قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَکّٰی ﴿ۙ۱۴﴾
’’یقینا وہ کامیاب ہو گیا جس نے خود کو پاک کر لیا۔‘‘
ان آیات میں بہت اہم اور بنیادی نوعیت کے مضامین بیان ہوئے ہیں۔ اگلی سورتوں میں مختلف مقامات پر ان مضامین کی مزید وضاحت آئے گی۔ تَزَکّٰی سے مراد یہاں روح کی پاکیزگی ہے۔بنیادی طور پر انسان کی روح بہت بلند اور اعلیٰ چیز ہے۔ سورۃ التین کی اس آیت میں دراصل انسان کی روح کی تخلیق ہی کا ذکر ہے: {لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِیۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِیۡمٍ ۫﴿۴﴾} کہ ہم نے انسان کو بہت عمدہ تخلیق پر بنایا ہے ۔لیکن جب اس روح کو جسد حیوانی میں قید کر کے دنیا میں بھیجا گیا تو وقتی طور پر روح اپنے اعلیٰ مقام سے گر کر پستی میں چلی گئی‘جس کا ذکر سورۃ التین کی اگلی آیت میں بایں الفاظ آیا ہے: {ثُمَّ رَدَدۡنٰہُ اَسۡفَلَ سٰفِلِیۡنَ ۙ﴿۵﴾} کہ پھر ہم نے ا س کو پست ترین حالت کی طرف لوٹا دیا۔ چنانچہ انسان کی دُنیوی زندگی کا اصل ہدف یہ ہونا چاہیے کہ وہ خود کو پستی سے نکال کر دوبارہ بلندی کی طرف لے جائے۔اگر تو اس نے یہ ہدف حاصل کر لیا تو وہ کامیاب ہے ورنہ ناکام۔ اس کامیابی کے لیے اسے ایک طرف جسد حیوانی کے داعیات یعنی اپنی نفسانی خواہشات کو دبانا ہو گا اور دوسری طرف اپنی روح کو زیادہ سے زیادہ غذا فراہم کرنے کا سامان کرنا ہو گا۔ ظاہر ہے حیوانی داعیات کمزور ہوں گے تو تبھی روح کو تقویت ملے گی ۔ ماہِ رمضان کے چوبیس گھنٹے کے معمولات کے ذریعے سے اہل ایمان کو دراصل اسی ’’دو طرفہ‘‘ پروگرام کی مشق کرائی جاتی ہے کہ دن کو روزہ رکھ کر حیوانی جسم اور اس کے داعیات کو کمزور کرو اور رات کو قیام اللیل کے دوران انوارِ قرآن کی بارش سے اپنی روح کو سیراب کرو تاکہ تمہاری روح کو ترفع اور اللہ کا قرب حاصل ہو سکے۔ یہ ہے تَزَکّٰی کا اصل مفہوم اور اس کا بنیادی فلسفہ۔
وَ ذَکَرَ اسۡمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی ﴿ؕ۱۵﴾
’’اور اُس نے اپنے رب کا نام لیا اور نماز پڑھی۔‘‘
اس آیت کے الفاظ کی عملی تصویر جمعہ کا اجتماع ہے۔اجتماعِ جمعہ میں بھی پہلے خطبہ کی صورت میں اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے پھر نماز پڑھی جاتی ہے۔ مسلم شریف کی ایک حدیث میں اجتماعِ جمعہ کے حوالے سے حضورﷺ کا یہ معمول نقل ہوا ہے:
حدیث((کَانَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِﷺ خُطْبَتَانِ کَانَ یَجْلِسُ بَیْنَھُمَا‘ یَـقْرَأُ الْقُرْآنَ وَیُذَکِّرُ النَّاسَ)) ۱
’’اللہ کے رسولﷺ کے دو خطبے ہوتے تھے ‘ ان کے دوران آپؐ بیٹھا کرتے تھے۔ آپؐ قرآن حکیم پڑھ کر سناتے اور لوگوں کو نصیحت فرماتے۔‘‘
حضورﷺ کے دونوں خطبات بہت مختصر ہوتے تھے۔ اس لیے صاف ظاہر ہے کہ ان کے درمیان حضورﷺ تھکان کی وجہ سے تو نہیں بیٹھتے تھے۔میری رائے اس حوالے سے یہ ہے کہ یہ دو خطبات نماز ظہر کی دو رکعتوں کے قائم مقام ہیں۔ (نماز ظہر میں فرضوں کی چار رکعتیں ہیں جبکہ نماز جمعہ میں دو رکعتیں پڑھی جاتی ہیں) چنانچہ اس دوران حضورﷺ کا بیٹھنا دراصل اپنے خطاب کو باقاعدہ دو خطبوں کی شکل دینے کے لیے ہوتا تھا۔ ان خطبات میں جیسا کہ حدیث میں ذکر ہوا ہے ‘ حضورﷺ آیاتِ قرآنی کے ذریعے تذکیر فرماتے تھے۔ آپؐ کے تمام سامعین چونکہ قرآن کی زبان کو بخوبی سمجھتے تھے اس لیے ’’از دل خیزد بر دل ریزد‘‘ کے مصداق قرآن مجید کا مفہوم بغیر کسی وضاحت اور تشریح کے دلوں میں اترتا چلا جاتا تھا۔ہمارے ہاں چونکہ عام سامعین عربی خطبہ کو نہیں سمجھ سکتے اس لیے ان کی تذکیر کے لیے خطبہ سے پہلے ’’خطاب‘‘ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اجتماعِ جمعہ کے موقع پر ذکر و تذکیر کی اسلام میں کیا اہمیت ہے‘اس کا اندازہ درج ذیل حدیث سے ہوتا ہے ۔ اجتماعِ جمعہ میں بروقت حاضری کو یقینی بنانے کی ترغیب دیتے ہوئے حضورﷺ نے فرمایا:
حدیث((اِذَا کَانَ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ کَانَ عَلٰی کُلِّ بَابٍ مِنْ اَبْوَابِ الْمَسْجِدِ الْمَلَائِکَۃُ، یَکْتُبُوْنَ الْاَوَّلَ فَالْاَوَّلَ، فَاِذَا جَلَسَ الْاِمَامُ طَوَوُا الصُّحُفَ، وَجَاؤُوا یَسْتَمِعُوْنَ الذِّکْرَ)) ۱
’’جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو مسجد کے دروازوں میں سے ہر دروازے پر فرشتے کھڑے ہو جاتے ہیں‘وہ پہلے آنے والوں کو پہلے لکھتے ہیں۔ پھر جب امام (منبر پر) بیٹھ جاتا ہے تو فرشتے اپنے رجسٹر سمیٹ لیتے ہیں اور ذکر سننے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔‘‘
حضورﷺ کے دوسرے فرمان میں جمعہ کے لیے جلدی مسجد آنے والوں کے لیے درجہ بدرجہ فضیلت کی وضاحت بھی ملتی ہے:
حدیث((مَنِ اغْتَسَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ غُسْلَ الْجَنَابَۃِ ثُمَّ رَاحَ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَۃً، وَمَنْ رَاحَ فِی السَّاعَۃِ الثَّانِیَۃِ فَکَاََنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَۃً، وَمَنْ رَاحَ فِی السَّاعَۃِ الثَّالِثَۃِ فَکَاَنَّمَا قَرَّبَ کَبْشًا أَقْرَنَ، وَمَنْ رَاحَ فِی السَّاعَۃِ الرَّابِعَۃِ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ دُجَاجَۃً، وَمَنْ رَاحَ فِی السَّاعَۃِ الْخَامِسَۃِ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ بَیْضَۃً فَإِذَا خَرَجَ الْاِمَامُ حَضَرَتِ الْمَلَائِکَۃُ یَسْتَمِعُوْنَ الذِّکْرَ)) ۲
’’جو آدمی جمعہ کے دن غسلِ جنابت (کی طرح اہتمام کے ساتھ غسل) کرے پھر وہ صبح صبح مسجد میں جائے تو وہ اس طرح ہے گویا اس نے ایک اونٹ قربان کیا ‘اور جوآدمی دوسری ساعت میں جائے تو گویا اس نے ایک گائے قربان کی ‘اور جو آدمی تیسری ساعت میں گیا تو گویا اس نے ایک سینگوں والا مینڈھا قربان کیا‘ اور جو چوتھی ساعت میں گیا تو گویا اس نے ایک مر غی قربان کی‘ اور جو پانچویں ساعت میں گیا تو گویا اُس نے ایک انڈا قربان کر کے اللہ کا قرب حاصل کیا۔ پھر جب امام (خطبہ کے لیے )نکلے تو فرشتے بھی (اندراج کا سلسلہ ختم کر کے ) ذکر سننے کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں۔‘‘
اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے علماء نے لفظ ’’ساعت‘‘ کی مختلف تاویلیں کی ہیں۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ کی رائے اس ضمن میں یہ ہے(ذاتی طور پر مجھے اس رائے سے اختلاف ہے) کہ اس لفظ کا تعلق وقت کی ظاہری تقسیم سے نہیں بلکہ ان ’’ساعتوں‘‘ سے مخفی ساعتیں مراد ہیں۔ البتہ اس حدیث میں جس خطبہ کا ذکر ہوا ہے اس سے مراد
مسنون خطبہ ہے۔ اس حکم کا اطلاق ہمارے ائمہ اور خطباء کی مقامی زبانوں میں کی جانے والی تقاریر پر نہیں ہوتا۔ خطبہ شروع ہونے کے بعد حاضری کا اندراج نہ ہونے کے حوالے سے شاہ ولی اللہ ؒ کی رائے یہ ہے کہ اس کے بعد آنے والے جمعہ کی فضیلت سے محروم رہیں گے‘ البتہ ان کے فرض کی ادائیگی ہو جائے گی‘ حتیٰ کہ اگر کوئی شخص خطبہ کے دوران بھی شامل ہو گا تو فرض کی ادائیگی کی حد تک اس کی حاضری بھی قبول سمجھی جائے گی۔
(۱) صحیح مسلم‘ کتاب الجمعۃ‘ باب ذکر الخطبتین قبل الصلاۃ وما فیھما من الجلسۃ۔ و سنن ابی داوٗد‘ کتاب الصلاۃ‘ باب الخطبۃ قائماً‘ ح:۱۰۹۴۔ راوی : جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ ۔
(۱) صحیح البخاری‘ کتاب بدء الخلق‘ باب ذکر الملائکۃ‘ ح:۳۲۱۱۔وصحیح مسلم‘کتاب الجمعۃ‘ باب فضل التھجیر یوم الجمعۃ‘ ح:۸۵۔
(۲) صحیح مسلم‘ کتاب الجمعۃ‘ باب الطیب والسواک یوم الجمعۃ۔وسنن ابی داوٗد‘ کتاب الطہارۃ‘ باب فی الغسل یوم الجمعۃ۔
بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا ﴿۫ۖ۱۶﴾
’’بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔‘‘
دراصل انسان کی اُخروی کامیابی یا ناکامی کا تمام تر انحصار اس کی ترجیحات پر ہے۔اگر تو وہ اپنے معاملات کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے آخرت کی کامیابی کو مقدم رکھتا ہے اور دنیوی مفادات کے حوالے سے قناعت پسندی کی حکمت عملی پر کاربند رہتا ہے تو وہ کامیاب ہے اور اگر اس کا معاملہ اس کے برعکس ہے تو اس کا راستہ تباہی اور بربادی کا راستہ ہے۔ اس آیت میں اس حوالے سے ہم جیسے دنیادار مسلمانوں کے اصل مرض کی نشاندہی کر دی گئی ہے کہ ہم دنیوی زندگی کے مفادات کو آخرت کے معاملات پر ترجیح دیتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دنیا کا نفع اور نقصان ہمیں نقد نظر آتا ہے جبکہ آخرت کی راحت اور تکلیف ہمیں سامنے نظر نہیں آتی۔ اس لیے دنیا کا معمولی سا مفاد ہم آخرت کے بہت بڑے عذاب کے بدلے میں بھی حاصل کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ جیسے سورۃ النساء کی آیت ۱۰ میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا ہے کہ جو لوگ ظلم و زیادتی سے یتیموں کا مال ہڑپ کر جاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں۔ لیکن آج دنیا میں جو کوئی ایسا مال کھاتا ہے اسے ایسا کرتے ہوئے تو محسوس نہیں ہوتاکہ وہ آگ کے انگارے پیٹ میں بھر رہا ہے‘ اس لیے جب وہ ایسے مال کو اپنی پہنچ میں دیکھتا ہے تو اسے غصب کرنے سے باز نہیں رہتا۔ انسان کی اس طبعی اور جبلی کمزوری یا خامی کا ذکر سورۃ القیامہ میں بایں الفاظ آیا ہے : {کَلَّا بَلۡ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَۃَ ﴿ۙ۲۰﴾وَ تَذَرُوۡنَ الۡاٰخِرَۃَ ﴿ؕ۲۱﴾} ’’ہرگز نہیں! اصل میں تم لوگ عاجلہ (جلد ملنے والی چیز) سے محبت کرتے ہو۔اور تم آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔‘‘
اِنَّ ہٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰی ﴿ۙ۱۸﴾
’’یقینا یہی بات اگلے صحیفوں میں بھی ۔‘‘
یعنی تذکیر اور ہدایت کا اصل جوہر اور خلاصہ یہی ہے کہ انسان آخرت کو دنیا پر ترجیح دے‘ کیونکہ دنیا فانی اور وقتی ہے جبکہ آخرت اس سے کہیں بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔ہدایت کے حوالے سے یہ بنیادی نکتہ پہلے آسمانی صحیفوں میں بھی مذکور تھا۔
صُحُفِ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ مُوۡسٰی ﴿٪۱۹﴾
’’(یعنی) ابراہیم اور موسیٰ ( علیہما السلام)کے صحیفوں میں۔‘‘
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے صحائف تو آج بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں‘ البتہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحائف کا آج بظاہر کہیں نشان نہیں ملتا۔اس حوالے سے میری رائے یہ ہے اور میں اپنی اس رائے کا اظہار قبل ازیں بھی متعدد بار کر چکا ہوں کہ ہندوئوں کے اپنشد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحائف ہی کی بگڑی ہوئی شکلیں ہیں۔
٭٭٭