بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

الضحى

آیات ۱ تا ۱۱

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

تمہیدی کلمات

سورۃ الضحیٰ کے شانِ نزول سے متعلق مختلف روایات میں جو تفصیل ملتی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ابتدائے بعثت میں حضورﷺ پر نزولِ وحی کا سلسلہ کچھ عرصہ جاری رہا اور پھراچانک رُک گیا۔ جب یہ وقفہ زیادہ طویل ہوا تو اس کا علم آپؐ کے مخالفین کو بھی ہو گیا۔ (واضح رہے کہ یہ وقفہ اس وقفے کے علاوہ تھا جو پہلی وحی کے بعد آیا تھااور جس کا ذکر سیرت کی کتابوں میں عام طور پر’’فترتِ وحی‘‘ کے نام سے ملتا ہے۔) ظاہر ہے حضورﷺ ہر نئی وحی کا کلام لوگوں کو سناتے تھے۔ جب آپؐ نے کافی دنوں تک لوگوں کو قرآن مجید کا کوئی نیا حصہ نہ سنایا تو لوگ سمجھ گئے کہ نزولِ وحی کا سلسلہ رک گیا ہے۔ کچھ روایات میں اس کی وضاحت یوں بھی آئی ہے کہ اس دوران علالتِ طبع کے باعث آپؐ چند راتوں تک قیام اللیل کے لیے نہ اُٹھ سکے تو ابولہب کی بیوی اُم جمیل ‘ جس کا مکان حضورﷺ کے مکان سے متصل تھا‘ آ کر کہنے لگی کہ میں دیکھتی ہوں کہ تمہارے شیطان نے تمہیں چھوڑ دیا ہے! بہرحال مشرکین کو جب معلوم ہوا کہ نزولِ وحی کا سلسلہ بند ہوگیا ہے تو انہوں نے آپؐ کو طعنے دینے شروع کر دیے کہ محمد(ﷺ) کو خدا تعالیٰ نے چھوڑ دیا ہے اور وہ اس سے ناراض ہو گیا ہے۔

یہ کیفیت خود حضورﷺ کے لیے بھی بے حد پریشان کن اور ناقابل برداشت تھی۔ وحی آپؐ کی روح کی غذا تھی۔ ہر نئی وحی سے آپؐ کی روح کو تازگی ملتی تھی۔ اس کے علاوہ آپؐ کو بار بار یہ خیال بھی آتا تھا کہ شاید مجھ سے کہیں کوئی خطا ہوئی ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو گیا ہے۔ لوگوں کے طعنے اس کے علاوہ تھے۔ حضورﷺ کا فرمان ہے کہ اس دوران شدید رنج وغم کی وجہ سے کبھی کبھی میرا جی چاہتا تھاکہ میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر خود کو نیچے گرا دوں۔ بہرحال اس پس منظر میں یہ سورت نازل ہوئی اور اس کی آیت۳ میں خصوصی طور پر آپؐ کو تسلی دی گئی کہ آپؐ کے رب نے نہ تو آپؐ کو چھوڑا ہے اور نہ ہی وہ آپؐ سے ناراض ہوا ہے۔

قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ نے تفسیر مظہری میں لکھا ہے کہ روحانی انقباض کی کیفیت میں اس سورت کا پڑھنا تریاق کا درجہ رکھتا ہے۔ تصوف کی زبان میں قبض یا انقباض انسان کی اس روحانی کیفیت کا نام ہے جب اس کی طبیعت میں ناامیدی اور بندش سی آ جاتی ہے اور اسے ہر معاملے کا تاریک و منفی رخ ہی سوجھتا ہے۔ اس کے مقابلے میں انسان کی مثبت روحانی کیفیت کو تصوف کی اصطلاح میں ’’بسط‘‘ کہا جاتا ہے۔یہ انسان کی وہ روحانی کیفیت ہے جس میں اسے اپنی طبیعت میں انشراح محسوس ہوتا ہے اور ہر معاملے کا روشن اور مثبت پہلو نظر آتا ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے نفسیاتی طور پر انسان کے مزاج کے دو رخ ہیں۔ کبھی انسان کی طبیعت ہشاش بشاش اور ہنسنے کھیلنے پر آمادہ ہوتی ہے اور کبھی وہ غمگین و افسردہ ہوتا ہے۔

1-5

نبی اکرم ﷺ کی دلجوئی

ویڈیو

وَ الضُّحٰی ۙ﴿۱﴾ وَ الَّیۡلِ اِذَا سَجٰی ۙ﴿۲﴾ مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَ مَا قَلٰی ؕ﴿۳﴾ وَ لَلۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لَّکَ مِنَ الۡاُوۡلٰی ؕ﴿۴﴾ وَ لَسَوۡفَ یُعۡطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرۡضٰی ؕ﴿۵﴾

آیت 1

وَ الضُّحٰی ۙ﴿۱﴾

’’قسم ہے دھوپ چڑھنے کے وقت کی۔‘‘

آیت 2

وَ الَّیۡلِ اِذَا سَجٰی ۙ﴿۲﴾

’’قسم ہے رات کی جبکہ وہ سکون کے ساتھ چھا جائے ۔‘‘

رات میں اندھیرا اور سکون ہے ‘جبکہ دن اُجالے اور حرکت کا مظہرہے۔ ان دو آیات میں رات اور دن کی متضاد خصوصیات کو اس فرمان پر بطور شہادت پیش کیا گیا کہ:

آیت 3

مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَ مَا قَلٰی ؕ﴿۳﴾

’’آپؐ کے رب نے آپ کو رخصت نہیں کیا اور نہ ہی وہ آپؐ سے ناراض ہوا ہے۔‘‘

یعنی وحی کے تسلسل میں یہ وقفہ اس وجہ سے نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ آپؐ سے ناراض ہو گیا ہے‘ بلکہ یہ وقفہ ہماری حکمت و مشیت کا حصہ اور آپؐ کی تربیت کا جزو تھا۔ ظاہر ہے نظامِ کائنات میں دن کے اُجالے کے ساتھ رات کی تاریکی کا وجود بھی ناگزیر ہے۔ چنانچہ جس طرح دن کے بعد رات کا آنا ضروری ہے اسی طرح نفس انسانی کے لیے بسط و کشادکی لذت کے ساتھ ساتھ ’’انقباض‘‘ کی کیفیت سے آشنا ہونا بھی ضروری ہے۔

آیت 4

وَ لَلۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لَّکَ مِنَ الۡاُوۡلٰی ؕ﴿۴﴾

’’اور یقینا بعد کا وقت آپ کے لیے بہتر ہوگا پہلے سے۔‘‘

یعنی اس وقفے اور ’انقباض‘ کی کیفیت کے بعد آنے والی اب ہر گھڑی اور ہر ساعت آپؐ کے لیے ’انبساط‘ اور انشراح کا نیا پیغام لے کر آئے گی۔ان آیات میں انقباض و انبساط کے حوالے سے جو اصول بیان ہوا ہے اس کی حیران کن حد تک درست ترجمانی غالب ؔنے اپنے اس مصرع میں کی ہے : ؏

’’رکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور!‘‘

یعنی اشعار کی آمد کے حوالے سے کبھی کبھی مجھ پر انقباض کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے لیکن جب اس وقفے کے بعد دوبارہ آمد شروع ہوتی ہے تو پھر میری طبیعت کی روانی پہلے سے بھی کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ گویاانقباض کے بعد جب انبساط کا مرحلہ آتا ہے تو انسان اپنی پہلی کیفیت کے مقابلے میں ایک درجہ آگے جا چکاہوتا ہے۔

[اس آیت مبارکہ سے یہ مفہوم بھی متبادر ہوتا ہے کہ ’’یقینا ہر آنے والی گھڑی آپؐ کے لیے پہلی سے (بدرجہا) بہتر ہے‘‘۔ آپؐ پر آپ ؐکے رب کے لطف و کرم اور انعام و احسان کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔ ہر آنے والاوقت گزشتہ حالات سے بہتر سے بہتر ہو گا۔ اس ایک جملہ میں کفار کے طعن و تشنیع اور الزام تراشیوں کا بھی سدباب کر دیا گیا اور اسلام کے درخشاں مستقبل کے بارے میں بھی نوید جانفزا سنا دی گئی۔]

آیت 5

وَ لَسَوۡفَ یُعۡطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرۡضٰی ؕ﴿۵﴾

’’اور عنقریب آپؐ کا رب آپؐ کو اتنا کچھ عطا فرمائے گا کہ آپؐ راضی ہو جائیں گے۔‘‘

یعنی اب بہت جلد آپﷺ کی محنتوں کے ایسے ایسے نتائج آپ ؐکے سامنے آئیں گے کہ انہیں دیکھ کر آپؐ خوش ہو جائیں گے۔ ۱

یہاں پر پچھلی سورت کی آخری آیت کے یہ الفاظ بھی ذہن میں تازہ کر لیں: {وَ لَسَوۡفَ یَرۡضٰی ﴿٪۲۱﴾} گویا جو خوشخبری یہاں حضورﷺ کو سنائی جارہی ہے وہی بشارت سورۃ اللیل میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دی گئی ہے۔ دونوں آیات کا اسلوب اصلاً ایک سا ہے‘ صرف ضمیر اور صیغے کا فرق ہے۔ حضورﷺپر چونکہ وحی آتی تھی اس لیے آپؐ کو صیغہ حاضر (تَرْضٰی) میں براہِ راست مخاطب کیا گیا ‘جبکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لیے غائب کا صیغہ (یَرْضٰی) آیا ہے۔

’’انقباض‘‘ کی مذکورہ کیفیت کے سیاق و سباق میں اب اللہ تعالیٰ حضورﷺ پر اپنے احسانات جتا رہا ہے۔ یہ بھی دراصل حضورﷺ کے لیے تسلی ہی کا ایک انداز ہے۔ جبکہ اس میں ہمارے لیے بھی راہنمائی ہے کہ جب کسی وقت آدمی پر ڈپریشن اور افسردگی کی کیفیت طاری ہو تو اسے چاہیے کہ اس کیفیت میں وہ خصوصی طور پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کوگن گن کر یاد کرے کہ اللہ تعالیٰ کس کس انداز میں اس کی مدد کرتا رہا ہے اور کیسی کیسی مشکلات سے اسے نجات دلاتا رہا ہے۔ ظاہر ہے ماضی کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے احسانات یاد کرنے سے ایک پریشان حال آدمی کا حوصلہ بڑھتا ہے اور اس کی مثبت سوچ کو تحریک ملتی ہے۔

(۱) علامہ سید محمد آلوسی رحمہ اللہ علیہ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: (ترجمہ)’’یہ اللہ تعالیٰ کاکریمانہ وعدہ ہے جو ان تمام عطیات کو شامل ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے حضورﷺکو دنیا میں سرفراز فرمایا۔ یعنی کمالِ نفس‘ اولین وآخرین کے علوم‘ اسلام کا غلبہ‘دین کی سربلندی‘ ان فتوحات کے باعث جو عہد رسالت میں ہوئیں اور خلفائے راشدین کے زمانہ میں ہوئیں یا دوسرے مسلمان بادشاہوں نے حاصل کیں اور اسلام کا دنیا کے مشارق و مغارب میں پھیل جانا۔ نیز یہ وعدہ ان عنایات اور عزت افزائیوں کو بھی شامل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب مکرمﷺ کے لیے آخرت کے لیے محفوظ رکھی ہیں‘ جن کی حقیقت اور نہایت کو اللہ تعالیٰ کے بغیر اور کوئی نہیں جان سکتا۔‘‘ (بحوالہ تفسیر ضیاء القرآن‘ از پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ)

6-8

نبی ﷺ پر اللہ کی عنایات

ویڈیو

اَلَمۡ یَجِدۡکَ یَتِیۡمًا فَاٰوٰی ۪﴿۶﴾ وَ وَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی ۪﴿۷﴾ وَ وَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغۡنٰی ؕ﴿۸﴾

آیت 6

اَلَمۡ یَجِدۡکَ یَتِیۡمًا فَاٰوٰی ۪﴿۶﴾

’’کیا اُس نے نہیں پایا آپ کو یتیم ‘پھرپناہ دی!‘‘

یہ آیات سیرت النبیؐ کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کے حوالے سے بھی بہت اہم ہیں۔ حضورﷺ کے والد آپؐ کی پیدائش سے پہلے ہی وفات پا چکے تھے۔ چنانچہ آپؐ پیدا ہی یتیمی کی حالت میں ہوئے۔ چھ سال کی عمر میں والدہ کا سہارا بھی چھن گیا۔ دادا نے اپنی کفالت میں لیا تو دو سال بعد وہ بھی چھوڑ کر چلے گئے۔ تایا زبیر بن عبدالمطلب سرپرست بنے تو کچھ عرصہ بعد ان کا بھی انتقال ہوگیا (حضورﷺ کی کفالت کے حوالے سے آپؐ کے تایا زبیر بن عبدالمطلب کا ذکر اکثر تاریخی حوالوں میں موجود ہی نہیں۔ایسا دراصل جناب ابوطالب کے کردار کو زیادہ نمایاں کرنے کے لیے جان بوجھ کر باقاعدہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا ہے)۔اس کے بعد جناب ابوطالب نے آپﷺ کے سرپردست شفقت رکھااور انہی کی سرپرستی میں آپؐ جوانی کی عمر کو پہنچے۔ آیت کے لفظ ’’فَاٰوٰی‘‘ میں ان تمام دنیوی سہاروں کی طرف اشارہ ہے جو ظاہر ہے آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے فراہم کیے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ہی ان تمام رشتہ داروں کے دلوں میں آپؐ کے لیے محبت اورچاہت پیدا کی تھی۔ اسی نے آپؐ کی شخصیت ایسی بنائی تھی کہ جوکوئی آپؐ کو دیکھتا آپؐ کا گرویدہ ہو جاتاتھا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی بچپن میں سہارا دیا تھا۔ سورئہ طٰہٰ میں اللہ تعالیٰ کی اس قدرت اور حکمت کا ذکر اس طرح آیا ہے: {وَ اَلۡقَیۡتُ عَلَیۡکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیۡ ۬ۚ } (آیت۳۹) کہ اے موسیٰ ؑمیں نے آپ پر اپنی محبت کا پرتو ڈال دیا تھا جس کی وجہ سے لوگ آپ کو دیکھ کر متاثر ہو جاتے تھے اور یوں وہ آپؑ کو قتل کرنے سے باز رہے۔

آیت 7

وَ وَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی ۪﴿۷﴾

’’اور آپؐ کو تلاشِ حقیقت میں سرگرداں پایا تو ہدایت دی!‘‘

جب آپؐ شعور کی پختگی کی عمر کو پہنچے اور آپؐ نے کائنات کے حقائق کے بارے میں غوروفکر کرنا شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے آپؐ کو راہنمائی فراہم کر دی۔ ۱

(۱) اس آیت کی تفسیر میں مولانا شبیر احمد عثمانیؒ لکھتے ہیں: ’’جب حضرت ؐ جوان ہوئے‘ قوم کے مشرکانہ اطوار اور بے ہودہ رسم و راہ سے سخت بیزار تھے اور قلب میں خدائے واحد کی عبادت کا جذبہ پورے زور کے ساتھ موجزن تھا۔ عشق الٰہی کی آگ سینۂ مبارک میں بڑی تیزی سے بھڑک رہی تھی۔ وصول الی اللہ اور ہدایت خلق کی اُس اکمل ترین استعداد کا چشمہ جو تمام عالم سے بڑھ کر نفس قدسی میں ودیعت کیاگیا تھا‘ اندر ہی اندر جوش مارتا تھا‘لیکن کوئی صاف کھلا ہوا راستہ اور مفصل راستہ اور مفصل دستور العمل بظاہر دکھائی نہ دیتا تھاجس سے اُس عرش و کرسی سے وسیع قلب کو تسکین ہوتی۔ اسی جوشِ طلب اور فرطِ محبت میں آپؐ بے قرار اور سرگرداں پھرتے اور غاروں اورپہاڑوں میں جا کر مالک کو یاد کرتے اور محبوبِ حقیقی کو پکارتے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے غارِ حرا میں فرشتہ کو وحی دے کر بھیجا اور وصول الی اللہ اور اصلاحِ خلق کی تفصیلی راہیں آپؐ پر کھول دیں‘ یعنی دین حق نازل فرمایا : {مَا کُنۡتَ تَدۡرِیۡ مَا الۡکِتٰبُ وَ لَا الۡاِیۡمَانُ وَ لٰکِنۡ جَعَلۡنٰہُ نُوۡرًا نَّہۡدِیۡ بِہٖ مَنۡ نَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِنَا ؕ…} الخ (الشوریٰ:۵۲)

آیت 8

وَ وَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغۡنٰی ؕ﴿۸﴾

’’اور اس نے آپؐ کو تنگ دست پایا تو غنی کر دیا!‘‘

اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاکی ساری دولت آپﷺ کے قدموں میں ڈھیر کر دی۔ حضرت خدیجہؓ بہت مال دار اور صاحب حیثیت خاتون تھیں۔ مکہ کے بڑے بڑے سرداران ؓسے نکاح کے خواہش مند تھے‘ مگر اللہ تعالیٰ نے انؓ کا دل آپﷺ کی طرف پھیر دیااور انہوںؓ نے خود آپؐ کو نکاح کا پیغام بھجوایا۔

گزشتہ آیات میں حضورﷺ کی زندگی کے تین مراحل کے حوالے سے تین احسانات کا ذکر کرنے کے بعد اب اسی ترتیب سے آپﷺ کو تین ہدایات دی جا رہی ہیں:

9-11

عنایات پر شکر

ویڈیو

فَاَمَّا الۡیَتِیۡمَ فَلَا تَقۡہَرۡ ؕ﴿۹﴾ وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنۡہَرۡ ﴿ؕ۱۰﴾ وَ اَمَّا بِنِعۡمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثۡ ﴿٪۱۱﴾

آیت 9

فَاَمَّا الۡیَتِیۡمَ فَلَا تَقۡہَرۡ ؕ﴿۹﴾

’’تو آپؐ کسی یتیم پر سختی نہ کریں۔‘‘

جیسے آپؐ کی یتیمی میں اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی کفالت وغیرہ کا بندوبست کیا‘ اسی طرح اب آپؐ بھی یتیموں کی سرپرستی کریں اور انہیں لوگوں کی زیادتیوں سے بچائیں۔

آیت 10

وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنۡہَرۡ ﴿ؕ۱۰﴾

’’اور آپؐ کسی سائل کو نہ جھڑکیں۔‘‘

ایک وقت تھا جب آپؐ حقیقت کی تلاش میں سرگرداں تھے اور ہم نے آپ ؐکو ہدایت عطا فرمائی تھی۔ اب اگر آپؐ کے پاس کوئی سائل اپنی حاجت لے کر آئے تو اس کی حاجت روائی کریں اور اسے جھڑکیں نہیں۔ ظاہر ہے سائل بھی کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ کوئی مالی معاونت کے لیے سوال کرتا ہے تو کوئی علم کی تلاش میں لوگوں کے دروازوں پر دستک دیتا ہے ۔

آیت 11

وَ اَمَّا بِنِعۡمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثۡ ﴿٪۱۱﴾

’’اور اپنے رب کی نعمت کا بیان کریں۔‘‘

یہ ہدایت جو آپؐ کو عطا ہوئی ہے ‘ یہ آپؐ کے رب کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت پر شکر کا تقاضا ہے کہ آپؐ اس کی اس نعمت کاچرچا کریں اور اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پھیلائیں۔اس حکم میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ ہدایت کی نعمت کو اگر انسان اپنی ذات تک محدود کر کے بیٹھ رہے تو اس کا یہ طرزِعمل بخل کے مترادف ہو گا۔ لہٰذا جس کسی کو اللہ تعالیٰ ہدایت کی دولت سے نوازے اسے چاہیے کہ اس خیر کو عام کرے اور اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کرے۔

یوٹیوب پر دیکھیے