بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

البلد

آیات ۱ تا ۲۰

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

1-4

انسان بڑی مشقت ہے

ویڈیو

لَاۤ اُقۡسِمُ بِہٰذَا الۡبَلَدِ ۙ﴿۱﴾ وَ اَنۡتَ حِلٌّۢ بِہٰذَا الۡبَلَدِ ۙ﴿۲﴾ وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَ ۙ﴿۳﴾ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِیۡ کَبَدٍ ؕ﴿۴﴾

آیت 1

لَاۤ اُقۡسِمُ بِہٰذَا الۡبَلَدِ ۙ﴿۱﴾

’’نہیں! میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی۔‘‘

اس آیت میں بھی لَآ اُقْسِمُ کا مفہوم بالکل وہی ہے جو اس سے پہلے ہم سورۃ القیامہ کی پہلی اور دوسری آیات یا سورۃ الانشقاق کی آیت ۱۶ میں پڑھ چکے ہیں۔ یعنی ان آیات میں لَا نافیہ نہیں ہے بلکہ مخاطبین کے خیالاتِ باطلہ کے ابطال کے لیے ہے۔ چنانچہ سورۃ القیامہ کی پہلی آیت {لَاۤ اُقۡسِمُ بِیَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ۙ﴿۱﴾} کا اگر ہم انگریزی ترجمہ کریں تو ہم کہیں گے : Nay, I swear by the Day of Judgement! دراصل انگریزی میں تو Nay کے بعد کوما (,)آجانے سے مفہوم بالکل واضح ہو جاتا ہے‘ لیکن عربی میں چونکہ ’’کوما‘‘ وغیرہ کا استعمال نہیں ہوتا اس لیے سننے یا پڑھنے والا لَآ اُقْسِمُ کا مفہوم یوں بھی سمجھ سکتا ہے کہ ’’میں قسم نہیں کھاتا‘‘۔ بہرحال اس آیت کا مفہوم یہی ہے کہ جو کچھ تم لوگ کہہ رہے ہو وہ درست نہیں‘ بلکہ میں اس شہر یعنی مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہوں کہ تمہارے خیالات و نظریات باطل ہیں۔آگے چل کر واضح ہو جائے گا کہ یہاںمکہ مکرمہ کی قسم کیوں کھائی جا رہی ہے۔

آیت 2

وَ اَنۡتَ حِلٌّۢ بِہٰذَا الۡبَلَدِ ۙ﴿۲﴾

’’اور(اے نبیﷺ!) آپ حلال کرلیے گئے ہیں اس شہر میں۔‘‘

کچھ مترجمین نے اس آیت کا ترجمہ یوں بھی کیا ہے کہ ’’آپ کے لیے حلال ہو جائے گا یہ شہر‘‘۔یعنی اگرچہ یہ بلد الحرام ہے ‘یہاں خونریزی وغیرہ کی اجازت نہیں‘ لیکن ایک وقت آئے گا کہ آپؐ کو اس کی اجازت مل جائے گی‘ جیسے فتح مکہ کے دن مکہ مکرمہ حضورﷺ کے لیے حلال کر دیا گیا اور اس دن لشکرکشی کے دوران مسلح تصادم کے اِکا دُکا واقعات بھی ہوئے ۔ البتہ میرے نزدیک آیت کا اصل مدعا اور مفہوم وہی ہے جو میں نے ترجمے میں اختیار کیا ہے کہ اے نبی(ﷺ) ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس بلد الحرام میں آپؐ کی عزت پرحملے ہورہے ہیں‘ آپؐ کی عزتِ نفس کو مجروح کیا جا رہا ہے‘ آپؐ کو مسلسل ستایا جا رہا ہے ۔ اس وادی غَیْر ذِی زَرْعٍ کے ماحول میں جہاں معمول کی زندگی بھی سراپا مشقت ہے وہاں اہل شہر کی مخالفت نے آپؐ کے لیے زندگی کو مزید کٹھن اور مشکل بنا دیا ہے۔ چنانچہ دعوتِ حق کی جدوجہد میں مسلسل سختیاں برداشت کرتے ہوئے آپؐ کی زندگی کے شب و روز کی اس وقت جو صورت حال اور کیفیت ہے‘ ہم اس کی قسم کھا رہے ہیں۔

آیت 3

وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَ ۙ﴿۳﴾

’’اور قسم ہے والد کی اور اولاد کی۔‘‘

اس قسم میں اس مشقت اور ذمہ داری کی طرف اشارہ ہے جو ایک والد کو اپنی اولاد کی پرورش اور تربیت وغیرہ کے حوالے سے برداشت کرنی پڑتی ہے۔اب اگلی آیت میں اس حقیقت یعنی مقسم علیہ کا ذکر ہے جس پر یہ قسمیں کھائی جا رہی ہیں:

آیت 4

لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِیۡ کَبَدٍ ؕ﴿۴﴾

’’بے شک ہم نے انسان کو پیدا ہی محنت اور مشقت میں کیا ہے۔‘‘

سورۃ الانشقاق میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے : {یٰۤاَیُّہَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّکَ کَادِحٌ اِلٰی رَبِّکَ کَدۡحًا فَمُلٰقِیۡہِ ۚ﴿۶﴾} ’’اے انسان! تو مشقت پر مشقت برداشت کرتے جا رہا ہے اپنے رب کی طرف‘ پھر تو اس سے ملنے والا ہے‘‘۔انسانی زندگی کے بارے میں یہ تلخ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اس دنیا میں کوئی انسان جیسا ہے جہاں ہے‘ غریب ہے‘ امیر ہے ‘صاحب اقتدار ہے ‘فقیر ہے‘ کلفت‘ مشقت‘ کوفت‘ پریشانی اس کا مقدر ہے۔ کوئی انسان جسمانی محنت کے ہاتھوں بے حال ہے تو کوئی ذہنی مشقت کی وجہ سے پریشان ۔ کوئی جذباتی اذیت سے دوچار ہے تو کوئی نفسیاتی خلفشار کا شکار ہے۔ کوئی کوڑی کوڑی کا محتاج ہے توکسی کے لیے دولت کے انبار وبالِ جان ہیں‘ کسی کے پاس سر چھپانے کو جگہ نہیں تو کوئی مخملی گدیلوں پر لیٹا نیند کو ترستا ہے ۔ غرض مختلف انسانوں کی مشقت کی کیفیت ‘نوعیت اور شدت تو مختلف ہو سکتی ہے مگر مشقت اور پریشانی سے چھٹکارا جیتے جی کسی کو بھی نہیں ہے۔ بقول غالب ؎

قیدِ حیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیں

موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں!

بظاہر تو یہ صورت حال بھی بہت گھمبیر محسوس ہوتی ہے ‘لیکن انسان کی اصل مشکل اس سے کہیں بڑی ہے اور وہ مشکل یہ ہے کہ اسے دُنیوی زندگی میں پیش آنے والی یہ تمام پریشانیاں اور سختیاں بھی سہنی ہیں اور اس کے بعد اپنے ربّ کے حضور پیش ہو کر اپنے ایک ایک عمل کا حساب بھی دینا ہے۔ سورۃ الانشقاق کی مذکورہ آیت میں اسی ’’ملاقات‘‘ کا ذکر ہے۔ظاہر ہے انسان کی قسمت کا حتمی فیصلہ تو اسی ملاقات میں ہونا ہے۔ اس ساری صورتحال میں انسان کی اصل مشقت‘ اصل مشکل اور اصل ٹریجڈی کا اندازہ لگانا ہو تو ایک ایسے انسان کا تصور کریں جو زندگی بھر ’’دنیا‘‘ حاصل کرنے کے جنون میں کولہو کا بیل بن کر محنت و مشقت کی چکی میںِ پستا اور طرح طرح کی ذہنی و نفسیاتی اذیتوں کی آگ میں جلتا رہا۔ پھر مشقتوں پر مشقتیں برداشت کرتا اور تکلیفوں پر تکلیفیں جھیلتا یہ انسان جب اپنے رب کی عدالت میں پیش ہوا تو اس کا دامن مطلوبہ معیار ومقدار کی نیکیوں سے خالی تھا۔

چنانچہ اس عدالت سے اسے دائمی سزا کا حکم ہوا : {وَّ یَصۡلٰی سَعِیۡرًا ﴿ؕ۱۲﴾} (الانشقاق) اور اس کے بعداسے جہنم میں جھونک دیا گیا ---- ہمیشہ ہمیش کے لیے! یہ ہے انسان کی اصل مشکل اور اصل ٹریجڈی جس کا تصور بھی روح فرسا ہے۔ چنانچہ ہر انسان کو سنجیدگی سے سوچنا چاہیے کہ :

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے؟

5-10

ناپسندیدہ صدقہ و خیرات

ویڈیو

اَیَحۡسَبُ اَنۡ لَّنۡ یَّقۡدِرَ عَلَیۡہِ اَحَدٌ ۘ﴿۵﴾ یَقُوۡلُ اَہۡلَکۡتُ مَالًا لُّبَدًا ؕ﴿۶﴾ اَیَحۡسَبُ اَنۡ لَّمۡ یَرَہٗۤ اَحَدٌ ؕ﴿۷﴾ اَلَمۡ نَجۡعَلۡ لَّہٗ عَیۡنَیۡنِ ۙ﴿۸﴾ وَ لِسَانًا وَّ شَفَتَیۡنِ ۙ﴿۹﴾ وَ ہَدَیۡنٰہُ النَّجۡدَیۡنِ ﴿ۚ۱۰﴾

آیت 5

اَیَحۡسَبُ اَنۡ لَّنۡ یَّقۡدِرَ عَلَیۡہِ اَحَدٌ ۘ﴿۵﴾

’’کیا یہ سمجھتا ہے کہ اس کے اوپر کوئی قابو نہیں پاسکے گا؟‘‘

مشقت میں پڑے ہوئے انسان کا حال دیکھو۔ اس حالت میں بھی وہ غرور کرتا ہے ۔ ابوجہل کو دیکھو کیسے اکڑا ہوا ہے --- مقامِ غور ہے!چاروں طرف سے مصائب و مشکلات میں گھرے ہوئے انسان کا اپنے خالق اور مالک کے سامنے یہ حال ہے تو اگر اس کے لیے دنیا میں آسانیاں ہی آسانیاں ہوتیں تو پھر یہ اللہ تعالیٰ سے کیسی کیسی بغاوتیں کرتا اور مخلوقِ خدا پر کیا کیا ستم ڈھاتا !

آیت 6

یَقُوۡلُ اَہۡلَکۡتُ مَالًا لُّبَدًا ؕ﴿۶﴾

’’کہتا ہے میں نے تو ڈھیروں مال خرچ کر ڈالا۔‘‘

اس فقرے میں سردارانِ قریش کی ذہنیت کی جھلک نظر آتی ہے۔ یہ لوگ بھلائی اور نیکی کے کام اکثر و بیشتر جذبہ مسابقت کے تحت کرتے تھے اور پھر اپنی نیکیوں کا خوب چرچا کرتے اور شیخیاں بگھارتے تھے۔ حتیٰ کہ ان میں سے اکثر لوگوں کے ایمان نہ لانے کا سبب بھی یہی جذبہ مسابقت تھا۔ ظاہر ہے وہ لوگ حضورﷺ کو اپنے خاندان کے مدمقابل خاندان کا ایک فرد سمجھتے تھے اور اس حیثیت سے آپؐ کے سامنے سرتسلیم خم کرنا انہیں کسی قیمت پر گوارا نہیں تھا۔ اس حوالے سے ابوجہل کا اقراری بیان توتاریخ کے ریکارڈ پر موجودہے۔ اس سے جب پوچھا گیا کہ کیا تمہارے خیال میں محمد (ﷺ) جھوٹے ہیں ؟تو اس نے جواب دیا کہ نہیں‘ انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ اس پرپوچھنے والے نے سوال کیا کہ پھر تم انؐ پر ایمان کیوں نہیں لے آتے؟ اس پر اس نے جو جواب دیا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہمارے خاندان کا بنوہاشم کے ساتھ پشتوں سے مقابلہ چلا آ رہا ہے ۔ انہوں نے غرباء کو کھانے کھلائے تو ہم نے ان سے بڑھ کر کھانے کھلائے۔ اگر وہ حجاج کی خدمت کرنے میں پیش پیش رہے تو اس میدان میں بھی ہم نے انہیں آگے نہیں نکلنے دیا۔ یوں اب تک ہم ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے چلے آ رہے ہیں۔ اب اگر ہم ان کی نبوت کو تسلیم کر لیں تو ہم ہمیشہ کے لیے ان کے غلام بن جائیں گے اور یہ صورت حال کم از کم مجھے کسی قیمت پر قابل قبول نہیں۔

آیت زیر مطالعہ میں سردارانِ قریش کے اسی طرزِعمل کی تصویر دکھائی گئی ہے کہ اگر ان میں سے کوئی شخص کبھی بھلائی کا کوئی کام سرانجام دے لیتا ہے تو جگہ جگہ اس کا تذکرہ کرتا اور شیخیاں بگھارتا پھرتا ہے کہ فلاں کام میں میں نے ڈھیروں مال کھپا ڈالا ہے۔

آیت 7

اَیَحۡسَبُ اَنۡ لَّمۡ یَرَہٗۤ اَحَدٌ ؕ﴿۷﴾

’’کیا اس کا گمان ہے کہ اُسے کسی نے دیکھا نہیں ؟‘‘

کیا وہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو ہر شخص کے ایک ایک عمل سے واقف ہے اس کی اس نیکی سے وہ بے خبر ہے۔ یعنی اگر تو اس نے وہ نیکی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کی تھی تو پھر وہ اس کا ڈھنڈھورا کیوں پیٹ رہا ہے؟

آیت 8

اَلَمۡ نَجۡعَلۡ لَّہٗ عَیۡنَیۡنِ ۙ﴿۸﴾

’’کیا ہم نے ا س کو دو آنکھیں نہیں دیں؟‘‘

آیت 9

وَ لِسَانًا وَّ شَفَتَیۡنِ ۙ﴿۹﴾

’’اور ایک زبان اور دو ہونٹ (نہیں دیے)؟‘‘

آیت 10

وَ ہَدَیۡنٰہُ النَّجۡدَیۡنِ ﴿ۚ۱۰﴾

’’اور ہم نے اس کو راہ دکھلا دی دو گھاٹیوں کی۔‘‘

عام مفسرین کے نزدیک دو گھاٹیوں سے مراد نیکی اور بدی کے دو راستے ہیں۔ البتہ ایک رائے یہ بھی ہے کہ اس سے ماں کی دو چھاتیاں مراد ہیں۔ نجد کے لغوی معنی اُبھری ہوئی چیز کے ہیں۔ بلند سطح پر جو راستہ ہو اس کو بھی نجد کہتے ہیں۔ چنانچہ ’’النَّجْدین‘‘ کے معنی ’’دو بلند (واضح )راستے‘‘ بھی ہو سکتے ہیں اور ’’دواُبھار‘‘بھی۔ اور مجھے مؤخر الذکر رائے زیادہ پسند ہے۔ انسان کی زبان‘ اس کے دو ہونٹوں اور پھر ماں کی چھاتیوں کے ذکر کے حوالے سے دراصل یہاں انسان کی اس جبلی اور پیدائشی ہدایت کا ذکر مقصود ہے جس کے بارے میں ہم سورۃ الاعلیٰ کی آیت {وَ الَّذِیۡ قَدَّرَ فَہَدٰی ۪ۙ﴿۳﴾} میں پڑھ آئے ہیں۔ ظاہر ہے ایک بچہ اپنی پیدائش کے فوراً بعد نہ صرف ماں کے دودھ کی تلاش شروع کر دیتا ہے بلکہ جونہی اس کی رسائی ماں کی چھاتیوں تک ہوتی ہے تو وہ دودھ چوسنے بھی لگتا ہے۔ اس نومولود کو آخر اپنی غذا کی تلاش کا یہ شعور کس نے دیا ہے؟ اور اس مرحلے پر زبان اور ہونٹوں کے اس خاص استعمال کا طریقہ اسے کس نے سکھایا ہے؟ ظاہر ہے یہ شعور‘ یہ آگہی اور یہ ہدایت اس کی اس فطرت اور جبلت کا حصہ ہے جو اسے اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے اور اس اعتبار سے بچے کا یہ عمل اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔

11-16

پسندیدہ صدقہ و خیرات

ویڈیو

فَلَا اقۡتَحَمَ الۡعَقَبَۃَ ﴿۫ۖ۱۱﴾ وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا الۡعَقَبَۃُ ﴿ؕ۱۲﴾ فَکُّ رَقَبَۃٍ ﴿ۙ۱۳﴾ اَوۡ اِطۡعٰمٌ فِیۡ یَوۡمٍ ذِیۡ مَسۡغَبَۃٍ ﴿ۙ۱۴﴾ یَّتِیۡمًا ذَا مَقۡرَبَۃٍ ﴿ۙ۱۵﴾ اَوۡ مِسۡکِیۡنًا ذَا مَتۡرَبَۃٍ ﴿ؕ۱۶﴾

آیت 11

فَلَا اقۡتَحَمَ الۡعَقَبَۃَ ﴿۫ۖ۱۱﴾

’’لیکن وہ گھاٹی کو عبور نہ کر سکا۔‘‘

آیت 12

وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا الۡعَقَبَۃُ ﴿ؕ۱۲﴾

’’اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ گھاٹی کون سی ہے؟‘‘

آیت 13

فَکُّ رَقَبَۃٍ ﴿ۙ۱۳﴾

’’کسی گردن کا چھڑا دینا۔‘‘

یعنی مال خرچ کر کے کسی غلام کو آزاد کرا دینا ‘یا کسی مقروض کا قرض ادا کر دینا۔

آیت 14

اَوۡ اِطۡعٰمٌ فِیۡ یَوۡمٍ ذِیۡ مَسۡغَبَۃٍ ﴿ۙ۱۴﴾

’’یا کھانا کھلا دینا بھوک کے دن میں۔‘‘

یعنی کسی شخص کا قحط سالی کے دوران بھوکوں کو کھانا کھلانا ۔ خصوصی طور پر ایسی صورت حال میں جب اسے اپنی اور اپنے اہل و عیال کی ضرورت کا خیال بھی پریشان کیے دے رہا ہو۔

آیت 15

یَّتِیۡمًا ذَا مَقۡرَبَۃٍ ﴿ۙ۱۵﴾

’’اُس یتیم کو جو قرابت دار بھی ہے۔‘‘

آیت 16

اَوۡ مِسۡکِیۡنًا ذَا مَتۡرَبَۃٍ ﴿ؕ۱۶﴾

’’یا اُس محتاج کو جو مٹی میں رُل رہا ہے۔‘‘

یہ وہ فلسفہ ہے جس پر سورۃ الحدید کے مطالعہ کے دوران تفصیل سے گفتگو ہو چکی ہے۔ یہ مشکل گھاٹی دراصل حبِ مال کی وہ چٹان ہے جو متعلقہ انسان کے لیے بھلائی کے راستے کو مسدود کیے کھڑی ہے۔ سورۃ الحدید کی آیت ۱۸ کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے اسے گاڑی کی بریک سے تشبیہہ دی تھی۔ چنانچہ مذکورہ گھاٹی کو عبور کرنے یا گاڑی کی بریک کو کھولنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنے مال کو اللہ کی رضا کے لیے محتاجوں اور ناداروں کی مدد کرنے اور بھلائی کے دوسروں کاموں پر دل کھول کر خرچ کرے۔ یعنی مال کی محبت کی آلودگی کو دل سے صاف کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ اپنے پیارے مال کو اللہ تعالیٰ کی محبت پر قربان کر دیا جائے۔ یاد رکھیں! حب مال کی گندگی کو دل سے نکالے بغیر انسان کو ایمان کی حلاوت نصیب نہیں ہو سکتی۔ (اس مضمون کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو سورۃ الحدید آیات ۱۷ تا ۲۰ کی تشریح۔)

17-20

قرب الٰہی کے حصول کے لیے سلوکِ قرآنی

ویڈیو

ثُمَّ کَانَ مِنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ تَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ وَ تَوَاصَوۡا بِالۡمَرۡحَمَۃِ ﴿ؕ۱۷﴾ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡمَیۡمَنَۃِ ﴿ؕ۱۸﴾ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِنَا ہُمۡ اَصۡحٰبُ الۡمَشۡـَٔمَۃِ ﴿ؕ۱۹﴾ عَلَیۡہِمۡ نَارٌ مُّؤۡصَدَۃٌ ﴿٪۲۰﴾

آیت 17

ثُمَّ کَانَ مِنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا

’’پھر وہ شامل ہو ان لوگوں میں جو ایمان لائے‘‘

یہاں پر لفظ ثُمَّ بہت اہم اور معنی خیز ہے۔ یعنی پہلے انسان اس مشکل گھاٹی کو عبور کرے‘ اپنے دل کی زمین میں انفاق فی سبیل اللہ کا ہل چلائے‘ اس کے ذریعے سے دل کی زمین سے حب مال کا جھاڑ جھنکاڑ صاف کرے‘ اور پھر (ثُمَّ) اس میں ایمان کا بیج ڈالے۔ اگر وہ اس ترتیب اور اس انداز سے محنت کرے گا تو تبھی ایمان کا پودا اس کے دل کی زمین میں اپنی جڑیں پھیلائے گا اور برگ و بار لائے گا۔

وَ تَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ وَ تَوَاصَوۡا بِالۡمَرۡحَمَۃِ ﴿ؕ۱۷﴾

’’اور جنہوں نے باہم ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی اور باہم ایک دوسرے کو ہمدردی کی نصیحت کی۔‘‘

یہ مضمون سورۃ العصر میں بایں الفاظ آیا ہے : {اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوۡا بِالۡحَقِّ ۬ۙ وَ تَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ ٪﴿۳﴾} ’’سوائے ان کے جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کیے ‘ اور باہم ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور باہم ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی‘‘۔الفاظ اور مفہوم کے اعتبار سے ان دونوں آیات میں گہری مشابہت پائی جاتی ہے۔البتہ دونوں جگہ مذکور اصطلاحات کی ترتیب مختلف ہے۔ سورۃ العصر کی اس آیت میں ایمان کے بعد عمل صالح کا بیان ہے جبکہ آیت زیر مطالعہ میں عمل صالح (غرباء و مساکین اور یتیموں کے حقوق کی ادائیگی)کے بعد ایمان کا ذکر ہے۔ سورۃ العصر میں تواصی بالحق کے بعد تواصی بالصبر کاتذکرہ ہے‘ جبکہ یہاں پر پہلے تواصی بالصبر اور بعد میں تواصی بالمرحمہ کا ذکر آیا ہے۔اس پہلو سے دونوں آیات کے تقابلی مطالعہ سے بہت سے حقائق و رموز کی نشاندہی ہوتی ہے۔

آیت 18

اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡمَیۡمَنَۃِ ﴿ؕ۱۸﴾

’’یہ ہوں گے داہنے والے۔‘‘

یعنی یہ وہ لوگ ہوں گے جن کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھوں میں دیے جائیں گے۔ لفظ یمن کے معنی خوش بختی کے بھی ہیں۔ اس معنی میں آیت کا مفہوم یوں ہو گا کہ یہ وہ خوش قسمت لوگ ہوں گے جو رشد و ہدایت کے راستے پر چلتے ہوئے فوز و فلاح کی منازل تک پہنچ گئے۔

آیت 19

وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِنَا

’’اور جنہوں نے انکار کیا ہماری آیات کا‘‘

ہُمۡ اَصۡحٰبُ الۡمَشۡـَٔمَۃِ ﴿ؕ۱۹﴾

’’وہ ہوں گے بائیں والے۔‘‘

یعنی ان کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھوں میں پکڑائے جائیں گے۔ لغوی اعتبار سے جس طرح یمن کے معنی خوش بختی کے ہیں اسی طرح الْمَشْئَمَۃ کے مادے میں بدبختی کے معنی پائے جاتے ہیں (شومئی قسمت کی ترکیب اردو میں بھی مستعمل ہے)۔ لہٰذا اس آیت کا دوسرا ترجمہ یہ ہو گا کہ ’’یہ بدبختی والے لوگ ہوں گے‘‘۔ قرآن مجید میں آخرت کی کامیابی یا ناکامی کے حوالے سے دائیں والے (اصحاب المیمنہ یا اصحاب الیمین) اور بائیں والے (اصحاب المشئمہ یا اصحاب الشمال) کا ذکر بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے۔البتہ سورۃ الواقعہ کی اس آیت میں نسل انسانی کے تین گروہوں کا تذکرہ بھی ہوا ہے : {وَّ کُنۡتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰثَۃً ؕ﴿۷﴾} کہ اس دن تم لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے۔ ان میں سے دو گروہ تو یہی (دائیں او ر بائیں والے) بتائے گئے ہیں‘ جبکہ تیسرے گروہ کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے : {وَ السّٰبِقُوۡنَ السّٰبِقُوۡنَ ﴿ۚۙ۱۰﴾اُولٰٓئِکَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ ﴿ۚ۱۱﴾} (الواقعۃ) ’’اور آگے نکل جانے والے تو ہیں ہی آگے نکل جانے والے۔ وہی توبہت مقرب ہوں گے‘‘۔گویا یہ تیسرا گروہ اہل جنت میں سے بہت ہی خاص لوگوں یعنی مقربین بارگاہ پر مشتمل ہو گا۔ بہرحال آیت زیر مطالعہ میں ان بدقسمت لوگوں کا ذکر ہوا ہے جنہیں بائیں ہاتھ میں اعمال نامے پکڑا کر جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔

آیت 20

عَلَیۡہِمۡ نَارٌ مُّؤۡصَدَۃٌ ﴿٪۲۰﴾

’’ان پر آگ بند کر دی جائے گی۔‘‘

تاکہ پریشر ککر کی طرح آگ کی ساری تپش اندر ہی رہے اور انہیں شدید ترین عذاب ملے۔ اللہ کی پناہ! اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایسے عذاب سے محفوظ رکھے اور اپنی رحمت اور شانِ غفاری کے طفیل اصحابِ جنت میں شامل فرمائے۔ آمین!

یوٹیوب پر دیکھیے