بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

التـِّين

آیات ۱ تا ۸

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

تمہیدی کلمات

سورۃ التین میں انسانی زندگی کے نفسیاتی اور فلسفیانہ پہلو سے متعلق اہم حقائق بیان ہوئے ہیں۔ بنیادی طور پر اس سورت کا مضمون چونکہ انسان کی تخلیق سے متعلق ہے اس لیے اسے سمجھنے کے لیے نفس انسانی کی تخلیق کے بارے میں سورۃ الشمس کی آیت {فَاَلۡہَمَہَا فُجُوۡرَہَا وَ تَقۡوٰىہَا ۪ۙ﴿۸﴾} کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسانی نفس کے بارے میں یہ حقیقت واضح فرما دی ہے کہ اس میں نیکی اور بدی کی تمیز الہام کر دی گئی ہے۔ اب اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ ایک ایسے انسان کا تصور کریں جس کی اخلاقی حس پوری طرح فعال و بیدار ہے۔ ایسا انسان جب ایک بگڑے ہوئے معاشرے کو دیکھتا ہے(بدقسمتی سے آج ہمارا معاشرہ اجتماعی بگاڑ کا مثالی نقشہ پیش کرتا ہے) تو وہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ شاید انسان بنیادی طور پر بہت گھٹیا اور گندی مخلوق ہے‘ اور یہ کہ شاید اس میں خیر نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں۔ اسی وجہ سے دورِ جدید کے تقریباً تمام ماہرین نفسیات اس نکتے پر متفق ہیں کہ انسان کے اندر حیوانی داعیات یعنی پیٹ اور شہوت کے تقاضوں اور حبِ تفوق (urge to dominate) کے علاوہ اور کوئی حس یا داعیہ سرے سے ہے ہی نہیں۔ یہ صورت حال ایک حساس انسان کے لیے یقینا بہت مایوس کن ہے۔ لیکن اس کے برعکس یہ سورت ہمیں اس حقیقت سے آگاہ کرتی ہے کہ انسان صرف شر کا پتلا اور گناہ کی پوٹلی ہی نہیں ہے بلکہ اس میں بہت اعلیٰ بلندیوں کو چھونے کی صلاحیت بھی ہے۔

1-4

عظمتِ انسان

ویڈیو

وَ التِّیۡنِ وَ الزَّیۡتُوۡنِ ۙ﴿۱﴾ وَ طُوۡرِ سِیۡنِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ وَ ہٰذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِیۡنِ ۙ﴿۳﴾ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِیۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِیۡمٍ ۫﴿۴﴾

آیت 1

وَ التِّیۡنِ وَ الزَّیۡتُوۡنِ ۙ﴿۱﴾

’’گواہ ہے انجیر اور گواہ ہے زیتون۔‘‘

آیت 2

وَ طُوۡرِ سِیۡنِیۡنَ ۙ﴿۲﴾

’’اور گواہ ہے طورِ سینا ۔‘‘

آیت 3

وَ ہٰذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِیۡنِ ۙ﴿۳﴾

’’اور گواہ ہے یہ امن والا شہر۔‘‘

التِّین کے معنی انجیر کے ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قومِ نوحؑ کے علاقے میں ایک بڑے پہاڑ کا نام بھی جبل التِّین تھا اور یہ کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اسی پہاڑ کے دامن میں ساڑھے نو سو سال تک دعوت و تبلیغ کے فرائض سرانجام دیے۔اسی طرح الزَّیْتُون سے مراد زیتون کا پھل اور درخت بھی ہے اور وہ پہاڑی بھی جس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اکثر تبلیغی خطبات دیا کرتے تھے۔ ان خطبات میں سے آپؑ کا ایک خطبہ’’پہاڑی کے وعظ‘‘ (Sermon of the Mount) کے نام سے خاص طور پر مشہور ہے۔تیسری قسم (وَطُوْرِ سِیْنِیْنَ) کا تعلق حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ذات سے ہے۔ کوہِ طور پرآپؑ کو اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا۔ اور امن والے شہر سے مکہ مکرمہ مراد ہے جہاں محمد رسول اللہﷺ اس سورت کے نزول کے وقت دعوت و تبلیغ کا فریضہ سرانجام دے رہے تھے۔

گویاان آیات میں جن مقامات کی قسمیں کھائی گئی ہیں ان میں سے ہر مقام کا تعلق ایک جلیل القدر شخصیت سے ہے۔ گویا ان شخصیات کو گواہ بنا کر یہاں اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ بنیادی طو رپر انسان بہت بلند مرتبت اور صاحب عزت و عظمت مخلوق ہے۔ اگر کسی کو اس حقیقت کے بارے میں کوئی شک ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کے بندے نوح علیہ السلام کی زندگی کے شب و روز کا تصور کرے۔ اس کے بندے عیسیٰ علیہ السلام کے کردار کا نقشہ ذہن میں لائے‘ موسیٰ علیہ السلام کی عظیم المرتبت شخصیت کو یاد کرے اور پھر سب سے بڑھ کر اس کے بندے محمدﷺ کی بے مثال سیرت کا نمونہ دیکھے۔ یہ شخصیات‘ ان کے کردار اور ان کی سیر تیں اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ:

آیت 4

لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِیۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِیۡمٍ ۫﴿۴﴾

’’ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔‘‘

ہم نے تو انسان کو اشرف المخلوقات کے اعلیٰ مرتبے پر فائز کیا تھا : {وَ لَقَدۡ کَرَّمۡنَا بَنِیۡۤ اٰدَمَ وَ حَمَلۡنٰہُمۡ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ وَ رَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلۡنٰہُمۡ عَلٰی کَثِیۡرٍ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِیۡلًا ﴿٪۷۰﴾} (بنی اسراء یل) ’’اورہم نے بڑی عزت بخشی ہے اولادِ آدمؑ کواور ہم اٹھائے پھرتے ہیں انہیں خشکی اور سمندر میںاور ہم نے انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق عطا کیا اور انہیں فضیلت دی اپنی بہت سی مخلوق پر‘بہت بڑی فضیلت‘‘۔نسل انسانی کی عزت و تکریم کی انتہا یہ ہے کہ ان کے جدامجد کو ہم نے اپنے دونوںہاتھوں سے تخلیق کیا (صٓ:۷۵) اور مسجودِ ملائک بنایا۔

اگرتمہیں یہ دنیا ظالموں‘ بدکاروں اور گھٹیا انسانوں سے بھری نظر آتی ہے تو اللہ نے بھی تمہارے سامنے اپنے ایسے چار بندوں کی مثالیں پیش کر دی ہیں جو عظمت انسانی کے زندہ و جاوید ثبوت ہیں۔ کیا ان مثالوں کو دیکھنے کے بعد بھی کوئی عقل کا اندھا یہ دعویٰ کرے گا کہ انسان کے اندر خیر اور عظمت کا کوئی پہلو سرے سے موجود ہی نہیں؟ بہرحال اگر کوئی شخص عظمت کے ان میناروں کو دیکھ لینے کے بعد بھی انسانی عظمت کا قائل نہ ہو اور اس عظمت و اکرام کو پانے کے لیے اپنا رخ تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس نہ کرے تو یقینا اس کا شمار نسل انسانی کے ان افراد میں ہو گا جو شرفِ انسانیت سے نیچے گر کر حیوانوں سے بھی بدتر ہو چکے ہیں: {اُولٰٓئِکَ کَالۡاَنۡعَامِ بَلۡ ہُمۡ اَضَلُّ ؕ } (الاعراف:۱۷۹)

5-8

معرکہ روح و بدن

ویڈیو

ثُمَّ رَدَدۡنٰہُ اَسۡفَلَ سٰفِلِیۡنَ ۙ﴿۵﴾ اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَہُمۡ اَجۡرٌ غَیۡرُ مَمۡنُوۡنٍ ؕ﴿۶﴾ فَمَا یُکَذِّبُکَ بَعۡدُ بِالدِّیۡنِ ؕ﴿۷﴾ اَلَیۡسَ اللّٰہُ بِاَحۡکَمِ الۡحٰکِمِیۡنَ ٪﴿۸﴾

آیت 5

ثُمَّ رَدَدۡنٰہُ اَسۡفَلَ سٰفِلِیۡنَ ۙ﴿۵﴾

’’پھر ہم نے لوٹا دیا اس کو پست ترین حالت کی طرف۔‘‘

پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی اس عظیم المرتبت مخلوق (کی روح) کو اس کے جسد خاکی میں بٹھا کر نیچے دنیا میں بھیج دیا۔ لیکن واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر جہالت کی تاریکی میں نہیں بلکہ ہدایت کے اجالے میں بھیجا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے کامیابی اور ناکامی کے راستوں کا شعور بھی عطا کیا‘ اس کی فطرت میں نیکی و بدی کی تمیز بھی ودیعت کی اور وقتاًفوقتاً وہ براہِ راست ہدایات بھی بھیجتا رہا : {وَ لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنۡسٰہُمۡ اَنۡفُسَہُمۡ ؕ } (الحشر:۱۹) کہ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے اللہ کو فراموش کر دیا اور اس کی پاداش میں اللہ نے انہیں اپنے آپ سے ہی غافل کر دیا۔بہرحال اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ اب اگر وہ اپنے شرفِ انسانی کو بھلا کر محض حیوانی سطح پر زندگی بسر کرتا رہے اور خود کو حیوان ہی سمجھتا رہے تو یہ اس کی مرضی ہے۔

اس فلسفے کا خلاصہ یہ ہے کہ اپنی سرشت (حیوانی وجود کے تقاضوں) کے اعتبار سے انسان میں کچھ کمزوریاں اور خامیاں پائی جاتی ہیں ‘لیکن اپنی فطرت (روح) کے لحاظ سے یہ بہت اعلیٰ اور عظیم المرتبت مخلوق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی روح کو اس کے حیوانی جسم میں متمکن فرما کر اسے دنیا میں بھیجاتو اس کا ارفع و اعلیٰ روحانی وجود اس کے حیوانی جسم میں قید ہو کر گویا اسفل (نچلی ) مخلوق کی سطح پر آ گیا۔ چنانچہ دنیوی زندگی میں اس کے سامنے اصل ہدف یہ ہے کہ وہ اپنے شعور اور اللہ تعالیٰ کی فراہم کردہ ہدایت کے مطابق راستہ اختیار کرے‘ اس راستے کے تقاضے پورے کرنے کے لیے محنت کرے اور اسفل سطح سے اوپر اٹھ کر اپنی اصل عظمت اور حقیقی منزل کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔

اب اگلی آیت میں اس راستے کی نشاندہی اور مطلوبہ محنت کے طریقے کی وضاحت کی گئی ہے:

آیت 6

اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ

’’سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے‘‘

اب مذکورہ پستی سے صرف وہی لوگ نکل پائیں گے جو اپنے شعور وحواس سے کام لیتے ہوئے اپنے خالق اور معبود کو پہچانیں گے یعنی اس پر ایمان لائیں گے اور پھر محنت کر کے اپنے کردار و عمل کو اس کی منشاء و مرضی کے مطابق ڈھالیں گے ‘یعنی اعمال صالحہ کا اہتمام کریں گے۔

فَلَہُمۡ اَجۡرٌ غَیۡرُ مَمۡنُوۡنٍ ؕ﴿۶﴾

’’تو ان کے لیے ایسا اجر ہو گا جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہو گا۔‘‘

آیت 7

فَمَا یُکَذِّبُکَ بَعۡدُ بِالدِّیۡنِ ؕ﴿۷﴾

’’تواس کے بعد کیا چیز تجھے آمادہ کرتی ہے جزا و سزاکے انکار پر؟‘‘

تواے جزا و سزا کے منکر انسان! جب تو خود دیکھ رہا ہے کہ دنیا میں تمام انسان ایک جیسے نہیں ہیں‘ ان میں کچھ بہت اعلیٰ سیرت و کردار کے مالک ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو انسانیت کے ماتھے پر بدنما داغ کی حیثیت رکھتے ہیں‘ تو اس صورت حال میں کیا عقل اور انصاف کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ اچھوں کو ان کی اچھائی اور محنت کا پھل ملے اور بروں کو ان کی برائی اور نافرمانی کی سزا دی جائے؟ یہ ایسی سیدھی سادی بات ہے جو عام ذہنی سطح کا ایک انسان بھی سمجھ سکتا ہے۔ تویہ سب کچھ دیکھنے سننے اور سمجھنے کے بعد بھی آخر وہ کون سی منطق ہے جس کے تحت تم جزا و سزا کے انکار پر جمے ہوئے ہو؟

آیت 8

اَلَیۡسَ اللّٰہُ بِاَحۡکَمِ الۡحٰکِمِیۡنَ ٪﴿۸﴾

’’کیا اللہ تمام حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے؟‘‘

دنیا میں تم لوگ چھوٹے چھوٹے حاکموں کو دیکھتے ہو کہ وہ اپنے غداروں اور باغیوں کو عبرتناک سزا دیتے ہیں اور اپنے وفاداروں کو انعام و اکرام سے نوازتے ہیں۔ کیادنیا میں تم نے کوئی ایسا حاکم بھی دیکھا ہے جو اپنے باغیوں اور وفاداروں کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دے؟ اگر دنیا میں محدود اختیار کا مالک کوئی حاکم ایسا نہیں کرتا تو وہ اللہ عزوجل اپنے فرمانبردار بندوں اور نافرمانوں کو کیسے برابر کر دے گا جو سب حاکموں سے بڑا حاکم ہے؟ کیا تم اللہ تعالیٰ کو احکم الحاکمین نہیں مانتے ہو؟

مسند احمد‘ سنن الترمذی‘ سنن ابی داؤد اور دیگر کتب حدیث میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی سورۃ التین پڑھے اور اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَحْکَمِ الْحٰکِمِیْنَ پر پہنچے تو کہے : بلٰی وانا علٰی ذٰلک من الشاھدین ’’کیوں نہیں! اور میں اس پر شہادت دینے والوں میں سے ہوں‘‘۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ حضورﷺ جب یہ آیت پڑھتے تو فرماتے: سُبْحَانَکَ فَبَلٰی!

یوٹیوب پر دیکھیے