تحریر

المرسلات

آیات ۲۹ تا ۵۰

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

29-34

جھٹلانے والوں کے لئے جہنم کا عذاب

ویڈیو

اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰی مَا کُنۡتُمۡ بِہٖ تُکَذِّبُوۡنَ ﴿ۚ۲۹﴾ اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰی ظِلٍّ ذِیۡ ثَلٰثِ شُعَبٍ ﴿ۙ۳۰﴾ لَّا ظَلِیۡلٍ وَّ لَا یُغۡنِیۡ مِنَ اللَّہَبِ ﴿ؕ۳۱﴾ اِنَّہَا تَرۡمِیۡ بِشَرَرٍ کَالۡقَصۡرِ ﴿ۚ۳۲﴾ کَاَنَّہٗ جِمٰلَتٌ صُفۡرٌ ﴿ؕ۳۳﴾ وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۳۴﴾

آیت 29

اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰی مَا کُنۡتُمۡ بِہٖ تُکَذِّبُوۡنَ ﴿ۚ۲۹﴾

’’چلو اب اُسی چیز کی طرف جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔‘‘

یعنی جہنم کی آگ کی طرف ۔ یہ وہ حکم ہے جو میدانِ محشر میں اہل جہنم کو سنایا جائے گا۔

آیت 30

اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰی ظِلٍّ ذِیۡ ثَلٰثِ شُعَبٍ ﴿ۙ۳۰﴾

’’چلو اُس تین شاخوں والے سائے کی طرف!‘‘

میدانِ محشر کی چلچلاتی دھوپ اور شدید گرمی میں جب وہ لوگ جہنم کو دیکھیں گے تو دور سے وہ انہیں تین اطراف میں پھیلے ہوئے سائے والی کسی جگہ کی طرح نظرآئے گی۔ چنانچہ انہیں کہا جائے گا کہ اگر تمہیں وہ سایہ نظر آتا ہے تو چلو اس سائے کی طرف!لیکن اس ’’سائے‘‘ کی حقیقت یہ ہو گی کہ:

آیت 31

لَّا ظَلِیۡلٍ وَّ لَا یُغۡنِیۡ مِنَ اللَّہَبِ ﴿ؕ۳۱﴾

’’نہ تو وہ سایہ دار ہے اور نہ ہی آگ کی تپش سے بچانے والا ۔‘‘

آیت 32

اِنَّہَا تَرۡمِیۡ بِشَرَرٍ کَالۡقَصۡرِ ﴿ۚ۳۲﴾

’’وہ آگ اتنے بڑے بڑے انگارے پھینک رہی ہوگی جیسے کہ وہ محل ہوں۔‘‘

آیت 33

کَاَنَّہٗ جِمٰلَتٌ صُفۡرٌ ﴿ؕ۳۳﴾

’’(یا) جیسے وہ زرد رنگ کے اونٹ ہوں۔‘‘

آیت 34

وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۳۴﴾

’’(ہلاکت اور) بربادی ہے اس دن جھٹلانے والوں کےلیے۔‘‘

35-40

روزِ قیامت جھٹلانے والوں کی بے بسی

ویڈیو

ہٰذَا یَوۡمُ لَا یَنۡطِقُوۡنَ ﴿ۙ۳۵﴾ وَ لَا یُؤۡذَنُ لَہُمۡ فَیَعۡتَذِرُوۡنَ ﴿۳۶﴾ وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۳۷﴾ ہٰذَا یَوۡمُ الۡفَصۡلِ ۚ جَمَعۡنٰکُمۡ وَ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۳۸﴾ فَاِنۡ کَانَ لَکُمۡ کَیۡدٌ فَکِیۡدُوۡنِ ﴿۳۹﴾ وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿٪۴۰﴾

آیت 35

ہٰذَا یَوۡمُ لَا یَنۡطِقُوۡنَ ﴿ۙ۳۵﴾

’’یہ ہے وہ دن جس میں یہ بول نہیں سکیں گے۔‘‘

آیت 36

وَ لَا یُؤۡذَنُ لَہُمۡ فَیَعۡتَذِرُوۡنَ ﴿۳۶﴾

’’اور نہ ہی انہیں اجازت دی جائے گی کہ وہ کوئی عذر تراشیں۔‘‘

آیت 37

وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۳۷﴾

’’(ہلاکت اور) بربادی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘

آیت 38

ہٰذَا یَوۡمُ الۡفَصۡلِ ۚ

’’یہ ہے فیصلے کا دن‘‘

جَمَعۡنٰکُمۡ وَ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۳۸﴾

’’ہم نے جمع کر لیا تمہیں بھی اور پہلوں کو بھی۔‘‘

آیت 39

فَاِنۡ کَانَ لَکُمۡ کَیۡدٌ فَکِیۡدُوۡنِ ﴿۳۹﴾

’’اب اگر تمہارے پاس کوئی چال ہے تو میرے خلاف وہ چال چل دیکھو۔‘‘

آیت 40

وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿٪۴۰﴾

’’(ہلاکت اور) بربادی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘

41-44

متّقین کا حسین انجام

ویڈیو

اِنَّ الۡمُتَّقِیۡنَ فِیۡ ظِلٰلٍ وَّ عُیُوۡنٍ ﴿ۙ۴۱﴾ وَّ فَوَاکِہَ مِمَّا یَشۡتَہُوۡنَ ﴿ؕ۴۲﴾ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا ہَنِیۡٓــًٔۢا بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۴۳﴾ اِنَّا کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۴۴﴾

تمہید

اب دوسرے رکوع کی دس آیات میں تصویر کا دوسرا رخ دکھایا جا رہا ہے ۔یہاں شروع میں اہل ایمان کا احوال بیان ہوا ہے اور آخر میں انتہائی اختصار کے ساتھ کفار کا ذکر آیا ہے۔

آیت 41

اِنَّ الۡمُتَّقِیۡنَ فِیۡ ظِلٰلٍ وَّ عُیُوۡنٍ ﴿ۙ۴۱﴾

’’(اس دن) متقین یقینا سائے اورچشموں کے ماحول میں ہوں گے۔‘‘

آیت 42

وَّ فَوَاکِہَ مِمَّا یَشۡتَہُوۡنَ ﴿ؕ۴۲﴾

’’اور ایسے پھلوں کے اندر جو انہیں پسند ہوں گے۔‘‘

انہیں ایسے پھل دیے جائیں گے جنہیں کھانا انہیں بہت مرغوب ہو گا۔

آیت 43

کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا ہَنِیۡٓــًٔۢا بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۴۳﴾

’’(اور ہم ان سے کہہ دیں گے) کھاؤ‘ پیو مزے سے رَچتا پچتا ‘ان اعمال کے انعام کے طور پر جو تم کرتے رہے تھے۔‘‘

آیت 44

اِنَّا کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۴۴﴾

’’یقینا ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں اپنے محسن بندوں کو۔‘‘

45-50

مجرموں کا برا انجام

ویڈیو

وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۴۵﴾ کُلُوۡا وَ تَمَتَّعُوۡا قَلِیۡلًا اِنَّکُمۡ مُّجۡرِمُوۡنَ ﴿۴۶﴾ وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۴۷﴾ وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمُ ارۡکَعُوۡا لَا یَرۡکَعُوۡنَ ﴿۴۸﴾ وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۴۹﴾ فَبِاَیِّ حَدِیۡثٍۭ بَعۡدَہٗ یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿٪۵۰﴾

آیت 45

وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۴۵﴾

’’(ہلاکت اور) بربادی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘

اس کے بعد اب روئے سخن پھر کفار و مشرکین کی طرف ہو گیا ہے۔

آیت 46

کُلُوۡا وَ تَمَتَّعُوۡا قَلِیۡلًا اِنَّکُمۡ مُّجۡرِمُوۡنَ ﴿۴۶﴾

’’(اے کفار و مشرکین!) تم کھا پی لو تھوڑی دیر کے لیے ‘یقینا تم لوگ مجرم ہو۔‘‘

تم لوگ اپنی دُنیوی زندگی میں عیش کر رہے ہو تو کرتے جائو۔ بالآخر قیامت کے دن تمہیں مجرموں کی حیثیت سے ہمارے سامنے پیش ہونا ہے۔

آیت 47

وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۴۷﴾

’’جس دن ہلاکت اوربربادی ہو گی (تمہارے جیسے تمام) جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘

آیت 48

وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمُ ارۡکَعُوۡا لَا یَرۡکَعُوۡنَ ﴿۴۸﴾

’’اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ (اپنے رب کے سامنے) جھکو تو یہ جھکتے نہیں ہیں۔‘‘

آیت 49

وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۴۹﴾

’’(ہلاکت اور) بربادی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘

آیت 50

فَبِاَیِّ حَدِیۡثٍۭ بَعۡدَہٗ یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿٪۵۰﴾

’’تو اب اس (قرآن) کے بعد یہ اور کس کلام پر ایمان لائیں گے؟‘‘

قرآن جیسا کلام سن کر بھی جس انسان کی آنکھیں نہیں کھلیں ‘تو اس کے بعد اس کی آنکھیں بھلا کب کھلیں گی؟

یوٹیوب پر دیکھیے