وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِ ۙ﴿۱﴾
’’قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی۔‘‘
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
تحریر
آیات ۱ تا ۱۷
بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد
قرآنترجمہتشریححدیثشعر
وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِ ۙ﴿۱﴾ وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا الطَّارِقُ ۙ﴿۲﴾ النَّجۡمُ الثَّاقِبُ ۙ﴿۳﴾ اِنۡ کُلُّ نَفۡسٍ لَّمَّا عَلَیۡہَا حَافِظٌ ؕ﴿۴﴾ فَلۡیَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ مِمَّ خُلِقَ ؕ﴿۵﴾ خُلِقَ مِنۡ مَّآءٍ دَافِقٍ ۙ﴿۶﴾ یَّخۡرُجُ مِنۡۢ بَیۡنِ الصُّلۡبِ وَ التَّرَآئِبِ ؕ﴿۷﴾ اِنَّہٗ عَلٰی رَجۡعِہٖ لَقَادِرٌ ؕ﴿۸﴾ یَوۡمَ تُبۡلَی السَّرَآئِرُ ۙ﴿۹﴾ فَمَا لَہٗ مِنۡ قُوَّۃٍ وَّ لَا نَاصِرٍ ﴿ؕ۱۰﴾
وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِ ۙ﴿۱﴾
’’قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی۔‘‘
وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا الطَّارِقُ ۙ﴿۲﴾
’’اور تم کیا جانتے ہو کہ وہ رات کو نمودار ہونے والا کیا ہے؟‘‘
النَّجۡمُ الثَّاقِبُ ۙ﴿۳﴾
’’وہ ستارہ ہے چمکدار۔‘‘
اِنۡ کُلُّ نَفۡسٍ لَّمَّا عَلَیۡہَا حَافِظٌ ؕ﴿۴﴾
’’کوئی جان ایسی نہیں جس پر کوئی نگہبان نہ ہو۔‘‘
سورۃ الانفطار کی ان آیات میں یہ مضمون زیادہ وضاحت کے ساتھ آیا ہے : {وَ اِنَّ عَلَیۡکُمۡ لَحٰفِظِیۡنَ ﴿ۙ۱۰﴾کِرَامًا کَاتِبِیۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾یَعۡلَمُوۡنَ مَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴿۱۲﴾} ’’جبکہ ہم نے تمہارے اوپر محافظ (فرشتے) مقرر کر رکھے ہیں۔ بڑے باعزت لکھنے والے ۔ وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کر رہے ہو‘‘۔ انسان کے محافظ فرشتوں کا ذکر سورۃ الانعام کی اس آیت میں بھی ہے: {وَ ہُوَ الۡقَاہِرُ فَوۡقَ عِبَادِہٖ وَ یُرۡسِلُ عَلَیۡکُمۡ حَفَظَۃً ؕ} (آیت۶۱) ’’ اور وہ اپنے بندوں پر پوری طرح غالب ہے اور وہ تم پر نگہبان بھیجتا رہتا ہے‘‘۔ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے ساتھ متعدد فرشتے مقرر کر رکھے ہیں۔ ان میں سے کچھ اس کے اعمال کاریکارڈ مرتب کرنے میں مصروف ہیں جبکہ کچھ کو اس کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
فَلۡیَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ مِمَّ خُلِقَ ؕ﴿۵﴾
’’تو انسان کو غور کرنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیاگیاہے۔‘‘
خُلِقَ مِنۡ مَّآءٍ دَافِقٍ ۙ﴿۶﴾
’’وہ پیدا کیا گیا ہے اچھلتے ہوئے پانی سے۔‘‘
یَّخۡرُجُ مِنۡۢ بَیۡنِ الصُّلۡبِ وَ التَّرَآئِبِ ؕ﴿۷﴾
’’جو نکلتا ہے پیٹھ اور پسلیوں کے درمیان سے۔‘‘
مرد کے مادہ منویہ کا اصل منبع ریڑھ کی ہڈی اور پسلیوں کے درمیان ہے۔ یہاں سے پیدا ہو کر یہ مادہ ان غدودوں تک پہنچتا ہے جو اس کے لیے مخصوص ہیں۔
اِنَّہٗ عَلٰی رَجۡعِہٖ لَقَادِرٌ ؕ﴿۸﴾
’’یقینا وہ اسے لوٹانے پر بھی قادر ہے۔‘‘
جس اللہ نے پانی کی ایک بوند سے انسان کی تخلیق کی ہے وہ یقینا اس پر بھی قادر ہے کہ جب چاہے اسے اپنے پاس واپس بلا لے۔اور یقینا وہ اس کے مرنے کے بعد اسے دوبارہ زندہ کر دینے پر بھی قدرت رکھتا ہے۔
یَوۡمَ تُبۡلَی السَّرَآئِرُ ۙ﴿۹﴾
’’جس دن تمام چھپے ہوئے رازوں کی جانچ پڑتال ہو گی۔‘‘
فَمَا لَہٗ مِنۡ قُوَّۃٍ وَّ لَا نَاصِرٍ ﴿ؕ۱۰﴾
’’تو نہیں ہو گی کسی انسان کے لیے کوئی طاقت اور نہ ہوگا اس کا کوئی مددگار۔‘‘
وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجۡعِ ﴿ۙ۱۱﴾ وَ الۡاَرۡضِ ذَاتِ الصَّدۡعِ ﴿ۙ۱۲﴾ اِنَّہٗ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌ ﴿ۙ۱۳﴾ وَّ مَا ہُوَ بِالۡہَزۡلِ ﴿ؕ۱۴﴾ اِنَّہُمۡ یَکِیۡدُوۡنَ کَیۡدًا ﴿ۙ۱۵﴾ وَّ اَکِیۡدُ کَیۡدًا ﴿ۚۖ۱۶﴾ فَمَہِّلِ الۡکٰفِرِیۡنَ اَمۡہِلۡہُمۡ رُوَیۡدًا ﴿٪۱۷﴾
وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجۡعِ ﴿ۙ۱۱﴾
’’قسم ہے اس آسمان کی جو بارش برساتا ہے وقفے وقفے سے۔‘‘
وَ الۡاَرۡضِ ذَاتِ الصَّدۡعِ ﴿ۙ۱۲﴾
’’اور قسم ہے اس زمین کی جو پھوٹ پڑتی ہے۔‘‘
آسمان سے بارش ہوتی ہے اور بارش کی وجہ سے نباتات زمین کو پھاڑتے ہوئے اُگ آتے ہیں۔ یعنی آسمان اور زمین اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ:
اِنَّہٗ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌ ﴿ۙ۱۳﴾
’’یہ (قرآن) قولِ فیصل ہے۔‘‘
وَّ مَا ہُوَ بِالۡہَزۡلِ ﴿ؕ۱۴﴾
’’اوریہ کوئی ہنسی مذاق نہیں ہے۔‘‘
جیسے سورۂ بنی اسرائیل میں فرمایا گیا: {وَبِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰہُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ} (آیت ۱۰۵) ’’اور اس (قرآن) کو ہم نے حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور یہ حق کے ساتھ نازل ہوا ہے۔‘‘
اِنَّہُمۡ یَکِیۡدُوۡنَ کَیۡدًا ﴿ۙ۱۵﴾وَّ اَکِیۡدُ کَیۡدًا ﴿ۚۖ۱۶﴾
’’(اے نبیﷺ!) یہ لوگ اپنی سی چالیں چل رہے ہیں اور میں بھی اپنی چال چل رہا ہوں۔‘‘
فَمَہِّلِ الۡکٰفِرِیۡنَ اَمۡہِلۡہُمۡ رُوَیۡدًا ﴿٪۱۷﴾
’’تو آپ ان کافروں کو ذرا مہلت دے دیجیے‘ تھوڑی دیر انہیں (ان کے حال پر) چھوڑ دیجیے !‘‘
ابتدائی مکی دور کی سورتوں میں حضورﷺ کے لیے یہ ہدایت بہت تکرار کے ساتھ آئی ہے کہ آپؐ ان لوگوں کے لیے جلدی نہ کریں‘ان کے بارے میں تھوڑی دیر انتظار کریں: {فَاصۡبِرۡ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الۡعَزۡمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسۡتَعۡجِلۡ لَّہُمۡ ؕ} (الاحقاف:۳۵) ’’تو (اے محمدﷺ!) آپ بھی صبر کیجیے جیسے اولوالعزم رسول ؑصبر کرتے رہے ہیں اور ان کے لیے جلدی نہ کیجیے!‘‘اس دور میں چونکہ مشرکینِ مکہ نے اہل ایمان پر عرصہ حیات تنگ کیا ہوا تھا ‘اس لیے ان آیات کے ذریعے حضورﷺ کی وساطت سے اہل ایمان کو بھی بار بار تسلی دی جاتی تھی اور سمجھایا جاتا تھا کہ ابھی ہم ان لوگوں کو کچھ مزیدمہلت دینا چاہتے ہیں۔ چنانچہ آپ لوگ ان کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف پر صبر کرتے ہوئے ہمارے فیصلے کا انتظار کریں۔