بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

التكوير

آیات ۱ تا ۲۹

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

تمہیدی کلمات

سورۃ التکویر اپنے مضمون اور اسلوب کے اعتبار سے اپنے بعد والی تینوں سورتوں سے گہری مشابہت رکھتی ہے۔ اس مشابہت کی وجہ سے یہ چاروں سورتیں (سورۃ التکویر‘ سورۃ الانفطار‘ سورۃ المطففین اور سورۃ الانشقاق) ایک ضمنی گروپ کی حیثیت سے بھی پہچانی جاتی ہیں۔ البتہ جوڑوں کے نظم کے حوالے سے سورۃ التکویر کا تعلق سورۃ الانفطار سے ہے ‘جبکہ سورۃ المطففین اپنے بعد والی سورت یعنی سورۃ الانشقاق کے ساتھ مل کر جوڑا بناتی ہے۔

1-6

قیامت کی نشانیاں

ویڈیو

اِذَا الشَّمۡسُ کُوِّرَتۡ ۪ۙ﴿۱﴾ وَ اِذَا النُّجُوۡمُ انۡکَدَرَتۡ ۪ۙ﴿۲﴾ وَ اِذَا الۡجِبَالُ سُیِّرَتۡ ۪ۙ﴿۳﴾ وَ اِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ ۪ۙ﴿۴﴾ وَ اِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ ۪ۙ﴿۵﴾ وَ اِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ ۪ۙ﴿۶﴾

آیت 1

اِذَا الشَّمۡسُ کُوِّرَتۡ ۪ۙ﴿۱﴾

’’جب سورج لپیٹ لیاجائے گا۔‘‘

آیت 2

وَ اِذَا النُّجُوۡمُ انۡکَدَرَتۡ ۪ۙ﴿۲﴾

’’اور جب ستارے ماند پڑ جائیں گے۔‘‘

آیت 3

وَ اِذَا الۡجِبَالُ سُیِّرَتۡ ۪ۙ﴿۳﴾

’’اور جب پہاڑ چلادیے جائیں گے۔‘‘

آیت 4

وَ اِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ ۪ۙ﴿۴﴾

’’اور جب گابھن اونٹنیاں چھٹی پھریں گی۔‘‘

العِشار سے دس مہینوں کے حمل والی اونٹنیاں مراد ہیں‘ یعنی ایسی اونٹنیاں جن کے وضع حمل کا وقت بہت قریب ہو۔ عربوں کے ہاں ایسی اونٹنی بہت قیمتی سمجھی جاتی تھی اور اس لحاظ سے وہ لوگ اس کی خصوصی حفاظت اور خدمت کرتے تھے ۔ آیت میں اس حوالے سے قیامت کی ہولناک کیفیت کی تصویر دکھائی گئی ہے کہ جب قیامت برپا ہو گی تو بہت قیمتی اونٹنیاں بھی لاوارث ہو جائیں گی‘ انہیں کوئی سنبھالنے والا نہیں ہو گا۔ ظاہر ہے اُس وقت جبکہ خود عورتوں کو اپنے حمل کی کوئی فکر نہیں ہو گی تو اونٹنیوں کی کسے ہوش ہو گی۔

آیت 5

وَ اِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ ۪ۙ﴿۵﴾

’’اور جب وحشی جانور جمع کر دیے جائیں گے۔‘‘

عام طور پر جنگلی جانور ایک دوسرے سے دور بھاگتے ہیں ‘لیکن اس دن خوف کے مارے ان کی وحشت بھی جاتی رہے گی اور مختلف اقسام کے جانور بھی اکٹھے ہوجائیں گے۔

آیت 6

وَ اِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ ۪ۙ﴿۶﴾

’’اور جب سمندر دہکا دیے جائیں گے۔‘‘

اگلی سورت یعنی سورۃ الانفطار میں سمندروں کے پھاڑے جانے {وَ اِذَا الۡبِحَارُ فُجِّرَتۡ ﴿ۙ۳﴾} کا ذکر ہے۔ان دونوں آیات پر غور کریں تو یوں لگتا ہے کہ جب زمین کو کھینچ کر پھیلایا جائے گا {وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ ۙ﴿۳﴾} (الانشقاق) تو اس کی اندرونی تپش اوپری سطح پر آ جائے گی۔ چنانچہ دہکتے ہوئے لاوے کے عین اوپر سمندراُبل رہے ہوں گے اور اس طرح سمندروں کا پانی بخارات بن کر ہوا میں تحلیل ہو جائے گا۔ واللہ اعلم!

7-14

روز قیامت کیا ہوگا؟

ویڈیو

وَ اِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ ۪ۙ﴿۷﴾ وَ اِذَا الۡمَوۡءٗدَۃُ سُئِلَتۡ ۪ۙ﴿۸﴾ بِاَیِّ ذَنۡۢبٍ قُتِلَتۡ ۚ﴿۹﴾ وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتۡ ﴿۪ۙ۱۰﴾ وَ اِذَا السَّمَآءُ کُشِطَتۡ ﴿۪ۙ۱۱﴾ وَ اِذَا الۡجَحِیۡمُ سُعِّرَتۡ ﴿۪ۙ۱۲﴾ وَ اِذَا الۡجَنَّۃُ اُزۡلِفَتۡ ﴿۪ۙ۱۳﴾ عَلِمَتۡ نَفۡسٌ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡ ﴿ؕ۱۴﴾

آیت 7

وَ اِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ ۪ۙ﴿۷﴾

’’اور جب جانوں کے جوڑ ملائے جائیں گے۔‘‘

یعنی پوری نسل انسانی کے مختلف افرادکی گروہ بندی کر دی جائے گی۔ یہ گروہ بندی لوگوں کے اعمال اور انجام کے حوالے سے ہو گی جیسے سورۃ النمل ‘آیت ۸۳ اور سورۂ حٰمٓ السجدۃ‘آیت ۱۹ میں اہل جہنم کو مختلف گروہوں میں تقسیم کیے جانے کاذکر آیا ہے ۔اس آیت کا مفہوم یہ بھی لیا گیا ہے کہ جب جانیں جسموں کے ساتھ جوڑ دی جائیں گی۔

آیت 8

وَ اِذَا الۡمَوۡءٗدَۃُ سُئِلَتۡ ۪ۙ﴿۸﴾

’’اور جب زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا۔‘‘

آیت 9

بِاَیِّ ذَنۡۢبٍ قُتِلَتۡ ۚ﴿۹﴾

’’کہ وہ کس گناہ کی پاداش میں قتل کی گئی تھی؟‘‘

یہ تذکیر و انذار کا بہت لطیف انداز ہے۔

آیت 10

وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتۡ ﴿۪ۙ۱۰﴾

’’اور جب اعمال نامے کھول دیے جائیں گے۔‘‘

آیت 11

وَ اِذَا السَّمَآءُ کُشِطَتۡ ﴿۪ۙ۱۱﴾

’’اور جب آسمان کی کھال اُتار لی جائے گی۔‘‘

یعنی آسمان پر سے پردہ اُٹھادیا جائے گا اور اس کے وہ سب رموز اور مناظر جو انسانوں کی نظروں سے پوشیدہ تھے ان پرظاہر ہو جائیں گے۔اس سے یہ مفہوم بھی نکلتا ہے کہ آسمان اس دن کھال اُترے ہوئے کسی جانور کے جسم کی طرح سرخ نظر آئے گا ‘جیسا کہ سورۃ الرحمن کی اس آیت میں بھی بتایاگیا ہے : {فَاِذَا انۡشَقَّتِ السَّمَآءُ فَکَانَتۡ وَرۡدَۃً کَالدِّہَانِ ﴿ۚ۳۷﴾} ’’پھرجب آسمان پھٹ جائے گا اور ہو جائے گا گلابی‘ تیل کی تلچھٹ جیسا۔‘‘

آیت 12

وَ اِذَا الۡجَحِیۡمُ سُعِّرَتۡ ﴿۪ۙ۱۲﴾

’’اور جب جہنم دہکائی جائے گی۔‘‘

آیت 13

وَ اِذَا الۡجَنَّۃُ اُزۡلِفَتۡ ﴿۪ۙ۱۳﴾

’’اور جب جنت قریب لے آئی جائے گی۔‘‘

ان تیرہ آیات میں قیامت کے دن کی مختلف کیفیات کا ذکرکرنے کے بعد جو اہم اور اصل بات بتانا مقصود ہے وہ یہ ہے :

آیت 14

عَلِمَتۡ نَفۡسٌ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡ ﴿ؕ۱۴﴾

’’(اُس دن) ہر جان جان لے گی کہ اس نے کیا کچھ حاضر کیا ہے۔‘‘

یعنی ہر انسان کے تمام اعمال کی پوری تفصیل اس کے سامنے آجائے گی۔

15-21

قرآنِ حکیم حضرت جبرائیل علیہ السلام لے کر آئےہیں

ویڈیو

فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِالۡخُنَّسِ ﴿ۙ۱۵﴾ الۡجَوَارِ الۡکُنَّسِ ﴿ۙ۱۶﴾ وَ الَّیۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ ﴿ۙ۱۷﴾ وَ الصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ ﴿ۙ۱۸﴾ اِنَّہٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ کَرِیۡمٍ ﴿ۙ۱۹﴾ ذِیۡ قُوَّۃٍ عِنۡدَ ذِی الۡعَرۡشِ مَکِیۡنٍ ﴿ۙ۲۰﴾ مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیۡنٍ ﴿ؕ۲۱﴾

آیات 15–16

فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِالۡخُنَّسِ ﴿ۙ۱۵﴾الۡجَوَارِ الۡکُنَّسِ ﴿ۙ۱۶﴾

’’تو نہیں! میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے‘ چلنے والے اور چھپ جانے والے ستاروں کی۔‘‘

یعنی ایسے ستارے جو سیدھا چلتے چلتے پھر پیچھے ہٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔ان آیات کی وضاحت کرتے ہوئے مولانا شبیر احمد عثمانی ؒلکھتے ہیں:

’’کئی سیاروں (مثلاً زحل‘ مشتری‘ مریخ‘ زہرہ‘ عطارد) کی چال اس ڈھب سے ہے کہ کبھی مغرب سے مشرق کو چلیں‘ یہ سیدھی راہ ہوئی ‘ کبھی ٹھٹک کر اُلٹے پھریں اور کبھی سورج کے پاس آکر کتنے دنوں تک غائب رہیں۔‘‘

بہرحال یہ آیات آج کے ماہرین فلکیات کو دعوتِ تحقیق دے رہی ہیں کہ وہ جدید معلومات کی روشنی میں ان الفاظ (الْخُنَّس اور الْجَوَارِ الْکُنَّس) کے لغوی معانی کے ساتھ ستاروں کی دنیا کے رموز و حقائق کی مطابقت ڈھونڈنے کی کوشش کریں۔

آیت 17

وَ الَّیۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ ﴿ۙ۱۷﴾

’’قسم ہے رات کی جب وہ روانہ ہونے لگے۔‘‘

یہ آیت اور سورۃ المدثر کی یہ آیت باہم مشابہ اور ہم معنی ہیں: {وَ الَّیۡلِ اِذۡ اَدۡبَرَ ﴿ۙ۳۳﴾} ’’اور قسم ہے رات کی جب کہ وہ پیٹھ موڑے۔‘‘

آیت 18

وَ الصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ ﴿ۙ۱۸﴾

’’اور صبح کی جب وہ سانس لے۔‘‘

یعنی صبح صادق کا وہ وقت جب رات کے سناٹے میں سے زندگی انگڑائی لیتی ہوئی آہستہ آہستہ بیدار ہوتی ہے۔

آیت 19

اِنَّہٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ کَرِیۡمٍ ﴿ۙ۱۹﴾

’’یقینا یہ (قرآن) ایک بہت باعزت پیغامبر کا قول ہے۔‘‘

یہاں ’’رَسُوْلٍ کَرِیْم‘‘ سے مراد حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں۔ یہ آیت قبل ازیں سورۃ الحاقہ میں بھی (بطور آیت ۴۰) آ چکی ہے اور وہاں ’’رَسُوْلٍ کَرِیْم‘‘ سے مراد محمد رسول اللہﷺ ہیں۔سورۃ الحج (آیت ۷۵) میں فرمایا گیا ہے : {اَللّٰہُ یَصۡطَفِیۡ مِنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ ؕ } ’’اللہ چن لیتا ہے اپنے پیغامبر فرشتوں میں سے بھی اور انسانوں میں سے بھی‘‘۔چنانچہ فرشتوں میں سے اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو چنا اور انسانوں میں سے حضرت محمدﷺ کو اور یوں ان دو ہستیوں کے ذریعے سے ’’رسالت‘‘ کا سلسلہ تکمیل پذیر ہوا۔ زیر مطالعہ آیات میں رسولِ کریم بشر(محمد رسول اللہﷺ) اور رسولِ کریم ملک (حضرت جبرائیل علیہ السلام ) کی ملاقات کا ذکر بھی آ رہا ہے کہ رسالت کی ان دو کڑیوں کے ملنے کا ثبوت فراہم ہو جائے۔یہ مضمون اس سے پہلے سورۃ النجم میں بھی آ چکا ہے۔

آیت 20

ذِیۡ قُوَّۃٍ عِنۡدَ ذِی الۡعَرۡشِ مَکِیۡنٍ ﴿ۙ۲۰﴾

’’جو (جبرائیل) بہت قوت والا ہے ‘صاحبِ عرش کے نزدیک بلند مرتبہ ہے۔‘‘

یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے خاص مقربین میں سے ہیں۔

آیت 21

مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیۡنٍ ﴿ؕ۲۱﴾

’’جس کی اطاعت کی جاتی ہے اور وہ امانت دار بھی ہے۔‘‘

حضرت جبرائیل علیہ السلام تمام فرشتوں کے سردار ہیں ۔اس لحاظ سے آپؑ تمام فرشتوں کے مطاع ہیں یعنی تمام فرشتے آپؑ کی اطاعت کرتے ہیں۔ اور آپ ؑامانت دار ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام جوں کا توں انبیاء و رسل علیہم السلام تک پہنچاتے رہے ہیں۔

22-24

رسولِ بشر ﷺ رسولِ ملک سے ملاقات

ویڈیو

وَ مَا صَاحِبُکُمۡ بِمَجۡنُوۡنٍ ﴿ۚ۲۲﴾ وَ لَقَدۡ رَاٰہُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِیۡنِ ﴿ۚ۲۳﴾ وَ مَا ہُوَ عَلَی الۡغَیۡبِ بِضَنِیۡنٍ ﴿ۚ۲۴﴾

آیت 22

وَ مَا صَاحِبُکُمۡ بِمَجۡنُوۡنٍ ﴿ۚ۲۲﴾

’’اور تمہارے یہ ساتھی (محمدﷺ) کوئی مجنون نہیں ہیں۔‘‘

زیر مطالعہ آیات سورۃ النجم کی ابتدائی آیات کے ساتھ خصوصی مناسبت اور مشابہت رکھتی ہیں۔ وہاں بھی اس مضمون کا آغاز ستارے کی قسم (وَالنَّجْم) سے ہوا ہے اور یہاں بھی اس موضوع پر بات شروع کرنے سے پہلے آیات ۱۵ اور ۱۶میں ستاروں کی قسمیں کھائی گئی ہیں۔ وہاں صَاحِبُکُمْ سے بات شروع ہوکر حضرت جبرائیل ؑ کے ذکر تک آئی ہے‘ جبکہ یہاں حضرت جبرائیل ؑکا ذکر پہلے اور صَاحِبُکُمْ کا بیان بعد میں آیا ہے۔ وہاں حضرت جبرائیل ؑکا ذکر شَدِیْدُ الْقُوٰی کے لقب سے ہوا ہے جبکہ یہاں انؑ کی شان میں ذِیْ قُوَّۃٍ کے الفاظ آئے ہیں۔

آیت 23

وَ لَقَدۡ رَاٰہُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِیۡنِ ﴿ۚ۲۳﴾

’’اور انہوں نے دیکھا ہے اس کو کھلے اُفق پر۔‘‘

یعنی ہمارے نبی(ﷺ) نے جبریل ؑکو کھلے اور روشن اُفق پر دیکھا ہے‘ اس میں کوئی اشتباہ نہیں ہے۔ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْن کے لیے سورۃ النجم میں ’بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰی‘ (آیت ۷) کی ترکیب آئی ہے۔

آیت 24

وَ مَا ہُوَ عَلَی الۡغَیۡبِ بِضَنِیۡنٍ ﴿ۚ۲۴﴾

’’اور وہ غیب کے معاملے میں حریص یا بخیل نہیں ہیں۔‘‘

’ضَنِیْن‘ کا ترجمہ حریص بھی کیا گیا ہے اور بخیل بھی۔ دراصل بخل اور حرص دونوں لازم و ملزوم ہیں اور ایک ہی مفہوم کے دو پہلوئوں کو واضح کرتے ہیں۔ حریص کے معنی میں آیت کا مفہوم یہ ہو گا کہ ہمارے نبی (ﷺ) کی پوری زندگی تم لوگوں کے سامنے ہے۔ کیا انہوںؐ نے کاہنوں اور نجومیوں کے ساتھ کبھی دوستی رکھی ہے؟ یا غیب کی خبریں معلوم کرنے کے لیے کیا انہوںؐ نے کبھی ریاضتیں وغیرہ کرنے کی کوشش کی ہے ؟ ظاہر ہے انؐ کی زندگی میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ چنانچہ تم لوگ یہ نہیں کہہ سکتے ہوکہ وہ غیب کی خبروں کے معاملے میں شروع ہی سے ’’حریص‘‘ تھے۔ اسی طرح وہؐ اس بارے میں بخیل بھی نہیں ہیں اور اس حقیقت کے بھی تم خود گواہ ہو۔ انہیںؐ غیب کی جو خبریں معلوم ہوتی ہیں وہ تم لوگوں کو بتاتے ہیں۔ کیا کاہن اور نجومی بھی غیب کی خبریں اسی طرح کھلے عام لوگوں کو بتاتے ہیں؟کسی کاہن کے پاس تو غیب کا علم ہوتا ہی نہیں اور جو کسی قیاس آرائی یا ظن و تخمین کی بنا پر وہ کچھ جانتا ہے اس پر وہ اپنا کاروبار چمکاتا ہے۔گویا ’’ہلدی کی گانٹھ‘‘ مل جانے پر وہ پنساری بن کر بیٹھ جاتا ہے اور اپنی ایک ایک بات کے عوض منہ مانگے نذرانے وصول کرتا ہے۔ اس کے برعکس ہمارے رسول(ﷺ)نے اگر فرشتے کو دیکھا ہے تو انہوںؐ نے سرعام تم لوگوں کو بتا دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں غیب کا جو علم دیا جا رہا ہے وہؐمن وعن تم لوگوں کو بتاتے ہیں اور اس معاملے میں بخل سے کام نہیں لیتے۔ ۱

(۱) اس آیت پر مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ علیہ کاتفسیری حاشیہ ملاحظہ ہو: ’’یعنی یہ پیغمبر ہر قسم کے غیوب کی خبر دیتا ہے‘ ماضی سے متعلق ہوں یا مستقبل سے‘ یا اللہ کے اسماء و صفات سے یا احکامِ شرعیہ سے یا مذاہب کی حقیقت و بطلان سے یا جنت و دوزخ کے احوال سے یا واقعات بعد الموت سے‘ اور ان چیزوں کے بتلانے میں ذرا بخل نہیں کرتا نہ اجرت مانگتا ہے۔‘‘

25-29

قرآن کیا ہے ؟کیا نہیں؟

ویڈیو

وَ مَا ہُوَ بِقَوۡلِ شَیۡطٰنٍ رَّجِیۡمٍ ﴿ۙ۲۵﴾ فَاَیۡنَ تَذۡہَبُوۡنَ ﴿ؕ۲۶﴾ اِنۡ ہُوَ اِلَّا ذِکۡرٌ لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۲۷﴾ لِمَنۡ شَآءَ مِنۡکُمۡ اَنۡ یَّسۡتَقِیۡمَ ﴿ؕ۲۸﴾ وَ مَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿٪۲۹﴾

آیت 25

وَ مَا ہُوَ بِقَوۡلِ شَیۡطٰنٍ رَّجِیۡمٍ ﴿ۙ۲۵﴾

’’اور یہ کسی شیطانِ مردودکا قول نہیں ہے۔‘‘

شیاطین جن چونکہ غیب کے نام پر جھوٹی سچی خبریں کاہنوں تک پہنچاتے رہتے تھے اس لیے یہاں اس امکان کی بھی تردید کر دی گئی ہے۔ یعنی تم لوگ یہ مت سمجھو کہ جنوں میں سے کسی شیطان نے انہیںؐ کوئی پٹی پڑھا دی ہے (معاذ اللہ)۔ یہی مضمون سورۃ الحاقہ میں زیادہ وضاحت اور زیادہ پرزور انداز میں یوں بیان ہوا ہے: {فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِمَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿ۙ۳۸﴾وَ مَا لَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿ۙ۳۹﴾} ’’میں قسم کھاتا ہوں ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جو تم نہیں دیکھتے ہو‘‘۔ (یہاں پر مَا تُبْصِرُوْنَ سے شاعری وغیرہ مراد ہے ‘اس لیے کہ شاعر لوگ اپنی سوچ اور فکر سے شعر کہتے ہیں‘ جبکہ مَا لَا تُبْصِرُوْنَ کے الفاظ میں شیاطین جن کی خبروں کی طرف اشارہ ہے جو وہ کاہنوں تک پہنچاتے تھے)۔ {اِنَّہٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ کَرِیۡمٍ ﴿ۚۙ۴۰﴾وَّ مَا ہُوَ بِقَوۡلِ شَاعِرٍ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تُؤۡمِنُوۡنَ ﴿ۙ۴۱﴾وَ لَا بِقَوۡلِ کَاہِنٍ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿ؕ۴۲﴾} ’’یہ قول ہے رسولِ کریم کا۔اور یہ کسی شاعر کا قول نہیں ہے ۔کم ہی ہے جو تم یقین کرتے ہو ۔اور نہ ہی یہ کسی کاہن کا کلام ہے ۔کم ہی ہے جو تم غور کرتے ہو۔‘‘

آیت 26

فَاَیۡنَ تَذۡہَبُوۡنَ ﴿ؕ۲۶﴾

’’تو تم کدھر چلے جا رہے ہو؟‘‘

تمہاری بھلائی اور کامیابی تو اس میں تھی کہ تم لوگ ہمارے رسول (ﷺ) پر ایمان لاتے اور انؐ کی طرف جو وحی آ رہی ہے اس کے نور سے اپنے دلوں کو منور کرتے ‘لیکن تم لوگوں نے اس کے بجائے انؐ کی تکذیب اور مخالفت کی روش اپنا رکھی ہے۔ تم لوگ کبھی سنجیدگی سے غور تو کرو کہ اللہ کے کلام سے منہ موڑ کر تم لوگ کس طرف جارہے ہو۔

آیت 27

اِنۡ ہُوَ اِلَّا ذِکۡرٌ لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۲۷﴾

’’نہیں ہے یہ مگر تمام جہان والوں کے لیے ایک یاد دہانی۔‘‘

قرآن مجید اس مفہوم میں ذکر یعنی یاد دہانی ہے کہ یہ انسان کی فطرت میں پہلے سے موجود حقائق کی یاد تازہ کرتا ہے۔ دراصل انسان فطری طور پر اللہ تعالیٰ کی ذات اور توحید کے تصور سے آشنا ہے‘ مگر دنیا میں رہتے ہوئے اگر انسان کی فطرت پر غفلت کے پردے پڑ جائیں تو وہ اللہ تعالیٰ کو بھول جاتا ہے۔ سورۃ الحشر کی آیت۱۹ میں اس حوالے سے ہم اللہ تعالیٰ کا یہ حکم پڑھ چکے ہیں: {وَ لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنۡسٰہُمۡ اَنۡفُسَہُمۡ ؕ } کہ اے اہل ایمان! تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے انہیں اپنے آپ سے ہی غافل کر دیا۔بہرحال اس غفلت کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایمان باللہ سے متعلق وہ حقائق جو ہر انسان کی فطرت میں مضمر ہیں پسِ پردہ چلے جاتے ہیں۔ چنانچہ قرآنی تعلیمات انسانی فطرت میں موجود ان تمام حقائق کو خفتہ (dormant) حالت سے نکال کر پھر سے فعال (active) کرنے میں اس کی مدد کرتی ہیں۔

آیت 28

لِمَنۡ شَآءَ مِنۡکُمۡ اَنۡ یَّسۡتَقِیۡمَ ﴿ؕ۲۸﴾

’’ہر اُس شخص کے لیے جو تم میں سے سیدھے راستے پر چلنا چاہے۔‘‘

یعنی قرآن ہر اس شخص کے لیے یاد دہانی ہے جو ہدایت کا طالب ہو اور پورے خلوص سے چاہتا ہو کہ وہ گمراہی سے نکل کر ہدایت کے راستے پر آ جائے۔

آیت 29

وَ مَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿٪۲۹﴾

’’اور تمہارے چاہے بھی کچھ نہیں ہوسکتا جب تک کہ اللہ نہ چاہے جو تمام جہانوں کا ربّ ہے۔‘‘

یہ مضمون قرآن میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے ‘یعنی کسی انسان کو ہدایت تبھی ملے گی جب وہ خود بھی اس کے لیے ارادہ کرے اور پھر اللہ بھی اسے ہدایت دینا چاہے۔ ظاہر ہے ہر کام اللہ ہی کے اذن اور اسی کی توفیق سے ہوتا ہے ۔لیکن ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کی توفیق کے ساتھ انسان کی اپنی خواہش اور طلب کا شامل ہونا بہت ضروری ہے‘کیونکہ اللہ تعالیٰ زبردستی کسی پر ہدایت مسلط نہیں کرتا۔ اگر ایسا ہو تو پھر سزا اور جزا کا سارا فلسفہ ہی غلط ہو جاتا ہے۔

یوٹیوب پر دیکھیے