بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

النازعات

آیات ۱ تا ۴۶

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

تمہیدی کلمات

سورۃ الصافات‘ سورۃ الذاریات اور سورۃ المرسلات کے بعد سورۃ النازعات پے در پے قسموں سے شروع ہونے و الی قرآن مجید کی چوتھی سورت ہے۔ اس سورت کے آغاز میں مذکور قسموں کے بارے میں اکثر مفسرین کی رائے ہے کہ ان میں فرشتوں کا ذکر ہے۔

1-5

موت کا منظر

ویڈیو

وَ النّٰزِعٰتِ غَرۡقًا ۙ﴿۱﴾ وَّ النّٰشِطٰتِ نَشۡطًا ۙ﴿۲﴾ وَّ السّٰبِحٰتِ سَبۡحًا ۙ﴿۳﴾ فَالسّٰبِقٰتِ سَبۡقًا ۙ﴿۴﴾ فَالۡمُدَبِّرٰتِ اَمۡرًا ۘ﴿۵﴾

آیت 1

وَ النّٰزِعٰتِ غَرۡقًا ۙ﴿۱﴾

’’قسم ہے ان (فرشتوں)کی جو غوطہ لگا کر کھینچتے ہیں۔‘‘

نزع کے معنی سختی سے کھینچنے کے ہیں۔ یعنی ان فرشتوں کی قسم جو انسان کے وجود کی گہرائی میں اتر کر بڑی سختی اور شدت سے اس کی جان کو کھینچ نکالتے ہیں۔

آیت 2

وَّ النّٰشِطٰتِ نَشۡطًا ۙ﴿۲﴾

’’اور ان (فرشتوں)کی قسم جو گرہیں کھولتے ہیں آسانی سے۔‘‘

یہ بھی انسان کی جان قبض ہونے کی ہی ایک کیفیت کا ذکر ہے۔ حضورﷺ کے ایک فرمان کا مفہوم ہے کہ جب فرشتہ بندۂ مؤمن کی جان قبض کرتا ہے تو اسے ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے مشک کے بند منہ سے پانی کا ایک قطرہ ٹپک گیا ہے اور جب وہ کسی کافر کی جان قبض کرتا ہے تو اسے ایسی سختی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسے سیخ پر سے کباب کھینچا جا رہا ہے (اَعاَذنَا اللّٰہُ مِنْ ذٰلِکَ) ۔ بہرحال یہاں یہ نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ ان دونوں کیفیات کاتعلق انسان کی روح سے ہے ‘اس کے ظاہری جسم سے نہیں۔ جسمانی طور پر تو اللہ تعالیٰ کے بہت سے نیک بندوں پر بھی نزع کا وقت سخت انداز میں وارد ہوتا ہے۔ اس معاملے میں ظاہری تکلیف تو خود حضورﷺ پر بھی طاری ہوئی تھی۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضورﷺ کی تکلیف کو دیکھ کر بار بار روتی تھیں اور انؓ کے منہ سے بے اختیار یا ابتاہ! یا ابتاہ! (ہائے میرے ابا جانؐ کی یہ تکلیف!)کے الفاظ نکلتے تھے۔ حضورﷺ یہ سن کر فرماتے کہ بیٹی آج کے بعد تیرے باپؐ کے لیے کوئی سختی نہیں ہے۔ فداہ آبائنا وامھاتنا!

آیت 3

وَّ السّٰبِحٰتِ سَبۡحًا ۙ﴿۳﴾

’’اور ان (فرشتوں) کی قسم جو تیزی سے تیرتے ہوئے جاتے ہیں۔‘‘

فرشتے تیرتے ہوئے ان ارواح کو لے کر کہاں جاتے ہیں اور انہیں کہاں رکھا جاتا ہے؟اس بارے میں وضاحت آگے سورۃ المُطفِّفین میں آئے گی۔

آیت 4

فَالسّٰبِقٰتِ سَبۡقًا ۙ﴿۴﴾

’’پھر وہ (تعمیلِ ارشاد میں) ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘

آیت 5

فَالۡمُدَبِّرٰتِ اَمۡرًا ۘ﴿۵﴾

’’پھر (حسب حکم) معاملات کی تدبیر کرتے ہیں۔‘‘

یعنی ہر مرنے والے کی روح کو فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق سِجِّین یا عِلِّیّین میں لے جاتے ہیں۔یہاں پر ان قسموں کا جواب یا مقسم علیہ چونکہ محذوف ہے‘ اس لیے ان قسموں کا مقسم علیہ بھی وہی تصور ہو گا جو سورۃ الذاریات اور سورۃ المرسلات میں مذکور ہے۔ یعنی: {اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَصَادِقٌ ۙ﴿۵﴾وَّ اِنَّ الدِّیۡنَ لَوَاقِعٌ ؕ﴿۶﴾} (الذّٰرِیٰت) ’’جو وعدہ تمہیں دیا جا رہا ہے وہ یقینا سچ ہے۔ اور جزا و سزا ضرور واقع ہو کر رہے گی‘‘۔اور {اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَوَاقِعٌ ؕ﴿۷﴾} (المرسلٰت) ’’جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ یقینا واقع ہو کر رہے گی۔‘‘

6-14

قیامت کا منظر

ویڈیو

یَوۡمَ تَرۡجُفُ الرَّاجِفَۃُ ۙ﴿۶﴾ تَتۡبَعُہَا الرَّادِفَۃُ ؕ﴿۷﴾ قُلُوۡبٌ یَّوۡمَئِذٍ وَّاجِفَۃٌ ۙ﴿۸﴾ اَبۡصَارُہَا خَاشِعَۃٌ ۘ﴿۹﴾ یَقُوۡلُوۡنَ ءَاِنَّا لَمَرۡدُوۡدُوۡنَ فِی الۡحَافِرَۃِ ﴿ؕ۱۰﴾ ءَ اِذَا کُنَّا عِظَامًا نَّخِرَۃً ﴿ؕ۱۱﴾ قَالُوۡا تِلۡکَ اِذًا کَرَّۃٌ خَاسِرَۃٌ ﴿ۘ۱۲﴾ فَاِنَّمَا ہِیَ زَجۡرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ ﴿ۙ۱۳﴾ فَاِذَا ہُمۡ بِالسَّاہِرَۃِ ﴿ؕ۱۴﴾

آیت 6

یَوۡمَ تَرۡجُفُ الرَّاجِفَۃُ ۙ﴿۶﴾

’’جس دن کانپے گی کانپنے والی۔‘‘

یعنی قیامت کے دن شدید زلزلے کی وجہ سے پوری زمین لرز اٹھے گی۔ قیامت کے زلزلے اور اس دن کی ہولناک کیفیات کا ذکرقرآن مجید میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے ۔ سورۃ الحج کی ابتدائی آیات کا یہ انداز بہت عبرت آموز ہے :

دوسرے مقام کی آیت

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّکُمۡ ۚ اِنَّ زَلۡزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیۡءٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱﴾یَوۡمَ تَرَوۡنَہَا تَذۡہَلُ کُلُّ مُرۡضِعَۃٍ عَمَّاۤ اَرۡضَعَتۡ وَ تَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمۡلٍ حَمۡلَہَا وَ تَرَی النَّاسَ سُکٰرٰی وَ مَا ہُمۡ بِسُکٰرٰی وَ لٰکِنَّ عَذَابَ اللّٰہِ شَدِیۡدٌ ﴿۲﴾

’’اے لوگو! تقویٰ اختیار کروا پنے رب کا ‘ یقینا قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہو گا۔جس دن تم اُس کو دیکھو گے‘ اس دن (حال یہ ہوگا کہ) بھول جائے گی ہر دودھ پلانے والی جسے وہ دودھ پلاتی تھی اور (دہشت کا عالم یہ ہوگاکہ) ہر حاملہ کا حمل گر جائے گا اور تم دیکھو گے لوگوں کو جیسے وہ نشے میں ہوں‘حالانکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے‘ بلکہ اللہ کا عذاب ہی بہت سخت ہے۔‘‘

آیت 7

تَتۡبَعُہَا الرَّادِفَۃُ ؕ﴿۷﴾

’’اس کے پیچھے ایک اور جھٹکا آئے گا۔‘‘

اس سے نفخہ ثانیہ مراد ہے‘ جس کے بعد سب مردے دوبارہ زندہ ہو جائیں گے۔

آیت 8

قُلُوۡبٌ یَّوۡمَئِذٍ وَّاجِفَۃٌ ۙ﴿۸﴾

’’کتنے ہی دل اس دن (خوف کے مارے) دھڑک رہے ہوں گے۔‘‘

آیت 9

اَبۡصَارُہَا خَاشِعَۃٌ ۘ﴿۹﴾

’’ ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی۔‘‘

فرطِ خوف سے آنکھیں زمین میں گڑی ہوئی ہوں گی‘ اوپر آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی ہمت نہ ہو گی۔

آیت 10

یَقُوۡلُوۡنَ ءَاِنَّا لَمَرۡدُوۡدُوۡنَ فِی الۡحَافِرَۃِ ﴿ؕ۱۰﴾

’’یہ لوگ کہتے ہیں: کیا ہمیں لوٹا دیا جائے گا اُلٹے پاؤں؟‘‘

کہ کیا مرنے کے بعد ہمیں پھر سے زندہ کر دیاجائے گا؟

آیت 11

ءَ اِذَا کُنَّا عِظَامًا نَّخِرَۃً ﴿ؕ۱۱﴾

’’کیا جب ہم کھوکھلی ہڈیاں ہو چکے ہوں گے؟‘‘

آیت 12

قَالُوۡا تِلۡکَ اِذًا کَرَّۃٌ خَاسِرَۃٌ ﴿ۘ۱۲﴾

’’کہتے ہیں: تب تو یہ لوٹنا بہت گھاٹے کا سودا ہو گا۔‘‘

قیامت سے متعلق خبروں پر وہ لوگ طنزیہ انداز میں ایسے تبصرے کرتے تھے۔

آیت 13

فَاِنَّمَا ہِیَ زَجۡرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ ﴿ۙ۱۳﴾

’’حالانکہ یہ تو بس ایک ہی ڈانٹ ہوگی۔‘‘

آیت 14

فَاِذَا ہُمۡ بِالسَّاہِرَۃِ ﴿ؕ۱۴﴾

’’تو وہ سب کے سب ایک چٹیل میدان میں ہوں گے۔‘‘

نفخہ ثانیہ کے بعد سب کے سب انسان زندہ ہو کر میدانِ حشر میں جمع ہو جائیں گے۔

15-26

سرکش فرعون کا عبرتناک انجام

ویڈیو

ہَلۡ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ مُوۡسٰی ﴿ۘ۱۵﴾ اِذۡ نَادٰىہُ رَبُّہٗ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًی ﴿ۚ۱۶﴾ اِذۡہَبۡ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ اِنَّہٗ طَغٰی ﴿۫ۖ۱۷﴾ فَقُلۡ ہَلۡ لَّکَ اِلٰۤی اَنۡ تَزَکّٰی ﴿ۙ۱۸﴾ وَ اَہۡدِیَکَ اِلٰی رَبِّکَ فَتَخۡشٰی ﴿ۚ۱۹﴾ فَاَرٰىہُ الۡاٰیَۃَ الۡکُبۡرٰی ﴿۫ۖ۲۰﴾ فَکَذَّبَ وَ عَصٰی ﴿۫ۖ۲۱﴾ ثُمَّ اَدۡبَرَ یَسۡعٰی ﴿۫ۖ۲۲﴾ فَحَشَرَ فَنَادٰی ﴿۫ۖ۲۳﴾ فَقَالَ اَنَا رَبُّکُمُ الۡاَعۡلٰی ﴿۫ۖ۲۴﴾ فَاَخَذَہُ اللّٰہُ نَکَالَ الۡاٰخِرَۃِ وَ الۡاُوۡلٰی ﴿ؕ۲۵﴾ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَعِبۡرَۃً لِّمَنۡ یَّخۡشٰی ﴿ؕ٪۲۶﴾

آیت 15

ہَلۡ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ مُوۡسٰی ﴿ۘ۱۵﴾

’’کیا آپ تک موسیٰ کی خبر پہنچی ہے؟‘‘

آیت 16

اِذۡ نَادٰىہُ رَبُّہٗ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًی ﴿ۚ۱۶﴾

’’جب اُس کو پکارا تھا اُس کے پروردگار نے طویٰ کی مقدس وادی میں۔‘‘

یہ واقعہ سورۃ الاعراف‘ سورۂ طٰہ اور سورۃ القصص میں بہت تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ یہاں اس چھوٹی سورت میں اس کا ذکر نہایت اختصار کے ساتھ آیا ہے۔

آیت 17

اِذۡہَبۡ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ اِنَّہٗ طَغٰی ﴿۫ۖ۱۷﴾

’’کہ جاؤ فرعون کے پاس‘ وہ بہت سرکش ہو گیا ہے۔‘‘

حضرت موسیٰ علیہ السلام اس حکم کے تحت اللہ تعالیٰ کے رسول کی حیثیت سے فرعون کے پاس گئے تھے۔

آیت 18

فَقُلۡ ہَلۡ لَّکَ اِلٰۤی اَنۡ تَزَکّٰی ﴿ۙ۱۸﴾

’’اور اسے کہو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ پاک ہو جائے؟‘‘

آپؑ اس کے پاس جا کر اسے باقاعدہ دعوت دیں ‘تاکہ اگر وہ راہِ راست پر آنا چاہے تو آ جائے اور اپنے عقائد و اعمال کو درست کر لے۔

آیت 19

وَ اَہۡدِیَکَ اِلٰی رَبِّکَ فَتَخۡشٰی ﴿ۚ۱۹﴾

’’اور میں تمہاری راہنمائی کروں تمہارے رب کی طرف تاکہ تمہارے اندر خشیت پیدا ہو؟‘‘

آیت 20

فَاَرٰىہُ الۡاٰیَۃَ الۡکُبۡرٰی ﴿۫ۖ۲۰﴾

’’تو موسیٰ ؑنے اس کو دکھائی بہت بڑی نشانی۔‘‘

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو اپنی رسالت کے بارے میں بھی بتایا‘ اللہ تعالیٰ کا پیغام بھی اس تک پہنچایااور عصا کے اژدھا بن جانے والا معجزہ بھی اسے دکھا دیا۔

آیت 21

فَکَذَّبَ وَ عَصٰی ﴿۫ۖ۲۱﴾

’’لیکن اُس نے جھٹلا دیا اور نافرمانی کی۔‘‘

آیت 22

ثُمَّ اَدۡبَرَ یَسۡعٰی ﴿۫ۖ۲۲﴾

’’پھر وہ پلٹا بھاگ دوڑ کرنے کے لیے ۔‘‘

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ کرنے کے لیے اس نے ملک بھر سے ماہر جادوگروں کو اکٹھا کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔

آیت 23

فَحَشَرَ فَنَادٰی ﴿۫ۖ۲۳﴾

’’پھر اس نے (اپنی رعیت کو) جمع کیا اور اعلان کیا۔‘‘

آیت 24

فَقَالَ اَنَا رَبُّکُمُ الۡاَعۡلٰی ﴿۫ۖ۲۴﴾

’’پس کہا کہ میں ہوں تمہارا سب سے بڑا ربّ!‘‘

ظاہر ہے فرعون نے خود کو ’’ربّ ‘‘اس معنی میں نہیں کہا تھا کہ وہ اس کائنات کا یا اپنے ملک کے لوگوں کا خالق ہے‘ بلکہ وہ تو خود باطل معبودوں کو پوجتا تھا( سورۃ الاعراف کی آیت ۱۲۷ سے ثابت ہوتا ہے کہ فرعون اور اس کی قوم کے لوگوں نے پوجا پاٹ کے لیے اپنے کچھ معبود بھی بنا رکھے تھے)۔ پھر اس کی رعیت میں بہت سے بڑے بوڑھے لوگ ایسے بھی ہوں گے جن کے سامنے وہ پیدا ہوا ہو گا اور جنہوں نے اس کا بچپن بھی دیکھا ہو گا۔ گویا اسے خود بھی معلوم تھا اور اس کی رعیت کے تمام لوگ بھی جانتے تھے کہ وہ عام انسانوں کی طرح پیدا ہوا ہے اور بحیثیت انسان وہ دوسرے عام انسانوں جیسا ہی ہے۔ چنانچہ اس کا مذکورہ دعویٰ دراصل حکومت اور اقتدارِ اعلیٰ کے مالک ہونے کا دعویٰ تھا۔ اپنے اس دعوے کی مزید وضاحت اس نے ان الفاظ میں کی تھی: {یٰقَوۡمِ اَلَیۡسَ لِیۡ مُلۡکُ مِصۡرَ وَ ہٰذِہِ الۡاَنۡہٰرُ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِیۡ ۚ} (الزخرف:۵۱) ’’ اے میری قوم کے لوگو! کیا مصر کی حکومت میری نہیں ہے؟ اور کیایہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں؟‘‘کہ دیکھو اس پورے ملک پر میرا حکم چلتا ہے‘ پورے ملک کا نہری نظام بھی میرے تابع ہے‘میں جسے جو چاہوں عطا کروں اور جسے چاہوں محروم رکھوں‘ میں مطلق اختیار اور اقتدار کا مالک ہوں۔ یہ تھا اس کا اصل دعویٰ اور یہی دعویٰ اپنے زمانے میں نمرود کا بھی تھا۔

یہ دعویٰ دراصل اللہ تعالیٰ کے اقتدار و اختیار کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے اور اس لحاظ سے بہت بڑا شرک ہے۔ آج بدقسمتی سے یہ سیاسی شرک ’’عوام کی حکومت‘‘ کے لیبل کے ساتھ پوری دنیا میں پھیل چکا ہے۔ نمرودی اور فرعونی دور میں توشرک کی گندگی کا یہ ٹوکرا کوئی ایک شخص اٹھائے پھرتا تھا‘ یعنی ’’حاکمیت‘‘ کا دعوے دار کوئی ایک شخص ہوا کرتا تھا‘ جبکہ آج اس گندگی کو تولوں اور ماشوں میں بانٹ کر ملک کے ہر شہری کو اس میں حصہ دار بنا دیا گیا ہے۔ ’’جدید دور‘‘ میں اس سیاسی شرک کو نئے بھیس میں متعارف کرانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس کی تعبیر علامہ اقبال نے اپنی نظم ’’ابلیس کی مجلس شوریٰ‘‘ میں ابلیس کی زبان سے اس طرح کی ہے : ؎

ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس

جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگر

آیت 25

فَاَخَذَہُ اللّٰہُ نَکَالَ الۡاٰخِرَۃِ وَ الۡاُوۡلٰی ﴿ؕ۲۵﴾

’’تو پکڑ لیا اس کو اللہ نے آخرت اور دنیا کی سزامیں۔‘‘

دنیا کی سزا کے طور پر تو اسے اپنے لائو لشکر سمیت غرق کر دیا گیا۔ جہاں تک اس کی آخرت کی سزا کا تعلق ہے اس کا ذکر قرآن میں جابجاہوا ہے کہ وہ بہت بھیانک ہو گی۔

آیت 26

اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَعِبۡرَۃً لِّمَنۡ یَّخۡشٰی ﴿ؕ٪۲۶﴾

’’یقینا اس میں عبرت ہے اس کے لیے جو ڈرتا ہے۔‘‘

اشتقاقی اعتبار سے لفظ ’’عبرت‘‘ کا تعلق ’’عبور‘‘ سے ہے‘ اور عبور کے معنی ہیں دریا وغیرہ کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک جانا۔ اس حوالے سے لفظ عبرت کے معنی ایک چیز کو دیکھ کراس سے ملتی جلتی کسی دوسری چیزکی حقیقت کو سمجھنے اور اس خاص معاملے میں سبق حاصل کرنے کے ہیں۔

27-33

کیا انسان کو دوبارہ بنانا بہت ہی مشکل ہے؟

ویڈیو

ءَاَنۡتُمۡ اَشَدُّ خَلۡقًا اَمِ السَّمَآءُ ؕ بَنٰہَا ﴿ٝ۲۷﴾ رَفَعَ سَمۡکَہَا فَسَوّٰىہَا ﴿ۙ۲۸﴾ وَ اَغۡطَشَ لَیۡلَہَا وَ اَخۡرَجَ ضُحٰہَا ﴿۪۲۹﴾ وَ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ ذٰلِکَ دَحٰىہَا ﴿ؕ۳۰﴾ اَخۡرَجَ مِنۡہَا مَآءَہَا وَ مَرۡعٰہَا ﴿۪۳۱﴾ وَ الۡجِبَالَ اَرۡسٰہَا ﴿ۙ۳۲﴾ مَتَاعًا لَّکُمۡ وَ لِاَنۡعَامِکُمۡ ﴿ؕ۳۳﴾

تمہید

اب اگلی آیات میں بعث بعد الموت کے حوالے سے مشرکین کے طنزیہ تبصروں کاتفصیلی جواب دیا جارہا ہے:

آیت 27

ءَاَنۡتُمۡ اَشَدُّ خَلۡقًا اَمِ السَّمَآءُ ؕ بَنٰہَا ﴿ٝ۲۷﴾

’’(اے لوگو! ذرا سوچو!) کیا تمہاری تخلیق زیادہ مشکل ہے یا آسمان کی؟ اس نے اسے تخلیق کیا۔‘‘

آیت 28

رَفَعَ سَمۡکَہَا فَسَوّٰىہَا ﴿ۙ۲۸﴾

’’اس کے گنبد کو بلند کیا ‘ پھر اسے ہر طرح سے درست کیا۔‘‘

آیت 29

وَ اَغۡطَشَ لَیۡلَہَا وَ اَخۡرَجَ ضُحٰہَا ﴿۪۲۹﴾

’’اور اس کی رات کو اندھیرا کر دیا اور اس کے دن کو ظاہر کر دیا۔‘‘

آیت 30

وَ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ ذٰلِکَ دَحٰىہَا ﴿ؕ۳۰﴾

’’اور زمین کو اس کے بعد بچھا دیا۔‘‘

آیت 31

اَخۡرَجَ مِنۡہَا مَآءَہَا وَ مَرۡعٰہَا ﴿۪۳۱﴾

’’اس میں سے نکالا اس کا پانی اور اس کا چارہ۔‘‘

یہاں یہ نکتہ خصوصی طور پر لائق توجہ ہے کہ اس وقت دنیا میں جتنا پانی موجود ہے اس کا منبع خود زمین ہے۔

آج سائنسی معلومات کی روشنی میں ہم اس کی وضاحت یوں کر سکتے ہیں کہ ابتدا میں زمین آگ کا ایک گولا تھی۔ جوں جوں یہ ٹھنڈی ہوتی گئی اس کے بخارات نکل کر فضا میں جمع ہوتے رہے۔ اس طرح زمین کے ارد گرد مختلف گیسوں پر مشتمل ایک غلاف سا بن گیا ‘جسے آج ہم فضا (atmosphere) کہتے ہیں۔ پھر کسی مرحلے پر فضا میں ہائیڈروجن اور آکسیجن کے ملاپ سے پانی بنا۔ یہ پانی فضا سے بارش کی شکل میں سالہا سال تک زمین پر برستا رہا۔ اس کے بعد سورج کی تپش سے بخارات اٹھنے‘ بادل بننے اور بارش برسنے کے معمول پر مشتمل پانی کا وہ مربوط نظام بنا جسے آج کی سائنس نے واٹر سائیکل (water cycle) کا نام دیا ہے۔

گویا اللہ تعالیٰ نے ایک خاص مقدار کے مطابق دنیا میں پانی پیدا فرما کر زمین پر موجود ’’زندگی‘‘ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اس کی رسد اور ترسیل کا ایک خوبصورت نظام (cycle) تشکیل دے دیاہے۔ اس نظام کے تحت سمندروں کے بخارات سے بادل بنتے ہیں۔ ان بادلوں سے اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت کے تحت مختلف علاقوں میں بارش برستی ہے اور برفباری ہوتی ہے۔ پھر پہاڑوں پر برف کے وسیع ذخائرسے نالوں اور دریاؤں کے ذریعے نشیبی علاقوں کو سارا سال پانی کی سپلائی جاری رہتی ہے۔ گویا بارشوں اور پہاڑی گلیشیر ز کے overhead tanks سے حاصل ہونے والے پانی سے پوری دنیا میں زیرزمین پانی کے ذخیرے کو رسد بھی مہیا ہوتی رہتی ہے اور ہر طرح کی ’’زندگی‘‘ کی تمام ضروریات بھی پوری ہوتی ہیں۔اس کے بعد جو پانی بچ رہتا ہے وہ واپس سمندر میں چلا جاتا ہے۔

آیت 32

وَ الۡجِبَالَ اَرۡسٰہَا ﴿ۙ۳۲﴾

’’اور پہاڑوں کو اس میں گاڑ دیا۔‘‘

آیت 33

مَتَاعًا لَّکُمۡ وَ لِاَنۡعَامِکُمۡ ﴿ؕ۳۳﴾

’’سامانِ زیست کے طور پر تمہارے لیے اور تمہارے چوپایوں کے لیے۔‘‘

34-41

روز قیامت کیا ہوگا؟

ویڈیو

فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّۃُ الۡکُبۡرٰی ﴿۫ۖ۳۴﴾ یَوۡمَ یَتَذَکَّرُ الۡاِنۡسَانُ مَا سَعٰی ﴿ۙ۳۵﴾ وَ بُرِّزَتِ الۡجَحِیۡمُ لِمَنۡ یَّرٰی ﴿۳۶﴾ فَاَمَّا مَنۡ طَغٰی ﴿ۙ۳۷﴾ وَ اٰثَرَ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا ﴿ۙ۳۸﴾ فَاِنَّ الۡجَحِیۡمَ ہِیَ الۡمَاۡوٰی ﴿ؕ۳۹﴾ وَ اَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَ نَہَی النَّفۡسَ عَنِ الۡہَوٰی ﴿ۙ۴۰﴾ فَاِنَّ الۡجَنَّۃَ ہِیَ الۡمَاۡوٰی ﴿ؕ۴۱﴾

آیت 34

فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّۃُ الۡکُبۡرٰی ﴿۫ۖ۳۴﴾

’’پھر جب برپاہو گا وہ بڑا ہنگامہ۔‘‘

آیت 35

یَوۡمَ یَتَذَکَّرُ الۡاِنۡسَانُ مَا سَعٰی ﴿ۙ۳۵﴾

’’اس دن انسان یاد کرے گا جو کچھ اُس نے بھاگ دوڑ کی تھی۔‘‘

اُس دن انسان کی آنکھیں کھلیں گی اور جس شخص نے اپنی ساری زندگی دنیا کے مال و متاع کے پیچھے بھاگتے بھاگتے برباد کر دی تھی اسے معلوم ہو جائے گا کہ اب آخرت کے لیے اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ سورۃ الکہف کی اس آیت میں ایسے ہی لوگوں کا ذکر ہے : {قُلۡ ہَلۡ نُنَبِّئُکُمۡ بِالۡاَخۡسَرِیۡنَ اَعۡمَالًا ﴿ؕ۱۰۳﴾اَلَّذِیۡنَ ضَلَّ سَعۡیُہُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ ہُمۡ یَحۡسَبُوۡنَ اَنَّہُمۡ یُحۡسِنُوۡنَ صُنۡعًا ﴿۱۰۴﴾} ’’آپؐ کہیے :کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ خسارے میں کون ہیں؟وہ لوگ جن کی سعی و جہد دُنیا ہی کی زندگی میں گم ہو کر رہ گئی اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔‘‘

آیت 36

وَ بُرِّزَتِ الۡجَحِیۡمُ لِمَنۡ یَّرٰی ﴿۳۶﴾

’’اور کھول کر رکھ دی جائے گی جہنم ہر دیکھنے والے کےلیے۔‘‘

آیت 37

فَاَمَّا مَنۡ طَغٰی ﴿ۙ۳۷﴾

’’پس جس نے سرکشی کی تھی۔‘‘

آیت 38

وَ اٰثَرَ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا ﴿ۙ۳۸﴾

’’اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تھی۔‘‘

آیت 39

فَاِنَّ الۡجَحِیۡمَ ہِیَ الۡمَاۡوٰی ﴿ؕ۳۹﴾

’’تویقینا اس کا ٹھکانہ اب جہنم ہی ہے۔‘‘

ایک بندہ مؤمن کو چاہیے کہ یہ تین آیات ہمیشہ کے لیے اپنی گرہ میں باندھ لے اور اپنی عملی زندگی میں ان کے مفہوم اور پیغام کو اپنے دل و دماغ میں ہر وقت مستحضر رکھے۔ طَغٰی کے معنی ہیں کسی کا اپنی حدو د سے تجاوز کرنا۔ اسی معنی میں ہمارے ہاں طغیانی کا لفظ معروف ہے اور اسی مفہوم میں اس مادہ سے لفظ ’’طاغوت‘‘ مشتق ہے۔ چنانچہ ان آیات کے پیغام کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کو بنیادی طور پر اللہ تعالیٰ نے اپنی بندگی کے لیے پیدا کیا ہے: {وَ مَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَ الۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ ﴿۵۶﴾} (الذّٰریت) یعنی جنوں اور انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے پیدا ہی اس لیے کیا ہے کہ وہ اس کے ’’بندے‘‘ بن کر رہیں۔ اب جب کوئی انسان ’’بندگی‘‘ کی حدود سے آگے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں اپنے قانون‘ اپنے اختیار اور اپنی مرضی کی بات کرے گا تو وہ ’’بندے‘‘ کے بجائے ’’طاغوت‘‘ بن جائے گا۔ چنانچہ جو ’’بندہ‘‘ بندگی کی حدود سے تجاوز کر کے طاغوت بن گیا اور پھر اس نے اپنی سوچ‘ اپنی مرضی‘ اپنی منصوبہ بندی اور اپنے فیصلوں میں آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دینے کی روش اپنا لی تو آخرت میں اس کے لیے جہنم کے علاوہ اور کچھ نہیں ہو گا۔

آیت 40

وَ اَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ

’’اور جوکوئی ڈرتا رہا اپنے ربّ کے حضور کھڑا ہونے (کے خیال) سے ‘‘

سورۃ الحاقہ میں اس پیشی کی کیفیت یوں بیان کی گئی ہے : {یَوۡمَئِذٍ تُعۡرَضُوۡنَ لَا تَخۡفٰی مِنۡکُمۡ خَافِیَۃٌ ﴿۱۸﴾} ’’جس دن تم پیش کیے جائو گے تمہاری کوئی مخفی سے مخفی شے بھی چھپی نہیں رہے گی۔‘‘

وَ نَہَی النَّفۡسَ عَنِ الۡہَوٰی ﴿ۙ۴۰﴾

’’اور اُس نے روکے رکھا اپنے نفس کو خواہشات سے۔‘‘

اس نے اپنی زندگی میں اپنے نفس کی باگیں ہمیشہ کھینچ کر رکھیں اور غلط خواہشات کے معاملے میں اسے منہ زوری نہ کرنے دی۔

آیت 41

فَاِنَّ الۡجَنَّۃَ ہِیَ الۡمَاۡوٰی ﴿ؕ۴۱﴾

’’تو یقینااُس کا ٹھکانہ جنت ہی ہے۔‘‘

اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ‘ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ۔آمین!

42-46

قیامت کب آئے گی؟

ویڈیو

یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ السَّاعَۃِ اَیَّانَ مُرۡسٰہَا ﴿ؕ۴۲﴾ فِیۡمَ اَنۡتَ مِنۡ ذِکۡرٰىہَا ﴿ؕ۴۳﴾ اِلٰی رَبِّکَ مُنۡتَہٰىہَا ﴿ؕ۴۴﴾ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُنۡذِرُ مَنۡ یَّخۡشٰہَا ﴿ؕ۴۵﴾ کَاَنَّہُمۡ یَوۡمَ یَرَوۡنَہَا لَمۡ یَلۡبَثُوۡۤا اِلَّا عَشِیَّۃً اَوۡ ضُحٰہَا ﴿٪۴۶﴾

آیت 42

یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ السَّاعَۃِ اَیَّانَ مُرۡسٰہَا ﴿ؕ۴۲﴾

’’(اے نبیﷺ!) یہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں قیامت کے بارے میں کہ وہ کب آکرٹھہرے گی؟‘‘

آیت 43

فِیۡمَ اَنۡتَ مِنۡ ذِکۡرٰىہَا ﴿ؕ۴۳﴾

’’آپؐ کا کیا تعلق ہے اس کے بیان کرنے سے؟‘‘

آپؐ کو اس لیے تو نہیں بھیجا گیا کہ آپ ؐقیامت کے دن اور تاریخ کا تعین کر کے انہیں بتائیں‘ بلکہ آپؐ تو بشیر و نذیر بنا کر بھیجے گئے ہیں۔

آیت 44

اِلٰی رَبِّکَ مُنۡتَہٰىہَا ﴿ؕ۴۴﴾

’’اس کا انجام تو آپ کے رب ہی کی طرف ہے۔‘‘

یہ معاملہ تو آپ ؐکے رب ہی کے حوالے ہے۔ اُس کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کب آئے گی۔

آیت 45

اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُنۡذِرُ مَنۡ یَّخۡشٰہَا ﴿ؕ۴۵﴾

’’آپؐ تو بس خبردار کرنے والے ہیں ‘ہر اُس شخص کو جو اس سے ڈرتا ہو۔‘‘

جو لوگ قیامت کے تصور سے ڈرتے ہوں یا جو اس کے ذکر سے ڈر جائیں آپؐ انہیں خبردار کرتے رہیں‘ آپؐ کے خبردار کرنے سے ایسے لوگوں کا خوف اور تقویٰ مزید بڑھے گا۔ ظاہر ہے جس شخص کی روح میں زندگی کی کوئی رمق موجود ہے اس کے دل میں قیامت کے ذکر سے ضرور خشیت پیدا ہو گی۔

آیت 46

کَاَنَّہُمۡ یَوۡمَ یَرَوۡنَہَا لَمۡ یَلۡبَثُوۡۤا اِلَّا عَشِیَّۃً اَوۡ ضُحٰہَا ﴿٪۴۶﴾

’’جس دن وہ اسے دیکھیں گے (انہیں یوں لگے گا )گویا وہ نہیں رہے (دنیا میں) مگر ایک شام یا اس کی ایک صبح۔‘‘

قیامت کے دن انسان جب اپنی دنیوی زندگی کو یاد کرے گا تو اسے اپنی پوری زندگی ایسے نظر آئے گی جیسے وہ ایک دن کی بھی صرف چند گھڑیاں دنیا میں رہا تھا۔

یوٹیوب پر دیکھیے