رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا الرَّحۡمٰنِ
’’جو رب ہے آسمانوں کا اورزمین کا اور جو کچھ ان کے مابین ہے ‘جو الرحمن ہے۔‘‘
لَا یَمۡلِکُوۡنَ مِنۡہُ خِطَابًا ﴿ۚ۳۷﴾
’’ان (میں سے کسی) کو ہمت نہیں ہو گی اس سے بات کرنے کی۔‘‘
یَوۡمَ یَقُوۡمُ الرُّوۡحُ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ صَفًّا ؕ٭ۙ
’’جس دن کھڑے ہوں گے جبرائیل اور تمام فرشتے صفیں باندھے۔‘‘
لَّا یَتَکَلَّمُوۡنَ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَہُ الرَّحۡمٰنُ
’’وہ کوئی بات نہ کر سکیں گے سوائے اُس کے جسے رحمن کی طرف سے اجازت مل جائے‘‘
وَ قَالَ صَوَابًا ﴿۳۸﴾
’’اور وہ بات بھی درست کرے۔‘‘
ذٰلِکَ الۡیَوۡمُ الۡحَقُّ ۚ
’’یہ دن حق ہے!‘‘
یعنی قیامت کا دن ایک اٹل حقیقت ہے‘ جیسا کہ سورۃ الواقعہ میں فرمایا گیا: {اِذَا وَقَعَتِ الۡوَاقِعَۃُ ۙ﴿۱﴾لَیۡسَ لِوَقۡعَتِہَا کَاذِبَۃٌ ۘ﴿۲﴾} ’’جب وہ ہونے والا واقعہ رونما ہو جائے گا۔ (اور جان لو) اس کے واقع ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں ہے‘‘۔سورۃ الحاقہ میں قیامت کے اٹل ہونے کا ذکر اس طرح آیا ہے : {اَلۡحَآقَّۃُ ۙ﴿۱﴾مَا الۡحَآقَّۃُ ۚ﴿۲﴾وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا الۡحَآقَّۃُ ؕ﴿۳﴾} ’’وہ حق ہو جانے والی۔کیا ہے وہ حق ہو جانے والی؟اور تم نے کیا سمجھا کہ وہ حق ہونے والی کیا ہے؟‘‘
فَمَنۡ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ مَاٰبًا ﴿۳۹﴾
’’تو جو چاہے اپنے رب کی طرف اپنا ٹھکانہ بنا لے۔‘‘
اِنَّاۤ اَنۡذَرۡنٰکُمۡ عَذَابًا قَرِیۡبًا ۬ۚۖ
’’دیکھو! ہم نے تو تمہیں خبردار کردیا ہے اس عذاب سے جو بالکل قریب ہے۔‘‘
تصور کیجیے‘ یہ عذاب انسان کے کتنا قریب ہے! ادھر انسان کی آنکھ بند ہوتی ہے‘ ادھر اسے قبر میں اتارنے کا بندوبست کر دیا جاتا ہے۔ اور قبر کیا ہے؟ حضورﷺ کا فرمان ہے کہ حدیث((اِنَّمَا الْقَبْرُ رَوْضَۃٌ مِنْ رِیَاضِ الْجَنَّۃِ اَوْ حُفْرَۃٌ مِنْ حُفَرِ النَّارِ))۱’’قبر یا تو جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا‘‘۔ گویا ہر زندہ انسان اس باغیچے یا گڑھے سے صرف چند گھنٹوں کے فاصلے پر بیٹھا ہے۔
یَّوۡمَ یَنۡظُرُ الۡمَرۡءُ مَا قَدَّمَتۡ یَدٰہُ
’’جس دن انسان دیکھ لے گا جو اُس کے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا تھا‘‘
وَ یَقُوۡلُ الۡکٰفِرُ یٰلَیۡتَنِیۡ کُنۡتُ تُرٰبًا ﴿٪۴۰﴾
’’اور کافر کہے گا :کاش کہ میں مٹی ہوتا!‘‘۲
(۱) سنن الترمذی‘ ابواب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع‘ باب منہ‘ ح:۲۴۶‘ راوی : ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ-
(۲) بعض روایات کے مطابق اللہ تعالیٰ حیوانات کے درمیان بھی عدل و انصاف کے مطابق فیصلہ فرمائے گا‘ حتیٰ کہ ایک سینگ والی بکری نے بے سینگ والی پر کوئی زیادتی کی ہو گی تو اس کا بھی بدلہ دلائے گا۔ اس سے فراغت کے بعد اللہ تعالیٰ جانوروں کو حکم دے گا کہ مٹی ہو جائو۔ چنانچہ وہ مٹی ہو جائیں گے ۔ اس وقت کافر بھی آرزو کریں گے کہ کاش وہ بھی حیوان ہوتے اور آج مٹی بن جاتے۔ (تفسیر ابن کثیر)