لَاۤ اُقۡسِمُ بِہٰذَا الۡبَلَدِ ۙ﴿۱﴾
’’نہیں! میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی۔‘‘
اس آیت میں بھی لَآ اُقْسِمُ کا مفہوم بالکل وہی ہے جو اس سے پہلے ہم سورۃ القیامہ کی پہلی اور دوسری آیات یا سورۃ الانشقاق کی آیت ۱۶ میں پڑھ چکے ہیں۔ یعنی ان آیات میں لَا نافیہ نہیں ہے بلکہ مخاطبین کے خیالاتِ باطلہ کے ابطال کے لیے ہے۔ چنانچہ سورۃ القیامہ کی پہلی آیت {لَاۤ اُقۡسِمُ بِیَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ۙ﴿۱﴾} کا اگر ہم انگریزی ترجمہ کریں تو ہم کہیں گے : Nay, I swear by the Day of Judgement! دراصل انگریزی میں تو Nay کے بعد کوما (,)آجانے سے مفہوم بالکل واضح ہو جاتا ہے‘ لیکن عربی میں چونکہ ’’کوما‘‘ وغیرہ کا استعمال نہیں ہوتا اس لیے سننے یا پڑھنے والا لَآ اُقْسِمُ کا مفہوم یوں بھی سمجھ سکتا ہے کہ ’’میں قسم نہیں کھاتا‘‘۔ بہرحال اس آیت کا مفہوم یہی ہے کہ جو کچھ تم لوگ کہہ رہے ہو وہ درست نہیں‘ بلکہ میں اس شہر یعنی مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہوں کہ تمہارے خیالات و نظریات باطل ہیں۔آگے چل کر واضح ہو جائے گا کہ یہاںمکہ مکرمہ کی قسم کیوں کھائی جا رہی ہے۔
وَ اَنۡتَ حِلٌّۢ بِہٰذَا الۡبَلَدِ ۙ﴿۲﴾
’’اور(اے نبیﷺ!) آپ حلال کرلیے گئے ہیں اس شہر میں۔‘‘
کچھ مترجمین نے اس آیت کا ترجمہ یوں بھی کیا ہے کہ ’’آپ کے لیے حلال ہو جائے گا یہ شہر‘‘۔یعنی اگرچہ یہ بلد الحرام ہے ‘یہاں خونریزی وغیرہ کی اجازت نہیں‘ لیکن ایک وقت آئے گا کہ آپؐ کو اس کی اجازت مل جائے گی‘ جیسے فتح مکہ کے دن مکہ مکرمہ حضورﷺ کے لیے حلال کر دیا گیا اور اس دن لشکرکشی کے دوران مسلح تصادم کے اِکا دُکا واقعات بھی ہوئے ۔ البتہ میرے نزدیک آیت کا اصل مدعا اور مفہوم وہی ہے جو میں نے ترجمے میں اختیار کیا ہے کہ اے نبی(ﷺ) ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس بلد الحرام میں آپؐ کی عزت پرحملے ہورہے ہیں‘ آپؐ کی عزتِ نفس کو مجروح کیا جا رہا ہے‘ آپؐ کو مسلسل ستایا جا رہا ہے ۔ اس وادی غَیْر ذِی زَرْعٍ کے ماحول میں جہاں معمول کی زندگی بھی سراپا مشقت ہے وہاں اہل شہر کی مخالفت نے آپؐ کے لیے زندگی کو مزید کٹھن اور مشکل بنا دیا ہے۔ چنانچہ دعوتِ حق کی جدوجہد میں مسلسل سختیاں برداشت کرتے ہوئے آپؐ کی زندگی کے شب و روز کی اس وقت جو صورت حال اور کیفیت ہے‘ ہم اس کی قسم کھا رہے ہیں۔
وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَ ۙ﴿۳﴾
’’اور قسم ہے والد کی اور اولاد کی۔‘‘
اس قسم میں اس مشقت اور ذمہ داری کی طرف اشارہ ہے جو ایک والد کو اپنی اولاد کی پرورش اور تربیت وغیرہ کے حوالے سے برداشت کرنی پڑتی ہے۔اب اگلی آیت میں اس حقیقت یعنی مقسم علیہ کا ذکر ہے جس پر یہ قسمیں کھائی جا رہی ہیں:
لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِیۡ کَبَدٍ ؕ﴿۴﴾
’’بے شک ہم نے انسان کو پیدا ہی محنت اور مشقت میں کیا ہے۔‘‘
سورۃ الانشقاق میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے : {یٰۤاَیُّہَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّکَ کَادِحٌ اِلٰی رَبِّکَ کَدۡحًا فَمُلٰقِیۡہِ ۚ﴿۶﴾} ’’اے انسان! تو مشقت پر مشقت برداشت کرتے جا رہا ہے اپنے رب کی طرف‘ پھر تو اس سے ملنے والا ہے‘‘۔انسانی زندگی کے بارے میں یہ تلخ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اس دنیا میں کوئی انسان جیسا ہے جہاں ہے‘ غریب ہے‘ امیر ہے ‘صاحب اقتدار ہے ‘فقیر ہے‘ کلفت‘ مشقت‘ کوفت‘ پریشانی اس کا مقدر ہے۔ کوئی انسان جسمانی محنت کے ہاتھوں بے حال ہے تو کوئی ذہنی مشقت کی وجہ سے پریشان ۔ کوئی جذباتی اذیت سے دوچار ہے تو کوئی نفسیاتی خلفشار کا شکار ہے۔ کوئی کوڑی کوڑی کا محتاج ہے توکسی کے لیے دولت کے انبار وبالِ جان ہیں‘ کسی کے پاس سر چھپانے کو جگہ نہیں تو کوئی مخملی گدیلوں پر لیٹا نیند کو ترستا ہے ۔ غرض مختلف انسانوں کی مشقت کی کیفیت ‘نوعیت اور شدت تو مختلف ہو سکتی ہے مگر مشقت اور پریشانی سے چھٹکارا جیتے جی کسی کو بھی نہیں ہے۔ بقول غالب ؎
قیدِ حیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں!
بظاہر تو یہ صورت حال بھی بہت گھمبیر محسوس ہوتی ہے ‘لیکن انسان کی اصل مشکل اس سے کہیں بڑی ہے اور وہ مشکل یہ ہے کہ اسے دُنیوی زندگی میں پیش آنے والی یہ تمام پریشانیاں اور سختیاں بھی سہنی ہیں اور اس کے بعد اپنے ربّ کے حضور پیش ہو کر اپنے ایک ایک عمل کا حساب بھی دینا ہے۔ سورۃ الانشقاق کی مذکورہ آیت میں اسی ’’ملاقات‘‘ کا ذکر ہے۔ظاہر ہے انسان کی قسمت کا حتمی فیصلہ تو اسی ملاقات میں ہونا ہے۔ اس ساری صورتحال میں انسان کی اصل مشقت‘ اصل مشکل اور اصل ٹریجڈی کا اندازہ لگانا ہو تو ایک ایسے انسان کا تصور کریں جو زندگی بھر ’’دنیا‘‘ حاصل کرنے کے جنون میں کولہو کا بیل بن کر محنت و مشقت کی چکی میںِ پستا اور طرح طرح کی ذہنی و نفسیاتی اذیتوں کی آگ میں جلتا رہا۔ پھر مشقتوں پر مشقتیں برداشت کرتا اور تکلیفوں پر تکلیفیں جھیلتا یہ انسان جب اپنے رب کی عدالت میں پیش ہوا تو اس کا دامن مطلوبہ معیار ومقدار کی نیکیوں سے خالی تھا۔
چنانچہ اس عدالت سے اسے دائمی سزا کا حکم ہوا : {وَّ یَصۡلٰی سَعِیۡرًا ﴿ؕ۱۲﴾} (الانشقاق) اور اس کے بعداسے جہنم میں جھونک دیا گیا ---- ہمیشہ ہمیش کے لیے! یہ ہے انسان کی اصل مشکل اور اصل ٹریجڈی جس کا تصور بھی روح فرسا ہے۔ چنانچہ ہر انسان کو سنجیدگی سے سوچنا چاہیے کہ :
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے؟