اِذَا السَّمَآءُ انۡفَطَرَتۡ ۙ﴿۱﴾
’’جب آسمان پھٹ جائے گا۔‘‘
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
تحریر
آیات ۱ تا ۱۹
بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد
قرآنترجمہتشریححدیثشعر
سورۃ الانفطار اور سورۃ التکویر کا آپس میں جوڑے کا تعلق ہے اور یہ تعلق اس حد تک گہرا ہے کہ ان دونوں کا مضمون بھی ایک ہے‘ بلکہ متعلقہ مضمون دونوں سورتوں کے ملنے سے مکمل ہوتا ہے۔ دونوں سورتوں کی ابتدائی آیات میں قیامت کے حالات کا نقشہ دکھایا گیا ہے۔ سورۃ التکویر میں ان حالات کی تفصیل تیرہ آیات میں بیان ہوئی ہے جبکہ سورۃ الانفطار میں وہی مضمون صرف چار آیات میں سمٹ گیا ہے۔ اس مضمون کے بعد سورۃ التکویر میں جو اہم خبر دی گئی ہے وہ یہ ہے: {عَلِمَتۡ نَفۡسٌ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡ ﴿ؕ۱۴﴾} جبکہ سورۃ الانفطار میں اس کے مقابلے یہ آیت آئی ہے : {عَلِمَتۡ نَفۡسٌ مَّا قَدَّمَتۡ وَ اَخَّرَتۡ ؕ﴿۵﴾} ۔یہاں تک تو دونوں سورتوں کا مضمون ایک جیسا ہے۔ اس کے بعد سورۃ التکویر میں قرآن کی صداقت کا حوالہ دے کر مخاطبین سے یہ چبھتا ہوا سوال کیا گیا ہے : {فَاَیۡنَ تَذۡہَبُوۡنَ ﴿ؕ۲۶﴾} کہ تم لوگ نہ اللہ کے رسولؐ کی سیرت کو دیکھتے ہو ‘نہ حق کو پہچاننے کی زحمت گوارا کرتے ہو۔آخر تم لوگ جاکدھر رہے ہو؟ لیکن وہاں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ جب قیامت برپا ہو جائے گی اور ہر شخص کو اس کے اعمال کی تفصیل سے آگاہ کر دیا جائے گا تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ چنانچہ اس موضوع پر روشنی یہاں سورۃ الانفطار میں ڈالی گئی ہے کہ اگر یہ راستہ اختیار کرو گے تو اس منزل پر پہنچو گے اور اگر دوسرا طرزِعمل اپناؤ گے تو اس انجام سے دوچار ہو گے۔
اِذَا السَّمَآءُ انۡفَطَرَتۡ ۙ﴿۱﴾ وَ اِذَا الۡکَوَاکِبُ انۡتَثَرَتۡ ۙ﴿۲﴾ وَ اِذَا الۡبِحَارُ فُجِّرَتۡ ﴿ۙ۳﴾ وَ اِذَا الۡقُبُوۡرُ بُعۡثِرَتۡ ۙ﴿۴﴾ عَلِمَتۡ نَفۡسٌ مَّا قَدَّمَتۡ وَ اَخَّرَتۡ ؕ﴿۵﴾
اِذَا السَّمَآءُ انۡفَطَرَتۡ ۙ﴿۱﴾
’’جب آسمان پھٹ جائے گا۔‘‘
وَ اِذَا الۡکَوَاکِبُ انۡتَثَرَتۡ ۙ﴿۲﴾
’’اور جب تار ے بکھر جائیں گے۔‘‘
وَ اِذَا الۡبِحَارُ فُجِّرَتۡ ﴿ۙ۳﴾
’’اور جب سمندرپھاڑ دیے جائیں گے۔‘‘
وَ اِذَا الۡقُبُوۡرُ بُعۡثِرَتۡ ۙ﴿۴﴾
’’اور جب قبریں تلپٹ کر دی جائیں گی۔‘‘
عَلِمَتۡ نَفۡسٌ مَّا قَدَّمَتۡ وَ اَخَّرَتۡ ؕ﴿۵﴾
’’(اُس وقت) ہر جان‘ جان لے گی کہ اُس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا۔‘‘
اس دن ہر شخص کو واضح طور پر معلوم ہو جائے گا کہ اس نے کیا کیا اچھے یا برے اعمال آگے بھیجے تھے اور ان کے آثار و نتائج کی شکل میں کیا کچھ وہ اپنے پیچھے دنیا میں چھوڑ آیاتھا۔ اس مضمون کی وضاحت قبل ازیں سورۃ القیامہ کی آیت ۱۳ کے تحت بھی کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ اس آیت کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ قیامت کے دن ہر انسان کو بتا دیا جائے گا کہ اس نے کس شے کو آگے کیا تھااور کس شے کو پیچھے رکھا تھا۔ یعنی دنیا اور آخرت میں سے اس نے کس کو مقدم رکھا تھا اور کس کومؤخر کیا تھا۔ آیت کے اس مفہوم سے واضح ہوتا ہے کہ قیامت کے دن کسی انسان کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار کلی طور پر اس ’’طرزِعمل‘‘ پر ہے جو وہ اپنی زندگی میں دنیا اور آخرت کے بارے میں اختیار کرتا ہے۔ یعنی انسان کا ایک طرزِعمل یہ ہو سکتا ہے کہ میر ااصل مطلوب و مقصود تو آخرت ہے‘ دنیا کا کیا ہے جو مل گیا وہی غنیمت ہے اور اگر کبھی نہ بھی ملے تب بھی کوئی بات نہیں۔ دوسرا ممکنہ رویہ یہ ہے کہ میرا اصل مقصود تو دنیا ہے ‘اس کے ساتھ ساتھ اگر آخرت بھی مل جائے تو اچھا ہے‘ چاہے وہ کسی کی سفارش سے مل جائے یا کسی اور حیلے سے۔ لیکن میری پہلی ترجیح (Ist priority) بہرحال دنیا اور اس کا مال و متاع ہے‘ اور زندگی میں میری ساری تگ و دو اسی کے لیے ہے۔
یٰۤاَیُّہَا الۡاِنۡسَانُ مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الۡکَرِیۡمِ ۙ﴿۶﴾ الَّذِیۡ خَلَقَکَ فَسَوّٰىکَ فَعَدَلَکَ ۙ﴿۷﴾ فِیۡۤ اَیِّ صُوۡرَۃٍ مَّا شَآءَ رَکَّبَکَ ؕ﴿۸﴾ کَلَّا بَلۡ تُکَذِّبُوۡنَ بِالدِّیۡنِ ۙ﴿۹﴾ وَ اِنَّ عَلَیۡکُمۡ لَحٰفِظِیۡنَ ﴿ۙ۱۰﴾ کِرَامًا کَاتِبِیۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾ یَعۡلَمُوۡنَ مَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴿۱۲﴾
یٰۤاَیُّہَا الۡاِنۡسَانُ مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الۡکَرِیۡمِ ۙ﴿۶﴾
’’اے انسان !تجھے کس چیز نے دھوکے میں ڈال دیا ہے اپنے ربّ کریم کے بارے میں۔‘‘
ظاہر ہے یہ کام شیطان لعین ہی کرتا ہے۔ وہی انسان کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں دھوکے میں ڈالتا ہے۔ اس حوالے سے قرآن مجید میں بنی نوع انسان کو باربار خبردار کیاگیا ہے ‘مثلاً سورئہ لقمان میں فرمایا: {وَ لَا یَغُرَّنَّکُمۡ بِاللّٰہِ الۡغَرُوۡرُ ﴿۳۳﴾} کہ وہ بڑا دھوکے باز تم لوگوں کو اللہ کے بارے میں کہیں دھوکے میں مبتلا نہ کر دے! لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمام تر تنبیہات کے باوجود اکثر انسان شیطان کے اس جال میں پھنس جاتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے شیطان مختلف لوگوں کے ساتھ مختلف چالیں اور حربے آزماتا ہے۔ مثلاً ایک دیندار شخص کو اہم فرائض سے ہٹانے کے لیے وہ نوافل اور ذکر واذکار کا پرکشش پیکج پیش کر سکتا ہے کہ تم اقامت دین اور دوسرے فرائض دینی کا خیال چھوڑو اوراللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے راتوں کو جاگنے اور تہجد کی پابندی پر توجہ دو۔ عام مسلمانوں کے لیے اس کی بہت ہی تیر بہدف چال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ غفورٌ رحیم ہے‘ وہ کوئی خوردہ گیر نہیں کہ اپنے مؤمن بندوں کو چھوٹی چھوٹی خطائوں پر پکڑے۔ وہ تو بہت بڑے بڑے گناہگاروں کو بھی معاف کر دیتا ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں بے عملی کی سب سے بڑی وجہ شیطان کی یہی چال ہے ‘ بلکہ اس دلیل کے سہارے اکثر لوگ گناہوں کے بارے میں حیران کن حد تک جری اور بے باک ہو جاتے ہیں۔ اس لحاظ سے آیت زیر مطالعہ ہم میں سے ہر ایک کو دعوتِ فکر دے رہی ہے کہ اے اللہ کے بندے! تمہاری بے عملی کی وجہ کہیں یہ تو نہیں ہے کہ شیطان نے تمہیں اللہ تعالیٰ کی شانِ غفاری کے نام پر دھوکے میں مبتلا کر دیا ہے؟
الَّذِیۡ خَلَقَکَ فَسَوّٰىکَ فَعَدَلَکَ ۙ﴿۷﴾
’’ جس نے تمہیں تخلیق کیا‘ پھر تمہارے نوک پلک سنوارے‘ پھر تمہارے اندر اعتدال پیدا کیا۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے تمہارے قوائے جسمانی اور قوائے نفسیاتی میں ہر طرح سے اعتدال اور توازن پیدا کیا ہے۔ گویا تمہاری تخلیق اللہ تعالیٰ کی صفت عدل کی مظہر ہے۔ تمہاری تخلیق کے اندر توازن اور خوبصورتی کا یہ پہلو گویا اس حقیقت پر گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں عدل و اعتدال کو پسند فرماتا ہے اور یہ کہ وہ تم انسانوں کے ساتھ آخرت میں بھی عدل و انصاف کا معاملہ فرمائے گا ‘تاکہ گناہگاروں کو قرار واقعی سزا مل سکے اور نیکوکار اپنی نیکیوں کا پورا پورا بدلہ پائیں ۔تمہاری مبنی براعتدال تخلیق و ترکیب کا تقاضا تو یہ تھا کہ تمہارے خیالات و اعمال بھی اعتدال اور توازن کا مظہر ہوتے ‘مگر تم لوگ ہو کہ اپنے خالق کے بارے میں ہی دھوکے میں مبتلا ہوگئے ہو۔ تم اس کی شانِ غفاری کو تو بہت اہتمام سے یاد رکھتے ہو جبکہ اس کی صفت عدل سمیت بہت سی دوسری صفات کو بالکل ہی بھولے ہوئے ہو ۔ تمہاری یہ بے اعتدالی تمہارے اس خالق کو بالکل پسند نہیں ہے جس نے تمہاری تخلیق کا خمیر ہی اعتدال سے اٹھایا ہے۔
فِیۡۤ اَیِّ صُوۡرَۃٍ مَّا شَآءَ رَکَّبَکَ ؕ﴿۸﴾
’’پھر جس شکل میں اُس نے چاہا تجھے ترکیب دے دیا۔‘‘
اللہ تعالیٰ ہر انسان کی شکل اور اس کے مختلف اعضاء اپنی مرضی و مشیت کے مطابق بناتا ہے۔ ظاہرہے اس معاملے میں کسی انسان کو کوئی اختیار نہیں۔ اس موضوع کی مناسبت سے مجھے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے نعتیہ اشعار یاد آ گئے ہیں۔ آپؓ حضورﷺ کی شان میں فرماتے ہیں:
وَاَحْسَنُ مِنْکَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَیْنِیْ
وَاَجْمَلُ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ النِّسَائُ
خُلِقْتَ مُبَرَّئً‘ا مِنْ کُلِّ عَیْبٍ
کَاَنَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَائُ
’’آپﷺ سے زیادہ حسین میری آنکھ نے کبھی نہیں دیکھا اور آپ ؐ سے بڑھ کر جمیل عورتوں نے جنا ہی نہیں۔آپؐ ہر عیب اور نقص سے مبراپیداہوئے ہیں۔ گویا آپؐ اس طرح پیدا ہوئے ہیں جس طرح آپؐ نے خود چاہا۔‘‘
کَلَّا بَلۡ تُکَذِّبُوۡنَ بِالدِّیۡنِ ۙ﴿۹﴾
’’ہرگز نہیں! بلکہ اصل میں تم جزا و سزا کا انکار کر رہے ہو۔‘‘
تم لوگ یہ جو اللہ تعالیٰ کی شانِ غفاری کے قصیدے پڑھ رہے ہو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تم اس کی رحمت اور بخشش پر واقعتابہت پختہ یقین بھی رکھتے ہو ‘بلکہ اصل بات یہ ہے کہ اپنے اس فلسفے کی آڑ میں تم جزا و سزاکا انکار کرنا چاہتے ہو۔ اسی طرح کے ایک ’’قصیدے‘‘ کی یہ جھلک ملاحظہ کیجیے اور پھر فیصلہ کیجیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور شانِ غفاری کا اقرار ہے یا اس کے فلسفہ جزا و سزا کا مذاق : ؎
اگر کوئی شخص واقعی پوری دیدہ دلیری سے جہنم کی تدبیر اور کوشش کر رہا ہے تو اللہ تعالیٰ کے عدل کا تقاضا تو یہی ہے کہ اس کی خواہش پوری کرتے ہوئے اسے جہنم میں جھونک دیاجائے ۔ چنانچہ ایسے خیالات و نظریات کے حامل لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور شانِ غفاری کی من مانی تشریح کر کے نہ صرف اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں‘ بلکہ عملی طور پر جزا و سزا کے فلسفہ کا ہی انکار کر رہے ہیں۔
وَ اِنَّ عَلَیۡکُمۡ لَحٰفِظِیۡنَ ﴿ۙ۱۰﴾
’’حالانکہ تم پرنگران (فرشتے) مقرر ہیں۔‘‘
کِرَامًا کَاتِبِیۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾
’’جو بڑے باعزت لکھنے والے ہیں۔‘‘
یَعۡلَمُوۡنَ مَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴿۱۲﴾
’’وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کر رہے ہو۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے بطور نگران مقرر کر رکھے ہیں جو اس کا ایک ایک عمل لکھ رہے ہیں۔ اب اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو انسانوں کا محاسبہ کرنا منظور نہیں ہے تو گویا وہ یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اس کا فرشتوں کو بطور نگران مقرر کرنا اور ان فرشتوں کا ایک ایک انسان کے ایک ایک عمل کا ریکارڈ مرتب کرنا سب کارِعبث ہے۔ ایسے خیالات کے حامل لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ’’کارِعبث‘‘ اللہ کے شایانِ شان نہیں‘ وہ احتساب ضرور کرے گا اور اس احتساب کے نتائج بھی ضرور نکلیں گے‘ جن کا ذکر اگلی آیات میں ہے:
اِنَّ الۡاَبۡرَارَ لَفِیۡ نَعِیۡمٍ ﴿ۚ۱۳﴾ وَ اِنَّ الۡفُجَّارَ لَفِیۡ جَحِیۡمٍ ﴿ۚۖ۱۴﴾ یَّصۡلَوۡنَہَا یَوۡمَ الدِّیۡنِ ﴿۱۵﴾ وَ مَا ہُمۡ عَنۡہَا بِغَآئِبِیۡنَ ﴿ؕ۱۶﴾ وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا یَوۡمُ الدِّیۡنِ ﴿ۙ۱۷﴾ ثُمَّ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا یَوۡمُ الدِّیۡنِ ﴿ؕ۱۸﴾ یَوۡمَ لَا تَمۡلِکُ نَفۡسٌ لِّنَفۡسٍ شَیۡئًا ؕ وَ الۡاَمۡرُ یَوۡمَئِذٍ لِّلّٰہِ ﴿٪۱۹﴾
اِنَّ الۡاَبۡرَارَ لَفِیۡ نَعِیۡمٍ ﴿ۚ۱۳﴾
’’یقینا نیکوکار بندے نعمتوں میں ہوں گے۔‘‘
وَ اِنَّ الۡفُجَّارَ لَفِیۡ جَحِیۡمٍ ﴿ۚۖ۱۴﴾
’’اوریقینا فاسق و فاجر جہنم میں ہوں گے۔‘‘
یَّصۡلَوۡنَہَا یَوۡمَ الدِّیۡنِ ﴿۱۵﴾
’’ داخل ہوں گے اس میں جزا و سزا کے فیصلے کے دن۔‘‘
وَ مَا ہُمۡ عَنۡہَا بِغَآئِبِیۡنَ ﴿ؕ۱۶﴾
’’اور وہ اس سے کہیں غائب نہیں ہو سکیں گے۔‘‘
ظاہر ہے جہنم سے بھاگ نکلنے کا نہ کوئی راستہ ہوگا اور نہ ہی کسی میں بھاگ جانے کی طاقت ہو گی۔
وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا یَوۡمُ الدِّیۡنِ ﴿ۙ۱۷﴾
’’اورکیاتمہیں کچھ معلوم ہے کہ روزِ جزا کیا ہے؟‘‘
ثُمَّ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا یَوۡمُ الدِّیۡنِ ﴿ؕ۱۸﴾
’’پھر کیاتمہیں کچھ اندازہ ہوا ہے کہ روزِجزا کیا ہے؟‘‘
یَوۡمَ لَا تَمۡلِکُ نَفۡسٌ لِّنَفۡسٍ شَیۡئًا ؕ وَ الۡاَمۡرُ یَوۡمَئِذٍ لِّلّٰہِ ﴿٪۱۹﴾
’’جس روزکسی جان کو کسی دوسری جان کے لیے کوئی اختیار حاصل نہیں ہو گا ‘اور امر کل کا کل اس دن اللہ ہی کے ہاتھ میں ہو گا۔‘‘
اُس دن سرِمحشر پکارا جائے گا : {لِمَنِ الۡمُلۡکُ الۡیَوۡمَ ؕ} (المؤمن ۱۶) کہ اے نسل انسانی کے لوگو‘دیکھو! آج حکومت‘ اختیار اور اقتدارکس کے ہاتھ میں ہے؟ اور اس سوال کا جواب بھی پھر خود ہی دیا جائے گا : {لِلّٰہِ الۡوَاحِدِ الۡقَہَّارِ ﴿۱۶﴾} (المؤمن:۱۶) یعنی آج کے دن اختیار کل کا کل اللہ ہی کے پاس ہے جو اکیلا ہے اور سب پر غالب ہے۔ اس دن انسانوں کی اکثریت کو بے بسی اور نفسانفسی کی جس کیفیت کا سامنا ہو گا ‘ سورۃ البقرۃ میں اس کا نقشہ یوں دکھایا گیا ہے : {وَ اتَّقُوۡا یَوۡمًا لَّا تَجۡزِیۡ نَفۡسٌ عَنۡ نَّفۡسٍ شَیۡئًا وَّ لَا یُقۡبَلُ مِنۡہَا شَفَاعَۃٌ وَّ لَا یُؤۡخَذُ مِنۡہَا عَدۡلٌ وَّ لَا ہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۴۸﴾} ’’اور ڈرو اُس دن سے کہ جس دن کام نہ آ سکے گی کوئی جان کسی دوسری جان کے کچھ بھی اور نہ کسی سے کوئی سفارش قبول کی جائے گی اور نہ کسی سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ انہیں کوئی مدد ہی مل سکے گی۔‘‘