وَ الشَّمۡسِ وَ ضُحٰہَا ۪ۙ﴿۱﴾
’’قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی۔‘‘
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
تحریر
آیات ۱ تا ۱۵
بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد
قرآنترجمہتشریححدیثشعر
سورۃ الشمس اور اس کے بعد کی تین سورتوں (سورۃ اللیل‘ سورۃ الضحیٰ اور سورۃ الانشراح ) کے لیے میں نے ’’چہار سورۂ نور و ظلمت‘‘ کا مشترک عنوان تجویز کر رکھا ہے ۔ ان میں سے پہلی تین سورتوں کا آغاز قسموں سے ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے سورۃ الشمس اور سورۃ اللیل (ان دونوں سورتوں کا باہم جوڑے کا تعلق بھی ہے) کا انداز سورۃ التکویر اور سورۃ الانفطار سے ملتا جلتا ہے۔ یاد رہے کہ سورۃ التکویر کے آغاز میں قسموں والا حصہ زیادہ آیات (۱۳آیات) پر مشتمل ہے اور جوابِ قسم کے طور پر صرف ایک آیت (آیت۱۴) آئی ہے‘جبکہ اس کی جڑواں سورت یعنی سورۃ الانفطار میں قسموں والا حصہ نسبتاًکم ہے اور بعد کی آیات میں ان دونوں سورتوں کا مرکزی مضمون زیادہ کھل کر سامنے آیا ہے۔ بالکل اسی انداز میں زیرمطالعہ جوڑے کی پہلی سورت یعنی سورۃ الشمس میں قسموں والا حصہ زیادہ (آٹھ آیات پر مشتمل) ہے اور اس کے بعد جواب القسم کے ضمن میں صرف دو آیات آئی ہیں۔ اس کے مقابلے میں سورۃ اللیل میں قسموں کا حصہ نسبتاً کم ہے ‘جبکہ سورۃ الشمس سے شروع ہونے والا مضمون یہاں آ کر مزید واضح ہو گیا ہے۔ اس طرح یہ مضمون تدریجاً آگے بڑھتا ہوا سورۃ الضحیٰ میں جا کر نقطۂ عروج کو پہنچے گا۔
وَ الشَّمۡسِ وَ ضُحٰہَا ۪ۙ﴿۱﴾ وَ الۡقَمَرِ اِذَا تَلٰىہَا ۪ۙ﴿۲﴾ وَ النَّہَارِ اِذَا جَلّٰىہَا ۪ۙ﴿۳﴾ وَ الَّیۡلِ اِذَا یَغۡشٰىہَا ۪ۙ﴿۴﴾ وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰہَا ۪ۙ﴿۵﴾ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا طَحٰہَا ۪ۙ﴿۶﴾ وَ نَفۡسٍ وَّ مَا سَوّٰىہَا ۪ۙ﴿۷﴾ فَاَلۡہَمَہَا فُجُوۡرَہَا وَ تَقۡوٰىہَا ۪ۙ﴿۸﴾ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَکّٰىہَا ۪ۙ﴿۹﴾ وَ قَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰىہَا ﴿ؕ۱۰﴾
وَ الشَّمۡسِ وَ ضُحٰہَا ۪ۙ﴿۱﴾
’’قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی۔‘‘
وَ الۡقَمَرِ اِذَا تَلٰىہَا ۪ۙ﴿۲﴾
’’اور قسم ہے چاند کی جبکہ وہ اس کے پیچھے آتا ہے۔‘‘
تلا‘ یتلو کے معنی ہیں کسی کے پیچھے آنا۔تلاوت کا لفظ بھی اسی مادہ سے مشتق ہے۔ لغوی معنی کے اعتبار سے لفظ ’’تلاوت‘‘ کے مفہوم میں قرآن مجید کے متن کا پڑھنا (زبان اور نظر سے عبارت کی پیروی کرنا)‘ اس کے احکام پر عمل کرنا اور اس کا اتباع کرناشامل ہے۔
وَ النَّہَارِ اِذَا جَلّٰىہَا ۪ۙ﴿۳﴾
’’اور قسم ہے دن کی جب وہ اس (سورج) کو روشن کر دیتا ہے۔‘‘
اگرچہ بظاہر صورت حال تو یہ ہوتی ہے کہ سورج سے دن روشن ہوتا ہے‘لیکن یہاں اسی بات کے اندر یہ لطیف نکتہ پیدا کیا گیا ہے کہ دن ہوتا ہے تو سورج نظر آتا ہے۔ گویا دن سورج کو روشن کرتا ہے۔ آیت کے اس اسلوب کا تعلق دراصل اگلی آیت کے اسلوب سے ہے۔ اگلی آیت میں رات کا ذکر بالکل اسی انداز میں ہوا ہے :
وَ الَّیۡلِ اِذَا یَغۡشٰىہَا ۪ۙ﴿۴﴾
’’اور قسم ہے رات کی جب وہ اس (سورج) کو ڈھانپ لیتی ہے۔‘‘
ان دونوں آیات کا مفہوم یوں ہو گا کہ دن سورج کو نمایاں کر دیتا ہے جبکہ رات اسے ڈھانپ لیتی ہے۔
وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰہَا ۪ۙ﴿۵﴾
’’اور قسم ہے آسمان کی اور جیسا کہ اسے بنایا۔‘‘
وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا طَحٰہَا ۪ۙ﴿۶﴾
’’اور قسم ہے زمین کی اور جیسا کہ اسے بچھا دیا۔‘‘
نوٹ کیجیے !یہ تمام قسمیں جوڑوں کی صورت میں آئی ہیں۔ پہلے سورج اور چاند کا ‘ پھر دن اور رات کا اور اب آسمان اور زمین کاذکر ہوا۔ ان ظاہری تضادات کی مثالوں سے دراصل نفس انسانی کے روشن اور تاریک پہلوؤں کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ جس طرح کائنات میں ہر جگہ تم لوگوں کو تضادات نظر آتے ہیں‘ سورج ہے تو اس کے ساتھ چاند ہے ‘اندھیرا ہے تو اس کے ساتھ اُجالا ہے‘ بلندی ہے تو اس کے ساتھ پستی ہے‘ اسی طرح انسان کی ذات یا شخصیت کے بھی دو رُخ ہیں۔ بظاہر دیکھنے میں تو تمام انسان ایک جیسے نظر آتے ہیں‘ لیکن حقیقت میں یہ ایک جیسے نہیں ہیں۔ ان میں سے کوئی حیوانی اور نفسانی خواہشات کے راستے پر چل رہا ہے تو کسی نے اپنے نفس کا تزکیہ کر کے فلاح کی منزل حاصل کرلی ہے۔
وَ نَفۡسٍ وَّ مَا سَوّٰىہَا ۪ۙ﴿۷﴾
’’اور قسم ہے نفس انسانی کی اور جیسا کہ اس کو سنوارا۔‘‘
فَاَلۡہَمَہَا فُجُوۡرَہَا وَ تَقۡوٰىہَا ۪ۙ﴿۸﴾
’’پس اس کے اندر نیکی اور بدی کا علم الہام کر دیا۔‘‘
اب اگلی دو آیات میں ان قسموں کے جواب مذکور ہے۔
قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَکّٰىہَا ۪ۙ﴿۹﴾
’’یقینا کامیاب ہو گیا جس نے اس (نفس) کو پاک کر لیا۔‘‘
وَ قَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰىہَا ﴿ؕ۱۰﴾
’’اور ناکام ہو گیا جس نے اسے مٹی میں دفن کر دیا۔‘‘
یہ اس سورت کا مرکزی مضمون ہے ۔ان دو آیات میں انتہائی اختصار کے ساتھ انسان کی حقیقی کامیابی اور ناکامی کا معیار بیان کر دیا گیا ہے۔
دَسَّ یَدُسُّ کے معنی کسی چیز کو مٹی میں دفن کر دینے کے ہیں۔ سورۃ النحل (آیت ۵۹) میں ہم پڑھ چکے ہیں: {اَیُمۡسِکُہٗ عَلٰی ہُوۡنٍ اَمۡ یَدُسُّہٗ فِی التُّرَابِ ؕ } اس آیت میں قبل از اسلام زمانے کے عربوں کی ایک خاص ذہنیت کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان میں سے جس شخص کے گھر بیٹی پیدا ہوتی ہے وہ یا تواسے ذلت آمیز طریقے سے زندہ رکھتا ہے یا زندہ دفن کر دیتا ہے۔ یہاں ’’دَسّٰی‘‘ دراصل دَسَّسَ (باب تفعیل) ہے‘ اس کے آخری سین کو یا سے بدل دیا گیا ہے۔ تو جس انسان نے اپنے نفس کو مٹی میں دفن کر دیا (اس کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ جس نے اپنی روح کو اپنے خاکی وجود کے اندر دبا دیا ۔یعنی جس کی حیوانی خواہشات و شہوات اس کی روح پر غالب آگئیں) تو وہ ناکام رہا۔ البتہ جیسا کہ سورۃ الاعلیٰ کے مطالعہ کے دوران بھی نشان دہی کی گئی ہے ‘زیر مطالعہ سورتوں کے مضامین میں سے اکثر کا تعلق سورۃ الاعلیٰ کے مضامین کے ساتھ ہے۔ چنانچہ سورۃ الاعلیٰ میں {قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَکّٰی ﴿ۙ۱۴﴾} کے الفاظ میں جو مضمون انتہائی مختصر انداز میں آیا تھا‘ یوں سمجھیں کہ اب آیات زیر مطالعہ میں اس مضمون کی مزید تفصیل بیان ہوئی ہے۔ اس مضمون پر قسموں کی صورت میں یہاں مزید گواہیاں بھی لائی گئی ہیں اور زیر مطالعہ آیت کے الفاظ {وَ قَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰىہَا ﴿ؕ۱۰﴾} میں تصویر کا دوسرا رخ بھی دکھایا گیا ہے۔
دراصل انسان کا نفس اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اس امانت کو پاک صاف رکھنا اس کی ذمہ داری ہے ۔ نفس کو پاک کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو ‘یعنی اپنی شخصیت کو تمام رذائل اور باطنی بیماریوں سے پاک کر کے بہترین انسانی خوبیوں کا مرقع بنائے۔ اس کے لیے ہمارے ہاں عام طور پر تزکیہ نفس ‘ تعمیرِ سیرت‘ تعمیر خودی وغیرہ اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔بہرحال اللہ تعالیٰ کی نظر میں کامیاب انسان وہی ہے جو اپنے نفس کو پاک کرنے اور پاک رکھنے میں کامیاب ہو گیا‘ خواہ دنیا والوں کی نظروں میں وہ حقیر ‘فقیر اور بے نام ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے برعکس جس انسان نے اپنے نفس کو رذائل و خبائث سے آلودہ کر لیا‘ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ناکام ہے‘ دنیا میں خواہ وہ غیر معمولی عزت‘ شہرت اور دولت کا مالک ہی کیوں نہ ہو ۔ اس لیے کہ اصل اور حقیقی کامیابی اور ناکامی کا تعلق انسان کے ظاہر سے نہیں بلکہ اس کی ’’ذات‘‘ سے ہے۔
انسان کی ’’ذات‘‘ سے کیا مراد ہے؟فرائڈ نے اسے انسان کی self (اَنا) کا نام دیا ہے۔ اس کے نزدیک انسان کی اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنی self کو id اور libido کے تسلط سے آزاد کرا کے اسے مثبت انداز میں ترقی دے۔ علامہ اقبال نے اسے خودی کا نام دیا ہے اور انسان کی ’’کامیابی‘‘ کو اس کی خودی کی تعمیر و ترقی سے مشروط کیا ہے۔ بہرحال اس حوالے سے سمجھنے کا اصل نکتہ یہ ہے کہ انسان محض ایک جسم یا ہاتھ پاؤں‘ سر‘ دھڑ وغیرہ کے مجموعے کا نام نہیں ہے۔ انسان کہتا ہے میرا ہاتھ‘ میرا پاؤں‘ میرا سر وغیرہ۔ یہ تمام اعضاء بے شک اس کے ہیں‘ لیکن وہ انسان جو ان اعضاء کو اپنا بتا رہا ہے وہ خود کیا ہے؟ اور کہاں ہے؟ ظاہر ہے اصل انسان اس جسم یا وجود کے اندر ہے۔ اس کو ایسے سمجھیں کہ جس طرح آم کی گٹھلی کے اندر آم کا پورا درخت موجود ہے‘ اسی طرح انسانی جسم کے اندر اصل انسان ایک لطیف شخصیت کی صورت میں موجود ہے۔ یہ لطیف شخصیت عبارت ہے اس روح سے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے حیوانی یا خاکی وجود کے اندر پھونکی ہے : {وَ نَفَخۡتُ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِیۡ } (الحجر:۲۹)۔ روح یا انسان کی انا کا ذکر اپنشد کے اس فقرے میں بھی ہے ‘جس کا حوالہ میں پہلے بھی دے چکا ہوں:
Man in his ignorance identifies himself with the material sheeths that encompass his real self.
گویا انسان کی self یا انا یا خودی یا روح اس کے حیوانی وجود کی مٹی کے اندر دفن ایک خزانہ ہے۔ اب جو انسان اس خزانے کو مٹی سے نکال کر کام میں لے آئے گا‘ یعنی اپنی روح کو صیقل کر لے گا‘ اس کا نفس پاک ہو جائے گا (روح کی پاکیزگی نفس کی پاکیزگی کا باعث بنتی ہے۔ دونوں کا تعلق انسان کے باطن سے ہے) اور وہ کامیابی یا فلاح کے راستے پر گامزن ہو جائے گا۔ (فلاح کا لفظ قرآن مجید میں ایک جامع اصطلاح کے طورپر استعمال ہوا ہے۔ اس اصطلاح کے مفہوم کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو سورۃ المؤمنون کی پہلی آیت کی تشریح۔)
زیر مطالعہ آیات کے حوالے سے یہ نکتہ خصوصی طور پر پیش نظر رہنا چاہیے کہ انسان کی روح اور اس کا نفس دو الگ الگ چیزیں ہیں اور ان آیات میں انسانی روح کانہیں بلکہ انسانی نفس کا ذکر ہوا ہے۔روحِ انسانی دراصل عالم امر کی چیز ہے اور یہ معرفت خداوندی اور محبت خداوندی کی امین ہے‘جبکہ نفس انسانی کا تعلق عالم خلق سے ہے ۔ اسی لیے اس کے ذکر سے پہلے جن چیزوں کی یہاں قسمیں کھائی گئی ہیں ان سب (سورج‘ چاند‘ دن‘ رات‘ آسمان‘ زمین) کا تعلق بھی عالم خلق سے ہے ۔ روح تمام مخلوقات میں سے صرف انسان کو عطا ہوئی ہے‘ جبکہ نفس گدھے‘ گھوڑے اور چمپنیزی وغیرہ سب جانوروں میں ہوتا ہے۔ البتہ انسان کی خصوصیت اس حوالے سے یہ ہے کہ دوسرے جانوروں کے مقابلے میں نفس انسانی کو اللہ تعالیٰ نے خصوصی ارتقائی درجات سے نوازا ہے اور اس کے اندر اخلاقی حس اور نیکی و بدی کی وہ تمیز الہام کر دی ہے جو دوسرے جانوروں کے نفس میں نہیں پائی جاتی۔اسی حس اور تمیز کی وجہ سے انسانی فطرت آفاقی سطح پر نیکی کو اچھا اور بدی کو برا سمجھتی ہے۔ دنیا میں کسی معاشرے‘ کسی مذہب اور کسی نسل کا انسان ہو وہ سچ بولنے کو اچھا اور جھوٹ بولنے کو برا سمجھتا ہے۔ اس حوالے سے قرآن میں معروف اور منکر کی اصطلاحات کثرت سے استعمال ہوتی ہیں۔ معروف وہ چیزیں یا افعال یا اعمال ہیں جو نفس انسانی کے لیے مانوس ہیں۔ انہیں دیکھ کر یا اپنا کر نفس انسانی کو راحت محسوس ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں منکرات وہ چیزیں یا اعمال یا افعال ہیں جنہیں نفس انسانی برا سمجھتا ہے اور جن کی صحبت و معیت میں وہ اجنبیت اورکوفت محسوس کرتا ہے‘ بلکہ وہ انسان کو ایسے اعمال و افعال سے ٹوکتا ہے۔ اسی لیے انسان غلطی کرنے کے بعد اکثر یہ کہتا پایا جاتا ہے کہ ’’میرا ضمیر مجھے ملامت کر رہا ہے‘‘ (my conscience is pinching me) ۔ نفس انسانی کی اسی خصوصیت کی وجہ سے سورۃ القیامہ کی آیت۲ میں اسے نفس لوامہ (ملامت کرنے والا نفس) کا نام دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے آیات زیر مطالعہ کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ نفس انسانی کے اندر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نیکی اور بدی کی تمیز کا بنیادی بیج ڈال دیا گیا ہے۔ اب انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اس بیج کی حفاظت کرے‘ اسے سازگار ماحول فراہم کرے اور عمل صالح کے پانی سے اس کی آبیاری کرے۔ سورئہ فاطر ( آیت ۱۰) میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : {اِلَیۡہِ یَصۡعَدُ الۡکَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الۡعَمَلُ الصَّالِحُ یَرۡفَعُہٗ ؕ } کہ کسی بھی اچھی بات یا اچھے کلام میں اللہ تعالیٰ کے حضور پہنچنے کی صلاحیت تو ہوتی ہے لیکن عمل صالح اس کی اس صلاحیت کو اور بڑھا دیتا ہے۔ چنانچہ انسان جب تزکیہ نفس اور اعمالِ صالحہ کے حوالے سے محنت کرے گا تو اسے ایمان کی حلاوت بھی نصیب ہو گی‘ وہ ایمان کے ان ثمرات سے بھی بہرہ مند ہو گا جن کا ذکر ہم سورۃ التغابن میں پڑھ آئے ہیں اور اسے کامیابی کی ضمانت بھی ملے گی۔ اس کے برعکس جس انسان نے اپنے نفس کو حیوانی وجود کے تابع کیے رکھا اور وہ اس کی آواز کو دبا کر زندگی بھر جسمانی تقاضے پورے کرنے میںلگا رہا وہ گویاخائب و خاسر ہو کر رہ گیا۔
اب اگلی آیات میں ایک قوم یا ایک معاشرے کے اجتماعی ضمیر کے حوالے سے ایک مثال دی گئی ہے۔ ظاہر ہے جس طرح ایک انسان کے اندر نیکی اور بدی کی تمیز ہوتی ہے اسی طرح ہر معاشرے میں اجتماعی طور پر بھی اخلاقی حس پائی جاتی ہے ‘اور جس طرح ایک انسان میں اچھے برے داعیات ہوتے ہیں اسی طرح ہر معاشرے کے اندر بھی نیکی کے علمبردار اور شر پھیلانے والے عناصر موجود ہوتے ہیں۔غرض جس طرح ایک فرد کا ضمیر ہوتا ہے اسی طرح معاشروں اور قوموں کا اجتماعی ضمیر بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ اگر کسی قوم کا اجتماعی ضمیر زندہ ہو‘ اس کی صفوں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ احسن طریقہ سے اد ا کیا جا رہا ہو تو اس قوم کے مجموعی حالات بہتر طور پر چلتے رہتے ہیں ۔لیکن اگر کسی قوم کا اجتماعی ضمیر مردہ ہو جائے اور اس کی اخلاقی حس بحیثیت مجموعی اس قدر کمزور ہو جائے کہ اس کے ماحول میں برائی کو برائی کہنے والا بھی کوئی نہ رہے تو ایسی قوم اپنے زندہ رہنے کا جواز کھو دیتی ہے۔ علامہ اقبال نے اپنے اس شعر میں اسی اجتماعی بے حسی کی تصویر پیش کی ہے : ؎
وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا!
اس حوالے سے اب ملاحظہ ہو قومِ ثمود کی مثال:
کَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ بِطَغۡوٰىہَاۤ ﴿۪ۙ۱۱﴾ اِذِ انۡۢبَعَثَ اَشۡقٰہَا ﴿۪ۙ۱۲﴾ فَقَالَ لَہُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ نَاقَۃَ اللّٰہِ وَ سُقۡیٰہَا ﴿ؕ۱۳﴾ فَکَذَّبُوۡہُ فَعَقَرُوۡہَا ۪۬ۙ فَدَمۡدَمَ عَلَیۡہِمۡ رَبُّہُمۡ بِذَنۡۢبِہِمۡ فَسَوّٰىہَا ﴿۪ۙ۱۴﴾ وَ لَا یَخَافُ عُقۡبٰہَا ﴿٪۱۵﴾
کَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ بِطَغۡوٰىہَاۤ ﴿۪ۙ۱۱﴾
’’قومِ ثمود نے بھی جھٹلایا تھا اپنی سرکشی کے باعث۔‘‘
یعنی حضرت صالح علیہ السلام کی نبوت کو جھٹلا دیا جو اُن کی ہدایت کے لیے مبعوث کیے گئے تھے۔
اِذِ انۡۢبَعَثَ اَشۡقٰہَا ﴿۪ۙ۱۲﴾
’’جب اُٹھ کھڑا ہوا ان کا سب سے شقی انسان۔‘‘
وہ شخص اپنی قوم کے لوگوں کے کہنے پر اس اونٹنی کو ہلاک کرنے پر کمربستہ ہوگیا جسے اللہ تعالیٰ نے اس قوم کے مطالبے پر بطور معجزہ پیدا کیا تھا۔
فَقَالَ لَہُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ نَاقَۃَ اللّٰہِ وَ سُقۡیٰہَا ﴿ؕ۱۳﴾
’’تو اللہ کے رسول نے ان سے کہا کہ (خبردار!) یہ اللہ کی اونٹنی ہے اور یہ اس کے پانی پینے کا دن ہے۔‘‘
فَکَذَّبُوۡہُ فَعَقَرُوۡہَا ۪۬ۙ
’’تو انہوں نے اُس کو جھٹلا دیا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں۔‘‘
فَدَمۡدَمَ عَلَیۡہِمۡ رَبُّہُمۡ بِذَنۡۢبِہِمۡ فَسَوّٰىہَا ﴿۪ۙ۱۴﴾
’’تو الٹ دیا ان پر عذاب ان کے رب نے ان کے گناہ کی پاداش میں اور سب کو برابر کر دیا۔‘‘
ان کے جرمِ عظیم کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان پر عذابِ استیصال نازل فرمایا اور پوری قوم کو ایک ساتھ پیوند خاک کر دیا۔
وَ لَا یَخَافُ عُقۡبٰہَا ﴿٪۱۵﴾
’’اور وہ اس کے انجام سے نہیں ڈرتا۔‘‘
اللہ تعالیٰ کو اپنے اس فعل کے کسی برے نتیجے کا کوئی خوف نہیں ہے کہ اس کے بعد کیا ہو گا؟ وہ پوری کائنات کا مالک اور خالق ہے‘ وہ جو چاہے کرے۔ اس نے اس پوری قوم کو ختم کر دیا اور ان کی جگہ دوسری قوم کو لے آیا۔ اس سورت میں پہلے انسانی نفس اور ضمیر کے حوالے سے انسان کی انفرادی کامیابی اور ناکامی کا ذکر ہوا اور پھر قومِ ثمود کی مثال دے کر قوموں کی اجتماعی کامیابی اور ناکامی کے معیار کے بارے میں بھی بتا دیا گیا ۔اس سورت کے مضمون کا تسلسل اگلی سورت میں بھی نظر آئے گا۔