وَ الۡمُرۡسَلٰتِ عُرۡفًا ۙ﴿۱﴾
’’قسم ہے ان ہوائوں کی جو چلائی جاتی ہیں بڑی آہستگی سے۔‘‘
اللہ تعالیٰ ان ہواؤں کو خاص مقاصد کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت چلاتا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
تحریر
آیات ۱ تا ۲۸
بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد
قرآنترجمہتشریححدیثشعر
سورۃ المرسلات انتیسویں پارے کی آخری سورت ہے۔ جوڑے کے اعتبار سے اس کاتعلق تیسویں پارے کی پہلی سورت یعنی سورۃ النبا کے ساتھ ہے۔ دونوں سورتوں کے مضمون ‘اسلوب اور آیات کی ترتیب میں گہری مشابہت پائی جاتی ہے۔ سورۃ المرسلات پچاس آیات پر مشتمل ہے۔ اس کے پہلے رکوع میں چالیس جبکہ دوسرے رکوع میں دس آیات ہیں۔ سورۃ النبا کی کل چالیس آیات ہیں۔ اس کے پہلے رکوع میں تیس آیات ہیں‘جبکہ سورۃ المرسلات کی طرح اس کا بھی دوسرا رکوع دس آیات پر مشتمل ہے۔ اس سورت کے آغاز میں پے در پے قسموں کا ذکر ہے۔اس خصوصی انداز کے اعتبار سے یہ قرآن مجید کی تیسری سورت ہے۔ اس سے پہلے ہم ایسی دو سورتوں کامطالعہ کر چکے ہیں جن کا آغاز اسی طرح پے در پے قسموں سے ہوتا ہے۔ یعنی تیئیسویں پارے کی سورۃ الصافات اور چھبیسویں پارے کی سورۃ الذاریات ۔سورۃ الصافات کے آغاز کی قسموں کا مفہوم تو بالکل واضح ہے کہ ان میں فرشتوں کی خصوصیات بیان ہوئی ہیں۔ اسی طرح سورۃ الذاریات کی قسموں کے بارے میں بھی مفسرین کا اجماع ہے کہ ان سے ہوائیں مراد ہیں‘ لیکن زیر مطالعہ سورت کی قسموں کے بارے میں مفسرین کی آراء مختلف ہیں۔ کچھ مفسرین ان سے ہوائیں مراد لیتے ہیں‘جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ ان میں فرشتوں کا ذکر ہے۔بسم اللہ الرحمن الرحیم
وَ الۡمُرۡسَلٰتِ عُرۡفًا ۙ﴿۱﴾ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا ۙ﴿۲﴾ وَّ النّٰشِرٰتِ نَشۡرًا ۙ﴿۳﴾ فَالۡفٰرِقٰتِ فَرۡقًا ۙ﴿۴﴾ فَالۡمُلۡقِیٰتِ ذِکۡرًا ۙ﴿۵﴾ عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا ۙ﴿۶﴾ اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَوَاقِعٌ ؕ﴿۷﴾
وَ الۡمُرۡسَلٰتِ عُرۡفًا ۙ﴿۱﴾
’’قسم ہے ان ہوائوں کی جو چلائی جاتی ہیں بڑی آہستگی سے۔‘‘
اللہ تعالیٰ ان ہواؤں کو خاص مقاصد کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت چلاتا ہے۔
فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا ۙ﴿۲﴾
’’پھر تیز و تند جھکڑ کی صورت میں چلتی ہیں۔‘‘
وَّ النّٰشِرٰتِ نَشۡرًا ۙ﴿۳﴾
’’اور ان ہواؤں کی قسم جو (بادلوں کو) پھیلا دیتی ہیں۔‘‘
فَالۡفٰرِقٰتِ فَرۡقًا ۙ﴿۴﴾
’’پھر تقسیم کرتی ہیں جدا جدا۔‘‘
سورۃ الذاریات میں ہواؤں کی اس خصوصیت کا ذکر {فَالۡمُقَسِّمٰتِ اَمۡرًا ۙ﴿۴﴾} کے الفاظ میں ہوا ہے۔یعنی ہوائیں سمندر سے بخارات کو بادلوں کی صورت میں دور دراز علاقوں تک لے جاتی ہیں‘ پھر وہ اس پانی کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق مختلف علاقوں میں بارش کی صورت میں تقسیم کرتی ہیں۔ اس تقسیم میں ان کا معاملہ ہر جگہ یکساں نہیں ہوتا بلکہ جدا جدا ہوتا ہے۔ کہیں اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت سے جل تھل ہو جاتا ہے اور کوئی علاقہ خشک رہ جاتا ہے۔
فَالۡمُلۡقِیٰتِ ذِکۡرًا ۙ﴿۵﴾
’’پھر قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو ذکر کا القاء کرتے ہیں۔‘‘
گزشتہ چار آیات کے بارے میں تقریباً تمام مفسرین متفق ہیں کہ ان میں ہواؤں کا ذکر ہے۔ البتہ اس آیت کے حوالے سے زیادہ تر مفسرین کا خیال ہے کہ اس سے فرشتے مراد ہیں ‘جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی لے کر آتے ہیں ۔البتہ بعض لوگوں کی رائے یہ ہے کہ اس آیت میں بھی ہوائوں ہی کا تذکرہ ہے ۔اس حوالے سے ان مفسرین کا استدلال یہ ہے کہ کسی نبی یا کسی داعی کی آواز بھی تو ہوا ہی کے ذریعے سے لوگوں تک پہنچتی ہے۔ یعنی پیغامات و معلومات کی ترسیل و تقسیم کا ذریعہ (medium) تو بہرحال ہوا ہی ہے۔
عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا ۙ﴿۶﴾
’’عذر کے طور پر یا خبردار کرنے کے لیے۔‘‘
وحی یا ذکر (یاد دہانی) کا ابلاغ یا تو اس لیے ہوتا ہے کہ لوگوں پر اتمامِ حجت ہو اور ان کا عذر ختم ہو جائے۔ جیسا کہ سورۃ النساء کی آیت ۱۶۵ میں انبیاء و رسل علیہم السلام کی بعثت کا مقصد واضح کرتے ہوئے فرمایا گیا : {لِئَلَّا یَکُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌۢ بَعۡدَ الرُّسُلِ ؕ} ’’تا کہ نہ رہ جائے لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت (دلیل) رسولوں ؑکے آنے کے بعد‘‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمام رسولوںؑ کو دنیا میں اسی لیے بھیجا تھا کہ ان کی بعثت کے بعد لوگوں کے پاس اُس کے ہاں پیش کرنے کے لیے کوئی عذرنہ رہ جائے ۔ وحی یا یاددہانی کا دوسرا مقصد یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ لوگوں کو خبردار کرنے (نُذْرًا) کے لیے ہوتی ہے کہ اگر وہ جاگنا چاہیں تو جاگ جائیں اور راہِ راست پر آنا چاہیں تو آجائیں۔
اب اگلی آیت میں ان قسموں کے مقسم علیہ کا ذکر ہے کہ یہ قسمیں کس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے کھائی گئی ہیں:
اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَوَاقِعٌ ؕ﴿۷﴾
’’جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ واقع ہو کر رہے گی۔‘‘
یعنی جس قیامت کے بارے میں تم لوگوں کو بار بار متنبہ کیا جا رہا ہے وہ ضرور آ کر رہے گی۔واضح رہے کہ سورۂ قٓ سے لے کر سورۃ الناس تک مکی سورتوں کا موضوع انذارِ آخرت ہے ۔اس لیے سورۃ الذاریات کی قسموں کا مقسم علیہ بھی انذارِ آخرت ہی سے متعلق تھا: {اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَصَادِقٌ ۙ﴿۵﴾وَّ اِنَّ الدِّیۡنَ لَوَاقِعٌ ؕ﴿۶﴾} ’’جو وعدہ تمہیں دیا جا رہا ہے وہ یقینا سچ ہے۔ اور جزا و سزا ضرور واقع ہو کر رہے گی‘‘۔البتہ سورۃ الصافات کے آغاز میں مذکور قسموں کا انداز تو بالکل ایسا ہی ہے لیکن وہاں ان قسموں کے مقسم علیہ کا تعلق توحید سے ہے : {اِنَّ اِلٰـہَکُمۡ لَوَاحِدٌ ﴿ؕ۴﴾} ’’یقینا تمہارا اِلٰہ ایک ہی ہے‘‘۔ اس لیے کہ سورۃ الصافات کا تعلق سورتوں کے جس گروپ سے ہے اس گروپ کا مرکزی مضمون ہی توحید ہے۔
فَاِذَا النُّجُوۡمُ طُمِسَتۡ ۙ﴿۸﴾ وَ اِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتۡ ۙ﴿۹﴾ وَ اِذَا الۡجِبَالُ نُسِفَتۡ ﴿ۙ۱۰﴾ وَ اِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتۡ ﴿ؕ۱۱﴾ لِاَیِّ یَوۡمٍ اُجِّلَتۡ ﴿ؕ۱۲﴾ لِیَوۡمِ الۡفَصۡلِ ﴿ۚ۱۳﴾ وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا یَوۡمُ الۡفَصۡلِ ﴿ؕ۱۴﴾ وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۱۵﴾
فَاِذَا النُّجُوۡمُ طُمِسَتۡ ۙ﴿۸﴾
’’پس جب ستارے مٹا دیے جائیں گے۔‘‘
یعنی بے نور کر دیے جائیں گے اور ان کی روشنی ختم ہو جائے گی۔
وَ اِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتۡ ۙ﴿۹﴾
’’اورجب آسمان میں شگاف پڑ جائیں گے۔‘‘
ایسی آیات ہمارے لیے آیات متشابہات کا درجہ رکھتی ہیں۔ البتہ توقع کی جا سکتی ہے کہ جیسے جیسے سائنسی ترقی کی بدولت انسان کی معلومات بڑھیں گی‘ ان آیات کا مفہوم بتدریج واضح ہوتا چلا جائے گا۔
وَ اِذَا الۡجِبَالُ نُسِفَتۡ ﴿ۙ۱۰﴾
’’اور جب پہاڑ (ریت بنا کر) اُڑا دیے جائیں گے۔‘‘
قیامت کے زلزلے کے باعث پہاڑ ریز ہ ریزہ ہو کر ریت کے ٹیلوں کی مانند ہو جائیں گے اور ان ٹیلوں کے ذرّات ہوا میں اُڑتے پھریں گے۔
وَ اِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتۡ ﴿ؕ۱۱﴾
’’اور جب رسولوں ؑ(کے کھڑے ہونے) کاوقت آ پہنچے گا۔‘‘
جب انبیاء ورسل علیہم السلام اللہ تعالیٰ کی عدالت میں شہادتیں دینے کے لیے کھڑے ہوں گے۔
لِاَیِّ یَوۡمٍ اُجِّلَتۡ ﴿ؕ۱۲﴾
’’(یہ معاملہ) کس دن کے لیے مؤخر کیا گیا ہے؟‘‘
لِیَوۡمِ الۡفَصۡلِ ﴿ۚ۱۳﴾
’’فیصلے کے دن کے لیے۔‘‘
یعنی انبیاء و رسل علیہم السلام کی اپنی اپنی قوموں کے خلاف گواہی (کہ اے اللہ! ہم نے تیرا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیا تھا‘ اب یہ لوگ خود جوابدہ ہیں)اور خود متعلقہ اقوام کے افراد سے پوچھ گچھ جیسے معاملات اسی فیصلے کے دن کے لیے مؤخر کیے گئے ہیں۔
وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا یَوۡمُ الۡفَصۡلِ ﴿ؕ۱۴﴾
’’اور تم لوگ کیا سمجھتے ہو کہ فیصلے کا دن کیا ہے؟‘‘
وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۱۵﴾
’’(ہلاکت اور) بربادی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘
لفظ ’’ویل‘‘ کے معنی تباہی اور بربادی کے بھی ہیں اور یہ جہنم کی ایک وادی کا نام بھی ہے‘ جس کی سختیوں سے خود جہنم بھی پناہ مانگتی ہے۔
اَلَمۡ نُہۡلِکِ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿ؕ۱۶﴾ ثُمَّ نُتۡبِعُہُمُ الۡاٰخِرِیۡنَ ﴿۱۷﴾ کَذٰلِکَ نَفۡعَلُ بِالۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿۱۸﴾ وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۱۹﴾
اَلَمۡ نُہۡلِکِ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿ؕ۱۶﴾
’’کیا ہم نے پہلوں کو ہلاک نہیں کیا ؟‘‘
ثُمَّ نُتۡبِعُہُمُ الۡاٰخِرِیۡنَ ﴿۱۷﴾
’’پھر ہم ان کے پیچھے لگاتے رہے بعد میں آنے والوں کو۔‘‘
اس سے نوعِ انسانی کی مختلف نسلوں کا یکے بعد دیگرے معمول کے مطابق دنیا میں آنا بھی مراد ہے اور ایک قوم کی تباہی کے بعد اس کی جگہ دوسری قوم کا اٹھایا جانا بھی۔ جیسے قومِ نوحؑ کی ہلاکت کے بعد قومِ عاد اور قومِ عادکی بربادی کے بعد قومِ ثمود کو پیدا کیا گیا۔
کَذٰلِکَ نَفۡعَلُ بِالۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿۱۸﴾
’’اسی طرح ہم کرتے رہے ہیں مجرموں کے ساتھ۔‘‘
وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۱۹﴾
’’(ہلاکت اور) بربادی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘
یہ اس سورت کی ترجیعی (بار بار دہرائی جانے والی) آیت ہے جو اس میں دس مرتبہ آئی ہے۔
اَلَمۡ نَخۡلُقۡکُّمۡ مِّنۡ مَّآءٍ مَّہِیۡنٍ ﴿ۙ۲۰﴾ فَجَعَلۡنٰہُ فِیۡ قَرَارٍ مَّکِیۡنٍ ﴿ۙ۲۱﴾ اِلٰی قَدَرٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴿ۙ۲۲﴾ فَقَدَرۡنَا ٭ۖ فَنِعۡمَ الۡقٰدِرُوۡنَ ﴿۲۳﴾ وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۲۴﴾
اَلَمۡ نَخۡلُقۡکُّمۡ مِّنۡ مَّآءٍ مَّہِیۡنٍ ﴿ۙ۲۰﴾
’’کیا ہم نے تمہیں حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا؟‘‘
انسان کا مادۂ تخلیق ایسی گھٹیا چیز ہے کہ جس کا نام بھی کوئی اپنی زبان پر لانا پسند نہیں کرتا۔ سورۃ الدھر میں اس حقیقت کا ذکر اس طرح آیا ہے: {ہَلۡ اَتٰی عَلَی الۡاِنۡسَانِ حِیۡنٌ مِّنَ الدَّہۡرِ لَمۡ یَکُنۡ شَیۡئًا مَّذۡکُوۡرًا ﴿۱﴾} ’’کیا انسان پر اس زمانے میں ایک ایسا وقت بھی گزرا ہے جبکہ وہ کوئی قابل ذکر شے نہیں تھا؟‘‘
فَجَعَلۡنٰہُ فِیۡ قَرَارٍ مَّکِیۡنٍ ﴿ۙ۲۱﴾
’’پھر ہم نے اس (نطفے) کو رکھ دیا ایک محفوظ مقام میں۔‘‘
یعنی اس حقیر پانی کی بوند کو مختلف مراحل سے گزارنے کے لیے ہم نے اسے ایک محفوظ مقام یعنی رحم مادر میں رکھا جو اس کے لیے ایک مضبوط قلعے کی حیثیت رکھتا ہے۔
اِلٰی قَدَرٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴿ۙ۲۲﴾
’’ایک طے شدہ مدت تک۔‘‘
فَقَدَرۡنَا ٭ۖ فَنِعۡمَ الۡقٰدِرُوۡنَ ﴿۲۳﴾
’’تو ہم نے اندازہ مقرر کیا ‘اور ہم کیا ہی اچھے ہیں اندازہ مقرر کرنے والے !‘‘
اس آیت کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ ہم نے یہ سب کچھ اپنی قدرت سے کیا اور ہم کیا ہی اچھی قدرت رکھنے والے ہیں!
وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۲۴﴾
’’(ہلاکت اور) بربادی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘
اَلَمۡ نَجۡعَلِ الۡاَرۡضَ کِفَاتًا ﴿ۙ۲۵﴾ اَحۡیَآءً وَّ اَمۡوَاتًا ﴿ۙ۲۶﴾ وَّ جَعَلۡنَا فِیۡہَا رَوَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّ اَسۡقَیۡنٰکُمۡ مَّآءً فُرَاتًا ﴿ؕ۲۷﴾ وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۲۸﴾
اَلَمۡ نَجۡعَلِ الۡاَرۡضَ کِفَاتًا ﴿ۙ۲۵﴾
’’کیا ہم نے زمین کو نہیں بنا دیا سمیٹ لینے والی؟‘‘
اَحۡیَآءً وَّ اَمۡوَاتًا ﴿ۙ۲۶﴾
’’زندوں کو بھی اور مردوں کو بھی!‘‘
اللہ تعالیٰ نے یہ زمین ایسی بنائی ہے کہ یہ اپنے اوپر موجود ہر زندہ وجود کی تمام ضروریات پوری کر رہی ہے اور ہر قسم کے مردہ کو بھی تحلیل کر کے اپنے اندر جذب کرلیتی ہے۔ اس حیثیت سے اللہ تعالیٰ نے اس زمین میں ایسی گنجائش رکھی ہے کہ یہ تاقیامِ قیامت تمام زندوں اور تمام مردوں کے لیے کفایت کرے گی۔
وَّ جَعَلۡنَا فِیۡہَا رَوَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّ اَسۡقَیۡنٰکُمۡ مَّآءً فُرَاتًا ﴿ؕ۲۷﴾
’’اور ہم نے اس کے اندر بنا دیے خوب جمے ہوئے اونچے اونچے پہاڑ اور ہم نے تمہیں پلایا (اس میں سے) تسکین بخش پانی ۔‘‘
وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۲۸﴾
’’(ہلاکت اور) بربادی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘
ان تمام آیات میں تذکیر بآلاء اللہ کا انداز ہے ۔یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرتوں ‘نعمتوں اور اس کے احسانات کے ذکر سے یاد دہانی کرائی جا رہی ہے۔