بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

النبأ

آیات ۱ تا ۴۰

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

1-5

قیامت کے بارے میں باہم سوالات

ویڈیو

عَمَّ یَتَسَآءَلُوۡنَ ۚ﴿۱﴾ عَنِ النَّبَاِ الۡعَظِیۡمِ ۙ﴿۲﴾ الَّذِیۡ ہُمۡ فِیۡہِ مُخۡتَلِفُوۡنَ ؕ﴿۳﴾ کَلَّا سَیَعۡلَمُوۡنَ ۙ﴿۴﴾ ثُمَّ کَلَّا سَیَعۡلَمُوۡنَ ﴿۵﴾

آیت 1

عَمَّ یَتَسَآءَلُوۡنَ ۚ﴿۱﴾

’’کس چیز کے بارے میں یہ لوگ آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں؟‘‘

یہ منظر کشی کا بہت خوبصورت انداز ہے ۔ ان دو الفاظ میں گویا اس بے چینی اور ہلچل کی تصویر کھینچ دی گئی ہے جو اہل مکہ کے ہاں رسول اللہﷺ کی دعوت کے سبب پیدا ہو گئی تھی۔ جیسے ہر شخص کے ذہن میں ایک ہی سوال ہو کہ محمد(ﷺ) نے یہ کیا نئی بات کر دی ہے؟ یہ بھلا کیا بات ہوئی کہ ایک دن یہ دنیا ختم ہو جائے گی! پھر قیامت برپا ہو گی! تمام انسانوں کو پھر سے زندہ کر لیا جائے گا! ہر انسان سے اس کے ایک ایک عمل کا حساب ہو گا!وہاں کوئی کسی کا پرسانِ حال اور مددگار نہیں ہوگا! بھلا یہ سب کیسے ہو سکتا ہے؟ مرنے کے بعد سب کا پھر سے زندہ ہوجانا ؟ اتنے انسانوں کا حساب کتاب؟ ایک ایک عمل کا محاسبہ؟ نہیں‘ نہیں عقل نہیں مانتی! گویا مکہ کے ہر گھر میں یہی چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں‘ ہر محفل اور ہر چوپال میں انہی سوالات پر تبصرے ہو رہے ہیں‘ پورے شہر کی فضا میں ایک یہی موضوع گردش کر رہا ہے ۔غرض جہاں کہیں چار لوگ اکٹھے ہوتے ہیں ان کی گفتگو کی تان یہیں پر آکر ٹوٹتی ہے۔

آیت 2

عَنِ النَّبَاِ الۡعَظِیۡمِ ۙ﴿۲﴾

’’اُس بڑی خبر کے بارے میں۔‘‘

یعنی قیامت کی خبر کے بارے میں ۔ جیسے سورۃ المدثر میں فرمایا گیا ہے: {اِنَّہَا لَاِحۡدَی الۡکُبَرِ ﴿ۙ۳۵﴾} ’’یقینا یہ بہت بڑی باتوں میں سے ایک بات ہے۔‘‘

آیت 3

الَّذِیۡ ہُمۡ فِیۡہِ مُخۡتَلِفُوۡنَ ؕ﴿۳﴾

’’جس کے بارے میں یہ اختلافِ رائے میں مبتلا ہو گئے ہیں۔‘‘

قیامت کے بارے میں تفصیلات سن کر ان میں سے کوئی کچھ کہتا ہے کوئی کچھ۔ کوئی کہتا ہے کہ مرنے کے بعد انسانوں کادوبارہ زندہ ہونا بالکل بعید از قیاس ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ ہمارے معبودوں کے ہوتے ہوئے ہم سے کوئی محاسبہ نہیں ہو سکتا۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں! ہر کوئی اپنی اپنی رائے دے رہاہے۔

آیت 4

کَلَّا سَیَعۡلَمُوۡنَ ۙ﴿۴﴾

’’نہیں! عنقریب یہ جان لیں گے۔‘‘

عنقریب اصل حقیقت ان لوگوں پر منکشف ہو جائے گی۔ وقت آنے پر یہ لوگ اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ لیں گے۔ سورۂ قٓ میں اس کیفیت کا ذکر اس طرح ہوا ہے : {لَقَدۡ کُنۡتَ فِیۡ غَفۡلَۃٍ مِّنۡ ہٰذَا فَکَشَفۡنَا عَنۡکَ غِطَآءَکَ فَبَصَرُکَ الۡیَوۡمَ حَدِیۡدٌ ﴿۲۲﴾} ’’(اللہ فرمائے گا: اے انسان!) تو اس دن سے غفلت میں رہاتھانا! تو آج ہم نے تجھ سے تیرا پردہ ہٹا دیا ہے‘تو آج تمہاری نگاہ کتنی تیز ہو گئی ہے۔‘‘

آیت 5

ثُمَّ کَلَّا سَیَعۡلَمُوۡنَ ﴿۵﴾

’’ہاں کوئی بات نہیں! عنقریب یہ جان لیں گے۔‘‘

عالم دنیا اور عالم برزخ کے درمیان صرف موت کا پردہ حائل ہے ۔ جونہی کسی انسان کی آنکھ بند ہوتی ہے یہ پردہ اٹھ جاتا ہے۔ قبر عالم برزخ کی پہلی منزل ہے۔اس منزل پر پہنچتے ہی ہر انسان اصل حقیقت کو جان جاتا ہے ۔ چنانچہ وہ وقت دور نہیں جب ان میں سے ہر شخص پر اصل حقائق عیاں ہو جائیں گے۔

6-16

اللہ کی نعمتیں ہی نعمتیں

ویڈیو

اَلَمۡ نَجۡعَلِ الۡاَرۡضَ مِہٰدًا ۙ﴿۶﴾ وَّ الۡجِبَالَ اَوۡتَادًا ﴿۪ۙ۷﴾ وَّ خَلَقۡنٰکُمۡ اَزۡوَاجًا ۙ﴿۸﴾ وَّ جَعَلۡنَا نَوۡمَکُمۡ سُبَاتًا ۙ﴿۹﴾ وَّ جَعَلۡنَا الَّیۡلَ لِبَاسًا ﴿ۙ۱۰﴾ وَّ جَعَلۡنَا النَّہَارَ مَعَاشًا ﴿۪۱۱﴾ وَّ بَنَیۡنَا فَوۡقَکُمۡ سَبۡعًا شِدَادًا ﴿ۙ۱۲﴾ وَّ جَعَلۡنَا سِرَاجًا وَّہَّاجًا ﴿۪ۙ۱۳﴾ وَّ اَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡمُعۡصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًا ﴿ۙ۱۴﴾ لِّنُخۡرِجَ بِہٖ حَبًّا وَّ نَبَاتًا ﴿ۙ۱۵﴾ وَّ جَنّٰتٍ اَلۡفَافًا ﴿ؕ۱۶﴾

آیت 6

اَلَمۡ نَجۡعَلِ الۡاَرۡضَ مِہٰدًا ۙ﴿۶﴾

’’کیا ہم نے نہیں بنا دیا زمین کو بچھونا ؟‘‘

آیت 7

وَّ الۡجِبَالَ اَوۡتَادًا ﴿۪ۙ۷﴾

’’اور پہاڑوں کو میخیں؟‘‘

زمین کا توازن برقرار رکھنے کے لیے پہاڑوں کو اس میں میخوں کی طرح گاڑ دیا۔

آیت 8

وَّ خَلَقۡنٰکُمۡ اَزۡوَاجًا ۙ﴿۸﴾

’’اور تمہیں ہم نے جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا ۔‘‘

آیت 9

وَّ جَعَلۡنَا نَوۡمَکُمۡ سُبَاتًا ۙ﴿۹﴾

’’اور تمہاری نیند کو بنا دیا ہم نے تھکان دور کرنے والی۔‘‘

آیت 10

وَّ جَعَلۡنَا الَّیۡلَ لِبَاسًا ﴿ۙ۱۰﴾

’’اور رات کو ہم نے بنا دیا ڈھانپ لینے والی۔‘‘

آیت 11

وَّ جَعَلۡنَا النَّہَارَ مَعَاشًا ﴿۪۱۱﴾

’’اور دن کو ہم نے بنا دیا معاش (کی جدوجہد) کے لیے۔‘‘

آیت 12

وَّ بَنَیۡنَا فَوۡقَکُمۡ سَبۡعًا شِدَادًا ﴿ۙ۱۲﴾

’’اور تمہارے اوپر بنا دیے ہم نے سات مضبوط آسمان۔‘‘

آیت 13

وَّ جَعَلۡنَا سِرَاجًا وَّہَّاجًا ﴿۪ۙ۱۳﴾

’’اور ہم نے (سورج کو) بنا دیا ایک روشن چراغ۔‘‘

آیت 14

وَّ اَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡمُعۡصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًا ﴿ۙ۱۴﴾

’’اور ہم نے اتار دیا نچڑنے والی بدلیوں سے چھاجوں پانی۔‘‘

یعنی ہم پانی سے لبریز بادلوں سے موسلا دھار بارش برساتے ہیں۔

آیت 15

لِّنُخۡرِجَ بِہٖ حَبًّا وَّ نَبَاتًا ﴿ۙ۱۵﴾

’’تاکہ اس کے ذریعے سے ہم نکالیں اناج اور دوسرے نباتات۔‘‘

آیت 16

وَّ جَنّٰتٍ اَلۡفَافًا ﴿ؕ۱۶﴾

’’اور بڑے گھنے باغات بھی۔‘‘

17-20

قیامت کا وقت طے شدہ ہے

ویڈیو

اِنَّ یَوۡمَ الۡفَصۡلِ کَانَ مِیۡقَاتًا ﴿ۙ۱۷﴾ یَّوۡمَ یُنۡفَخُ فِی الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا ﴿ۙ۱۸﴾ وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَکَانَتۡ اَبۡوَابًا ﴿ۙ۱۹﴾ وَّ سُیِّرَتِ الۡجِبَالُ فَکَانَتۡ سَرَابًا ﴿ؕ۲۰﴾

آیت 17

اِنَّ یَوۡمَ الۡفَصۡلِ کَانَ مِیۡقَاتًا ﴿ۙ۱۷﴾

’’یقینا فیصلے کا دن ایک معین وقت ہے۔‘‘

یہ ہے وہ اصل بات جس کے لیے بطور تمہید گزشتہ آیات میں اللہ کی رنگا رنگ نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ جب اللہ تعالیٰ نے بنی نوعِ انسان کے لیے اپنی نعمتوں کا اس قدر وسیع دستر خوان بچھایا ہے تو اس نے انسانوں پر لازماً کچھ ذمہ داریاں بھی ڈالی ہوں گی۔ جب خود انسانوں کے ہاں اصول ہے کہ ذمہ داریاں (responsibilities) اور مراعات (privileges) ایک ساتھ چلتی ہیں تو یہ بھلا کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان پر اپنی عطاؤں کی بارش تو کرتا رہے اور اس پر ذمہ داری کوئی بھی نہ ڈالے۔ اس لیے تم لوگ یہ مت سمجھو کہ تم من مانی زندگی گزارتے رہو گے اور تم سے کوئی جوابدہی نہیں ہو گی۔ نہیں ‘تم سے ایک ایک ذمہ داری اور ایک ایک نعمت کا حساب ہو گا اور اس کے لیے ہم نے فیصلے کا ایک دن پہلے سے مقرر کر رکھا ہے ۔

آیت 18

یَّوۡمَ یُنۡفَخُ فِی الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا ﴿ۙ۱۸﴾

’’جس دن پھونکا جائے گا صور میں تو تم سب چلے آؤ گے فوج در فوج۔‘‘

اس کیفیت کا نقشہ سورۃ المعارج میں اس طرح دکھایا گیا ہے : {یَوۡمَ یَخۡرُجُوۡنَ مِنَ الۡاَجۡدَاثِ سِرَاعًا کَاَنَّہُمۡ اِلٰی نُصُبٍ یُّوۡفِضُوۡنَ ﴿ۙ۴۳﴾} ’’جس دن وہ نکلیں گے اپنی قبروں سے دوڑتے ہوئے‘ جیسے کہ نشان زدہ اہداف کی طرف بھاگے جا رہے ہوں۔‘‘

آیت 19

وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَکَانَتۡ اَبۡوَابًا ﴿ۙ۱۹﴾

’’اور آسمان کھول دیا جائے گا تواس میں دروازے ہی دروازے بن جائیں گے۔‘‘

آیت 20

وَّ سُیِّرَتِ الۡجِبَالُ فَکَانَتۡ سَرَابًا ﴿ؕ۲۰﴾

’’اور پہاڑ چلا دیے جائیں گے تو وہ ہو جائیں گے چمکتی ہوئی ریت۔‘‘

21-26

سر کشوں کا برا انجام

ویڈیو

اِنَّ جَہَنَّمَ کَانَتۡ مِرۡصَادًا ﴿۪ۙ۲۱﴾ لِّلطَّاغِیۡنَ مَاٰبًا ﴿ۙ۲۲﴾ لّٰبِثِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَحۡقَابًا ﴿ۚ۲۳﴾ لَا یَذُوۡقُوۡنَ فِیۡہَا بَرۡدًا وَّ لَا شَرَابًا ﴿ۙ۲۴﴾ اِلَّا حَمِیۡمًا وَّ غَسَّاقًا ﴿ۙ۲۵﴾ جَزَآءً وِّفَاقًا ﴿ؕ۲۶﴾

آیت 21

اِنَّ جَہَنَّمَ کَانَتۡ مِرۡصَادًا ﴿۪ۙ۲۱﴾

’’یقینا جہنم گھات میں ہے۔‘‘

جہنم تو مجرم انسانوں کی صورت میں اپنے ایندھن کا انتظار کر رہی ہے۔

آیت 22

لِّلطَّاغِیۡنَ مَاٰبًا ﴿ۙ۲۲﴾

’’وہ ٹھکانہ ہے سرکش لوگوں کا۔‘‘

آیت 23

لّٰبِثِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَحۡقَابًا ﴿ۚ۲۳﴾

’’وہ رہیں گے اس میں قرن ہا قرن ۔‘‘

آیت 24

لَا یَذُوۡقُوۡنَ فِیۡہَا بَرۡدًا وَّ لَا شَرَابًا ﴿ۙ۲۴﴾

’’وہ نہیں چکھیں گے اس میں کوئی ٹھنڈی شے اور نہ کوئی مشروب۔‘‘

آیت 25

اِلَّا حَمِیۡمًا وَّ غَسَّاقًا ﴿ۙ۲۵﴾

’’سوائے کھولتے ہوئے پانی اور بہتی ہوئی پیپ کے۔‘‘

آیت 26

جَزَآءً وِّفَاقًا ﴿ؕ۲۶﴾

’’بدلہ (ان کے اعمال کا) پورا پورا۔‘‘

ان لوگوں نے جیسے اعمال کیے ہوں گے ‘ویسا ہی ان لوگوں کے ساتھ وہاں سلوک کیا جائے گا۔

27-30

سرکشوں کے جرائم

ویڈیو

اِنَّہُمۡ کَانُوۡا لَا یَرۡجُوۡنَ حِسَابًا ﴿ۙ۲۷﴾ وَّ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا کِذَّابًا ﴿ؕ۲۸﴾ وَ کُلَّ شَیۡءٍ اَحۡصَیۡنٰہُ کِتٰبًا ﴿ۙ۲۹﴾ فَذُوۡقُوۡا فَلَنۡ نَّزِیۡدَکُمۡ اِلَّا عَذَابًا ﴿٪۳۰﴾

آیت 27

اِنَّہُمۡ کَانُوۡا لَا یَرۡجُوۡنَ حِسَابًا ﴿ۙ۲۷﴾

’’یہ لوگ کسی حساب کتاب کی کوئی توقع نہیں رکھتے تھے۔‘‘

آیت 28

وَّ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا کِذَّابًا ﴿ؕ۲۸﴾

’’اور انہوں نے جھٹلا دیا تھا ہماری آیات کو دھڑلے کے ساتھ۔‘‘

آیت 29

وَ کُلَّ شَیۡءٍ اَحۡصَیۡنٰہُ کِتٰبًا ﴿ۙ۲۹﴾

’’اور ہم نے تو ہر چیز کو گن گن کر لکھ رکھا ہے۔‘‘

آیت 30

فَذُوۡقُوۡا فَلَنۡ نَّزِیۡدَکُمۡ اِلَّا عَذَابًا ﴿٪۳۰﴾

’’تو اب چکھو! ہم ہرگز اضافہ نہیں کریں گے تمہارے لیے مگر عذاب ہی میں۔‘‘

تمہارے اس عذاب کی شدت ہر لحظہ بڑھتی چلی جائے گی ---- اب اگلی آیات میں اہل جنت کا ذکر ہے :

31-36

متّقیوں کے لیے انعامات

ویڈیو

اِنَّ لِلۡمُتَّقِیۡنَ مَفَازًا ﴿ۙ۳۱﴾ حَدَآئِقَ وَ اَعۡنَابًا ﴿ۙ۳۲﴾ وَّکَوَاعِبَ اَتۡرَابًا ﴿ۙ۳۳﴾ وَّ کَاۡسًا دِہَاقًا ﴿ؕ۳۴﴾ لَا یَسۡمَعُوۡنَ فِیۡہَا لَغۡوًا وَّ لَا کِذّٰبًا ﴿ۚ۳۵﴾ جَزَآءً مِّنۡ رَّبِّکَ عَطَآءً حِسَابًا ﴿ۙ۳۶﴾

آیت 31

اِنَّ لِلۡمُتَّقِیۡنَ مَفَازًا ﴿ۙ۳۱﴾

’’یقینا اہلِ تقویٰ کے لیے کامیابی ہو گی۔‘‘

آیت 32

حَدَآئِقَ وَ اَعۡنَابًا ﴿ۙ۳۲﴾

’’(ان کے لیے) باغ اور انگور ہوں گے۔‘‘

آیت 33

وَّکَوَاعِبَ اَتۡرَابًا ﴿ۙ۳۳﴾

’’اور نوجوان ہم عمر بیویاں۔‘‘

آیت 34

وَّ کَاۡسًا دِہَاقًا ﴿ؕ۳۴﴾

’’اور جام چھلکتے ہوئے۔‘‘

آیت 35

لَا یَسۡمَعُوۡنَ فِیۡہَا لَغۡوًا وَّ لَا کِذّٰبًا ﴿ۚ۳۵﴾

’’وہ نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات اور نہ جھوٹ۔‘‘

آیت 36

جَزَآءً مِّنۡ رَّبِّکَ عَطَآءً حِسَابًا ﴿ۙ۳۶﴾

’’یہ بدلہ ہوگا آپ کے رب کی طرف سے‘ دیا ہوا حساب سے۔‘‘

یہ سب کچھ ان لوگوں کی محنت اور قربانیوں کے بدلے کے طور پر انہیں عطا کیا جائے گا۔

37-40

میدانِ حشر کا منظر

ویڈیو

رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا الرَّحۡمٰنِ لَا یَمۡلِکُوۡنَ مِنۡہُ خِطَابًا ﴿ۚ۳۷﴾ یَوۡمَ یَقُوۡمُ الرُّوۡحُ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ صَفًّا ؕ٭ۙ لَّا یَتَکَلَّمُوۡنَ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَہُ الرَّحۡمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا ﴿۳۸﴾ ذٰلِکَ الۡیَوۡمُ الۡحَقُّ ۚ فَمَنۡ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ مَاٰبًا ﴿۳۹﴾ اِنَّاۤ اَنۡذَرۡنٰکُمۡ عَذَابًا قَرِیۡبًا ۬ۚۖ یَّوۡمَ یَنۡظُرُ الۡمَرۡءُ مَا قَدَّمَتۡ یَدٰہُ وَ یَقُوۡلُ الۡکٰفِرُ یٰلَیۡتَنِیۡ کُنۡتُ تُرٰبًا ﴿٪۴۰﴾

آیت 37

رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا الرَّحۡمٰنِ

’’جو رب ہے آسمانوں کا اورزمین کا اور جو کچھ ان کے مابین ہے ‘جو الرحمن ہے۔‘‘

لَا یَمۡلِکُوۡنَ مِنۡہُ خِطَابًا ﴿ۚ۳۷﴾

’’ان (میں سے کسی) کو ہمت نہیں ہو گی اس سے بات کرنے کی۔‘‘

آیت 38

یَوۡمَ یَقُوۡمُ الرُّوۡحُ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ صَفًّا ؕ٭ۙ

’’جس دن کھڑے ہوں گے جبرائیل اور تمام فرشتے صفیں باندھے۔‘‘

لَّا یَتَکَلَّمُوۡنَ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَہُ الرَّحۡمٰنُ

’’وہ کوئی بات نہ کر سکیں گے سوائے اُس کے جسے رحمن کی طرف سے اجازت مل جائے‘‘

وَ قَالَ صَوَابًا ﴿۳۸﴾

’’اور وہ بات بھی درست کرے۔‘‘

آیت 39

ذٰلِکَ الۡیَوۡمُ الۡحَقُّ ۚ

’’یہ دن حق ہے!‘‘

یعنی قیامت کا دن ایک اٹل حقیقت ہے‘ جیسا کہ سورۃ الواقعہ میں فرمایا گیا: {اِذَا وَقَعَتِ الۡوَاقِعَۃُ ۙ﴿۱﴾لَیۡسَ لِوَقۡعَتِہَا کَاذِبَۃٌ ۘ﴿۲﴾} ’’جب وہ ہونے والا واقعہ رونما ہو جائے گا۔ (اور جان لو) اس کے واقع ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں ہے‘‘۔سورۃ الحاقہ میں قیامت کے اٹل ہونے کا ذکر اس طرح آیا ہے : {اَلۡحَآقَّۃُ ۙ﴿۱﴾مَا الۡحَآقَّۃُ ۚ﴿۲﴾وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا الۡحَآقَّۃُ ؕ﴿۳﴾} ’’وہ حق ہو جانے والی۔کیا ہے وہ حق ہو جانے والی؟اور تم نے کیا سمجھا کہ وہ حق ہونے والی کیا ہے؟‘‘

فَمَنۡ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ مَاٰبًا ﴿۳۹﴾

’’تو جو چاہے اپنے رب کی طرف اپنا ٹھکانہ بنا لے۔‘‘

آیت 40

اِنَّاۤ اَنۡذَرۡنٰکُمۡ عَذَابًا قَرِیۡبًا ۬ۚۖ

’’دیکھو! ہم نے تو تمہیں خبردار کردیا ہے اس عذاب سے جو بالکل قریب ہے۔‘‘

تصور کیجیے‘ یہ عذاب انسان کے کتنا قریب ہے! ادھر انسان کی آنکھ بند ہوتی ہے‘ ادھر اسے قبر میں اتارنے کا بندوبست کر دیا جاتا ہے۔ اور قبر کیا ہے؟ حضورﷺ کا فرمان ہے کہ حدیث((اِنَّمَا الْقَبْرُ رَوْضَۃٌ مِنْ رِیَاضِ الْجَنَّۃِ اَوْ حُفْرَۃٌ مِنْ حُفَرِ النَّارِ))۱’’قبر یا تو جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا‘‘۔ گویا ہر زندہ انسان اس باغیچے یا گڑھے سے صرف چند گھنٹوں کے فاصلے پر بیٹھا ہے۔

یَّوۡمَ یَنۡظُرُ الۡمَرۡءُ مَا قَدَّمَتۡ یَدٰہُ

’’جس دن انسان دیکھ لے گا جو اُس کے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا تھا‘‘

وَ یَقُوۡلُ الۡکٰفِرُ یٰلَیۡتَنِیۡ کُنۡتُ تُرٰبًا ﴿٪۴۰﴾

’’اور کافر کہے گا :کاش کہ میں مٹی ہوتا!‘‘۲

(۱) سنن الترمذی‘ ابواب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع‘ باب منہ‘ ح:۲۴۶‘ راوی : ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ-

(۲) بعض روایات کے مطابق اللہ تعالیٰ حیوانات کے درمیان بھی عدل و انصاف کے مطابق فیصلہ فرمائے گا‘ حتیٰ کہ ایک سینگ والی بکری نے بے سینگ والی پر کوئی زیادتی کی ہو گی تو اس کا بھی بدلہ دلائے گا۔ اس سے فراغت کے بعد اللہ تعالیٰ جانوروں کو حکم دے گا کہ مٹی ہو جائو۔ چنانچہ وہ مٹی ہو جائیں گے ۔ اس وقت کافر بھی آرزو کریں گے کہ کاش وہ بھی حیوان ہوتے اور آج مٹی بن جاتے۔ (تفسیر ابن کثیر)

یوٹیوب پر دیکھیے