وَیْل کے معنی تباہی‘ بربادی اور ہلاکت کے بھی ہیں اور یہ جہنم کی ایک وادی کا نام بھی ہے۔ ’طف‘ لغوی اعتبار سے حقیر سی چیز کو کہا جاتا ہے۔ اسی معنی میں یہ لفظ کم تولنے یا کم ماپنے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ مُطَفِّف وہ ہے جو حق دار کو اس کا پورا حق نہیں دیتا بلکہ اس میں کمی کر دیتا ہے۔ ظاہر ہے جو شخص ماپ تول میں کمی کرتا ہے وہ اپنے اس عمل کے ذریعے متعلقہ چیز کی بہت تھوڑی سی مقدار ہی ناحق بچا پاتا ہے۔ اس کے باوجود اسے یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ اتنی حقیر سی چیزکے لیے اپنا ایمان فروخت کر رہا ہے ۔ بہرحال اس آیت میں کم تولنے یا کم ماپنے والوں کو آخرت میں بربادی اور جہنم کی نوید سنائی گئی ہے۔
’’جس دن کہ لوگ کھڑے ہوں گے تمام جہانوں کے رب کے سامنے۔‘‘
ناپ تول میں کمی کرتے ہوئے ہاتھ کو ہلکی سی جنبش دینا بظاہر تو ایک معمولی سا عمل ہے لیکن ’’تل کی اوٹ میں پہاڑ‘‘کے مصداق ایسا کرنے والے کی اس حرکت سے ثابت ہوتا ہے کہ یا تو اس کا بعث بعد الموت پر یقین نہیں یا پھر اسے اس کی پروا نہیں کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے ۔
’’ہرگز نہیں! یقیناگناہگاروں کے اعمال نامے سجین میں ہوں گے۔‘‘
عام طور پر کتاب سے یہاں اعمال نامہ ہی مراد لیا گیا ہے کہ کافر و فاجر لوگوں کے اعمال نامے ’’سِجِّین‘‘ میں‘ جبکہ نیک لوگوں کے اعمال نامے ’’عِلِّیّین‘‘ (بحوالہ آیت۱۸) میں ہوں گے۔ تاہم بعض احادیث سے پتا چلتا ہے کہ ’’سجین‘‘ ایک مقام ہے جہاں اہل دوزخ کی روحیں محبوس ہوں گی‘ جبکہ اہل جنت کی ارواح ’’علیین‘‘ میں ہوں گی۔ چنانچہ سجین اور علیین کا یہ فرق صرف اعمال ناموں کو رکھنے کے اعتبار سے نہیں ہو سکتا۔ اس حوالے سے میرے غور و فکر کا حاصل یہ ہے کہ انسان کے خاکی جسم میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو روح پھونکی گئی ہے وہ ایک نورانی چیز ہے۔ انسان اچھے برے جو بھی اعمال کرتا ہے اس کے اثرات اس کی روح پر مترتب ہوتے رہتے ہیں‘ جیسے آواز کی ریکارڈنگ کرتے ہوئے ٹیپ کے فیتے ‘سی ڈی یا مائیکرو کارڈ وغیرہ پر اس آواز کے اثرات نقش ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ انسانوں کی ارواح جب اس دنیا سے جاتی ہیں تواعمال کے اثرات اپنے ساتھ لے کر جاتی ہیں۔ان ’’اثرات‘‘ کی وجہ سے ہر روح دوسری روح سے مختلف ہو جاتی ہے اور یوں نیک اور برے انسانوں کی ارواح میں زمین آسمان کا فرق واقع ہو جاتا ہے۔ چنانچہ میری رائے میں انسانی ارواح پر ثبت شدہ اثراتِ اعمال کو یہاں لفظ ’’کتاب‘‘ سے تعبیر کیاگیا ہے ‘یعنی انسانی ارواح اعمال کے اثرات لیے ہوئے جب اس دنیا سے جائیں گی تو برے اعمال کے اثرات والی ارواح کو سجین میں رکھا جائے گا۔ سجن کے معنی ’’جیل خانہ‘‘ کے ہیں۔گویا برے لوگوں کی ارواح کو وہاں کسی جیل نما جگہ میں بند کر دیا جائے گا ‘جیسے ضلعی انتظامیہ کے ’’محافظ خانے‘‘ میں پرانی فائلوں کے انبار لگے ہوتے ہیں۔
آیت 8
وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا سِجِّیۡنٌ ؕ﴿۸﴾
’’اور تم نے کیا سمجھا کہ سجین کیا ہے؟‘‘
آیت 9
کِتٰبٌ مَّرۡقُوۡمٌ ؕ﴿۹﴾
’’لکھا ہوا دفتر۔‘‘
اس ’’کتاب‘‘ سے مراد ایک انسان کی جان اور روح کا وہ ملغوبہ ہے جس میں اس کے اعمال کے اثرات بھی ثبت ہوتے ہیں۔ کسی برے انسان کے مرنے پر متعلقہ فرشتہ وہ ملغوبہ لا کر سجین میں ’’جمع‘‘ کرا دیتا ہے۔
آیت 10
وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿ۙ۱۰﴾
’’تباہی اور ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘
’’اور نہیں جھٹلاتا اس دن کو مگر وہی کہ جوحد سے بڑھنے والا گناہگار ہے۔‘‘
ایسا شخص سزا و جزا کے دن کو دراصل اس لیے جھٹلاتا ہے کہ وہ اپنے گناہوں اور حرام خوریوں کی وجہ سے اس دن کے احتساب کا سامنا نہیں کرنا چاہتا۔ چنانچہ جس طرح بلی سے بچنے کے لیے کبوتر اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے اسی طرح یومِ حساب کی جواب دہی سے بچنے کے لیے ایسے لوگ اس دن کے وقوع کا ہی انکار کر دیتے ہیں۔
’’نہیں! بلکہ (اصل صورتِ حال یہ ہے کہ) ان کے دلوں پر زنگ آ گیا ہے ان کے اعمال کی وجہ سے ۔‘‘
اس ’زنگ‘ کی تشریح رسول اللہﷺ نے یوں فرمائی ہے کہ ’’بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اُس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے۔ اگر وہ توبہ کر لے‘ اس گناہ سے باز آ جائے اور استغفار کرے تو اس کے دل کا یہ داغ صاف ہو جاتا ہے‘ لیکن اگر وہ گناہوں کا ارتکاب کرتا ہی چلا جائے تو وہ داغ بڑھتے جاتے ہیں‘ یہاں تک کہ سارے دل کو گھیر لیتے ہیں۔‘‘ (مسند احمد‘ ترمذی‘ نسائی‘ ابن ماجہ وغیرہ)
گناہگار اہلِ ایمان کے دلوں کے اندر ان کی روحوں کا ’’نور‘‘ تو موجود ہوتا ہے لیکن دلوں کے ’’شیشے‘‘ زنگ آلود ہو جانے کی وجہ سے یہ نور خارج میں اپنے اثرات نہیں دکھا سکتا ۔جیسے کسی فانوس یا لالٹین کا شیشہ اگر دھوئیں سے سیاہ ہوجائے تو اس کے اندر جلنے والے شعلے کی روشنی باہر نہیں آ سکتی اور باہر کی روشنی اندر نہیں جا سکتی۔ انسانی دل کی اس کیفیت کی وضاحت کرتے ہوئے حضورﷺ نے اس کا علاج بھی تجویز فرمادیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماروایت کرتے ہیں کہ آنحضورﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’ان دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے جیسے لوہا پانی پڑنے سے زنگ آلود ہو جاتا ہے‘‘۔ دریافت کیا گیا : یارسول اللہ! اس زنگ کو دور کس چیز سے کیا جائے؟ فرمایا: ’’موت کی بکثرت یاد اور قرآن مجید کی تلاوت!‘‘
(۱)رواہ البیھقی فی شعب الایمان۔ مشکوٰۃ المصابیح‘ کتاب فضائل القرآن‘ الفصل الثالث۔
’’نہیں! یقینایہ لوگ اُس دن اپنے رب سے اَوٹ میں رکھے جائیں گے۔‘‘
قیامت کے دن یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے دیدار سے محروم کر دیے جائیں گے۔ اس کے برعکس نیکوکارلوگوں کے لیے سورۃ القیامہ میں یہ خوشخبری سنائی گئی ہے : {وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ ﴿ۙ۲۲﴾اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ ﴿ۚ۲۳﴾} کہ اس دن کچھ چہرے تروتازہ ہوں گے اور وہ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ میدانِ حشر میں اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ کے دیدار یا اس کی کسی خاص شان کے مشاہدے سے سرفراز فرمایا جائے گا جس کے باعث اس دن کے سخت مراحل ان کے لیے آسان ہو جائیں گے۔ اس حوالے سے ہمارے عام مفسرین کی رائے بھی یہی ہے کہ میدانِ حشر میں بھی مؤمنین صادقین کو اللہ تعالیٰ کا دیدار کرایا جائے گا ۔ آیت زیر مطالعہ سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ اس وقت میدانِ حشر میں کفار و مشرکین بھی کھڑے ہوں گے لیکن انہیں اس نعمت سے محروم کر دیا جائے گا۔ میدانِ حشر کے ایسے ہی ایک منظر کی جھلک سورۂ نٓ کی اس آیت میں بھی دکھائی گئی ہے : {یَوۡمَ یُکۡشَفُ عَنۡ سَاقٍ وَّ یُدۡعَوۡنَ اِلَی السُّجُوۡدِ فَلَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ ﴿ۙ۴۲﴾} ’’جس دن پنڈلی کھولی جائے گی‘ اور انہیں پکارا جائے گا (اللہ کے حضور) سجدے کے لیے‘ لیکن وہ کر نہیں سکیں گے‘‘۔یعنی اہل ایمان جو دنیا میں اللہ تعالیٰ کے حضورسجدے کرتے تھے وہ تو اس حکم کو سنتے ہی سجدے میں گر جائیں گے لیکن دوسرے لوگوں کی کمریں تختہ ہو کر رہ جائیں گی ‘وہ تمام تر خواہش اور کوشش کے باوجود سجدہ نہیں کر سکیں گے۔
آیت 16
ثُمَّ اِنَّہُمۡ لَصَالُوا الۡجَحِیۡمِ ﴿ؕ۱۶﴾
’’پھر انہیں جھونک دیا جائے گا جہنم میں۔‘‘
اس آیت سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ مرحلہ دوزخ میں داخلے سے پہلے کا ہے‘ یعنی دیدارِ الٰہی سے محروم رکھے جانے کا واقعہ میدانِ حشر میں ہی رونما ہو گا۔
’’تم دیکھو گے ان کے چہروں پر تروتازگی کی علامات۔‘‘
جیسے دنیا میں انسان کی خوشحالی اور آسودگی کے اثرات اس کے چہرے پر نمایاں ہوتے ہیں اسی طرح قیامت کے دن اہل جنت اپنے تروتازہ چہروں سے صاف پہچانے جائیں گے۔
آیت 25
یُسۡقَوۡنَ مِنۡ رَّحِیۡقٍ مَّخۡتُوۡمٍ ﴿ۙ۲۵﴾
’’انہیں پلائی جائے گی خالص شراب جس پر مہر لگی ہو گی۔‘‘
ہندوستان کے معروف اہل حدیث عالم دین مولانا صفی الرحمن مبارکپوری نے احادیث کے حوالے سے سیرت پر ایک بہت عمدہ کتاب لکھی ہے۔ اس کتاب کا نام انہوں نے اس آیت سے اخذ کیا ہے۔ انہیں اس کتاب پر شاہ فیصل ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ الرحیق المختوم کے نام سے یہ کتاب اردو میں ہے اور اس کا انگریزی ترجمہ بھی چھپ چکا ہے۔
’’اور جب وہ ان (اہل ایمان) کو دیکھتے تھے توکہتے تھے کہ یقینا یہ بہکے ہوئے لوگ ہیں۔‘‘
مخالفین کے ایسے تبصرے طنزیہ بھی ہو سکتے ہیں اور ان میں ہمدردی کا پہلو بھی ہو سکتا ہے۔ جیسے آج کل بھی ہمیں ایسے فقرے اکثر سننے کو مل جاتے ہیں کہ دیکھیں! یہ اچھا بھلا ذہین نوجوان تھا۔ بورڈ ٹاپ کیا‘ یونیورسٹی میں گولڈ میڈل لیا ‘ملازمت بھی بہت اچھی ملی‘لیکن پھر اچانک خدا جانے اسے کیا ہوا کہ اس کا رجحان مذہب کی طرف ہو گیا‘ اس کے بعد تو اس کی ترجیحات ہی بدل گئی ہیں‘ اب اسے نہ اپنا خیال ہے اور نہ ملازمت کی فکر‘ بس رات دن اس کے سر پر تبلیغ کی دھن سوار ہے ۔ بے چارہ‘ اچھا خاصا کیریئر تباہ کر کے بیٹھ گیا ہے۔
آیت 33
وَ مَاۤ اُرۡسِلُوۡا عَلَیۡہِمۡ حٰفِظِیۡنَ ﴿ؕ۳۳﴾
’’جب کہ انہیں نہیں بھیجا گیا تھا ان پر نگران بنا کر۔‘‘