقَ ۚ﴿۱﴾ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ عَلَقٍ ۚ﴿۲﴾ اِقۡرَاۡ وَ رَبُّکَ الۡاَکۡرَمُ ۙ﴿۳﴾ الَّذِیۡ عَلَّمَ بِالۡقَلَمِ ۙ﴿۴﴾ عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ یَعۡلَمۡ ؕ﴿۵﴾
اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الَّذِیۡ خَلَقَ ۚ﴿۱﴾
’’پڑھیے اپنے اُس رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔‘‘
خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ عَلَقٍ ۚ﴿۲﴾
’’انسان کو پیدا کیا ہے اُس جونک کی طرح کی چیز سے جو رحم مادر میں چمٹ گئی تھی۔‘‘
اِقۡرَاۡ وَ رَبُّکَ الۡاَکۡرَمُ ۙ﴿۳﴾
’’پڑھیے اور آپ کا ربّ بہت کریم ہے۔‘‘
الَّذِیۡ عَلَّمَ بِالۡقَلَمِ ۙ﴿۴﴾
’’جس نے تعلیم دی ہے قلم کے ساتھ۔‘‘
گویا عام انسانی تعلیم کا ذریعہ قلم ہے ‘جبکہ حضورﷺ کی تعلیم کے لیے فرشتہ مقرر ہوا۔
عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ یَعۡلَمۡ ؕ﴿۵﴾
’’اور انسان کو وہ کچھ سکھایا ہے جو وہ نہیں جانتا تھا۔‘‘
پہلی وحی ان پانچ آیات پر مشتمل تھی۔ اس وحی میں حضورﷺ کو تبلیغ و انذار سے متعلق کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ البتہ اس وحی کی خاص اہمیت یہ ہے کہ اس سے آپؐ کی نبوت کا ظہور ہوا (ہر نبی اگرچہ پیدائشی طور پر ہی نبی ہوتا ہے لیکن اس کی نبوت کاباقاعدہ ظہور پہلی وحی کے وقت ہوتا ہے)۔ تبلیغ کا باقاعدہ حکم آپؐ کو سورۃ المدثر کی ان آیات میں دیا گیا : {یٰۤاَیُّہَا الۡمُدَّثِّرُ ۙ﴿۱﴾قُمۡ فَاَنۡذِرۡ ۪ۙ﴿۲﴾وَ رَبَّکَ فَکَبِّرۡ ۪﴿ۙ۳﴾} کہ اے لحاف میں لپٹ کرلیٹنے والے (ﷺ) کھڑے ہو جائو اور اپنے رب کی کبریائی کا اعلان کرو۔ یعنی اے نبی (ﷺ) اب آپ اللہ تعالیٰ کی کبریائی کو عملی طور پر نافذ کرنے کے لیے جدوجہد شروع کر دیجیے ۔سورۃ العلق اور سورۃ المدثر کے مابین اس لحاظ سے گہری مشابہت پائی جاتی ہے کہ سورۃ المدثر کی طرح یہ سورت بھی تین حصوں پر مشتمل ہے۔ پھر جس طرح سورۃ المدثر کی پہلی سات آیات میں حضورﷺ سے خطاب کے بعد تین آیات میں قیامت کا ذکر آیا ہے‘ بالکل اسی طرح اس سورت میں بھی پہلی پانچ آیات میں حضورﷺ سے خطاب ہے اور اس کے بعد درج ذیل تین آیات میں آخرت کا فلسفہ بیان ہوا ہے۔
کَلَّاۤ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَیَطۡغٰۤی ۙ﴿۶﴾ اَنۡ رَّاٰہُ اسۡتَغۡنٰی ﴿ؕ۷﴾ اِنَّ اِلٰی رَبِّکَ الرُّجۡعٰی ؕ﴿۸﴾
کَلَّاۤ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَیَطۡغٰۤی ۙ﴿۶﴾
’’کوئی نہیں! انسان سرکشی پر آمادہ ہو ہی جاتا ہے۔‘‘
انسان سرکشی اور ظلم و زیادتی پر کیوں اتر آتا ہے ؟ اس کی وجہ اگلی آیت میں بتائی گئی :
اَنۡ رَّاٰہُ اسۡتَغۡنٰی ﴿ؕ۷﴾
’’اس بنا پر کہ وہ اپنے آپ کو مستغنی دیکھتا ہے۔‘‘
وہ دیکھتا ہے کہ اس پر کوئی پکڑ نہیں۔ دنیا میں نہ تو ظالم کو اس کے ظلم کی قرار واقعی سزا ملتی ہے اور نہ ہی مظلوم کی کماحقہ داد رسی ہوتی ہے ۔چنانچہ وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اس دنیاکا نظام محض طبعی قوانین و ضوابط (physical laws) کے مطابق چل رہا ہے اور یہ کہ یہاں اخلاقی قوانین (moral laws) کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ انسان کی روز مرہ زندگی کا تجربہ بھی اسے یہی بتاتا ہے کہ زہر کھانے سے تو آدمی ہلاک ہو جاتا ہے لیکن حرام کھانے سے اسے کچھ بھی نہیں ہوتا۔ چنانچہ جب معاشرے کے عام آدمی کو نیکی ‘ انصاف‘ دیانت داری جیسے الفاظ عملی طور پر بے معنی اور بے وقعت نظرآتے ہیں تو وہ سرکشی اور من مرضی کے راستے پر چل نکلتا ہے ۔ اب اگلی آیت میں انسان کی اس سرکشی اور بغاوت کا علاج بتایا جا رہا ہے ۔ اس کا علاج اس یاد دہانی میں ہے کہ:
اِنَّ اِلٰی رَبِّکَ الرُّجۡعٰی ؕ﴿۸﴾
’’یقینا تجھے اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔‘‘
گویا انسان کو راہِ راست پر رکھنے کا جو مؤثر ترین علاج ہے وہ ہے عقیدئہ آخرت پر پختہ یقین ۔یعنی یہ یقین کہ ایک دن اسے اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش ہو کر اپنے ایک ایک عمل کا حساب دینا ہے اور وہ عدالت بھی ایسی ہے جہاں ذرّہ برابر بھی کوئی چیز چھپائی نہیں جا سکے گی: {فَمَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ ؕ﴿۷﴾وَ مَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ٪﴿۸﴾} (الزلزال) ’’جس کسی نے ذرّے کے ہم وزن نیکی کمائی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا ۔اور جس کسی نے ذرّ ے کے ہم وزن برائی کی ہو گی وہ بھی اسے دیکھ لے گا‘‘۔گویا یہ عقیدۂ آخرت پر پختہ یقین اور قیامت کے دن کی پیشی کا خوف ہی ہے جو انسان کے اندر خود احتسابی کا احساس اُجاگر کرتا ہے ۔ یہی یقین اور خوف اسے خلوت و جلوت میں‘ اندھیرے اُجالے میں اور ہر جگہ ‘ہر حال میں غلط روی اور ظلم و تعدی کے ارتکاب سے باز رکھتا ہے۔ ورنہ انسان کی سرشت ایسی ہے کہ جس مفاد تک اس کا ہاتھ پہنچتا ہو اسے سمیٹنے کے لیے وہ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی حدود کی پروا نہیں کرتا۔
اب اگلی آیت سے اس سورت کا تیسرا حصہ شروع ہو رہا ہے ۔ سورۃ المدثرکے ساتھ اس سورت کے مضامین کی مشابہت کا انداز ملاحظہ ہو کہ سورۃ المدثر کے تیسرے حصے میں ولید بن مغیرہ کے کردار کی جھلک دکھائی گئی ہے ‘جبکہ یہاںاس کے مقابل ابوجہل کے طرزِعمل کا نقشہ پیش کیا گیا ہے۔
اَرَءَیۡتَ الَّذِیۡ یَنۡہٰی ۙ﴿۹﴾ عَبۡدًا اِذَا صَلّٰی ﴿ؕ۱۰﴾ اَرَءَیۡتَ اِنۡ کَانَ عَلَی الۡہُدٰۤی ﴿ۙ۱۱﴾ اَوۡ اَمَرَ بِالتَّقۡوٰی ﴿ؕ۱۲﴾ اَرَءَیۡتَ اِنۡ کَذَّبَ وَ تَوَلّٰی ﴿ؕ۱۳﴾ اَلَمۡ یَعۡلَمۡ بِاَنَّ اللّٰہَ یَرٰی ﴿ؕ۱۴﴾ کَلَّا لَئِنۡ لَّمۡ یَنۡتَہِ ۬ۙ لَنَسۡفَعًۢا بِالنَّاصِیَۃِ ﴿ۙ۱۵﴾ نَاصِیَۃٍ کَاذِبَۃٍ خَاطِئَۃٍ ﴿ۚ۱۶﴾ فَلۡیَدۡعُ نَادِیَہٗ ﴿ۙ۱۷﴾ سَنَدۡعُ الزَّبَانِیَۃَ ﴿ۙ۱۸﴾ کَلَّا ؕ لَا تُطِعۡہُ وَ اسۡجُدۡ وَ اقۡتَرِبۡ ﴿٪ٛ۱۹﴾
اَرَءَیۡتَ الَّذِیۡ یَنۡہٰی ۙ﴿۹﴾
’’کیا تم نے دیکھا اُس شخص کو جو روکتا ہے۔‘‘
عَبۡدًا اِذَا صَلّٰی ﴿ؕ۱۰﴾
’’(ہمارے) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھتا ہے۔‘‘
یہ اشارہ ہے ابوجہل کی ان جسارت آمیز حرکات کی طرف جو وہ حضورﷺ کو نماز سے روکنے کے لیے کیا کرتا تھا۔ مثلاً ایک مرتبہ نبی کریمﷺ خانہ کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے۔ ابوجہل نے آپؐ کو دیکھا تو اونٹ کی اوجھڑی منگوا کر عین سجدے کی حالت میں آپؐ کی پشت مبارک پر رکھوا دی۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ابھی بچی تھیں‘ ان کو پتا چلا تو آپؓ گھر سے بھاگم بھاگ حرم میں پہنچیں اور اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے اس غلاظت کو آپؐ کے اوپر سے ہٹایا۔ اسی طرح ایک اور موقع پر ابوجہل نے آپؐ کو نماز پڑھتے دیکھ کر آپؐ کی گردن مبارک میں چادر ڈال کر اس قدر زور سے مروڑا کہ آپؐ کی آنکھیں اُبل پڑیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ حضورﷺ کے سفر طائف سے واپسی کے زمانے میں بھی پیش آیا۔ اس واقعہ کی تفصیل روایات میں یوں آتی ہے کہ ابوجہل نے لات اور عزیٰ کی قسم کھا کر کہا تھا کہ اگر اس نے پھر محمد (ﷺ) کو اس طرح نماز پڑھتے دیکھا تو ان کی گردن روند ڈالوں گا اور ان کا منہ خاک آلود کر دوں گا۔ ایک دن اُس نے آپﷺ کو حرم میں نماز پڑھتے دیکھا تو غصے میں آپؐ کو ڈانٹتے ہوئے آپؐ کی طرف بڑھا تاکہ اپنی قسم پوری کرے مگر پھر یکدم دہشت زدہ ہو کر پیچھے ہٹ گیا۔ لوگوں نے پوچھا کیا ہوا؟ کیوں پیچھے ہٹ آئے؟ کہنے لگا کہ آگے بڑھنے پر مجھے اپنے اور محمد (ﷺ) کے درمیان حائل آگ سے بھری ہوئی ایک خندق اور ایک پروں والی کوئی مخلوق دکھائی دی جو میری تکہ بوٹی کرنے کو تیار تھی۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اگر وہ میرے قریب پھٹکتا تو فرشتے اس کے چیتھڑے اڑادیتے۔ یہاں یہ نکتہ لائق توجہ ہے کہ پہلے دونوں واقعات کے حوالے سے ابوجہل کو ایسے کسی غیر معمولی یا غیر مرئی ردعمل کا تجربہ نہیں ہوا تھا۔ میرے نزدیک اس کی توجیہہ یہ ہے کہ پہلے دونوں واقعات کے زمانے میں حضورﷺ کی پشت پناہی کے لیے دنیوی اسباب کے طور پر جناب ابوطالب موجود تھے‘ جبکہ تیسرا واقعہ اس زمانے میں پیش آیا جب یہ دنیوی سہارا بھی موجود نہ رہا اور اب حضورﷺ کی حفاظت براہِ راست اللہ تعالیٰ خود فرما رہا تھا۔ اس لیے اس وقت غیبی مدد کے ذریعے حضورﷺ کی حفاظت کو یقینی بنایا گیا۔آیات زیر مطالعہ میں خاص طور پر اسی واقعہ کا تذکرہ ہے۔
اَرَءَیۡتَ اِنۡ کَانَ عَلَی الۡہُدٰۤی ﴿ۙ۱۱﴾
’’کیا تم نے غور کیااگر وہ شخص ہدایت پر ہوتا؟‘‘
اَوۡ اَمَرَ بِالتَّقۡوٰی ﴿ؕ۱۲﴾
’’یا وہ تقویٰ کی تعلیم دیتا!‘‘
جیسا کہ سورۃ اللیل کی آیت ۱۰کے ضمن میں بھی ذکر ہو چکا ہے کہ ابوجہل کے کردار میں بہت سی مثبت خصوصیات بھی پائی جاتی تھیں۔ مثلاً وہ مال خرچ کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہتا تھا ۔اس کے علاوہ وہ صاف گو بھی تھا۔ اپنے ایمان نہ لانے کی وجہ بتاتے ہوئے اس نے بالکل کھری اور سچی بات کہی تھی کہ میں محمد(ﷺ) کو جھوٹا نہیں سمجھتا لیکن ہمارے خاندان نے چونکہ غرباء کو کھانے کھلانے اور حاجیوں کی خدمت کرنے میں ہمیشہ بنوہاشم کا مقابلہ کیا ہے‘ اس لیے اب میں محمد(ﷺ) کی نبوت کی شہادت دے کر اپنے حریف خاندان کی بڑائی تسلیم نہیں کر سکتا۔ وہ جری اور بہادر ایسا تھا کہ نزع کے وقت بھی اس نے ہار نہیں مانی اور میدانِ بدر میں اپنا سرقلم کرنے والے شخص کو مخاطب کر کے یہ کہنا ضروری سمجھا کہ اس کی گردن کو ذرا نیچے سے کاٹا جائے تاکہ سر نیزے پر چڑھے تو اونچا نظر آئے۔ بہرحال شخصی اعتبار سے وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرح بہادر‘ نڈر‘ بے باک اور صاف گو انسان تھا۔ اگر وہ ایمان لے آتا تو یقینا حضرت عمرؓ ہی کی طرح اعلیٰ پائے کا مسلمان ہوتا ۔لیکن جب وہ {صَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰی ۙ﴿۶﴾} (الیل) یعنی تصدیق حقِ کی گھاٹی عبور کرنے میں ناکام رہا تو اس کے کردار کی بہت سی مثبت خصوصیات بھی اس کے کسی کام نہ آ سکیں۔
اَرَءَیۡتَ اِنۡ کَذَّبَ وَ تَوَلّٰی ﴿ؕ۱۳﴾
’’کیا تم نے سوچا کہ اس نے جو جھٹلایا ہے اور منہ موڑ لیا ہے۔‘‘
اَلَمۡ یَعۡلَمۡ بِاَنَّ اللّٰہَ یَرٰی ﴿ؕ۱۴﴾
’’کیا یہ جانتا نہیں کہ اللہ دیکھ رہا ہے!‘‘
کَلَّا لَئِنۡ لَّمۡ یَنۡتَہِ ۬ۙ
’’ہرگز نہیں! اگر یہ باز نہ آیا‘‘
لَنَسۡفَعًۢا بِالنَّاصِیَۃِ ﴿ۙ۱۵﴾
’’توہم گھسیٹیں گے اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر۔‘‘
نَاصِیَۃٍ کَاذِبَۃٍ خَاطِئَۃٍ ﴿ۚ۱۶﴾
’’وہ پیشانی کہ جو خطاکار ہے‘ جھوٹی ہے۔‘‘
فَلۡیَدۡعُ نَادِیَہٗ ﴿ۙ۱۷﴾
’’تو وہ بلا لے اپنی مجلس کے لوگوں کو۔‘‘
سَنَدۡعُ الزَّبَانِیَۃَ ﴿ۙ۱۸﴾
’’ہم بھی بلا لیں گے جہنم کے فرشتوں کو۔‘‘
کَلَّا ؕ لَا تُطِعۡہُ وَ اسۡجُدۡ وَ اقۡتَرِبۡ ﴿٪ٛ۱۹﴾
’’کوئی بات نہیں!(اے نبیﷺ) آپ اس کی بات نہ مانیے‘ آپ سجدہ کیجیے اور (اللہ سے اور)قریب ہو جایئے!‘‘
آپ ﷺاس جھوٹے‘ غلط کار شخص کی ایک نہ سنیے۔ یہ اگر آپ کو نماز پڑھنے سے منع کرتا ہے تو اس کی پروا نہ کیجیے۔ آپ اپنے پروردگار کی جناب میں سجدے کرتے رہیے اور کثرتِ سجود سے اس کا قرب حاصل کرتے رہیے۔