وَ الَّیۡلِ اِذَا یَغۡشٰی ۙ﴿۱﴾
’’قسم ہے رات کی جب وہ ڈھانپ لیتی ہے۔‘‘
یعنی تمام چیزوں پر تاریکی کا پردہ ڈال دیتی ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
تحریر
آیات ۱ تا ۲۱
بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد
قرآنترجمہتشریححدیثشعر
وَ الَّیۡلِ اِذَا یَغۡشٰی ۙ﴿۱﴾ وَ النَّہَارِ اِذَا تَجَلّٰی ۙ﴿۲﴾ وَ مَا خَلَقَ الذَّکَرَ وَ الۡاُنۡثٰۤی ۙ﴿۳﴾ اِنَّ سَعۡیَکُمۡ لَشَتّٰی ؕ﴿۴﴾
وَ الَّیۡلِ اِذَا یَغۡشٰی ۙ﴿۱﴾
’’قسم ہے رات کی جب وہ ڈھانپ لیتی ہے۔‘‘
یعنی تمام چیزوں پر تاریکی کا پردہ ڈال دیتی ہے۔
وَ النَّہَارِ اِذَا تَجَلّٰی ۙ﴿۲﴾
’’اورقسم ہے دن کی جب وہ روشن ہو جاتا ہے۔‘‘
رات اور دن اللہ تعالیٰ کی آفاقی نشانیوں میں سے ہیں ‘جبکہ اگلی قسم کا تعلق انسان کی ذات (اللہ تعالیٰ کی انفسی نشانیوں) سے ہے۔
وَ مَا خَلَقَ الذَّکَرَ وَ الۡاُنۡثٰۤی ۙ﴿۳﴾
’’اور(قسم ہے) اُس کی جو اُس نے پیدا کیے نر اور مادہ۔‘‘
ان قسموں سے یہ نکتہ واضح ہوتا ہے کہ کائنات کے اندر نظر آنے والے تضادات دراصل نظامِ کائنات کا حصہ ہیں ‘بلکہ کائنات کا نظام انہی تضادات کی وجہ سے چل رہا ہے اور ایک جنس سے تعلق رکھنے والی دو متضاد چیزیں باہم مل کر فطرت کے تقاضوں کی تکمیل کرتی ہیں۔ دنیا کا سارا نظام دن اور رات کے ادلنے بدلنے کی وجہ سے قائم ہے ۔زمین پر حیوانی اور نباتاتی زندگی کا وجود اسی گردشِ لیل و نہار کا مرہون منت ہے۔ خود نسل انسانی کا تسلسل بھی مرد اور عورت کے جنسی اختلاف و تضاد کی وجہ سے چل رہا ہے۔ چنانچہ کائنات کی مختلف تخلیقات میں بظاہر نظر آنے والے ان تضادات کے اندر بھی ایک طرح کا توافق اور تطابق پایاجاتا ہے۔
اِنَّ سَعۡیَکُمۡ لَشَتّٰی ؕ﴿۴﴾
’’بے شک تمہاری کوشش الگ الگ ہے۔‘‘
یعنی جس طرح کائنات کی باقی چیزوں میں اختلاف و تضاد پایا جاتا ہے اسی طرح تمہارے مختلف افراد کی کوششوں اور محنتوں کی نوعیت بھی مختلف ہے۔
ظاہر ہے زندگی کے شب و روز میں محنت‘ مشقت اور بھاگ دوڑ کرنا تو انسان کا مقدر ہے: {لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِیۡ کَبَدٍ ؕ﴿۴﴾} (البلد) ’’بے شک ہم نے انسان کو پیدا ہی محنت اور مشقت میں کیا ہے‘‘۔ہرانسان اپنا اور اپنے اہل و عیال کا پیٹ پالنے کے لیے بھی مشقت کرتا ہے ۔پھراگر وہ کسی نظریے کا پیروکار ہے تو اس نظریے کی اشاعت اور سربلندی کے لیے بھی تگ و دو کرتا ہے اور اس نظریے کے تحت ایک نظام کے قیام کے لیے بھی جدوجہد کرتا ہے۔ غرض اپنے اپنے ماحول اور حالات کے مطابق محنت اور مشقت تو سب انسان ہی کرتے ہیں لیکن ان کی مشقتوں کے نتائج مختلف ہوتے ہیں۔ ایک شخص اپنی محنت کے نتیجے میں جنت خرید لیتا ہے اور دوسرا اپنی محنت و مشقت کی پاداش میں خود کو دوزخ کا مستحق بنالیتا ہے۔ انسانی محنت میں اس فرق کی وضاحت حضورﷺکی اس حدیث میں ملتی ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: حدیث((کُلُّ النَّاسِ یَغْدُوْ فَبَائِِعٌ نَفْسَہٗ فَمُعْتِقُھَا اَوْ مُوْبِقُھَا))۱ ’’ہر شخص روزانہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ اپنی جان کا سودا کرتا ہے‘ پھر یا تو وہ اسے آزاد کرا لیتا ہے یا اسے تباہ کر بیٹھتا ہے‘‘۔کوئی اپنی جسمانی قوت کا سودا کرتا ہے‘ کوئی ذہنی صلاحیت بیچتا ہے‘ کوئی اپنی مہارت نیلام کرتا ہے ‘کوئی اپنا وقت فروخت کرتا ہے۔غرض اپنے اپنے طریقے اور اپنے اپنے انداز میں ہر شخص دن بھر خود کو بیچتا ہے۔ اب ان میں سے ایک شخص وہ ہے جس نے خود کو بیچتے ہوئے حلال کو مدنظر رکھا‘ اس نے جھوٹ نہیں بولا‘ کسی کو دھوکہ نہیں دیا ‘ کم معاوضہ قبول کر لیا لیکن حرام سے اجتناب کیا۔ ایسا شخص شام کو لوٹے گا تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے شامل حال ہو گی۔اس کے مقابلے میں ایک دوسرے شخص نے بھی دن بھر مشقت کی‘ مگر حلال و حرام کی تمیز سے بے نیاز ہو کر‘ معاوضہ اس نے بھی لیامگر غلط بیانی کرکے اور دوسروں کو فریب دے کر‘ ناپ تول میں کمی کر کے اور گھٹیا چیز کو بڑھیا چیز کے دام پر بیچ کر۔اب یہ شخص جب شام کو گھر آئے گا تو جہنم کے انگاروں کی گٹھڑی اُٹھائے ہوئے آئے گا۔
اب آئندہ آیات میں انسانی زندگی کے دو راستوں میں سے ہر راستے کے تین اوصاف یا تین سنگ ہائے میل کی نشاندہی کر دی گئی ہے‘ تاکہ ہر شخص کو معلوم ہو جائے کہ اس نے کون سا راستہ اختیار کیا ہے‘ اس راستے پر اب وہ کس مقام پر ہے او ر اگر وہ مزید آگے بڑھے گا تو آگے کون سی منزل اس کی منتظر ہوگی۔ اس مضمون کے اعتبار سے میں سمجھتا ہوں کہ یہ قرآن مجید کی اہم ترین سورت ہے۔اب ملاحظہ ہوں ان میں سے پہلے راستے کے تین اوصاف :
(۱) صحیح مسلم‘ کتاب الطھارۃ‘ باب فضل الوضوء ۔
فَاَمَّا مَنۡ اَعۡطٰی وَ اتَّقٰی ۙ﴿۵﴾ وَ صَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰی ۙ﴿۶﴾ فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلۡیُسۡرٰی ؕ﴿۷﴾
فَاَمَّا مَنۡ اَعۡطٰی وَ اتَّقٰی ۙ﴿۵﴾
’’تو جس نے عطا کیا اور تقویٰ اختیار کیا۔‘‘
ظاہر ہے یہ خیر کا راستہ ہے اور اس راستے کا پہلا وصف یا پہلا سنگ میل ’’اِعطائ‘‘ یا انفاق فی سبیل اللہ ہے۔ سورۃ البلد میں اس عمل کو انسان کے لیے ایک بہت مشکل گھاٹی قرار دے کر اس کی وضاحت یوں فرمائی گئی : {فَکُّ رَقَبَۃٍ ﴿ۙ۱۳﴾اَوۡ اِطۡعٰمٌ فِیۡ یَوۡمٍ ذِیۡ مَسۡغَبَۃٍ ﴿ۙ۱۴﴾یَّتِیۡمًا ذَا مَقۡرَبَۃٍ ﴿ۙ۱۵﴾اَوۡ مِسۡکِیۡنًا ذَا مَتۡرَبَۃٍ ﴿ؕ۱۶﴾ثُمَّ کَانَ مِنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا …} ’’کسی گردن کا چھڑا دینا۔یا کھانا کھلا دینا بھوک کے دن‘اُس یتیم کو کہ جو قرابت دار بھی ہے‘یا اس محتاج کو جو مٹی میں رُل رہا ہے۔پھر وہ شامل ہوا ان لوگوں میں جو ایمان لائے…‘‘ یعنی جو انسان اس ’’مشکل گھاٹی‘‘ کوعبور کرنے کے بعد اہل ایمان کی صف میں شامل ہو گا وہ ان شاء اللہ ابوبکر صدیق ‘عمر فاروق‘عثمان غنی اور علی مرتضیٰ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا پیروکار بنے گا ۔لیکن جس نے یہ امتحان پاس کیے بغیر ہی کلمہ پڑھ لیا تو اس کے بارے میں خدشہ ہے کہ توحید و رسالت کی گواہی دینے کے بعد بھی اس کے ایمان کی بوباس عبداللہ بن اُبی کے ایمان کی سی ہو گی۔ ظاہر ہے جو کلمہ حضرت ابوبکر‘ حضرت عمر‘ حضرت عثمان اور حضرت علی رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پڑھا تھا وہی کلمہ عبداللہ بن اُبی نے بھی پڑھا تھا۔ یعنی ایمان کا بیج تو دونوں طرف ایک سا تھا ‘مگر یہ زمین اور تھی‘ وہ زمین اور تھی۔ اس زمین میں انفا ق فی سبیل اللہ کا ہل چل چکا تھا اور اُس زمین میں حبِ دنیا اور شکوک و تردّد کے جھاڑ جھنکاڑ نے قبضہ جما رکھا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ عبداللہ بن اُبی کے دل کی زمین میں ایمان کے بیج کا جماؤ ممکن ہی نہ ہوا۔اس حوالے سے اگر سورۂ آل عمران کی آیت ۹۲ کے اس جملے کو مدنظر رکھا جائے تو انفاق و اِعطاء کے اس فلسفے کو سمجھنا بہت آسان ہو جاتا ہے : {لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ ۬ؕ } یعنی جب تک تم لوگ اپنی عزیز ترین چیز کو اللہ کی راہ میں نہ دے ڈالو تم نیکی کی گردکو بھی نہیں پہنچ سکتے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا چاہیے تو مال کی قربانی دو اور قربانی بھی بہترین چیز کی۔ یہ نہیں کہ چھانٹ کر بے کار چیزیں کسی کو دے کر سمجھو کہ تم نے حاتم طائی کی قبر پر لات مار دی ہے۔
اس راستے کا دوسر اوصف یا سنگ میل تقویٰ ( وَاتَّقٰی) ہے ۔ یعنی انسان کا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے ڈرتے رہنا۔ ہر لمحہ برائی کی خاردار جھاڑیوں سے اپنا دامن بچانے کی فکر میں رہنا اور مسلسل کوشش کرتے رہناکہ میں کسی کا دل نہ دکھاؤں اور کسی کا حق نہ ماروں۔ لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب انسان کے اندر اللہ تعالیٰ کی ودیعت کردہ وہ اخلاقی حس زندہ و بیدار ہو جس کا ذکر سورۃ الشمس کی آیت {فَاَلۡہَمَہَا فُجُوۡرَہَا وَ تَقۡوٰىہَا ۪ۙ﴿۸﴾ } میں آیا ہے۔ اگر اس کی اخلاقی حس کی شمع ہوا و ہوس کے طوفان کی نذر ہو چکی ہو تو پھر ظاہر ہے کہاں کا تقویٰ اور کس کا ڈر!
وَ صَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰی ۙ﴿۶﴾
’’اور اس نے تصدیق کی اچھی بات کی۔‘‘
یہ خیر کے راستے کی تیسری شرط یا اس کا تیسرا وصف ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ جب بھلائی اور حق کی کوئی بات انسان کے سامنے آئے اور اس کا دل گواہی دے دے کہ ہاں یہ بات حق ہے تو وہ بلاتردّد اس کی تصدیق کردے۔ یعنی وہ بھلائی‘ سچائی اور حق کی تصدیق کرنے کے لیے عواقب و نتائج کی پروا نہ کرے۔ حق کو حق جان کر اس کی تصدیق و توثیق کے لیے سود و زیاں کا ترازو نصب کر کے نہ بیٹھ جائے اور نہ ہی اس حوالے سے اپنی انا کو آڑے آنے دے۔ جیسے کہ ہماری روز مرہ کی زندگی میں اکثر ہوتا ہے کہ دو آدمیوں کی بحث کے دوران ایک آدمی پر واضح ہو جاتا ہے کہ دوسرے کی بات درست ہے مگر وہ صرف اپنی انا کی وجہ سے اس کے موقف کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلۡیُسۡرٰی ؕ﴿۷﴾
’’تو اس کو ہم رفتہ رفتہ آسان منزل(جنت) تک پہنچادیں گے۔‘‘
اس حوالے سے سورۃ الاعلیٰ کی یہ آیت بھی ذہن میں تازہ کر لیجیے: {وَ نُیَسِّرُکَ لِلۡیُسۡرٰی ۚ﴿ۖ۸﴾} ’’اور ہم رفتہ رفتہ پہنچائیں گے آپ کو آسان منزل تک‘‘۔ لیکن سورۃ الاعلیٰ کی نسبت یہاں یہ مضمون زیادہ واضح انداز میں آیا ہے۔ اب اس کے مقابلے میں اگلی آیات میں دوسرے راستے اور اس کے تین سنگ ہائے میل کا ذکر آ رہا ہے:
وَ اَمَّا مَنۡۢ بَخِلَ وَ اسۡتَغۡنٰی ۙ﴿۸﴾ وَ کَذَّبَ بِالۡحُسۡنٰی ۙ﴿۹﴾ فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلۡعُسۡرٰی ﴿ؕ۱۰﴾ وَ مَا یُغۡنِیۡ عَنۡہُ مَا لُہٗۤ اِذَا تَرَدّٰی ﴿ؕ۱۱﴾
وَ اَمَّا مَنۡۢ بَخِلَ
’’اور جس نے بخل کیا‘‘
پہلی تین خصوصیات کی ترتیب ذہن میں رکھیے اور نوٹ کیجیے کہ ’’اِعطاء‘‘ کے مقابلے میں یہاں بخل آ گیا ہے۔
وَ اسۡتَغۡنٰی ۙ﴿۸﴾
’’اور بے پروائی اختیار کی۔‘‘
بھلائی اور خیر کے راستے کی تین خصوصیات میں اِعطاء کے بعد تقویٰ یعنی پھونک پھونک کر قدم رکھنے اور ذمہ داری کے احساس کا بیان تھا۔ اس کے مقابلے یہاں لااُبالی پن‘ لاپرواہی اور بے نیازی (استغناء) کا تذکرہ ہے۔ گویا ایک شخص حلال و حرام کی تمیز سے ناآشنا اور نیکی و بدی کے تصور سے بیگانہ اپنی دھن میں مست چلا جا رہا ہے۔ کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے تو اس کی بلا سے ‘ کسی کی عزت پر حرف آتا ہے تو آتا رہے‘ کسی کے جان و مال کی حرمت پامال ہوتی ہے تو بھی پروا نہیں! غرض اپنی سوچ ہے‘ اپنی مرضی ہے اور اپنے کام سے کام ہے: ؎
دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام
کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے!
وَ کَذَّبَ بِالۡحُسۡنٰی ۙ﴿۹﴾
’’اور جھٹلا دیا اچھی بات کو۔‘‘
یعنی اس کے دل نے گواہی دے دی کہ یہ سچ اور حق بات ہے لیکن اس کے باوجود اس نے تعصب یا تکبر یا ہٹ دھرمی یا مفاد یا کسی خوف کی وجہ سے اسے جھٹلا دیا۔واضح رہے اس آیت کا تقابل آیت ۶ (وَ صَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰی ۙ﴿۶﴾) کے ساتھ ہے۔
فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلۡعُسۡرٰی ﴿ؕ۱۰﴾
’’تو اس کو ہم رفتہ رفتہ مشکل منزل (جہنم) تک پہنچا دیں گے۔‘‘
یہ ہیں انسانی کوشش اور مشقت کے دو رخ۔ گویا پہلی تین شرائط کو اپنانے کا راستہ صدیقین اور شہداء کاراستہ ہے۔ اگر کسی نے کوشش کی لیکن وہ مذکورہ تینوں شرائط کو کماحقہ پورا نہ کر سکا تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی کوشش اور اخلاص کے مطابق ہو گا۔ لیکن جس بدقسمت شخص کی کوشش اور محنت میں ان تینوں اوصاف کا فقدان ہوا اور وہ ان کے مقابلے میں عمر بھر دوسرے راستے (بخل ‘ استغناء اور تکذیب) پر گامزن رہا‘ ظاہر ہے اس کا شمار ان بدترین لوگوں کے گروہ میں ہو گا جس کے سرغنہ ابولہب اور ابوجہل ہیں۔
یہاں ضمنی طور پر یہ بھی جان لیجیے کہ ابوجہل کے مقابلے میں ابولہب کا کردار کہیں زیادہ گھٹیا اور مذموم تھا‘ بلکہ قرآن مجید نے جس انداز میں اس کی مذمت کی ہے اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے گروہ کا بدترین فردتھا۔ بزدلی‘ بخیلی اور حد سے بڑھی ہوئی خود غرضی اس کے کردار کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ اس کے بخل اور مال کو سینت سینت کر رکھنے کا ذکر سورۃ اللہب میں بھی آیاہے۔ اس کی بزدلی اور خودغرضی کا پول اس وقت کھلا جب اس کے سامنے اپنے ’’دین‘‘ کے لیے جنگ کرنے کا مرحلہ آیا‘ اس وقت اس نے اپنی جگہ کرائے کے دو سپاہیوں کو لڑنے کے لیے بھیج دیا۔ اس کے مقابلے میں ابوجہل صاف گو ‘بہادر اور اپنے نظریے پر مرمٹنے والا شخص تھا۔ چنانچہ اس نے اپنے باطل دین کی خاطر بڑے فخر سے گردن کٹوائی۔ انگریزی کی مثل ہے : "give the devil his due" یعنی شیطان کے کردار میں بھی اگر کوئی مثبت خصوصیت ہو تو اس کے اعتراف میں کوئی حرج نہیں۔ ظاہر ہے اس کی شخصیت میں آخر کوئی تو خوبی تھی جس کی بنا پر حضورﷺ نے اپنی خصوصی دعا میں اسے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ایک ہی پلڑے میں رکھا تھا۔ حضورﷺ نے تو ان دونوں شخصیات کے لیے برابر کی دعا کی تھی کہ اے اللہ !عمر بن الخطاب اور عمرو بن ہشام میں سے کسی ایک کو میری جھولی میں ڈال دے! حضورﷺ کی اس دعا کی روشنی میں تویہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اگر ابوجہل ایمان لے آتا تو وہ حضرت عمرؓ کے پائے کا مسلمان ہوتا‘نہ کہ عبداللہ بن اُبی کے کردار والا مسلمان۔
بہرحال ان آیات میں انسان کی کامیابی اور ناکامی کے معیار اور اوصاف کی واضح طور پر نشاندہی کر دی گئی ہے۔ جو انسان اپنی سیرت و شخصیت کی بنیاد پہلے تین اوصاف (بحوالہ آیت ۵ اور ۶) پر رکھے گا وہ ان شاء اللہ کامیابی سے ہمکنار ہو گا اور جو آخری تین اوصاف (بحوالہ آیت ۸ اور ۹)کا انتخاب کرے گا وہ بدترین خلائق قرارپائے گا۔
وَ مَا یُغۡنِیۡ عَنۡہُ مَا لُہٗۤ اِذَا تَرَدّٰی ﴿ؕ۱۱﴾
’’اور اس کا مال اس کے کچھ کام نہیں آئے گا جب وہ (جہنم کے) گڑھے میں گرے گا۔‘‘
اِنَّ عَلَیۡنَا لَلۡہُدٰی ﴿۫ۖ۱۲﴾ وَ اِنَّ لَنَا لَلۡاٰخِرَۃَ وَ الۡاُوۡلٰی ﴿۱۳﴾ فَاَنۡذَرۡتُکُمۡ نَارًا تَلَظّٰی ﴿ۚ۱۴﴾ لَا یَصۡلٰىہَاۤ اِلَّا الۡاَشۡقَی ﴿ۙ۱۵﴾ الَّذِیۡ کَذَّبَ وَ تَوَلّٰی ﴿ؕ۱۶﴾
اِنَّ عَلَیۡنَا لَلۡہُدٰی ﴿۫ۖ۱۲﴾
’’(دیکھو انسانو!) یقینا ہمارے ذمے ہے ہدایت پہنچا دینا۔‘‘
اپنے مضمون کے اعتبار سے یہ بہت اہم آیت ہے۔ اس میں واضح طور پر بتا دیا گیا ہے کہ انسان کو سیدھا راستہ دکھانا اور ’’ہدایت‘‘ اس تک پہنچانا اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو جبلی ہدایت بھی عطا کی ہے‘ اس کے نفس کے اندراخلاقی حس بھی الہام کر دی ہے۔ اس کے اندر اپنی روح بھی پھونکی ہے جو اللہ تعالیٰ کی معرفت اور محبت کی امین ہے اور پھر اس ہدایت و معرفت کی تکمیل کے لیے اس نے دنیا میں پیغمبر بھی بھیجے اور کتابیں بھی نازل کیں۔ گویا اللہ تعالیٰ نے کئی ذرائع سے انسان کو راہِ ہدایت دکھانے کا اہتمام فرما دیا ہے۔
وَ اِنَّ لَنَا لَلۡاٰخِرَۃَ وَ الۡاُوۡلٰی ﴿۱۳﴾
’’اور ہمارے ہی لیے ہے اختیار آخرت کا بھی اور دنیا کا بھی۔‘‘
ظاہر ہے آخرت میں اللہ تعالیٰ ہی یہ فیصلہ کرے گا کہ کون انسان کامیاب ہوا ہے اور کون ناکام رہا ہے۔اور دنیا میں بھی وہی فیصلہ کرتا ہے کہ کون سی قوم اب اس کی زمین پر بوجھ بننے جا رہی ہے اور اس طرح کے کس بوجھ سے کس وقت اس نے زمین کو آزاد کرنا ہے۔ گزشتہ سورت (سورۃ الشمس) میں قومِ ثمود کے بارے میں اللہ کے ایسے ہی ایک فیصلے کا ذکر ہم بایں الفاظ پڑھ آئے ہیں: {فَدَمۡدَمَ عَلَیۡہِمۡ رَبُّہُمۡ بِذَنۡۢبِہِمۡ فَسَوّٰىہَا ﴿۪ۙ۱۴﴾} ’’تو الٹ دیا ان پر عذاب ان کے رب نے ان کے گناہ کی پاداش میں اور سب کو برابر کر دیا‘‘۔ یعنی جب اس قوم کے پاس اللہ تعالیٰ کا رسول ؑواضح نشانیوں کے ساتھ آ گیا‘ پھر اللہ کے رسول ؑ نے اللہ کا پیغام پہنچا کر اور اپنے کردار و عمل کا نمونہ پیش کر کے اس قوم پر اتمامِ حجت کر دیا۔ اس کے بعد بھی جب وہ قوم کفر اور سرکشی پر اڑی رہی توانہیں ایسے ملیامیٹ کر دیا گیا جیسے کسی باغ کی صفائی کے لیے اس کا ساراکوڑا کرکٹ جمع کر کے اسے آگ لگا دی جاتی ہے۔
فَاَنۡذَرۡتُکُمۡ نَارًا تَلَظّٰی ﴿ۚ۱۴﴾
’’دیکھو! میں نے تمہیں خبردار کر دیا ہے بھڑکتی ہوئی آگ سے۔‘‘
جہنم تو بھوکے شیر کی طرح اپنے شکار کی تاک میں ہے: {نَزَّاعَۃً لِّلشَّوٰی ﴿ۚۖ۱۶﴾تَدۡعُوۡا مَنۡ اَدۡبَرَ وَ تَوَلّٰی ﴿ۙ۱۷﴾} (المعارج) ’’وہ کلیجوں کو کھینچ لے گی ۔ وہ پکارے گی ہر اُس شخص کو جس نے پیٹھ موڑ لی تھی اور رخ پھیر لیا تھا۔‘‘
لَا یَصۡلٰىہَاۤ اِلَّا الۡاَشۡقَی ﴿ۙ۱۵﴾
’’نہیں پڑے گا اس میں مگر وہ جو انتہائی بدبخت ہے۔‘‘
ظاہر ہے جس انسان کو آخری رسولؐ کے آجانے کے بعد بھی حقیقت نظر نہ آئی اس سے بڑا بدبخت اور کون ہو سکتا ہے اور اس سے زیادہ جہنم کے گڑھے میں گرنے کا مستحق کون ہوسکتا ہے؟کیونکہ اگر کوئی شخص اندھیرے میں یا کم روشنی میں ٹھوکر کھا جائے تو اس کی ٹھوکر کا پھر بھی کچھ نہ کچھ جواز بنتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص دن کی روشنی میں اس وقت راستہ پہچاننے سے انکار کر دے جب سورج نصف النہار پر چمک رہا ہو تو ظاہر ہے اس کے لیے وہ خود ہی قصور وار ہو گا۔
الَّذِیۡ کَذَّبَ وَ تَوَلّٰی ﴿ؕ۱۶﴾
’’جس نے جھٹلایا اور منہ پھیر لیا۔‘‘
وَ سَیُجَنَّبُہَا الۡاَتۡقَی ﴿ۙ۱۷﴾ الَّذِیۡ یُؤۡتِیۡ مَالَہٗ یَتَزَکّٰی ﴿ۚ۱۸﴾ وَ مَا لِاَحَدٍ عِنۡدَہٗ مِنۡ نِّعۡمَۃٍ تُجۡزٰۤی ﴿ۙ۱۹﴾ اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡہِ رَبِّہِ الۡاَعۡلٰی ﴿ۚ۲۰﴾ وَ لَسَوۡفَ یَرۡضٰی ﴿٪۲۱﴾
وَ سَیُجَنَّبُہَا الۡاَتۡقَی ﴿ۙ۱۷﴾
’’اور بچا لیا جائے گا اس سے جو انتہائی متقی ہے۔‘‘
اس آیت کے بارے میں تقریباً تمام مفسرین متفق ہیں کہ اس کے مصداق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔ کیونکہ قبل ازیں آیت ۵ اور ۶ میں جن تین اوصاف کا ذکر ہوا ہے وہ اس اُمت کی جس شخصیت میں بتمام و کمال نظر آتے ہیں وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شخصیت ہے۔
’’تصدیق بالحسنی‘‘ کے حوالے سے آپؓ کے بارے میں خود حضورﷺ کا فرمان ہے کہ میں نے جس کسی کو بھی دعوت دی اس نے کچھ نہ کچھ توقف ضرور کیا ‘سوائے ابوبکرؓ کے۔ انؓ کے سامنے جونہی میں نے اپنی نبوت کا ذکر کیا وہ فوراً مجھ پر ایمان لے آئے۔ آپؓ کے تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ زمانہ جاہلیت میں بھی آپؓ توحید پر کاربند اور بت پرستی سے دور رہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے میں بھی آپؓ کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ آپؓ نے کئی نادار خاندانوں کی کفالت مستقل طور پر اپنے ذمہ لے رکھی تھی۔ مکہ کے بہت سے غلاموں اور لونڈیوں کو آپؓ نے منہ مانگی قیمت میں خرید کر آزاد کرایا تھا اور غزوۂ تبوک کے موقع پر تو آپؓ نے اپنا پورا اثاثہ لا کر حضورﷺ کے قدموں میں ڈھیر کر دیاتھا۔غرض مذکورہ تینوں اوصاف بدرجہ اَتم اُمت کے مردوں میں آپؓ کی شخصیت میں ‘جبکہ خواتین میں حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی شخصیت میں پائے جاتے ہیں۔
الَّذِیۡ یُؤۡتِیۡ مَالَہٗ یَتَزَکّٰی ﴿ۚ۱۸﴾
’’جو اپنا مال دیتا ہے اپنے (نفس) کو پاک کرنے کے لیے۔‘‘
یعنی مال خرچ کرتے ہوئے دنیاداری کا کوئی مفاد اس کے پیش نظر نہیں ہوتا۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو آزاد کرانے کے لیے اُمیہ بن خلف کو جب منہ مانگی قیمت ادا کی تو اس پر اُمیہ خود بھی حیران رہ گیا۔ دوسری طرف حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے والد حضرت ابوقحافہ رضی اللہ عنہ (آپؓ فتح مکہ کے بعد ایمان لائے تھے)نے بھی آپؓ سے گلہ کیا کہ اتنی بڑی رقم تم نے کسی طاقتور غلام پر کیوں نہ خرچ کی جو تمہارے کام بھی آتا! ( اس زمانے میں اگر کوئی شخص کسی غلام کو آزاد کراتا تھاتو وہ غلام زندگی بھر اسی شخصیت کے حوالے سے پہچاناجاتا تھااور اخلاقی لحاظ سے بھی وہ اس کے تابع رہتا تھا۔عرب رواج کے مطابق ایسے آزاد کردہ غلام کو متعلقہ شخصیت کا مولیٰ کہا جاتا تھا ‘جیسے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ حضورﷺ کے مولیٰ تھے۔) بہرحال مال خرچ کرنے کا یہ فلسفہ ان لوگوں کی سمجھ سے بالا ہے جن کی نظر ہر وقت دنیاکے مفادات پر رہتی ہے۔
وَ مَا لِاَحَدٍ عِنۡدَہٗ مِنۡ نِّعۡمَۃٍ تُجۡزٰۤی ﴿ۙ۱۹﴾
’’اور اس کے ذمے کسی کا احسان نہیں جس کا وہ بدلہ چکا رہا ہو۔‘‘
اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡہِ رَبِّہِ الۡاَعۡلٰی ﴿ۚ۲۰﴾
’’بلکہ (وہ تو خرچ کر رہا ہے) صرف اپنے بلند و برتر پروردگار کی رضاجوئی کے لیے۔‘‘
وَ لَسَوۡفَ یَرۡضٰی ﴿٪۲۱﴾
’’اور وہ عنقریب راضی ہو جائے گا۔‘‘
یہاں پر یَرْضٰی کی ضمیر کا اشارہ بیک وقت اللہ تعالیٰ کی طرف بھی ہے اور اس شخصیت کی طرف بھی جس کی صفات کا ذکر ان آیات میں ہو رہا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ بھی راضی ہو جائے گا اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی راضی ہوجائیں گے۔ گویا یہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ جیسی بشارت ہے کہ اگر اللہ کا یہ بندہ اپنا مال صرف اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے لیے لٹارہا ہے تو اللہ تعالیٰ ضرور اس سے راضی ہوجائے گا اور پھر اللہ تعالیٰ اس کو آخرت میں اتنا کچھ عطا کرے گا کہ وہ بھی خوش ہو جائے گا۔ یہاں یہ اہم نکتہ بھی نوٹ کر لیجیے کہ معنوی اعتبار سے اس آیت کا اگلی سورت (سورۃ الضحیٰ) کی آیت ۵ کے ساتھ خصوصی ربط و تعلق ہے جس کی وضاحت سورۃ الضحیٰ کے مطالعہ کے دوران کی جائے گی۔
یہاں پر زیر مطالعہ سورتوں (سورۃ الشمس‘ سورۃ اللیل‘ سورۃ الضحیٰ اور سورۃ الانشراح)کے مرکزی مضمون کے اہم نکات ایک دفعہ پھر اپنے ذہن میں تازہ کر لیجیے۔ سورۃ الشمس کی ابتدائی آٹھ آیات قسموں پر مشتمل ہیں۔ اس کے بعد مقسم علیہ کے طور پر یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ نفس انسانی کے اندر نیکی اور بدی کا شعور ودیعت کر دیا گیا ہے ‘اور پھر اس کے بعد دو آیات میں اس حوالے سے کامیابی اور ناکامی کا معیار بھی بتا دیا گیا ہے: {قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَکّٰىہَا ۪ۙ﴿۹﴾وَ قَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰىہَا ﴿ؕ۱۰﴾} کہ جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کر لیا وہ کامیاب ٹھہرا اور جس نے اسے مٹی میں دفن کر دیا وہ ناکام ہو گیا۔ اگلی سورت یعنی سورۃ اللیل میں نفس کو سنوارنے اور بگاڑنے کے طریقوں یا راستوں کے بارے میں مزید وضاحت کر دی گئی ہے کہ جو انسان اِعطائے مال‘ تقویٰ اور تصدیق بالحسنیٰ کے اوصاف اپنائے گا وہ صدیقیت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے راستے پر گامزن ہو جائے گا۔ اس کے برعکس بخل‘ استغناء (حلال و حرام اور جائز و ناجائز سے متعلق لاپرواہی) اور حق کی تکذیب کی راہ پر چلنے والا انسان بالآخر خود کو جہنم کے گڑھے میں گرائے گا۔ پھر کامیابی کے راستے کی مثال کے طور پر امت کی ایک ایسی شخصیت کی طرف اشارہ بھی کر دیا گیا جسے پہلے تین اوصاف کو اپنانے کے باعث اعلیٰ مدارج و مراتب سے نوازا گیا۔ لیکن ظاہر ہے اس منزل کا بلند ترین مقام تو محمد رسول اللہﷺ کے لیے مختص ہے جو معراجِ انسانیت ہیں۔ چنانچہ اس مضمون کے حوالے سے اب اگلی دو سورتوں کا تعلق خصوصی طور پر حضورﷺ کی ذاتِ اَقدس سے ہے۔ اسی نسبت سے ان سورتوں کا مطالعہ سیرت النبیؐ کے بعض پہلوئوں کو سمجھنے کے لیے بھی مفید ہے۔ متقدمین میں سے تصوف کا ذوق رکھنے والے اکثر مفسرین نے ان سورتوں میں بعض باطنی حقائق کی نشاندہی بھی کی ہے۔( متعلقہ آیات کے مطالعہ کے دوران جہاں جس حد تک ممکن ہوا ایسے کچھ نکات پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی جائے گی۔) ظاہر ہے موجودہ دور کے ’’عقلیت پسند‘‘ مفسرین نہ تو تصوف کا ذوق رکھتے ہیں اور نہ ہی انہیں ایسے موضوعات سے دلچسپی ہے۔ (الا ماشاء اللہ!)