بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

الشرح

آیات ۱ تا ۸

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

1-3

نبی ﷺ کی مشکل میں آسانی

ویڈیو

اَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَکَ صَدۡرَکَ ۙ﴿۱﴾ وَ وَضَعۡنَا عَنۡکَ وِزۡرَکَ ۙ﴿۲﴾ الَّذِیۡۤ اَنۡقَضَ ظَہۡرَکَ ۙ﴿۳﴾

آیت 1

اَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَکَ صَدۡرَکَ ۙ﴿۱﴾

’’کیا ہم نے آپ ؐکے لیے آپؐ کے سینے کو کھول نہیں دیا؟‘‘

یعنی ہم نے آپؐ کا اضطراب کم کر کے آپؐ کے دل کو ایک ٹھہرائو اور سکون عطا فرما دیا ہے ۔مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اس آیت کے ضمن میں لکھتے ہیں:’’اس میں علوم و معارف کے سمندر اُتار دیے اور لوازمِ نبوت اور فرائضِ رسالت برداشت کرنے کو بڑاوسیع حوصلہ دیا۔‘‘

آیت 2

وَ وَضَعۡنَا عَنۡکَ وِزۡرَکَ ۙ﴿۲﴾

’’اور ہم نے اُتار نہیں دیا آپؐ سے آپؐ کا وہ بوجھ؟‘‘

آیت 3

الَّذِیۡۤ اَنۡقَضَ ظَہۡرَکَ ۙ﴿۳﴾

’’جو آپ کی کمر کو توڑے دے رہا تھا!‘‘

4

ذکرِحبیب ﷺ کی بلندی

ویڈیو

وَ رَفَعۡنَا لَکَ ذِکۡرَکَ ؕ﴿۴﴾

آیت 4

وَ رَفَعۡنَا لَکَ ذِکۡرَکَ ؕ﴿۴﴾

’’اور ہم نے آپؐ کے ذکر کو بلند کر دیاہے۔‘‘ ۱

(۱) صحیح ابن حبان‘ مسند ابی یعلیٰ الموصلی اور دیگر کتب حدیث میں حضرت سعد بن مالک اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ((اتانی جبریلں فقال : اِنَّ رَبِّیْ وَرَبُّکَ یَـقُوْلُ لَکَ : اَتَدْرِیْ کَیْفَ رَفَعْتُ ذِکْرَکَ؟ قُلْتُ : اللّٰہ اعلم۔ قال : اِذَا ذُکِرْتُ ذُکِرْتَ مَعِی)) ’’حضرت جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور کہا کہ میرا اور آپ کارب پوچھتا ہے کہ آپ جانتے ہیں کہ میں نے آپ کے ذکرکو کس طرح بلند کیاہے؟ میں نے جواب دیا: اس حقیقت کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ (آپ کے رفع ذکر کی کیفیت یہ ہے کہ) جہاں میرا ذکر کیا جائے گا وہاں آپ کا بھی میرے ساتھ ذکر کیا جائے گا۔‘‘ (حاشیہ از مرتب)

5-8

آسانیاں مشکلات کے بعد ہی آتی ہیں

ویڈیو

فَاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ یُسۡرًا ۙ﴿۵﴾ اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ یُسۡرًا ؕ﴿۶﴾ فَاِذَا فَرَغۡتَ فَانۡصَبۡ ۙ﴿۷﴾ وَ اِلٰی رَبِّکَ فَارۡغَبۡ ٪﴿۸﴾

آیت 5

فَاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ یُسۡرًا ۙ﴿۵﴾

’’تو یقینا مشکل ہی کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘

آیت 6

اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ یُسۡرًا ؕ﴿۶﴾

’’یقینا مشکل ہی کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘

یہ سورت دراصل مشکلات القرآن میں سے ہے۔ آیت۲ میں جس بوجھ کا ذکر ہوا ہے اس کے بارے میں عام طور پر یہ سمجھا گیا ہے کہ اس میں حضورﷺ کی دعوت و تبلیغ کی مشقتوں اور لوگوں کی طرف سے پہنچائی جانے والی اذیتوں کی طرف اشارہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ رائے صرف جزوی طور پر درست ہے اس لیے کہ یہ سورت بالکل ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی تھی ۔ اس زمانے میں حضورﷺ کی مشکلات کا ابھی آغاز ہو رہا تھا اور بعد کے زمانے میں آپؐ کو نسبتاً بہت زیادہ مشکل مراحل سے گزرنا پڑا تھا۔مثلاً شعب ابی طالب میں تین سال کی قید کا واقعہ اس سورت کے نزول کے بعد پیش آیا اور اس کے بعد ہی آپؐ کو یومِ طائف اور یومِ اُحد جیسے گھمبیر حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ دعوت و تبلیغ اور آپؐ کے فریضہ رسالت سے متعلقہ مشکلات بھی اس سورت کے نزول کے بعد کم ہونے کے بجائے مزید بڑھیں ‘بلکہ بڑھتی ہی چلی گئیں۔ اس لیے یہ حقیقت تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ یہاں جس بوجھ کے اتار دینے کا ذکر ہوا ہے وہ اصل میں کوئی اور بوجھ تھا۔

اس بوجھ کی کیفیت کے بارے میں جاننے کے لیے پہلے اس حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ پیغمبروں کو اپنے قربِ خاص کی نعمت سے نوازتا ہے۔ چنانچہ قربِ خاص کی لذت سے آشنا ہو جانے کے بعد انبیاء و رسل علیہم السلام کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ وقت اسی کیفیت میں گزاریں۔ لیکن وہاں سے حکم ملتا ہے کہ جاؤ خلق خدا تک میرا پیغام پہنچاؤ اور انہیں ہدایت کا راستہ دکھاؤ! مثلاً اللہ تعالیٰ نے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کوہِ طور پر اپنے قربِ خاص سے نوازا اور آپؑ سے کلام فرمایا تو اس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خواہش تو یہی ہو گی کہ وہ سدا اسی کیفیت میں رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے مکالمے اور مخاطبے کی لذت سے لطف اندوز ہوتے رہیں۔ لیکن اس کے فوراً بعد آپؑ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ملا : {اِذۡہَبۡ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ اِنَّہٗ طَغٰی ﴿٪۲۴﴾} (طٰہٰ) ’’اب جاؤ فرعون کی طرف ‘وہ بڑا سرکش ہو گیا ہے!‘‘ظاہر ہے فریضۂ رسالت کی ادائیگی کوئی آسان کام تو نہیں۔اس بارے میں اصل حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پیغمبروں کی دعوت کے جواب میں لوگوں کی طرف سے بے اعتنائی برتی جاتی تھی اور طنز و تمسخر کے تیر برسائے جاتے تھے‘ حتیٰ کہ جسمانی اذیت پہنچانے سے بھی دریغ نہیں کیاجاتاتھا۔ الغرض اس راستے میں توہر قدم پرمخالفت اور ہر موڑ پر تکالیف و مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چنانچہ ایسی صورت حال میں پیغمبروں کو دوہری مشکل کا سامنا رہا ہے یعنی ایک طرف قرب و حضوری کی خصوصی کیفیت سے باہر آنے کا ملال اور دوسری طرف لوگوں کے رویے کے باعث دل پر تکدر کا بوجھ۔ کہاں وہ قربِ خاص کا کیف و سرور اور کہاں یہ مشقت بھری مصروفیات۔روح اور طبیعت کا میلان تو ظاہر ہے اسی طرف ہو گا کہ وہی خلوت ہو ‘ وہی حضوری ہو اور وہی کیف و سرور ہو۔ غالبؔ نے اپنی زبان اور اپنے انداز میں محبوب کی قربت کے حوالے سے انسان کی اس کیفیت اور خواہش کی ترجمانی یوں کی ہے : ؎

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت‘ کہ رات دن

بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے!

اس صورت حال یا کیفیت کو علامہ اقبال کے بیان کردہ اس واقعہ کے حوالہ سے بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ علامہ اقبال اپنے خطبات (چوتھے لیکچر) میں فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالقدوس گنگوہی رحمہ اللہ علیہ دنیا و مافیہا سے بے خبر مراقبے کی کیفیت میں بیٹھے تھے ۔ اسی اثنا میں انہیں اقامت کی آواز سنائی دی۔ آپؒ فوراً نماز کے لیے کھڑے تو ہو گئے مگر جھنجھلا کر کہا : ’’حضوری سے نکال کر دربانی میں کھڑا کر دیا!‘‘ اب ظاہر ہے حضوری کی کیفیت میں تو اور ہی لذت تھی جبکہ نماز میں جماعت کا نظم ملحوظ رکھنے کی پابندی ہے اور ہر صورت میں امام کی اقتداضروری ہے۔ فرض کریں مقتدی کو تلاوت سننے میں لذت محسوس ہو رہی ہے اور وہ مزید سننا چاہتا ہے لیکن یہاں وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ ظاہر ہے جب امام قرا ء ت ختم کر کے رکوع میں جائے گا تو اسے اس کی اقتدا کرنا ہو گی۔ اگر وہ دیر تک سجدہ میں ہی پڑے رہنا چاہتا ہے تو بھی اسے اپنا سجدہ مختصر کر کے امام کی اقتدامیں سر اٹھانا ہو گا۔

اس تمہیدی وضاحت کو مدنظر رکھتے ہوئے اب آپ حضورﷺ کی اس کیفیت کا تصور کیجیے جب حضورﷺ رات کی تنہائی میں اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہو کر قرآن مجید کی تلاوت کرتے تھے ۔ اس وقت آپ ؐکی روح کیسی کیسی قربتوں اور رفعتوں سے آشنا ہوتی ہو گی اور آپؐ کے قلب مبارک پر کیسے کیسے انوار وتجلیات کی بارش ہوتی ہو گی۔ پھر صبح کوجب آپؐ اہل مکہ کے درمیان جا کر ان سے شاعر‘ مجنون‘ کذاب (نعوذ باللہ) جیسے القابات سنتے ہوں گے اور ان کے تمسخر بھرے جملوں کا سامنا کرتے ہوں گے تو آپؐ اپنی طبیعت میں کیسا تکدر اور کیسی کوفت محسوس کرتے ہوں گے۔ چنانچہ حضورﷺ کے لیے اصل معاملہ یہ تھا کہ ’’عروج‘‘ (قربِ خاص) کی لذت کے بعد ’’نزول‘‘ کا مرحلہ آپؐ پر بہت شاق گزرتا تھا۔ اور یہی وہ ’’بوجھ‘‘ تھا جو آپؐ کی کمر کو دہرا کیے دے رہا تھا۔ البتہ رفتہ رفتہ آپؐ کا مزاج جب اس معمول کا خوگر ہو گیا تو اس بوجھ کے احساس میں کمی واقع ہوتی گئی۔ پھر جب روز بروز اہل ایمان کی تعداد بڑھنا شروع ہو ئی تودعوت و تحریک کی مصروفیات میں بھی اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے لیے تسکین کا سامان پیدا فرما دیا ۔

بہرحال یہاں پر یہ نکتہ بھی لائق توجہ ہے کہ فریضۂ رسالت کی انجام دہی کے لیے عروج اور نزول (ان کیفیات کے لیے صوفیاء کے ہاں ’’سیر اِلی اللہ‘‘ اور ’’سیر عن اللہ‘‘ کی اصطلاحات بھی معروف ہیں) کی دونوں کیفیات کا بیک وقت باہم متوازی چلنا ضروری ہے۔ اس نکتہ لطیف کو مولانا روم نے بارش کی مثال سے بہت مؤثر انداز میں سمجھایا ہے ۔مولانا کی بیان کردہ اس حکایت کا خلاصہ یہ ہے کہ سمندر سے بخارات کی شکل میں بالکل صاف اور پاکیزہ پانی فضا میں پہنچتا ہے۔ بارش برستی ہے تو یہ صاف پانی فضا کی کدورتوں کو بھی صاف کرتا ہے‘ زمین کی گندگیوں کو بھی اپنے ساتھ بہا کر سمندر میں ڈال دیتاہے اور اس کے بعد سمندر سے پھر بخارات بن کر صاف اور پاکیزہ حالت میں بارش کے لیے فضا میں پہنچ جاتا ہے۔ اس مثال کو حضورﷺ کی ذات پر منطبق کرتے ہوئے یوں سمجھیں کہ حضورﷺ کو ’’سیر الی اللہ‘‘ (قیام اللیل اور خلوت کی مناجات وغیرہ) کے ذریعے روحانی ترفع حاصل ہوتا۔ پھر جب آپؐ ’’سیر عن اللہ‘‘ کی صورت میں معاشرے کی طرف رجوع فرماتے تو آپؐ کی رحمت اور روحانیت لوگوں پر بارش کی طرح برستی اور راستے میں آنے والی تمام ظاہری و باطنی آلائشوں اور کدورتوں کو دھو ڈالتی۔ اسی دوران لوگوں کی مخالفت اور گھٹیا حرکات کے باعث آپؐ کی ’’روحانیت‘‘ میں کچھ تکدر بھی پیدا ہوتا‘ جسے ’’سیر الی اللہ‘‘ کے اگلے مرحلے میں صاف کر دیا جاتا اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہتا۔

یہاں ضمنی طور پر یہ نکتہ بھی سمجھ لیجیے کہ نتائج کے اعتبار سے تو دعوت و تبلیغ کی مصروفیات بھی ’’سیر الی اللہ‘‘ ہی کے زمرے میں آتی ہیں لیکن عملی طور پر اس کی کیفیت بظاہر’’سیر عن اللہ‘‘ جیسی ہے۔جیسے نماز کی حالت میں انسان کا رخ اللہ کی طرف ہوتا ہے لیکن ایک داعی جب نماز سے فارغ ہو کر تبلیغ کے لیے نکلتا ہے تو بظاہر اس کی پشت اللہ کی طرف ہوتی ہے اور رُخ لوگوں کی طرف ہوتا ہے ۔

آیات 7–8

فَاِذَا فَرَغۡتَ فَانۡصَبۡ ۙ﴿۷﴾وَ اِلٰی رَبِّکَ فَارۡغَبۡ ٪﴿۸﴾

’’پھر جب آپ ؐ(فرائض نبوت سے) فارغ ہو جائیں تو اسی کام میں لگ جایئے ۔اور اپنے رب کی طرف راغب ہو جایئے۔‘‘

تو اے نبیﷺ! جب آپ اپنے فرضِ منصبی سے فارغ ہو جائیں اور اللہ کا دین غالب ہو جائے تو پھر آپ یکسو ہو کر اللہ کی طرف متوجہ ہو جائیں۔ نوٹ کیجیے! سورۃ النصر میں بھی حضورﷺ کے لیے بالکل یہی پیغام ہے:

دوسرے مقام کی آیت

اِذَا جَآءَ نَصۡرُ اللّٰہِ وَ الۡفَتۡحُ ۙ﴿۱﴾وَ رَاَیۡتَ النَّاسَ یَدۡخُلُوۡنَ فِیۡ دِیۡنِ اللّٰہِ اَفۡوَاجًا ۙ﴿۲﴾فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ وَ اسۡتَغۡفِرۡہُ ؕؔ اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا ٪﴿۳﴾

یعنی جب غلبہ دین کے حوالے سے آپؐ کا مشن مکمل ہو جائے تو پھر ہمہ تن‘ ہمہ وقت آپ اللہ کی طرف متوجہ ہوجایئے گا اور تقرب الی اللہ کے لیے محنت شروع کر دیجیے گا۔ چنانچہ جونہی آپؐ کا مشن پایہ تکمیل کو پہنچا تو آپؐ نے فوراً محبوب کی طرف مراجعت کا فیصلہ کر لیا (اَللّٰھُمَّ فِی الرَّفِیْقِ الاَعْلٰی) کہ اے اللہ اب میں اپنے فرائض منصبی سے فارغ ہو گیا ہوں‘ اب مجھ میں مزید انتظار کا یارا نہیں! واضح رہے کہ انبیاء و رسل علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ دنیا میں مزید رہنے یا کوچ کرنے سے متعلق اختیار عطا فرماتا تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ آخری ایام میں ایک دن جب حضورﷺ کے مرض میں افاقہ ہواتو آپؐ مسجد میں تشریف لے گئے۔ منبرپر فروکش ہوئے اور خطبہ دیا۔ اس کے بعد منبر سے نیچے تشریف لائے۔ ظہر کی نماز پڑھائی اور پھر منبر پر تشریف لے گئے اور چند اہم نصیحتیں فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا: ’’ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ وہ یا تو دنیا کی چمک دمک اور زیب و زینت میں سے جو کچھ چاہے اللہ اسے دے دے یا اللہ کے پاس جو کچھ ہے اسے اختیار کر لے تو اس بندے نے اللہ کے پاس والی چیز کو اختیار کر لیا‘‘۔ یہ بات سن کر ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے اور فرمایا: ’’ہم اپنے ماں باپ سمیت آپؐ پر قربان!‘‘ اس پر لوگوں کو تعجب ہوا کہ حضورﷺ کیا ارشاد فرما رہے ہیں اور اس پر ابوبکرؓ کیا کہہ رہے ہیں! لیکن چند دن بعد واضح ہوا کہ جس بندے کو اختیار دیا گیا تھا وہ خود رسول اللہﷺ تھے اور ابوبکر صدیقؓ صحابہ کرامؓ میں سب سے زیادہ صاحب علم تھے۔

یہاں حضورﷺکے اس فرمان کا ذکر کرتے ہوئے میرے دل کی بات زبان پر آ گئی ہے ---- وہ یہ کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے خصوصی فضل سے مجھے حضورﷺ کے قدموں میں پہنچا دیا تو میں حضورﷺ سے شکوہ کرنے کی جسارت ضرور کروں گا کہ حضور! آپؐ نے بہت جلدی کی … حضورؐ!مانا کہ ہجر و فراق کا ایک ایک لمحہ آپؐ کے لیے مشکل تھا… مگر حضورؐ! جو لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہوئے تھے وہ بھی تو آپؐ کے فیضانِ نظر کے محتاج تھے… حضورؐ!اگر تھوڑا سا وقت ان کو بھی مل جاتا تو… مہاجرینؓ و انصارؓ کی طرز پر ان کی تربیت بھی ہو جاتی…!!!

یوٹیوب پر دیکھیے