بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

البروج

آیات ۱ تا ۲۲

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

تمہیدی کلمات

سورۃ البروج اور اس کے بعد والی سورت یعنی سورۃ الطارق کا آپس میں جوڑے کا تعلق ہے۔ اس سورت کی ابتدائی آیات میں ایک تاریخی واقعہ کا ذکر ہواہے جو یمن میں ۵۲۳ عیسوی کے لگ بھگ‘ حضورﷺ کی ولادت سے تقریباً پچاس سال قبل پیش آیا۔ قدیم یمن میں بہت عرصہ تک عیسائی بادشاہ برسراقتدار رہے۔ لیکن چھٹی صدی عیسوی کے آغاز کے زمانے میں وہاں ’ذونواس‘ نامی یہودی بادشاہ کی حکومت قائم ہو گئی جو عیسائیوں کا شدید مخالف تھا۔ یہودی اور عیسائی دراصل شروع ہی سے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے رہے ہیں۔ ان کے باہمی اختلافات کی نوعیت ایسی ہے کہ اصولی طور پر ان کے درمیان کبھی بھی صلح نہیں ہو سکتی۔ ظاہر ہے عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا رسول ؑ مانتے ہیں بلکہ ان کی اکثریت تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کابیٹا قرار دیتی ہے‘ جبکہ یہودی آپؑ کو مرتد‘ جادوگر اور ولد الزنا قرار دیتے ہیں (نعوذ باللہ)۔ ظاہر ہے ایسی صورت حال میں ان لوگوں کے باہمی اختلافات کیسے ختم ہو سکتے ہیں۔

البتہ آج کل اس حوالے سے بہت غیر معمولی صورت حال دیکھنے کو مل رہی ہے۔ آج پوری عیسائی دنیا یہودیوں کی مٹھی میں ہے اور عیسائیوں کی مدد سے انہوں نے یہودی ریاست بھی قائم کر لی ہے ۔اس کے علاوہ بھی وہ عیسائیوں کی معاشی اور جنگی طاقت کو جہاں اور جیسے چاہتے ہیں استعمال کر رہے ہیں۔ یہ دراصل یہودی ذہانت اور محنت کا جادو ہے جو آج پوری دنیا کے سرچڑھ کر بول رہا ہے۔ اس غیر معمولی صورت حال کی وجوہات اور ممکنہ نتائج کے بارے میں میری تقاریر کی ریکارڈنگ موجود ہے۔ مزید معلومات کے لیے ان تقاریر سے استفادہ کیاجا سکتا ہے۔ بہرحال یمن کے یہودی بادشاہ ذونواس نے عیسائی دشمنی کے جنون میں یہ کارنامہ سرانجام دیا کہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بڑی بڑی خندقیں کھدوا کر ان میں ایندھن بھرا اور پھر وسیع پیمانے پرآگ جلا کر بیس ہزار کے لگ بھگ بے گناہ عیسائیوں کو زندہ جلا دیا۔ اس سورت کی ابتدائی آیات میں اسی واقعہ کا ذکر ہے۔

یہ سورۂ مبارکہ مکہ معظمہ کے اُس دور میں نازل ہوئی جب کفارِ مکہ مسلمانوں کو سخت سے سخت عذاب دے کر ایمان سے پھیر دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ چنانچہ اس میں کفار کو ان کے ظلم و ستم کے برے انجام سے خبردار کیا گیا ہے اور اہل ایمان کو تسلی دی گئی ہے کہ اگر وہ ان مظالم کے مقابلے میں ثابت قدم رہیں گے تو ان کو اس کا بہترین اجر ملے گا اور اللہ تعالیٰ ظالموں سے بدلہ ضرور لے گا۔

1-9

برباد مظلوم نہیں ظالم ہوتے ہیں

ویڈیو

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الۡبُرُوۡجِ ۙ﴿۱﴾ وَ الۡیَوۡمِ الۡمَوۡعُوۡدِ ۙ﴿۲﴾ وَ شَاہِدٍ وَّ مَشۡہُوۡدٍ ؕ﴿۳﴾ قُتِلَ اَصۡحٰبُ الۡاُخۡدُوۡدِ ۙ﴿۴﴾ النَّارِ ذَاتِ الۡوَقُوۡدِ ۙ﴿۵﴾ اِذۡ ہُمۡ عَلَیۡہَا قُعُوۡدٌ ۙ﴿۶﴾ وَّ ہُمۡ عَلٰی مَا یَفۡعَلُوۡنَ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ شُہُوۡدٌ ؕ﴿۷﴾ وَ مَا نَقَمُوۡا مِنۡہُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ یُّؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَمِیۡدِ ۙ﴿۸﴾ الَّذِیۡ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ ؕ﴿۹﴾

آیت 1

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الۡبُرُوۡجِ ۙ﴿۱﴾

’’قسم ہے آسمان کی جو برجوںوالا ہے۔‘‘

برجوں سے مراد آسمان کے عظیم الشان ستارے اور سیارے لیے گئے ہیں۔

آیت 2

وَ الۡیَوۡمِ الۡمَوۡعُوۡدِ ۙ﴿۲﴾

’’اور قسم ہے اس دن کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے ۔‘‘

یعنی قیامت کا دن ‘جو آکر رہے گا۔

آیت 3

وَ شَاہِدٍ وَّ مَشۡہُوۡدٍ ؕ﴿۳﴾

’’اور قسم ہے حاضر ہونے والے کی اور اُس کی جس کے پاس حاضر ہوا جائے ۔‘‘

اس آیت کی بہت سی تعبیرات کی گئی ہیں ‘جن میں سے ایک تعبیر یہ ہے کہ شَاہِد سے مراد جمعہ کا دن ہے‘ جو شہر شہر بستی بستی لوگوں کے پاس حاضر ہوتا ہے ‘جبکہ مَشْہُوْد عرفہ (۱۰ذی الحجہ) کا دن ہے جس کے پاس لوگوں کو خود میدانِ عرفات میں جا کر حاضر ہونا پڑتا ہے۔

آیت 4

قُتِلَ اَصۡحٰبُ الۡاُخۡدُوۡدِ ۙ﴿۴﴾

’’ہلاک ہو گئے وہ کھائیوں والے۔‘‘

’’اصحاب الاخدود‘‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے خندقیں کھودیں اور اہل ایمان کو ان خندقوں میں ڈال کر جلایا۔ بظاہر تو وہاں اہل ایمان ہلاک ہوئے تھے لیکن وہ تو اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر کے آخرت کی نعمتوں اور کامیابیوں کے مستحق ٹھہرے اورواقعتا ہلاکت اور بربادی ان لوگوں کے حصے میں آئی جنہوں نے خندقیں کھود کر اہل ایمان کو ان میں ڈال کر جلایا۔

آیت 5

النَّارِ ذَاتِ الۡوَقُوۡدِ ۙ﴿۵﴾

’’وہ آگ جو بڑی ایندھن والی تھی۔‘‘

یعنی وہ خوفناک آگ جسے بہت زیادہ ایندھن جمع کر کے بھڑکایا گیاتھا۔

آیت 6

اِذۡ ہُمۡ عَلَیۡہَا قُعُوۡدٌ ۙ﴿۶﴾

’’جبکہ وہ اس (کے کناروں) پر بیٹھے ہوئے تھے۔‘‘

آیت 7

وَّ ہُمۡ عَلٰی مَا یَفۡعَلُوۡنَ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ شُہُوۡدٌ ؕ﴿۷﴾

’’اور مؤمنین کے ساتھ وہ جو کچھ کر رہے تھے خود اس کا نظارہ بھی کر رہے تھے۔‘‘

ان صاحب اقتدار و اختیار لوگوں نے اہل ایمان کو زندہ جلانے کے احکام جاری کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان خندقوں کے کناروں پر انہوں نے باقاعدہ براجمان ہو کر اس دلدوز منظر کا نظارہ کرنے کا اہتمام بھی کیا۔ اسی طرح پچھلی صدی میں ہٹلر نے بھی بہت ’’پرتکلف‘‘ منصوبہ بندی کے ساتھ یہودیوں کے قتل عام کا اہتمام کیاتھا۔اس مقصد کے لیے اس نے بڑے بڑے گیس چیمبر ز نصب کیے اور انسانی لاشوں کو سائنٹیفک انداز میں ٹھکانے لگانے کے لیے نئے نئے طریقے ایجاد کیے۔

آیت 8

وَ مَا نَقَمُوۡا مِنۡہُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ یُّؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَمِیۡدِ ۙ﴿۸﴾

’’اور وہ نہیں انتقام لے رہے تھے ان سے مگر اس لیے کہ وہ ایمان لے آئے تھے اللہ پر جو زبردست ہے اور اپنی ذات میں خود ستودہ صفات ہے۔‘‘

آیت 9

الَّذِیۡ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ

’’ جس کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں کی اور زمین کی ۔‘‘

وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ ؕ﴿۹﴾

’’اور اللہ تو ہر چیز پر خود گواہ ہے ۔‘‘

10-11

ظالموں کے لیے وعید اور مومنوں کے لیے نوید

ویڈیو

اِنَّ الَّذِیۡنَ فَتَنُوا الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ لَمۡ یَتُوۡبُوۡا فَلَہُمۡ عَذَابُ جَہَنَّمَ وَ لَہُمۡ عَذَابُ الۡحَرِیۡقِ ﴿ؕ۱۰﴾ اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۬ؕؑ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡکَبِیۡرُ ﴿ؕ۱۱﴾

آیت 10

اِنَّ الَّذِیۡنَ فَتَنُوا الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ لَمۡ یَتُوۡبُوۡا

’’یقینا جن لوگوں نے ظلم و ستم توڑا مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں پر پھرانہوں نے توبہ بھی نہیں کی‘‘

اگر ان میں سے کسی نے مرنے سے پہلے توبہ کر لی اور ایمان لے آیا تو اس کا یہ جرم معاف ہو سکتا ہے۔

فَلَہُمۡ عَذَابُ جَہَنَّمَ وَ لَہُمۡ عَذَابُ الۡحَرِیۡقِ ﴿ؕ۱۰﴾

’’تو ان کے لیے ہو گا جہنم کا عذاب اور جلا ڈالنے والا عذاب۔‘‘

آیت 11

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ

’’یقینا وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے‘‘

لَہُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۬ؕؑ

’’ان کے لیے وہ باغات ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔‘‘

ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡکَبِیۡرُ ﴿ؕ۱۱﴾

’’ یہ ہے اصل بڑی کامیابی۔‘‘

12-16

اللہ کی دو شانیں

ویڈیو

اِنَّ بَطۡشَ رَبِّکَ لَشَدِیۡدٌ ﴿ؕ۱۲﴾ اِنَّہٗ ہُوَ یُبۡدِئُ وَ یُعِیۡدُ ﴿ۚ۱۳﴾ وَ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الۡوَدُوۡدُ ﴿ۙ۱۴﴾ ذُو الۡعَرۡشِ الۡمَجِیۡدُ ﴿ۙ۱۵﴾ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیۡدُ ﴿ؕ۱۶﴾

آیت 12

اِنَّ بَطۡشَ رَبِّکَ لَشَدِیۡدٌ ﴿ؕ۱۲﴾

’’یقینا تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ حلیم بھی ہے ‘ وہ انسان کو ڈھیل بھی دیتا ہے اور اس کی رسّی دراز بھی کرتا ہے (اللہ تعالیٰ کی اس صفت کا ذکر اگلی سورت میں آئے گا)لیکن جب وہ کسی فرد یا قوم کی گرفت کرتا ہے تو اس کی گرفت بہت سخت ہوتی ہے۔

آیت 13

اِنَّہٗ ہُوَ یُبۡدِئُ وَ یُعِیۡدُ ﴿ۚ۱۳﴾

’’وہی ہے جو پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور وہی اعادہ بھی کرے گا۔‘‘

جب اس نے انسان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے تو دوسری مرتبہ وہ اسے پیدا کرنے پر بھلا کیونکر قادر نہیں ہو گا؟

آیت 14

وَ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الۡوَدُوۡدُ ﴿ۙ۱۴﴾

’’اور وہ بخشنے والا بھی ہے‘ محبت کرنے والا بھی ہے۔‘‘

آیت 15

ذُو الۡعَرۡشِ الۡمَجِیۡدُ ﴿ۙ۱۵﴾

’’ عرش کا مالک ہے‘ بڑی شان والا ہے۔‘‘

آیت 16

فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیۡدُ ﴿ؕ۱۶﴾

’’وہ جو ارادہ کر لے ‘ کر گزرنے والا ہے۔‘‘

ظاہر ہے اس کے ارادے کے آگے کوئی رکاوٹ نہیں ڈال سکتا۔

17-22

سرکش قوموں کے انجام سے عبرت پکڑو

ویڈیو

ہَلۡ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ الۡجُنُوۡدِ ﴿ۙ۱۷﴾ فِرۡعَوۡنَ وَ ثَمُوۡدَ ﴿ؕ۱۸﴾ بَلِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فِیۡ تَکۡذِیۡبٍ ﴿ۙ۱۹﴾ وَّ اللّٰہُ مِنۡ وَّرَآئِہِمۡ مُّحِیۡطٌ ﴿ۚ۲۰﴾ بَلۡ ہُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِیۡدٌ ﴿ۙ۲۱﴾ فِیۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ ﴿٪۲۲﴾

آیت 17

ہَلۡ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ الۡجُنُوۡدِ ﴿ۙ۱۷﴾

’’کیا آپ کے پاس لشکروں کی خبر پہنچی ہے؟‘‘

آیت 18

فِرۡعَوۡنَ وَ ثَمُوۡدَ ﴿ؕ۱۸﴾

’’فرعون اور ثمود (کے لشکروں) کی؟‘‘

آیت 19

بَلِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فِیۡ تَکۡذِیۡبٍ ﴿ۙ۱۹﴾

’’لیکن یہ کافر جو ہیں یہ جھٹلانے ہی میں لگے رہیں گے۔‘‘

آیت 20

وَّ اللّٰہُ مِنۡ وَّرَآئِہِمۡ مُّحِیۡطٌ ﴿ۚ۲۰﴾

’’جبکہ اللہ ان کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔‘‘

آیت 21

بَلۡ ہُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِیۡدٌ ﴿ۙ۲۱﴾

’’بلکہ یہ تو قرآن ہے بہت عزت والا ۔‘‘

آیت 22

فِیۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ ﴿٪۲۲﴾

’’لوحِ محفوظ میں (نقش ہے)۔‘‘

یعنی اصل قرآن مجید اللہ تعالیٰ کے پاس لوحِ محفوظ میں ہے۔ جس مقام کا ذکر یہاں لوحٍ مَّحْفوظ کے نام سے ہوا ہے‘ سورۃ الزخرف کی آیت۴ میں اسے اُمُّ الْکِتٰب‘ سورۃ الواقعہ کی آیت ۷۸ میں کِتٰبٍ مَّـکْنُوْن اور سورۂ عبس کی آیات ۱۳ اور ۱۴ میں اسے صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ مَّرْفُوْعَۃٍ مُّطَھَّرَۃٍ کہا گیا ہے۔

یوٹیوب پر دیکھیے