عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤی ۙ﴿۱﴾
’’تیوری چڑھائی اور منہ پھیر لیا۔‘‘
یعنی حضرت عبداللہ کی بار بار خلل اندازی پر حضورﷺکے چہرۂ انور پر ناگواری کے آثار نمایاں ہوئے اور آپؐ نے چہرۂ مبارک دوسری طرف کر لیا۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
تحریر
آیات ۱ تا ۴۲
بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد
قرآنترجمہتشریححدیثشعر
سورۂ عبس کی ابتدائی آیات میں ایک خاص واقعہ کا ذکر ہے ۔ سیرت کی کتابوں میں یہ واقعہ یوں بیان ہوا ہے کہ ایک موقع پر حضورﷺ کے پاس قریش کے چند بڑے سردار (عتبہ‘ شیبہ‘ابوجہل‘اُمیہ بن خلف‘ ولید بن مغیرہ اور عباس بن عبدالمطلب وغیرہ) بیٹھے تھے اور آپؐ ان کو اسلام قبول کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش فرما رہے تھے۔ عین اُس وقت جب آپؐ ان سے محوگفتگو تھے ایک نابینا صحابی عبداللہ بن اُمّ مکتوم رضی اللہ عنہ وہاں آئے اور آدابِ مجلس کی رعایت کیے بغیر آپؐ کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی۔ وہ عرض کر رہے تھے : یَارَسُوْلَ اللّٰہِ‘ اَرْشِدْنِیْ ’’یارسول اللہ! مجھے سیدھا راستہ بتایئے‘‘۔ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ عَلِّمْنِیْ مِمَّا عَلَّمَکَ اللّٰہُ ’’یارسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے جو علم آپ کو سکھایا ہے اس میں سے مجھے بھی سکھایئے‘‘۔چاہیے تو یہ تھا کہ وہ صورت حال کو سمجھتے اور آپؐ کی گفتگو ختم ہونے کا انتظار کرتے۔ ظاہر ہے وہ دیکھ تو نہیں سکتے تھے لیکن سن تو سکتے تھے کہ حضورﷺ گفتگو میں مصروف ہیں۔ بہرحال انؓ کی بار بار خلل اندازی کی وجہ سے آپﷺ کے چہرۂ انور پر کچھ ناگواری کے آثار نمایاں ہوئے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ بعض لوگوں نے محض یہ سمجھتے ہوئے ان آیات کی تاویلات تلاش کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضورﷺ کے مقامِ رفیع کی مناسبت سے ایسا ممکن ہی نہیں۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ واقعہ بالکل اسی طرح سے پیش آیا تھا جس طرح یہاں ان آیات میں مذکور ہے۔
اس معاملے کی اصل حقیقت اور منطق کو سمجھنے کے لیے بنیادی طور پر یہ نکتہ مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ حضورﷺاپنے فرائض رسالت کی ادائیگی کے لیے منصوبہ بندی کرتے ہوئے ہر وہ طریقہ اور راستہ اختیار فرمانے کی کوشش میں رہتے تھے جو انسانی دائرئہ اختیار کی حد تک بہتر سے بہتر ہوتا۔اب ظاہر ہے عرب کے قبائلی معاشرے میں دعوت و تبلیغ کے کام کو آگے بڑھانے کا مؤثر ترین طریقہ اس کے علاوہ اور کیا ہو سکتا تھا کہ اہم قبائل کی سرکردہ شخصیات کو اسلام کی طرف راغب کیا جائے۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے حضورﷺ مسلسل کوشش بھی کرتے‘ سردارانِ قریش کو مختلف انداز سے باربار دعوت بھی دیتے اور دعا بھی فرماتے۔ آپؐ کے نزدیک یہ معاملہ اس حد تک اہم تھا کہ ایک مرتبہ آپؐ نے جھولی پھیلا کر بہت ہی غیر معمولی انداز میں دعا کی تھی کہ اے اللہ عمربن خطاب اور عمرو بن ہشام (ابوجہل) میں سے کسی ایک کے ذریعے اسلام کو تقویت عطا فرما! ظاہر ہے معاشرے کے سرکردہ لوگوں میں سے اگر کوئی شخص ایمان لے آتا تو وہ اکیلا عوام الناس کے سینکڑوں افراد سے زیادہ اہم ہوتا۔ ایسی کسی شخصیت کی وجہ سے مجموعی طور پر اسلامی تحریک کو بھی تقویت ملتی اور مکہ کے ان نادار اور بے سہارا اہل ایمان کے مصائب میں بھی ضرور کچھ کمی واقع ہوتی جنہیں اس دور میں دن رات تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ چنانچہ اسی بنیاد پر حضورﷺ مکہ کے صاحب حیثیت لوگوں سے اپنی دعوتی ملاقاتوں کو خصوصی اہمیت دیتے تھے اور مذکورہ واقعہ کے وقت بھی آپؐ نے اسی وجہ سے سردارانِ قریش کے ساتھ اپنی گفتگو کو اہم خیال فرمایا۔ اس کے علاوہ اس معاملے کا ایک منطقی اور فطری پہلو یہ بھی ہے کہ ایسے مواقع پر بعض اوقات اپنوں کے مقابلے میں باہر کے لوگوں کو اس لیے بھی ترجیح دے دی جاتی ہے کہ وہ تو اپنے ہیں‘ وہ ساری صورتِ حال کو سمجھتے ہیں اور اس وجہ سے وہ اپنے آپ کو نظر انداز کیے جانے پر برا نہیں منائیں گے۔
بہرحال نبی بھی آخر انسان ہوتا ہے اور اگر انسانی نفسیات و جذبات کے اعتبار سے دیکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ مذکورہ واقعہ پر حضورﷺ کا ردعمل بالکل فطری تھا اور یہ بھی کہ آپ کا یہ ردعمل اعلیٰ تر مقصد کے لیے تھا۔پھر اس معاملے کو حَسَنَاتُ الْاَبْرَارِ سَیِّئَاتُ الْمُقَرَّبِین کے تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں جتنا بلند کسی کا مقام ہوتا ہے اس کے لیے کردار و عمل کا معیار بھی اسی نسبت سے اعلیٰ رکھا جاتا ہے۔
ان آیات کے بارے میں حضورﷺ نے خود بھی ’’عتاب‘‘ کا لفظ استعمال فرمایاہے۔ روایات میں آتا ہے کہ ان آیات کے نزول کے بعد جب بھی حضرت عبداللہ بن اُم مکتوم رضی اللہ عنہ آپؐ کے پاس حاضر ہوتے تو آپؐ انہیں مخاطب کر کے فرماتے : حدیث((مَرْحَبًا بِمَنْ عَاتَبَنِیْ فِیْہِ رَبِّیْ))۱’’مرحبا اس شخص کے لیے جس کے معاملے میں میرے رب نے مجھ پر عتاب فرمایا‘‘۔ بہرحال اس واقعہ سے متعلق اگر مذکورہ تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا جائے تو سارا معاملہ آسانی سے سمجھ میں آجاتا ہے اور متعلقہ آیات کی تاویل ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
(۱) علوم القرآن‘ اسباب النزول‘ ابوالحسن علی بن احمد بن محمد بن علی الواحد ۔
عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤی ۙ﴿۱﴾ اَنۡ جَآءَہُ الۡاَعۡمٰی ؕ﴿۲﴾ وَ مَا یُدۡرِیۡکَ لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰۤی ۙ﴿۳﴾ اَوۡ یَذَّکَّرُ فَتَنۡفَعَہُ الذِّکۡرٰی ؕ﴿۴﴾ اَمَّا مَنِ اسۡتَغۡنٰی ۙ﴿۵﴾ فَاَنۡتَ لَہٗ تَصَدّٰی ؕ﴿۶﴾ وَ مَا عَلَیۡکَ اَلَّا یَزَّکّٰی ؕ﴿۷﴾ وَ اَمَّا مَنۡ جَآءَکَ یَسۡعٰی ۙ﴿۸﴾ وَ ہُوَ یَخۡشٰی ۙ﴿۹﴾ فَاَنۡتَ عَنۡہُ تَلَہّٰی ﴿ۚ۱۰﴾
عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤی ۙ﴿۱﴾
’’تیوری چڑھائی اور منہ پھیر لیا۔‘‘
یعنی حضرت عبداللہ کی بار بار خلل اندازی پر حضورﷺکے چہرۂ انور پر ناگواری کے آثار نمایاں ہوئے اور آپؐ نے چہرۂ مبارک دوسری طرف کر لیا۔
اَنۡ جَآءَہُ الۡاَعۡمٰی ؕ﴿۲﴾
’’اس بات پر کہ آیا اُس کے پاس نابینا ۔‘‘
وَ مَا یُدۡرِیۡکَ لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰۤی ۙ﴿۳﴾
’’اور (اے نبیﷺ) آپ کو کیا معلوم شاید کہ وہ تزکیہ حاصل کرتا۔‘‘
ممکن ہے آپؐ کی گفتگو سے استفادہ کر کے وہ بلند درجات تک پہنچ جاتا۔
اَوۡ یَذَّکَّرُ فَتَنۡفَعَہُ الذِّکۡرٰی ؕ﴿۴﴾
’’یا وہ نصیحت حاصل کرتا اور وہ نصیحت اس کے لیے مفید ہوتی۔‘‘
اَمَّا مَنِ اسۡتَغۡنٰی ۙ﴿۵﴾
’’لیکن وہ جو بے نیازی دکھاتا ہے۔‘‘
ایک ایسا شخص جو آپؐ کی بات سننے کو تیار نہیں ہے۔
فَاَنۡتَ لَہٗ تَصَدّٰی ؕ﴿۶﴾
’’ آپ اُس کی تو فکر میں رہتے ہیں۔‘‘
وَ مَا عَلَیۡکَ اَلَّا یَزَّکّٰی ؕ﴿۷﴾
’’اور اگر وہ پاکی اختیار نہیں کرتا تو آپ پر کوئی الزام نہیں۔‘‘
وَ اَمَّا مَنۡ جَآءَکَ یَسۡعٰی ۙ﴿۸﴾
’’اور وہ جوآپؐ کے پاس دوڑتا ہوا آیا ہے۔‘‘
وَ ہُوَ یَخۡشٰی ۙ﴿۹﴾
’’اور اس کے دل میں خشیت بھی ہے۔‘‘
فَاَنۡتَ عَنۡہُ تَلَہّٰی ﴿ۚ۱۰﴾
’’تواس سے آپؐ استغناء برت رہے ہیں۔‘‘
کَلَّاۤ اِنَّہَا تَذۡکِرَۃٌ ﴿ۚ۱۱﴾ فَمَنۡ شَآءَ ذَکَرَہٗ ﴿ۘ۱۲﴾ فِیۡ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ ﴿ۙ۱۳﴾ مَّرۡفُوۡعَۃٍ مُّطَہَّرَۃٍۭ ﴿ۙ۱۴﴾ بِاَیۡدِیۡ سَفَرَۃٍ ﴿ۙ۱۵﴾ کِرَامٍۭ بَرَرَۃٍ ﴿ؕ۱۶﴾
کَلَّاۤ اِنَّہَا تَذۡکِرَۃٌ ﴿ۚ۱۱﴾
’’ایسا ہرگز نہ کیجیے ‘یہ تو ایک یاد دہانی ہے۔‘‘
فَمَنۡ شَآءَ ذَکَرَہٗ ﴿ۘ۱۲﴾
’’تو جو چاہے اس سے نصیحت اخذ کر لے۔‘‘
آپؐ ان لوگوں کے پیچھے خود کو ہلکان نہ کریں ‘اگر ابوجہل اور ابولہب اس ہدایت سے مستفید نہیں ہونا چاہتے تو نہ ہوں آپؐ بھی ان کی پروا نہ کریں۔ یہ مضمون قرآن مجید میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے۔ جیسے سورۃ الکہف میں فرمایا گیا:
دوسرے مقام کی آیتوَ اصۡبِرۡ نَفۡسَکَ مَعَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَدٰوۃِ وَ الۡعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَہٗ وَ لَا تَعۡدُ عَیۡنٰکَ عَنۡہُمۡ ۚ تُرِیۡدُ زِیۡنَۃَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَ لَا تُطِعۡ مَنۡ اَغۡفَلۡنَا قَلۡبَہٗ عَنۡ ذِکۡرِنَا وَ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ وَ کَانَ اَمۡرُہٗ فُرُطًا ﴿۲۸﴾
’’اور اپنے آپ کو روکے رکھیے اُن لوگوں کے ساتھ جو اپنے رب کو پکارتے ہیں صبح وشام‘ وہ اللہ کی رضا کے طالب ہیں اور آپؐ کی نگاہیں ان سے ہٹنے نہ پائیں ‘(جس سے لوگوں کو یہ گمان ہونے لگے کہ) آپؐ دُنیوی زندگی کی آرائش و زیبائش چاہتے ہیں!اور مت کہنا مانیے ایسے شخص کا جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور جواپنی خواہشات کے پیچھے پڑا ہے اور اس کا معاملہ حدسے متجاوز ہو چکا ہے۔‘‘
ظاہر بات ہے کہ رسول اللہﷺ کا سردارانِ قریش کی طرف التفات (معاذ اللہ‘ ثم معاذاللہ!) کسی ذاتی غرض کی وجہ سے تو نہیں تھا بلکہ آپؐ اسلام کی تقویت کے لیے ان کے قبولِ اسلام کے آرزومند تھے --- لیکن ان کی موجودگی میں اپنے کسی ساتھی سے بے اعتنائی لوگوں کو اس غلط فہمی میں مبتلا کر سکتی تھی کہ آپؐ ان لوگوں کی دولت و ثروت کی وجہ سے ان کی طرف ملتفت ہیں اور اپنے نادار ساتھیوں سے مغائرت برت رہے ہیں۔
اگلی آیات عظمت قرآن کے ذکر کے حوالے سے پورے قرآن میں منفرد اور ممتاز حیثیت کی حامل ہیں۔ سیاق و سباق کے حوالے سے دیکھا جائے تو ان آیات کے بین السطور میں یہ پیغام بھی ہے کہ اے نبیﷺ! آپ فریضۂ رسالت کی ادائیگی کے لیے ان ’’بڑے لوگوں‘‘ کے پیچھے اپنے آپؐ کو جس انداز میں ہلکان کر رہے ہیں اور یہ لوگ جس ’’بے نیازی‘‘ سے قرآن کو نظر انداز کر رہے ہیں اس سے قرآن کے استخفاف کا پہلو بھی نکلتا ہے۔ لہٰذا آپؐ ان لوگوں کے پیچھے پڑ کر انہیں دعوت مت دیں۔ ظاہر ہے یہ پیغام قیامت تک کے داعیانِ حق کے لیے بھی ہے ۔ اس ضمن میں سمجھنے کا اصل نکتہ یہ ہے کہ گو معاشرے کے صاحب حیثیت لوگوں کا کسی جماعت میں شامل ہونا اس جماعت کے مشن کی ترویج و ترقی کے لیے بہت مفید ہے ‘لیکن ایسے لوگوں کو خصوصی اہتمام سے دعوت دینے اور پھر خصوصی اہتمام سے اپنی جماعت میں خوش آمدید کہنے کا انداز ایسا نہیں ہونا چاہیے جس سے اپنے ’’نظریے‘‘ کی بے توقیری کا تاثر ملے یا پرانے کارکنوں کے دلوں میں مغائرت کا احساس پیدا ہو۔ لہٰذا کسی بھی جماعت کے امیر کے لیے اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر صاحب حیثیت لوگوں کو اپنی جماعت کی طرف راغب کرنے کی کوشش دراصل اس پل صراط پر چلنے کے مترادف ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بال سے باریک اور تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہے۔یہ ایسے ہی ہے جیسے خود داری اور تکبر کے درمیان یا خوش اخلاقی اور خوشامد کے مابین بہت باریک سا فرق ہے ‘لیکن اگر کوئی انسان اس باریک سے فرق کو ملحوظ نہ رکھے تو اس کی ایک بہت اعلیٰ صفت کو لوگ اس کی بہت بڑی خامی پر بھی محمول کر سکتے ہیں۔ لہٰذا حکمتِ تبلیغ کا تقاضا یہی ہے کہ ایسے حساس فرض کی ادائیگی دو انتہاؤں کے درمیان رہتے ہوئے بہت محتاط انداز میں سرانجام دی جائے۔
فِیۡ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ ﴿ۙ۱۳﴾
’’(یہ قرآن) ایسے صحیفوں میں (درج ہے) جو باعزت ہیں۔‘‘
یہ مضمون مختلف انداز اور مختلف الفاظ میں قرآن حکیم کے متعدد مقامات پر آیا ہے۔ سورۃ الزخرف میں فرمایا گیا: {وَ اِنَّہٗ فِیۡۤ اُمِّ الۡکِتٰبِ لَدَیۡنَا لَعَلِیٌّ حَکِیۡمٌ ؕ﴿۴﴾} ’’اوریہ اُمّ الکتاب میں ہے ہمارے پاس بہت بلند و بالا‘ بہت حکمت والی!‘‘سورۃ الواقعہ میں ارشاد ہوا کہ یہ قرآن ایک مخفی کتاب (کِتٰبٍ مَّکْنُوْنٍ) میں درج ہے : {اِنَّہٗ لَقُرۡاٰنٌ کَرِیۡمٌ ﴿ۙ۷۷﴾فِیۡ کِتٰبٍ مَّکۡنُوۡنٍ ﴿ۙ۷۸﴾} ’’یقینا یہ بہت عزت والا قرآن ہے۔ایک چھپی ہوئی کتاب میں ہے‘‘۔ پھر سورۃ البروج میں فرمایا گیا: {بَلۡ ہُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِیۡدٌ ﴿ۙ۲۱﴾فِیۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ ﴿٪۲۲﴾} ’’بلکہ یہ تو قرآن ہے بہت عزت والا‘ لوحِ محفوظ میں ‘‘۔ بہرحال اس مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ اصل قرآن مجید اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک خاص مقام پر محفوظ ہے۔ صحفِ مکرمہ‘ اُمّ الکتاب‘ کتابِ مکنون اور لوحِ محفوظ اسی مقامِ خاص کے مختلف نام ہیں۔
مَّرۡفُوۡعَۃٍ مُّطَہَّرَۃٍۭ ﴿ۙ۱۴﴾
’’بلند و بالا ‘نہایت پاک۔‘‘
بِاَیۡدِیۡ سَفَرَۃٍ ﴿ۙ۱۵﴾
’’ ان لکھنے والوں کے ہاتھوں میں۔‘‘
کِرَامٍۭ بَرَرَۃٍ ﴿ؕ۱۶﴾
’’جو بڑے معزز اور نیک ہیں۔‘‘
اس سے ملتی جلتی بات ہم سورۃ الواقعہ کی اس آیت میں بھی پڑھ آئے ہیں: {لَّا یَمَسُّہٗۤ اِلَّا الۡمُطَہَّرُوۡنَ ﴿ؕ۷۹﴾} ’’اسے چھو نہیں سکتے مگر وہی جو بالکل پاک ہیں‘‘۔ مراد یہ ہے کہ قرآن مجید کا مقام بہت بلند ہے۔ تو اے نبی(ﷺ) آپ قرآن مجید کے مقام اور مرتبے کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان لوگوں سے معاملہ کیجیے اور جو شخص قرآن مجید سے اعراض کرتا ہے آپ بھی اس کو منہ نہ لگایئے۔ ان کے مقابلے میں آپ زیادہ توجہ ان لوگوں پر دیجیے جو ہدایت کی تلاش میں آپ کے پاس چل کر خود آتے ہیں۔
قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَکۡفَرَہٗ ﴿ؕ۱۷﴾ مِنۡ اَیِّ شَیۡءٍ خَلَقَہٗ ﴿ؕ۱۸﴾ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ؕ خَلَقَہٗ فَقَدَّرَہٗ ﴿ۙ۱۹﴾ ثُمَّ السَّبِیۡلَ یَسَّرَہٗ ﴿ۙ۲۰﴾ ثُمَّ اَمَاتَہٗ فَاَقۡبَرَہٗ ﴿ۙ۲۱﴾ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَہٗ ﴿ؕ۲۲﴾ کَلَّا لَمَّا یَقۡضِ مَاۤ اَمَرَہٗ ﴿ؕ۲۳﴾
قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَکۡفَرَہٗ ﴿ؕ۱۷﴾
’’ہلاک ہو جائے انسان ‘یہ کس قدر ناشکرا ہے!‘‘
مِنۡ اَیِّ شَیۡءٍ خَلَقَہٗ ﴿ؕ۱۸﴾
’’(ذرا سوچیے کہ) کس چیز سے اللہ نے اسے پیدا کیا ہے؟‘‘
مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ؕ
’’ایک بوند سے۔‘‘
خَلَقَہٗ فَقَدَّرَہٗ ﴿ۙ۱۹﴾
’’اُس نے اسے پیدا کیا اور اس کا ایک اندازہ مقرر کر دیا۔‘‘
’’اندازے ‘‘ سے مراد یہاں ہر انسان کا ’’شاکلہ‘‘ ہے ‘جس کا ذکر سورۂ بنی اسرائیل کی آیت ۸۴ میں آیا ہے۔ انسان کا شاکلہ دراصل اس کی فطری یا جبلی خصوصیات اور اس کے ماحول کے اس کی شخصیت پر مرتب ہونے والے اثرات کے مجموعے سے تشکیل پاتا ہے۔ یعنی ہر انسان کی وہ شخصیت جو اسے پیدائشی طور پر جینز (genes) کی صورت میں اپنے والدین کی طرف سے ملتی ہے‘ عملی زندگی میں آکر اپنے ماحول کے مخصوص اثرات کی وجہ سے ایک خاص ’’قالب‘‘ میں ڈھل جاتی ہے۔ انسانی شخصیت کے اسی قالب کو اس انسان کا شاکلہ کہا جائے گا۔ (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تشریح آیت ۸۴ ‘سورۂ بنی اسرائیل)
ثُمَّ السَّبِیۡلَ یَسَّرَہٗ ﴿ۙ۲۰﴾
’’پھر آسان کر دیا اس پر راستہ۔‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں ایسا ماحول فراہم کیا ہے اور اسے ایسی سہولیات سے نوازا ہے جس کی وجہ سے دنیا میں زندگی بسر کرنا اس کے لیے بہت آسان ہو گیاہے۔ اس آیت کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ ماں کے پیٹ سے انسان کے دنیا میں آنے کا راستہ اللہ تعالیٰ نے آسان کر دیاہے۔ یعنی وضع حمل کا بظاہر انتہائی پیچیدہ اور مشکل مرحلہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے آسان ہو گیاہے۔
ثُمَّ اَمَاتَہٗ فَاَقۡبَرَہٗ ﴿ۙ۲۱﴾
’’پھر اس پر موت وارد کی اور اسے قبر میں داخل کر دیا۔‘‘
ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَہٗ ﴿ؕ۲۲﴾
’’پھر جب وہ چاہے گا اسے اٹھا کھڑا کرے گا۔‘‘
دراصل یہاں بتانا یہ مقصود ہے کہ جس ہستی نے انسان کی تخلیق اور اس کی زندگی سے متعلق یہ سب کچھ کیا ہے اس کے لیے انسان کو دوبارہ اٹھانا کیا مشکل ہے۔ چنانچہ اگر انسان خود اپنی تخلیق کے پورے عمل پر غور کرلے تو اس کے پاس بعث بعد الموت سے انکار کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا۔
کَلَّا لَمَّا یَقۡضِ مَاۤ اَمَرَہٗ ﴿ؕ۲۳﴾
’’ نہیں! اس نے تاحال وہ بات پوری نہیں کی جس کا اللہ نے اسے حکم دیا تھا۔‘‘
فَلۡیَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰی طَعَامِہٖۤ ﴿ۙ۲۴﴾ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا ﴿ۙ۲۵﴾ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا ﴿ۙ۲۶﴾ فَاَنۡۢبَتۡنَا فِیۡہَا حَبًّا ﴿ۙ۲۷﴾ وَّ عِنَبًا وَّ قَضۡبًا ﴿ۙ۲۸﴾ وَّ زَیۡتُوۡنًا وَّ نَخۡلًا ﴿ۙ۲۹﴾ وَّ حَدَآئِقَ غُلۡبًا ﴿ۙ۳۰﴾ وَّ فَاکِہَۃً وَّ اَبًّا ﴿ۙ۳۱﴾ مَّتَاعًا لَّکُمۡ وَ لِاَنۡعَامِکُمۡ ﴿ؕ۳۲﴾
فَلۡیَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰی طَعَامِہٖۤ ﴿ۙ۲۴﴾
’’تو انسان ذرا اپنے کھانے ہی کو دیکھ لے۔‘‘
اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں اگر پھر بھی کسی کو شک ہو تو وہ اپنی غذا پر ہی غور کرلے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کرنے کے بعد کس کس انداز میں اس کی غذا کا انتظام کیا ہے ۔
اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا ﴿ۙ۲۵﴾
’’کہ ہم نے آسمان سے پانی برسایا جیسے کہ برسایا جاتا ہے۔‘‘
ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا ﴿ۙ۲۶﴾
’’پھر ہم نے زمین کو پھاڑا جیسے کہ وہ پھٹتی ہے۔‘‘
زمین پھٹتی ہے اور اس میں سے کونپلیں برآمد ہوتی ہیں‘ جو رفتہ رفتہ پورے پودے بلکہ تناور درخت کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔
فَاَنۡۢبَتۡنَا فِیۡہَا حَبًّا ﴿ۙ۲۷﴾
’’پھر ہم نے اُگا دیے اس میں اناج۔‘‘
وَّ عِنَبًا وَّ قَضۡبًا ﴿ۙ۲۸﴾
’’اور انگور اور مختلف ترکاریاں ۔‘‘
وَّ زَیۡتُوۡنًا وَّ نَخۡلًا ﴿ۙ۲۹﴾
’’اور زیتون اور کھجوریں۔‘‘
وَّ حَدَآئِقَ غُلۡبًا ﴿ۙ۳۰﴾
’’اور بڑے گھنے باغات۔‘‘
وَّ فَاکِہَۃً وَّ اَبًّا ﴿ۙ۳۱﴾
’’اور میوے اور چارہ۔‘‘
مَّتَاعًا لَّکُمۡ وَ لِاَنۡعَامِکُمۡ ﴿ؕ۳۲﴾
’’ضرورت کا سامان تمہارے لیے بھی اور تمہارے مویشیوں کے لیے بھی۔‘‘
یہ آیت ہوبہو سورۃ النازعات میں (آیت ۳۳ کے طور پر) بھی آ چکی ہے۔ جوڑا ہونے کے اعتبار سے ان دونوں سورتوں کے مضمون اور اسلوب میں بہت مشابہت پائی جاتی ہے۔
فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّۃُ ﴿۫۳۳﴾ یَوۡمَ یَفِرُّ الۡمَرۡءُ مِنۡ اَخِیۡہِ ﴿ۙ۳۴﴾ وَ اُمِّہٖ وَ اَبِیۡہِ ﴿ۙ۳۵﴾ وَ صَاحِبَتِہٖ وَ بَنِیۡہِ ﴿ؕ۳۶﴾ لِکُلِّ امۡرِئٍ مِّنۡہُمۡ یَوۡمَئِذٍ شَاۡنٌ یُّغۡنِیۡہِ ﴿ؕ۳۷﴾
فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّۃُ ﴿۫۳۳﴾
’’توجب وہ آجائے گی کان پھوڑنے والی (آواز)۔‘‘
یعنی جب قیامت برپا کرنے کے لیے صور میں پھونکا جائے گا تو اس کی آواز سے کان پھٹ جائیں گے۔ اس آیت کی مشابہت سورۃ النازعات کی اس آیت سے ہے : {فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّۃُ الۡکُبۡرٰی ﴿۫ۖ۳۴﴾} ’’پھر جب وہ آ جائے گا بڑا ہنگامہ۔‘‘
یَوۡمَ یَفِرُّ الۡمَرۡءُ مِنۡ اَخِیۡہِ ﴿ۙ۳۴﴾
’’اُس دن بھاگے گا انسان اپنے بھائی سے۔‘‘
وَ اُمِّہٖ وَ اَبِیۡہِ ﴿ۙ۳۵﴾
’’اور اپنی ماں سے اور اپنے باپ سے۔‘‘
وَ صَاحِبَتِہٖ وَ بَنِیۡہِ ﴿ؕ۳۶﴾
’’اور اپنی بیوی سے اور اپنے بیٹوں سے۔‘‘
لِکُلِّ امۡرِئٍ مِّنۡہُمۡ یَوۡمَئِذٍ شَاۡنٌ یُّغۡنِیۡہِ ﴿ؕ۳۷﴾
’’اُس دن ان میں سے ہر شخص کو ایسی فکر لاحق ہو گی جو اسے (ہر ایک سے) بے پروا کر دے گی۔‘‘
اس دن ہر انسان نفسا نفسی کی کیفیت میں ہو گا۔ ہر انسان کو اپنی پریشانی کی وجہ سے اپنے عزیز ترین رشتوں سمیت کسی دوسرے کی کوئی پروا نہیں ہوگی۔
وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍ مُّسۡفِرَۃٌ ﴿ۙ۳۸﴾ ضَاحِکَۃٌ مُّسۡتَبۡشِرَۃٌ ﴿ۚ۳۹﴾ وَ وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍ عَلَیۡہَا غَبَرَۃٌ ﴿ۙ۴۰﴾ تَرۡہَقُہَا قَتَرَۃٌ ﴿ؕ۴۱﴾ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکَفَرَۃُ الۡفَجَرَۃُ ﴿٪۴۲﴾
وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍ مُّسۡفِرَۃٌ ﴿ۙ۳۸﴾
’’کچھ چہرے اُس دن روشن ہوں گے۔‘‘
یہ مضمون اس سے پہلے سورۃ القیامہ کی ان آیات میں بھی آ چکا ہے : {وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ ﴿ۙ۲۲﴾اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ ﴿ۚ۲۳﴾وَ وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍۭ بَاسِرَۃٌ ﴿ۙ۲۴﴾تَظُنُّ اَنۡ یُّفۡعَلَ بِہَا فَاقِرَۃٌ ﴿ؕ۲۵﴾} ’’بہت سے چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے‘وہ اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے۔اوربہت سے چہرے اس روز اُترے ہوئے ہوں گے۔ان کو یقین ہوگا کہ اب ان کے ساتھ کمر توڑ سلوک ہو گا۔‘‘
ضَاحِکَۃٌ مُّسۡتَبۡشِرَۃٌ ﴿ۚ۳۹﴾
’’مسکراتے ہوئے خوش و خرم۔‘‘
وَ وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍ عَلَیۡہَا غَبَرَۃٌ ﴿ۙ۴۰﴾
’’اور کچھ چہرے اس دن غبار آلود ہوں گے۔‘‘
تَرۡہَقُہَا قَتَرَۃٌ ﴿ؕ۴۱﴾
’’ان پر سیاہی چھائی ہوئی ہو گی۔‘‘
اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکَفَرَۃُ الۡفَجَرَۃُ ﴿٪۴۲﴾
’’یہی ہوں گے وہ کافر اور فاجر لوگ۔‘‘
یہ وہ لوگ ہوں گے جو دنیا میں اپنے نفس کے تقاضے پورے کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حدود کو لائق اعتناء نہیں سمجھتے تھے۔