ہَلۡ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ الۡغَاشِیَۃِ ؕ﴿۱﴾
’’کیا پہنچ چکی ہے آپؐ کے پاس اس ڈھانپ لینے والی (آفت) کی خبر؟‘‘
یعنی قیامت کی خبر‘ جو پوری کائنات کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
تحریر
آیات ۱ تا ۲۶
بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد
قرآنترجمہتشریححدیثشعر
ہَلۡ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ الۡغَاشِیَۃِ ؕ﴿۱﴾ وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍ خَاشِعَۃٌ ۙ﴿۲﴾ عَامِلَۃٌ نَّاصِبَۃٌ ۙ﴿۳﴾ تَصۡلٰی نَارًا حَامِیَۃً ۙ﴿۴﴾ تُسۡقٰی مِنۡ عَیۡنٍ اٰنِیَۃٍ ؕ﴿۵﴾ لَیۡسَ لَہُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِیۡعٍ ۙ﴿۶﴾ لَّا یُسۡمِنُ وَ لَا یُغۡنِیۡ مِنۡ جُوۡعٍ ؕ﴿۷﴾
ہَلۡ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ الۡغَاشِیَۃِ ؕ﴿۱﴾
’’کیا پہنچ چکی ہے آپؐ کے پاس اس ڈھانپ لینے والی (آفت) کی خبر؟‘‘
یعنی قیامت کی خبر‘ جو پوری کائنات کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔
وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍ خَاشِعَۃٌ ۙ﴿۲﴾
’’بہت سے چہرے اُس دن ذلیل ہوں گے۔‘‘
یہ مضمون اس سے پہلے سورۃ القیامہ اور سورۂ عبس میں بھی آ چکا ہے۔ سورۃ القیامہ میں اس صورت حال کا نقشہ یوں دکھایا گیا ہے : {وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ ﴿ۙ۲۲﴾اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ ﴿ۚ۲۳﴾وَ وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍۭ بَاسِرَۃٌ ﴿ۙ۲۴﴾تَظُنُّ اَنۡ یُّفۡعَلَ بِہَا فَاقِرَۃٌ ﴿ؕ۲۵﴾} ’’کچھ چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے‘ اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے اور کچھ چہرے اُس دن افسردہ ہوں گے۔ خیال کر رہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ سلوک ہونے والا ہے‘‘۔جبکہ سورۂ عبس میں یہی کیفیت ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے : {وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍ مُّسۡفِرَۃٌ ﴿ۙ۳۸﴾ضَاحِکَۃٌ مُّسۡتَبۡشِرَۃٌ ﴿ۚ۳۹﴾وَ وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍ عَلَیۡہَا غَبَرَۃٌ ﴿ۙ۴۰﴾تَرۡہَقُہَا قَتَرَۃٌ ﴿ؕ۴۱﴾} ’’اس دن کچھ چہرے روشن ہوں گے۔مسکراتے ہوئے خوش و خرم۔اور کچھ چہرے اس دن غبار آلود ہوں گے۔ان پر سیاہی چھائی ہوئی ہو گی۔‘‘
عَامِلَۃٌ نَّاصِبَۃٌ ۙ﴿۳﴾
’’مشقت زدہ ‘ تھکے ماندے ۔‘‘
تَصۡلٰی نَارًا حَامِیَۃً ۙ﴿۴﴾
’’وہ داخل ہوں گے دہکتی ہوئی آگ میں۔‘‘
تُسۡقٰی مِنۡ عَیۡنٍ اٰنِیَۃٍ ؕ﴿۵﴾
’’انہیں پلایا جائے گا پانی ایک کھولتے ہوئے چشمے سے۔‘‘
لَیۡسَ لَہُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِیۡعٍ ۙ﴿۶﴾
’’نہیں ہوگا ان کے لیے کھانے کو کچھ بھی سوائے خاردار جھاڑیوں کے۔‘‘
لَّا یُسۡمِنُ وَ لَا یُغۡنِیۡ مِنۡ جُوۡعٍ ؕ﴿۷﴾
’’جونہ تو موٹا کرے اور نہ ہی بھوک مٹائے۔‘‘
اسے کھانے سے نہ تو انہیں کوئی تقویت ملے گی اور نہ ہی بھوک کا احساس ختم ہو گا۔ کسی بھی غذا کے یہی دو فائدے ہوتے ہیں ‘لیکن اہل جہنم کو اس کھانے سے ان میں سے کوئی فائدہ بھی حاصل نہیں ہو گا۔ اب اگلی آیات میں نیک لوگوں کی کیفیت بیان کی جا رہی ہے :
وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍ نَّاعِمَۃٌ ۙ﴿۸﴾ لِّسَعۡیِہَا رَاضِیَۃٌ ۙ﴿۹﴾ فِیۡ جَنَّۃٍ عَالِیَۃٍ ﴿ۙ۱۰﴾ لَّا تَسۡمَعُ فِیۡہَا لَاغِیَۃً ﴿ؕ۱۱﴾ فِیۡہَا عَیۡنٌ جَارِیَۃٌ ﴿ۘ۱۲﴾ فِیۡہَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَۃٌ ﴿ۙ۱۳﴾ وَّ اَکۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَۃٌ ﴿ۙ۱۴﴾ وَّ نَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَۃٌ ﴿ۙ۱۵﴾ وَّ زَرَابِیُّ مَبۡثُوۡثَۃٌ ﴿ؕ۱۶﴾
وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍ نَّاعِمَۃٌ ۙ﴿۸﴾
’’بہت سے چہرے اُس روز تروتازہ ہوں گے۔‘‘
ان کے چہرے ناز و نعمت میں پلے بڑھے لوگوں کے چہروں کی طرح بارونق ہوں گے۔
لِّسَعۡیِہَا رَاضِیَۃٌ ۙ﴿۹﴾
’’وہ اپنی کوشش (کے نتائج) پر راضی ہوں گے۔‘‘
وہ لوگ اپنی دُنیوی زندگیوں میں آخرت کو دنیا پر ترجیح دیتے رہے تھے اور آخرت کی کامیابی کے لیے مسلسل کوشاں بھی تھے۔ چنانچہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی کوششیں اور محنتیں قبول فرما ئے گا۔ جیسا کہ سورۂ بنی اسرائیل کی اس آیت میں فرمایا گیا ہے: {وَ مَنۡ اَرَادَ الۡاٰخِرَۃَ وَ سَعٰی لَہَا سَعۡیَہَا وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓئِکَ کَانَ سَعۡیُہُمۡ مَّشۡکُوۡرًا ﴿۱۹﴾} ’’ اور جو کوئی آخرت کا طلب گار ہو‘ اور اس کے لیے اس کے شایانِ شان کوشش کرے اور وہ مؤمن بھی ہوتو یہی لوگ ہوں گے جن کی کوشش کی قدر افزائی کی جائے گی۔‘‘
فِیۡ جَنَّۃٍ عَالِیَۃٍ ﴿ۙ۱۰﴾
’’(وہ ہوں گے) عالی مقام جنت میں ۔‘‘
لَّا تَسۡمَعُ فِیۡہَا لَاغِیَۃً ﴿ؕ۱۱﴾
’’وہ اس میں کوئی لغو بات نہیں سنیں گے۔‘‘
وہاں انہیں کوئی ایسی فضول یا غلط بات سنائی نہیں دے گی جس سے انہیں کوفت ہو۔
فِیۡہَا عَیۡنٌ جَارِیَۃٌ ﴿ۘ۱۲﴾
’’اس میں ایک چشمہ ہے بہتا ہوا۔‘‘
فِیۡہَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَۃٌ ﴿ۙ۱۳﴾
’’اس میں اونچے اونچے تخت ہیں۔‘‘
وَّ اَکۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَۃٌ ﴿ۙ۱۴﴾
’’اور جام قرینے سے رکھے ہوئے۔‘‘
وَّ نَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَۃٌ ﴿ۙ۱۵﴾
’’اور قالین بچھے ہوئے صف در صف۔‘‘
وَّ زَرَابِیُّ مَبۡثُوۡثَۃٌ ﴿ؕ۱۶﴾
’’اور مخمل کے نہالچے جگہ جگہ پھیلے ہوئے۔‘‘
اگلی چار آیات قرآن مجید کی ان آیات میں سے ہیں جو بقول علامہ اقبال شعوری مشاہدے پر زور دیتی ہیں کہ چیزوں کو دیکھو‘ ان پر غور کرو اور اپنی عقل اور منطق کے مطابق ان سے نتائج اخذ کرو۔ ظاہر ہے عقل‘ شعور اور حواس کی صلاحیتیں انسان کو اسی لیے دی گئی ہیں کہ اپنی زندگی میں وہ ان سے کام لے : {وَ لَا تَقۡفُ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ ؕ اِنَّ السَّمۡعَ وَ الۡبَصَرَ وَ الۡفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنۡہُ مَسۡـُٔوۡلًا ﴿۳۶﴾} (بنی اسرائیل)
’’اور مت پیچھے پڑو اُس چیز کے جس کے بارے میں تمہیں علم نہیں۔یقینا سماعت‘بصارت اور عقل سبھی کے بارے میں بازپرس کی جائے گی‘‘۔واضح رہے کہ علم کے میدان میں یہ سائنٹیفک رجحان قرآن مجید نے متعارف کرایا ہے۔ مطلب یہ کہ انسان ہر چیز کو پہلے عقل کی کسوٹی پر پرکھے اور پھر کوئی رائے قائم کرے۔ عقل سے ماوراء صرف الہامی علم ہے۔اس لیے وحی کی سند کے بغیر انسان کوئی ایسی بات تسلیم نہ کرے جس کے پیچھے کوئی عقلی یا نقلی دلیل نہ ہو۔قرآن مجید کا عطا کردہ یہی وہ اندازِ فکر ہے جس نے ہرقسم کی توہم پرستی کی جڑکاٹ کر رکھ دی ہے۔
اَفَلَا یَنۡظُرُوۡنَ اِلَی الۡاِبِلِ کَیۡفَ خُلِقَتۡ ﴿ٝ۱۷﴾ وَ اِلَی السَّمَآءِ کَیۡفَ رُفِعَتۡ ﴿ٝ۱۸﴾ وَ اِلَی الۡجِبَالِ کَیۡفَ نُصِبَتۡ ﴿ٝ۱۹﴾ وَ اِلَی الۡاَرۡضِ کَیۡفَ سُطِحَتۡ ﴿ٝ۲۰﴾ فَذَکِّرۡ ۟ؕ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَکِّرٌ ﴿ؕ۲۱﴾ لَسۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِمُصَۜیۡطِرٍ ﴿ۙ۲۲﴾ اِلَّا مَنۡ تَوَلّٰی وَ کَفَرَ ﴿ۙ۲۳﴾ فَیُعَذِّبُہُ اللّٰہُ الۡعَذَابَ الۡاَکۡبَرَ ﴿ؕ۲۴﴾ اِنَّ اِلَیۡنَاۤ اِیَابَہُمۡ ﴿ۙ۲۵﴾ ثُمَّ اِنَّ عَلَیۡنَا حِسَابَہُمۡ ﴿٪۲۶﴾
اَفَلَا یَنۡظُرُوۡنَ اِلَی الۡاِبِلِ کَیۡفَ خُلِقَتۡ ﴿ٝ۱۷﴾
’’تو کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں اونٹوں کو کہ انہیں کیسے بنایا گیا ہے!‘‘
کیا یہ لوگ اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی اللہ کی نشانیوں پر غور نہیں کرتے؟ اور نہیں تو یہ اونٹ کی تخلیق کو ہی دیکھ لیتے کہ اس جانور کے جسم کی ریگستان کے ماحول کے ساتھ کس قدر ہم آہنگی ہے ۔ ریگستان کی گرمی میں یہ کئی کئی دن کھائے پئے بغیر چلتا رہتا ہے۔ اس کے پاؤں ایسے بنائے گئے ہیں کہ ریت میں نہیں دھنستے۔
وَ اِلَی السَّمَآءِ کَیۡفَ رُفِعَتۡ ﴿ٝ۱۸﴾
’’اور(کیا یہ دیکھتے نہیں) آسمان کو کہ کیسے بلند کیا گیا ہے!‘‘
یہ ماہرین فلکیات کے لیے صلائے عام ہے کہ وہ اس میدان میں تحقیق کر کے ستاروں اور کہکشاؤں کی دنیا کے اسرار و رموز معلوم کریں۔
وَ اِلَی الۡجِبَالِ کَیۡفَ نُصِبَتۡ ﴿ٝ۱۹﴾
’’اور (کیا یہ دیکھتے نہیں) پہاڑوں کو کہ کیسے گاڑ دیے گئے ہیں!‘‘
پہاڑوں کی بناوٹ اور کرئہ ارضی پر ان کے اثرات وغیرہ کے بارے میں تحقیق کرنا ماہرین ارضیات کا کام ہے۔
وَ اِلَی الۡاَرۡضِ کَیۡفَ سُطِحَتۡ ﴿ٝ۲۰﴾
’’اور (کیا یہ دیکھتے نہیں) زمین کی طرف کہ کیسے بچھا دی گئی ہے!‘‘
ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی آفاقی نشانیوں میں سے چند نشانیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔یہ مضمون قرآن میں بار بار آیا ہے لیکن ان آیات میں خصوصی طور پر قرآن مجید کے مخاطبین اوّلین سے خطاب ہے۔ نزولِ قرآن کے زمانے میں سرزمین حجاز کے باشندوں کا زیادہ تر وقت صحرائی مسافتوں میں گزرتا تھا ‘جیسا کہ سورۂ قریش کی آیت {رِحۡلَۃَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیۡفِ ۚ﴿۲﴾} میں بھی ذکر ہوا ہے۔چنانچہ اپنے سفروں کے دوران جس ماحول سے ان لوگوں کا دن رات واسطہ رہتا تھا ان آیات میں اسی ماحول کی چار چیزوں کو گنوا کر انہیں غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے۔یعنی ایک وہ اونٹ جو ان کے صحرائی سفر کی واحد سواری تھی‘ اوپر آسمان ‘ نیچے زمین اور اطراف و جوانب میں پہاڑی سلسلے۔یہ تھا وہ ماحول جس میں عام طور پر ان لوگوں کے شب وروز گزرتے تھے۔
بہرحال قرآن مجید کی ایسی تمام آیات صاحب شعور انسانوں کو دعوتِ فکر دیتی ہیں کہ تم لوگ ان مظاہرِ فطرت کو غور سے دیکھا کرو۔ ان میں سے ایک ایک چیز اللہ تعالیٰ کی نشانی اور اس کی صناعی و خلاقی کا نمونہ ہے:
دوسرے مقام کی آیتاِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ وَ الۡفُلۡکِ الَّتِیۡ تَجۡرِیۡ فِی الۡبَحۡرِ بِمَا یَنۡفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنۡ مَّآءٍ فَاَحۡیَا بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا وَ بَثَّ فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ دَآبَّۃٍ ۪ وَّ تَصۡرِیۡفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الۡمُسَخَّرِ بَیۡنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۶۴﴾
’’یقینا آسمان اور زمین کی تخلیق میں اور رات اور دن کے اُلٹ پھیر میں اور اُن کشتیوں (اورجہازوں) میں جوسمندر میں (یا دریاؤں میں) لوگوں کے لیے نفع بخش سامان لے کر چلتی ہیں اور اُس پانی میں کہ جو اللہ نے آسمان سے اتارا ہے پھر اس سے زندگی بخشی زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد‘ اور ہر قسم کے حیوانات (اور چرند پرند) اس کے اندر پھیلادیے ‘اور ہواؤں کی گردش میں اور ان بادلوں میں جو معلق کردیے گئے ہیں آسمان اور زمین کے درمیان ‘یقینا نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیں۔‘‘
اسی حقیقت کو شیخ سعدی ؒنے اپنے انداز میں اس طرح بیان کیا ہے :
برگِ درختانِ سبز در نظر ہوشیار
ہر ورقش دفترے است معرفتِ کردگار!
کہ ایک صاحب شعور انسان کے لیے سبز درختوں کا ایک ایک پتا گویا معرفتِ خداوندی کادفتر ہے۔ شیخ سعدیؒ نے تو اپنے زمانے میں یہ بات اپنی خداداد بصیرت کی بنا پر کہی تھی لیکن آج سائنسی تحقیق سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ سبز درختوں کا ایک ایک پتا دراصل photosynthesis کی فیکٹری ہے۔ یہ فیکٹریاں سارا دن آکسیجن بنانے اور سورج کی روشنی کو جذب کرکے درختوں کی لکڑی کی طرف منتقل کرنے میں مصروف رہتی ہیں۔
ظاہر ہے یہ صفحات ایسی مثالوں کی تفصیل کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔ اس حوالے سے انسان کے سمجھنے کی اصل بات یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تخلیقات کو محض حیوانی آنکھ سے نہیں بلکہ عقل اور شعور کی نظر سے دیکھے۔ علامہ اقبال نے اس حوالے سے ’’زبورِعجم‘‘ میں کیا پتے کی بات کہی ہے :
دم چیست؟ پیام است ‘شنیدی نشنیدی!
در خاکِ تو یک جلوئہ عام است ندیدی!
دیدن دگر آموز‘ شنیدن دگر آموز!
کہ اے غافل انسان! تمہارا ہر سانس اللہ تعالیٰ کا پیغام ہے۔ کیا تم نے اس پیغام کو کبھی سنا ؟ نہیں سنا! اور تمہاری اس خاک (حیوانی جسم) کے اندر ایک جلوئہ ربانی (نورانی روح ) بھی پوشیدہ ہے‘ لیکن تم نے اس جلوے کو کبھی دیکھنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔ چنانچہ تمہیں چاہیے کہ تم اس کائنات کی چیزوں کو حیوانی آنکھوں سے دیکھنا اور حیوانی کانوں سے سننا چھوڑو اور انسانوں کا سا دیکھنا اور سننا سیکھو۔ تم اشرف المخلوقات ہو‘ تمہیں اللہ تعالیٰ نے عقل و شعور سمیت بہت سی اعلیٰ صلاحیتوں سے نواز رکھا ہے ‘ان صلاحیتوں کو استعمال میں لاؤ ۔مظاہر فطرت اور دوسری چیزوں کو دیکھو اور ان پر غور کرو: {خَلَقَ لَکُمۡ مَّا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا ٭} (البقرۃ:۲۹) یہ زمین پر جو کچھ ہے سب اللہ نے تمہارے لیے پیدا کیا ہے۔ ان چیزوں پر تحقیق کرو‘ نئے نئے قوانین فطرت کو تلاش کرو‘ انہیں کام لاؤ۔ تمہیں زمین پر اللہ تعالیٰ کی خلافت عطا ہوئی ہے۔ اس حیثیت سے خود زمین ‘اس پر موجود تمام چیزیں ‘ یہ ہوائیں‘ یہ فضائیں‘ ستارے‘ سیارے‘ کہکشائیں سب تمہارے لیے مسخر ہیں۔ یاد رکھو! اگر تم عقل و شعور سے کام لوگے تو ان پر حکومت کرو گے ‘لیکن اگر تم توہمات میں پڑ جاؤ گے تو ان چیزوں کے غلام بن جاؤ گے۔
فَذَکِّرۡ ۟ؕ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَکِّرٌ ﴿ؕ۲۱﴾
’’تو (اے نبیﷺ!) آپ یاد دہانی کراتے رہیے‘ آپ تو بس یاد دہانی کرانے والے ہیں۔‘‘
لَسۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِمُصَۜیۡطِرٍ ﴿ۙ۲۲﴾
’’آپ ان پر کوئی داروغہ نہیں ہیں۔‘‘
آپؐ کی ذمہ داری صرف تذکیر اور نصیحت تک ہے‘ کسی کو زبردستی راہِ ہدایت پر لانا آپ کا کام نہیں ہے۔
اِلَّا مَنۡ تَوَلّٰی وَ کَفَرَ ﴿ۙ۲۳﴾
’’مگر جس نے منہ موڑا اور کفر کیا۔‘‘
فَیُعَذِّبُہُ اللّٰہُ الۡعَذَابَ الۡاَکۡبَرَ ﴿ؕ۲۴﴾
’’تو اس کو اللہ عذاب دے گا سب سے بڑا عذاب۔‘‘
بلاشبہ اللہ کے رسولﷺ نے اللہ تعالیٰ کا کلام اور پیغام اپنی بے داغ اور مثالی سیرت کی گواہی کے ساتھ اُمت تک اس انداز میں پہنچا دیا ہے کہ حق کو سمجھنے کے بارے میں کہیں کوئی ابہام نہیں رہا۔ اب اس کے بعد بھی جو شخص حق سے منہ موڑے گا تو وہ گویا حق کو حق سمجھتے ہوئے اسے ٹھکرائے گا اور اس سے یہی ثابت ہو گا کہ اس کے اندر بھلائی اور خیر کی کوئی رمق موجود ہی نہیں۔ چنانچہ ایسا ہر شخص اللہ تعالیٰ کی طرف سے شدید ترین عذاب کا مستحق ہے۔
اِنَّ اِلَیۡنَاۤ اِیَابَہُمۡ ﴿ۙ۲۵﴾
’’(اے نبیﷺ!) ان سب کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔‘‘
ثُمَّ اِنَّ عَلَیۡنَا حِسَابَہُمۡ ﴿٪۲۶﴾
’’پھر ان کا حساب ہمارے ذمہ ہے۔‘‘
آپؐ تذکیر اور یاد دہانی کے حوالے سے اپنا فر ض ادا کرتے جایئے۔ ان کی جوابدہی اور حساب کا معاملہ آپ ہم پر چھوڑ دیں۔ یہ وہی انداز اور اسلوب ہے جو اس گروپ کی سورتوں میں قبل ازیں بھی کئی بار آ چکا ہے۔ اس دور میں نازل ہونے والی سورتوں میں مشرکین کو مہلت دینے کا ذکر بہت خصوصیت کے ساتھ آیا ہے۔ مثلاً سورۃ المزمل میں فرمایا گیا: {وَ ذَرۡنِیۡ وَ الۡمُکَذِّبِیۡنَ اُولِی النَّعۡمَۃِ وَ مَہِّلۡہُمۡ قَلِیۡلًا ﴿۱۱﴾} ’’آپؐ مجھے اور ان جھٹلانے والوں کو چھوڑ دیں‘ جو بڑی نعمتوں سے نوازے گئے ہیں اور ابھی آپؐ انہیں کچھ مہلت دیں‘‘۔اسی طرح سورۃ الطارق کی آخری آیت میں بھی یہ مضمون خصوصی اسلوب کے ساتھ آیا ہے۔ اس آیت میں اس مفہوم کے دو صیغے (مَھِّلْ ۔ اَمْھِلْ) باب تفعیل اور باب افعال سے آئے ہیں۔ یہاں فرمایا کہ ’’ان سب کو لوٹ کر ہماری ہی طرف آنا ہے۔ پھر ان کا حساب ہمارے ذمہ ہے!‘‘
اَللّٰھُمَّ حَاسِبْنَا حِسَابًا یَّسِیْرًا ۔آمین یاربّ العالمین!