بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

الإنسان

آیات ۱ تا ۳۱

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

تمہیدی کلمات

سورۃ الدھر اور سورۃ القیامہ کے مابین جوڑے کا تعلق ہے ۔اس تعلق کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ دونوں سورتیں مضمون کے تسلسل کی بنا پر باہم جڑی ہوئی ہیں۔ سورۃ القیامہ کا اختتام انسان کی تخلیق کے ذکر سے ہوا اور اسی مضمون سے سورۃ الدھر کا آغاز ہو رہا ہے۔

1-3

خالق نے انسان کو ہدایت دی اور اختیار بھی

ویڈیو

ہَلۡ اَتٰی عَلَی الۡاِنۡسَانِ حِیۡنٌ مِّنَ الدَّہۡرِ لَمۡ یَکُنۡ شَیۡئًا مَّذۡکُوۡرًا ﴿۱﴾ اِنَّا خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ اَمۡشَاجٍ ٭ۖ نَّبۡتَلِیۡہِ فَجَعَلۡنٰہُ سَمِیۡعًۢا بَصِیۡرًا ﴿۲﴾ اِنَّا ہَدَیۡنٰہُ السَّبِیۡلَ اِمَّا شَاکِرًا وَّ اِمَّا کَفُوۡرًا ﴿۳﴾

آیت 1

ہَلۡ اَتٰی عَلَی الۡاِنۡسَانِ حِیۡنٌ مِّنَ الدَّہۡرِ لَمۡ یَکُنۡ شَیۡئًا مَّذۡکُوۡرًا ﴿۱﴾

’’کیا انسان پر اس زمانے میں ایک ایسا وقت بھی گزرا ہے جبکہ وہ کوئی قابل ذکر شے نہ تھا؟‘‘

’’دَہْر‘‘ سے مراد وہ لامتناہی زمانہ ہے جس کی نہ ابتدا انسان کو معلوم ہے نہ انتہا‘ جبکہ ’’حِیْن‘‘ سے مراد وہ خاص وقت ہے جو اس لامتناہی زمانے کے اندر کبھی پیش آیا ہو -- چنانچہ ’’دَہْر‘‘ دراصل وقت کا وہ سمندر ہے جس کے اندر سے کائنات میں رونما ہونے والے ہر قسم کے واقعات و حادثات جنم لیتے ہیں۔ وقت کے اسی سمندر میں سے ہم انسان بھی نکلے ہیں۔ ؏

’’قلزمِ ہستی سے تو اُبھرا ہے مانندِ حباب ‘‘

(اقبال)۔ چنانچہ اس قلزم ہستی کے اندر ہر انسان پر ایک وقت ایسا بھی آیا ہے جب اس کا وجود حقیر پانی کی ایک ایسی بوند کی شکل میں تھا جس کا ذکر کرنا اور نام لینا بھی کوئی پسند نہیں کرتا۔

آیت 2

اِنَّا خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ اَمۡشَاجٍ ٭ۖ

’’ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے ملے جلے نطفے سے‘‘

موجودہ دور میں سائنس نے اس آیت کا مفہوم بہت اچھی طرح واضح کر دیا ہے کہ مرد کی طرف سے spermatozoon اور ماں کی طرف سے ovum ملتے ہیں تو zygote وجود میں آتا ہے۔ لیکن ظاہر ہے پندرہ سو سال پہلے صحرائے عرب کا ایک بدو تو لفظ ’’اَمْشَاج‘‘ کو اپنی سمجھ اور عقل کے مطابق ہی سمجھا ہو گا۔ گویاقرآن مجید کے اعجاز کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے الفاظ کا مفہوم ہر زمانے کے ہر قسم کے انسانوں کے لیے قابل فہم رہا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان الفاظ کے معانی و مطالب میں نئی نئی جہتیں بھی دریافت ہوتی رہتی ہیں۔

نَّبۡتَلِیۡہِ

’’ہم اس کو اُلٹتے پلٹتے رہے‘‘

یعنی رحم مادر میں ہم نے اس ’’ نُطْفَۃٍ اَمْشَاج‘‘ کو مختلف مراحل سے گزارا۔ نطفہ سے اسے علقہ بنایا۔ علقہ کو مغضہ کی شکل میں تبدیل کیا اور پھر اس کے اعضاء درست کیے۔ ’’نَـبْـتَلِیْہِ‘‘ کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے ’’تاکہ ہم اس کو آزمائیں‘‘۔ یعنی ہم نے انسان کو امتحان اور آزمائش کے لیے پیدا کیا ہے۔

فَجَعَلۡنٰہُ سَمِیۡعًۢا بَصِیۡرًا ﴿۲﴾

’’پھر ہم نے اس کو بنا دیا سننے والا‘ دیکھنے والا۔‘‘

آیت 3

اِنَّا ہَدَیۡنٰہُ السَّبِیۡلَ

’’ ہم نے اس کو راہ سجھا دی‘‘

اس سے مراد ’’ایمان‘‘ سے متعلق وہ شعور یا وہ ہدایت اور راہنمائی ہے جو ہر انسان کی فطرت کے اندر پیدائشی طور پر موجود ہے۔ یعنی انسان اندھا اور بہرہ پیدا نہیں ہوا‘ بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظاہری اور باطنی طور پر بہترین صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ جسمانی حواس بھی دیے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اسے روح کی بصیرت بھی عطا کی ہے۔

اِمَّا شَاکِرًا وَّ اِمَّا کَفُوۡرًا ﴿۳﴾

’’اب چاہے تو وہ شکر گزار بن کر رہے ‘چاہے ناشکرا ہوکر۔‘‘

اب ظاہر ہے جس اندازاور طریقے سے انسان زندگی گزارے گا ‘اسی کے مطابق آخرت میں اس کو بدلہ دیا جائے گا۔

4

ناشکروں کا برا انجام

ویڈیو

اِنَّاۤ اَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ سَلٰسِلَا۠ وَ اَغۡلٰلًا وَّ سَعِیۡرًا ﴿۴﴾

آیت 4

اِنَّاۤ اَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ سَلٰسِلَا۠ وَ اَغۡلٰلًا وَّ سَعِیۡرًا ﴿۴﴾

’’یقینا کافروں کے لیے ہم نے تیار کر رکھی ہیں زنجیریں اور طوق اور دہکتی ہوئی آگ۔‘‘

5-10

شکر گزاری کی راہ اور حسین انجام

ویڈیو

اِنَّ الۡاَبۡرَارَ یَشۡرَبُوۡنَ مِنۡ کَاۡسٍ کَانَ مِزَاجُہَا کَافُوۡرًا ۚ﴿۵﴾ عَیۡنًا یَّشۡرَبُ بِہَا عِبَادُ اللّٰہِ یُفَجِّرُوۡنَہَا تَفۡجِیۡرًا ﴿۶﴾ یُوۡفُوۡنَ بِالنَّذۡرِ وَ یَخَافُوۡنَ یَوۡمًا کَانَ شَرُّہٗ مُسۡتَطِیۡرًا ﴿۷﴾ وَ یُطۡعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسۡکِیۡنًا وَّ یَتِیۡمًا وَّ اَسِیۡرًا ﴿۸﴾ اِنَّمَا نُطۡعِمُکُمۡ لِوَجۡہِ اللّٰہِ لَا نُرِیۡدُ مِنۡکُمۡ جَزَآءً وَّ لَا شُکُوۡرًا ﴿۹﴾ اِنَّا نَخَافُ مِنۡ رَّبِّنَا یَوۡمًا عَبُوۡسًا قَمۡطَرِیۡرًا ﴿۱۰﴾

آیت 5

اِنَّ الۡاَبۡرَارَ یَشۡرَبُوۡنَ مِنۡ کَاۡسٍ کَانَ مِزَاجُہَا کَافُوۡرًا ۚ﴿۵﴾

’’یقینانیکوکار بندے ایسی شراب کے جام نوش کریں گے جس میں کافور کی ملونی ہو گی۔‘‘

ایک طرف کفار و مشرکین زنجیروں اور طوقوں میں جکڑے جہنم کی آگ میں جل رہے ہوں گے تو دوسری طرف اللہ کے فرمانبردار اور نیکوکار بندے جنت کی نعمتوں میں دادِ عیش دے رہے ہوں گے۔ جنت میں انہیں آبِ کافور کی آمیزش والی شرابِ طہور بھی پیش کی جائے گی۔آگے اس چشمۂ کافور کی مزید وضاحت ہے:

آیت 6

عَیۡنًا یَّشۡرَبُ بِہَا عِبَادُ اللّٰہِ یُفَجِّرُوۡنَہَا تَفۡجِیۡرًا ﴿۶﴾

’’یہ ایک چشمہ ہے جس میں سے اللہ کے خاص بندے پئیں گے اور جدھر چاہیں گے اس کی شاخیں نکال لے جائیں گے۔‘‘

یعنی اگر وہ چاہیں گے تو اس چشمے میں سے اپنی مرضی سے نہریں نکال کر اپنے اپنے علاقے کی طرف لے جائیں گے۔

آیت 7

یُوۡفُوۡنَ بِالنَّذۡرِ وَ یَخَافُوۡنَ یَوۡمًا کَانَ شَرُّہٗ مُسۡتَطِیۡرًا ﴿۷﴾

’’وہ نذر کو پورا کرتے ہیں اور ڈرتے رہتے ہیں اُس دن سے جس کا شر ہر سو پھیل جائے گا۔‘‘

آیت 8

وَ یُطۡعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسۡکِیۡنًا وَّ یَتِیۡمًا وَّ اَسِیۡرًا ﴿۸﴾

’’اور وہ کھانا کھلاتے ہیں اللہ کی محبت میں مسکین کو‘ یتیم کو اور قیدی کو۔‘‘

عَلٰی حُبِّہ کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ وہ مال کی محبت کے علی الرغم کھانا کھلاتے ہیں۔ یعنی ایک مفہوم تو یہ ہے کہ وہ لوگ اللہ کی محبت میں بھوکوں کو کھانا کھلاتے ہیں اوردوسرا یہ کہ اگرچہ ان کے دلوں میں بھی مال سے محبت کا جذبہ ہے اور ان کا جی بھی چاہتا ہے کہ وہ اپنے مال کو سنبھال سنبھال کر رکھیں ‘لیکن اپنے ان جذبات کے باوجود وہ محض اللہ کی رضا کے لیے مستحقین کو کھانا کھلانے میں اپنا مال خرچ کرتے رہتے ہیں۔ ہم پڑھ چکے ہیں کہ حبِ مال کا علاج ہی انفاق فی سبیل اللہ ہے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کو قرآن مجید میں جگہ جگہ بشارتیں دی گئی ہیں۔ملاحظہ ہو سورۃ الحدید کی یہ آیت :

دوسرے مقام کی آیت

اِنَّ الۡمُصَّدِّقِیۡنَ وَ الۡمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقۡرَضُوا اللّٰہَ قَرۡضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَہُمۡ وَ لَہُمۡ اَجۡرٌ کَرِیۡمٌ ﴿۱۸﴾

’’یقینا صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور جو اللہ کو قرضِ حسنہ دیں ‘ان کو کئی گنا بڑھا کر دیا جائے گا اور ان کے لیے بڑا باعزت اجر ہو گا۔‘‘

آیت 9

اِنَّمَا نُطۡعِمُکُمۡ لِوَجۡہِ اللّٰہِ

’’(اور کہتے ہیں کہ) ہم تو آپ کو یہ کھانا کھلا رہے ہیں صرف اللہ (کی رضا) کے لیے‘‘

لَا نُرِیۡدُ مِنۡکُمۡ جَزَآءً وَّ لَا شُکُوۡرًا ﴿۹﴾

’’ہم آپ سے نہ تو کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ ہی شکریہ۔‘‘

آیت 10

اِنَّا نَخَافُ مِنۡ رَّبِّنَا یَوۡمًا عَبُوۡسًا قَمۡطَرِیۡرًا ﴿۱۰﴾

’’ہم تو ڈرتے ہیں اپنے رب کی طرف سے ایک ایسے دن سے جس کی اداسی بڑی ہولناک ہو گی۔‘‘

عَبُوْس کا لفظ ایسے شخص کے لیے بولا جاتا ہے جس کے چہرے پر کبھی مسکراہٹ نہ آتی ہو ‘بلکہ غصہ اور وحشت برستی ہو۔ جب کہ قمطریر کا معنی ہے بہت سخت‘ بہت کرخت‘ ہولناک او ر طویل۔چنانچہ یہاں اس سے مراد میدانِ محشر کی وہ کیفیت ہے جس کی وجہ سے کھرب ہا کھرب انسان متفکر اور پریشان ہوں گے اور ان میں سے کسی ایک کے چہرے پر بھی مسکراہٹ کے آثار تک نظر نہیں آئیں گے۔

11-23

شکر گزاری کی روش کے انعامات

ویڈیو

فَوَقٰہُمُ اللّٰہُ شَرَّ ذٰلِکَ الۡیَوۡمِ وَ لَقّٰہُمۡ نَضۡرَۃً وَّ سُرُوۡرًا ﴿ۚ۱۱﴾ وَ جَزٰىہُمۡ بِمَا صَبَرُوۡا جَنَّۃً وَّ حَرِیۡرًا ﴿ۙ۱۲﴾ مُّتَّکِـِٕیۡنَ فِیۡہَا عَلَی الۡاَرَآئِکِ ۚ لَا یَرَوۡنَ فِیۡہَا شَمۡسًا وَّ لَا زَمۡہَرِیۡرًا ﴿ۚ۱۳﴾ وَ دَانِیَۃً عَلَیۡہِمۡ ظِلٰلُہَا وَ ذُلِّلَتۡ قُطُوۡفُہَا تَذۡلِیۡلًا ﴿۱۴﴾ وَ یُطَافُ عَلَیۡہِمۡ بِاٰنِیَۃٍ مِّنۡ فِضَّۃٍ وَّ اَکۡوَابٍ کَانَتۡ قَؔوَارِیۡرَا۠ ﴿ۙ۱۵﴾ قَؔ‍وَارِیۡرَا۠ مِنۡ فِضَّۃٍ قَدَّرُوۡہَا تَقۡدِیۡرًا ﴿۱۶﴾ وَ یُسۡقَوۡنَ فِیۡہَا کَاۡسًا کَانَ مِزَاجُہَا زَنۡجَبِیۡلًا ﴿ۚ۱۷﴾ عَیۡنًا فِیۡہَا تُسَمّٰی سَلۡسَبِیۡلًا ﴿۱۸﴾ وَ یَطُوۡفُ عَلَیۡہِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ ۚ اِذَا رَاَیۡتَہُمۡ حَسِبۡتَہُمۡ لُؤۡلُؤًا مَّنۡثُوۡرًا ﴿۱۹﴾ وَ اِذَا رَاَیۡتَ ثَمَّ رَاَیۡتَ نَعِیۡمًا وَّ مُلۡکًا کَبِیۡرًا ﴿۲۰﴾ عٰلِیَہُمۡ ثِیَابُ سُنۡدُسٍ خُضۡرٌ وَّ اِسۡتَبۡرَقٌ ۫ وَّ حُلُّوۡۤا اَسَاوِرَ مِنۡ فِضَّۃٍ ۚ وَ سَقٰہُمۡ رَبُّہُمۡ شَرَابًا طَہُوۡرًا ﴿۲۱﴾ اِنَّ ہٰذَا کَانَ لَکُمۡ جَزَآءً وَّ کَانَ سَعۡیُکُمۡ مَّشۡکُوۡرًا ﴿٪۲۲﴾ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا عَلَیۡکَ الۡقُرۡاٰنَ تَنۡزِیۡلًا ﴿ۚ۲۳﴾

آیت 11

فَوَقٰہُمُ اللّٰہُ شَرَّ ذٰلِکَ الۡیَوۡمِ

’’تو اللہ انہیں بچا لے گا اُس دن کے شر سے‘‘

وَ لَقّٰہُمۡ نَضۡرَۃً وَّ سُرُوۡرًا ﴿ۚ۱۱﴾

’’اور بخش دے گا انہیں تروتازگی اور مسرت۔‘‘

یعنی چہروں کی تازگی اور دلوں کا سرور۔

آیت 12

وَ جَزٰىہُمۡ بِمَا صَبَرُوۡا جَنَّۃً وَّ حَرِیۡرًا ﴿ۙ۱۲﴾

’’اور بدلے میں دے گا انہیں ان کے صبر کے سبب جنت اور ریشم کا لباس۔‘‘

دنیا میں وہ لوگ مشکل سے مشکل حالات میں بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجاآوری میں لگے رہے۔ انہوں نے فاقوں سے رہنا گوارا کر لیا لیکن حرام کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے انہوں نے اپنی جانیں تک قربان کر دیں۔ ان کے اس صبر کے بدلے میں اللہ تعالیٰ انہیں رہنے کے لیے جنت اور پہننے کے لیے ریشم کی پوشاکیں عطا کرے گا۔

آیت 13

مُّتَّکِـِٕیۡنَ فِیۡہَا عَلَی الۡاَرَآئِکِ ۚ

’’وہ تکیے لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے اس میں تختوں کے اوپر۔‘‘

لَا یَرَوۡنَ فِیۡہَا شَمۡسًا وَّ لَا زَمۡہَرِیۡرًا ﴿ۚ۱۳﴾

’’نہیں دیکھیں گے وہ اس میں دھوپ کی حدت اور نہ سخت سردی۔‘‘

زَمْہَرِیر ایسی سخت سردی کو کہتے ہیں جو انسان پر زبردست کپکپی طاری کر دے۔ چنانچہ جنت میں اہل جنت کو نہ تو دھوپ کی تپش تنگ کرے گی اور نہ ہی انہیں ٹھٹھرنے والی سردی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ گویا جنت میں مسلسل معتدل موسم کا سماں ہو گا۔

آیت 14

وَ دَانِیَۃً عَلَیۡہِمۡ ظِلٰلُہَا

’’اور جنت کے سائے ان کے اوپر جھکے ہوئے ہوں گے‘‘

وَ ذُلِّلَتۡ قُطُوۡفُہَا تَذۡلِیۡلًا ﴿۱۴﴾

’’اور اس کے پھلوں کے خوشے نیچے جھکے ہوئے لٹک رہے ہوں گے۔‘‘

آیت 15

وَ یُطَافُ عَلَیۡہِمۡ بِاٰنِیَۃٍ مِّنۡ فِضَّۃٍ وَّ اَکۡوَابٍ کَانَتۡ قَؔوَارِیۡرَا۠ ﴿ۙ۱۵﴾

’’اور گردش میں ہوں گے ان پر (خدامِ جنت) چاندی کے برتنوں اور شیشے کے پیالوں کے ساتھ۔‘‘

آیت 16

قَؔ‍وَارِیۡرَا۠ مِنۡ فِضَّۃٍ

’’ایسا شیشہ جو چاندی کا ہوگا‘‘

دراصل وہ آب خورے یا جام انتہائی نفیس اور شفاف (crystal clear) چاندی سے بنے ہوں گے‘ لیکن دیکھنے میں وہ شیشے جیسے ہوں گے۔

قَدَّرُوۡہَا تَقۡدِیۡرًا ﴿۱۶﴾

’’ان کو (ساقیانِ جنت نے) بھرا ہو گا بھرپور اندازے کے مطابق۔‘‘

آیت 17

وَ یُسۡقَوۡنَ فِیۡہَا کَاۡسًا کَانَ مِزَاجُہَا زَنۡجَبِیۡلًا ﴿ۚ۱۷﴾

’’اور ان کو پلایا جائے گا اس میں ایساجام کہ جس میں ملونی ہو گی سونٹھ کی۔‘‘

آیت 18

عَیۡنًا فِیۡہَا تُسَمّٰی سَلۡسَبِیۡلًا ﴿۱۸﴾

’’یہ ایک چشمہ ہے اس (جنت) میں جس کا نام سلسبیل ہے۔‘‘

آیت 19

وَ یَطُوۡفُ عَلَیۡہِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ ۚ

’’اور ان پر گردش میں رہیں گے ایسے لڑکے (خدامِ جنت) جو ہمیشہ اسی عمر (اور شکل) میں رہیں گے۔‘‘

اِذَا رَاَیۡتَہُمۡ حَسِبۡتَہُمۡ لُؤۡلُؤًا مَّنۡثُوۡرًا ﴿۱۹﴾

’’ جب تم انہیں دیکھو گے تو محسوس کرو گے کہ جیسے وہ موتی ہیں بکھرے ہوئے۔‘‘

یعنی وہ نوعمر خادم نہایت خوبصور ت ہوں گے۔

آیت 20

وَ اِذَا رَاَیۡتَ ثَمَّ رَاَیۡتَ نَعِیۡمًا وَّ مُلۡکًا کَبِیۡرًا ﴿۲۰﴾

’’اور تم جہاں بھی دیکھو گے وہیں نعمتیں ہی نعمتیں اور بہت بڑی بادشاہی دیکھو گے۔‘‘

آیت 21

عٰلِیَہُمۡ ثِیَابُ سُنۡدُسٍ خُضۡرٌ وَّ اِسۡتَبۡرَقٌ ۫

’’ان کے اوپر لباس ہوں گے باریک سبز ریشم کے اور گاڑھے ریشم کے‘‘

وَّ حُلُّوۡۤا اَسَاوِرَ مِنۡ فِضَّۃٍ ۚ

’’اور انہیں کنگن پہنائے جائیں گے چاندی کے۔‘‘

وَ سَقٰہُمۡ رَبُّہُمۡ شَرَابًا طَہُوۡرًا ﴿۲۱﴾

’’اور پلائے گا انہیں ان کا پروردگار نہایت پاکیزہ مشروب۔‘‘

آیت 22

اِنَّ ہٰذَا کَانَ لَکُمۡ جَزَآءً وَّ کَانَ سَعۡیُکُمۡ مَّشۡکُوۡرًا ﴿٪۲۲﴾

’’(اور کہا جائے گا:) یہ تم لوگوں کے لیے بدلہ ہے ‘اور تمہاری جدوجہد مقبول ہو چکی ہے۔‘‘

تم لوگ اپنی دنیوی زندگی میں غلبہ دین کے لیے جوجدوجہد کرتے رہے تھے وہ اللہ کے ہاں قبول کر لی گئی ہے اور اس کی قدردانی کے طور پر تم لوگوں کو جنت اور اس کی نعمتوں سے نوازا جا رہا ہے۔ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ!

آیت 23

اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا عَلَیۡکَ الۡقُرۡاٰنَ تَنۡزِیۡلًا ﴿ۚ۲۳﴾

’’(اے نبیﷺ) ہم نے ہی نازل کیا ہے آپ پر قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے۔‘‘

24-26

صبر اور ذکر کی تلقین

ویڈیو

فَاصۡبِرۡ لِحُکۡمِ رَبِّکَ وَ لَا تُطِعۡ مِنۡہُمۡ اٰثِمًا اَوۡ کَفُوۡرًا ﴿ۚ۲۴﴾ وَ اذۡکُرِ اسۡمَ رَبِّکَ بُکۡرَۃً وَّ اَصِیۡلًا ﴿ۖۚ۲۵﴾ وَ مِنَ الَّیۡلِ فَاسۡجُدۡ لَہٗ وَ سَبِّحۡہُ لَیۡلًا طَوِیۡلًا ﴿۲۶﴾

آیت 24

فَاصۡبِرۡ لِحُکۡمِ رَبِّکَ

’’تو آپ انتظار کیجیے اپنے رب کے حکم کا‘‘

ربطِ مضمون کے اعتبار سے یوں سمجھئے کہ ان آیات کا تعلق سورۃ القیامہ کی ان آیات سے ہے : {لَا تُحَرِّکۡ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعۡجَلَ بِہٖ ﴿ؕ۱۶﴾اِنَّ عَلَیۡنَا جَمۡعَہٗ وَ قُرۡاٰنَہٗ ﴿ۚۖ۱۷﴾} ’’آپؐ اس (قرآن) کے ساتھ اپنی زبان کو تیزی سے حرکت نہ دیں۔اسے جمع کرنا اور پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے‘‘۔یعنی ہم نے قرآن مجید کو بطرزِ تنزیل (تھوڑا تھوڑا کر کے )ہی نازل کرناہے ‘ہماری مشیت اسی میں ہے۔ ہمارا ہر حکم اور ہر فیصلہ اسی وقت پر نازل ہو گا جو وقت ہم نے اس کے نزول کے لیے طے کر رکھا ہے ۔ چنانچہ آپؐ کو نہ صرف نزولِ قرآن کے حوالے سے صبر کرنا ہے بلکہ مخالفت کا سامنا کرتے ہوئے بھی آپؐ کو اپنے رب کے احکام کا منتظر رہنا ہے۔

وَ لَا تُطِعۡ مِنۡہُمۡ اٰثِمًا اَوۡ کَفُوۡرًا ﴿ۚ۲۴﴾

’’اور آپؐ ان میں سے کسی گناہگار یا ناشکرے کی باتوں پر دھیان نہ دیجیے۔‘‘

آیت 25

وَ اذۡکُرِ اسۡمَ رَبِّکَ بُکۡرَۃً وَّ اَصِیۡلًا ﴿ۖۚ۲۵﴾

’’اور اپنے رب کے نام کا ذکر کیجیے صبح و شام۔‘‘

آیت 26

وَ مِنَ الَّیۡلِ فَاسۡجُدۡ لَہٗ

’’اور رات کے ایک حصے میں اس کے لیے سجدہ کیا کیجیے‘‘

وَ سَبِّحۡہُ لَیۡلًا طَوِیۡلًا ﴿۲۶﴾

’’اور رات کے بڑے حصے میں اُس کی تسبیح کیا کیجیے۔‘‘

یہ اسی حکم کا تسلسل ہے جو سورۃ المزمل کی ابتدائی آیات میں دیا گیا تھا۔ یعنی آپؐ رات کا بیشتر حصہ اللہ کے حضور کھڑے ہو کر قرآن پڑھنے‘ اس کے حضور سربسجود رہنے اور اس کی تسبیح کرنے میں صرف کیا کریں۔ اُس وقت تک چونکہ ابھی نماز پنجگانہ کا حکم نہیں آیا تھا‘ اس لیے سارا زور رات کی عبادت پر تھا۔ بعد میں جب نماز پنجگانہ کی فرضیت کا حکم آ گیا تو اس ’’قیام اللیل‘‘ کو مختصر کر کے تہجد میں تبدیل کر دیاگیا۔ وہ بھی سب کے لیے نہیں صرف حضورﷺکے لیے: {وَ مِنَ الَّیۡلِ فَتَہَجَّدۡ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ ٭ۖ} (بنی اسراء یل:۷۹) ۔ نَافِلَۃ کے لفظی معنی اضافی اور زائد کے ہیں ۔یعنی حضورﷺ کے لیے نماز تہجد باقی فرض نمازوں کے علاوہ اضافی فرض کے درجے میں تھی‘ جبکہ اُمت کے لیے اس کی حیثیت نفل کی ہے۔

27-29

انسان کی اصل کمزوری

ویڈیو

اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَۃَ وَ یَذَرُوۡنَ وَرَآءَہُمۡ یَوۡمًا ثَقِیۡلًا ﴿۲۷﴾ نَحۡنُ خَلَقۡنٰہُمۡ وَ شَدَدۡنَاۤ اَسۡرَہُمۡ ۚ وَ اِذَا شِئۡنَا بَدَّلۡنَاۤ اَمۡثَالَہُمۡ تَبۡدِیۡلًا ﴿۲۸﴾ اِنَّ ہٰذِہٖ تَذۡکِرَۃٌ ۚ فَمَنۡ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیۡلًا ﴿۲۹﴾

آیت 27

اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَۃَ وَ یَذَرُوۡنَ وَرَآءَہُمۡ یَوۡمًا ثَقِیۡلًا ﴿۲۷﴾

’’یقینا یہ لوگ فوری ملنے والی چیز (دنیا) سے محبت کرتے ہیں اور ایک بھاری دن جو ان کے پیچھے آنے والا ہے ‘اس کا دھیان چھوڑے بیٹھے ہیں۔‘‘

یعنی قیامت کا سخت دن : {یَوۡمًا یَّجۡعَلُ الۡوِلۡدَانَ شِیۡبَۨا ﴿٭ۖ۱۷﴾} (المزمل) ’’وہ دن جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا‘‘۔ اس آیت کے مضمون کا ربط سورۃ القیامہ کی ان آیات کے ساتھ ہے : {کَلَّا بَلۡ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَۃَ ﴿ۙ۲۰﴾وَ تَذَرُوۡنَ الۡاٰخِرَۃَ ﴿ؕ۲۱﴾} ’’ہرگز نہیں! اصل میں تم لوگ عاجلہ (جلد ملنے والی چیز) سے محبت کرتے ہو۔اور تم آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔‘‘

آیت 28

نَحۡنُ خَلَقۡنٰہُمۡ وَ شَدَدۡنَاۤ اَسۡرَہُمۡ ۚ

’’ہم نے ہی ان کو تخلیق فرمایا ہے اور ان کے جوڑ بند مضبوط کیے ہیں۔‘‘

وَ اِذَا شِئۡنَا بَدَّلۡنَاۤ اَمۡثَالَہُمۡ تَبۡدِیۡلًا ﴿۲۸﴾

’’اور ہم جب چاہیں گے ان جیسے بدل کر اور لے آئیں گے۔‘‘

عام طور پر اس آیت کا مفہوم یہ لیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب چاہے ایک قوم کو ختم کر کے اس کی جگہ کسی دوسری قوم کو لے آئے۔ لیکن اس سے پہلے چونکہ انسانی تخلیق اور انسانی جسم کے جوڑبند درست کرنے کا ذکر ہوا ہے اس لیے میرے نزدیک اس جملے کا درست مفہوم یہ ہے کہ آخرت میں ہم ان لوگوں کو ان کے دنیوی زندگی والے جسموں جیسے اور جسم عطا کر دیں گے۔ واضح رہے کہ یہ مضمون قبل ازیں سورۂ بنی اسرائیل : ۹۹ ‘سورۃ الواقعہ : ۶۱ اور سورۂ یٰسٓ :۸۱ میں بھی آ چکا ہے۔

آیت 29

اِنَّ ہٰذِہٖ تَذۡکِرَۃٌ ۚ

’’یقینا یہ تو ایک یاد دہانی ہے۔‘‘

فَمَنۡ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیۡلًا ﴿۲۹﴾

’’توجو چاہے اپنے ربّ کی طرف راستہ اختیار کرلے۔‘‘

یعنی جس کا جی چاہے اپنے رب کے قرب کا راستہ اختیار کر لے۔ اس مضمون کے حوالے سے صوفیاء کے ہاں سیر اِلی اللہ‘ تقرب اِلی اللہ‘ سلوک اِلی اللہ وغیرہ اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔

30-31

نیک راہ پر اللہ ہی چلاتا ہے

ویڈیو

وَ مَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿٭ۖ۳۰﴾ یُّدۡخِلُ مَنۡ یَّشَآءُ فِیۡ رَحۡمَتِہٖ ؕ وَ الظّٰلِمِیۡنَ اَعَدَّ لَہُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿٪۳۱﴾

آیت 30

وَ مَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ ؕ

’’اور تمہارے چاہے کچھ نہیں ہو سکتا ‘جب تک کہ اللہ نہ چاہے۔‘‘

اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿٭ۖ۳۰﴾

’’یقینا اللہ سب کچھ جاننے والا ‘ کمال حکمت والا ہے۔‘‘

آیت 31

یُّدۡخِلُ مَنۡ یَّشَآءُ فِیۡ رَحۡمَتِہٖ ؕ

’’وہ داخل کرے گا اپنی رحمت میں جس کو چاہے گا۔‘‘

ظاہر ہے دنیا و آخرت کا کوئی کام بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ ہم اللہ کے حکم اور اذن کے بغیر کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ اگر کوئی شخص ایک کام کرنے پر بظاہر قادر بھی ہو تو وہ اس کام کو اس وقت تک انجام نہیں دے سکتا جب تک اس کی مشیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مشیت بھی شامل نہ ہو۔ اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ جس طرح ہم خود اللہ کی مخلوق ہیں اسی طرح ہمارے تمام اعمال بھی اللہ کی مخلوق ہیں۔ سورۃ الصَّافّات میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : {وَ اللّٰہُ خَلَقَکُمۡ وَ مَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۶﴾} کہ اللہ نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے اور تمہارے اعمال کو بھی۔ اس مفہوم میں ہر انسان اپنی نیت اور اپنے ارادے کی بنا پر ’’کاسبِ اعمال‘‘ ہے ‘جبکہ ’’خالق اعمال‘‘ اللہ تعالیٰ ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا اسے ایسے اعمال کی توفیق دے گا جن کی بنا پر وہ اس کی رحمت کا مستحق ٹھہرے گا۔

اس جملے کا ایک ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ داخل کرے گا اپنی رحمت میں ‘اسے جو چاہے گا ۔یعنی وہ صرف اسی شخص کو اپنی رحمت کے سائے میں جگہ دے گا جو اس کی رحمت کا مستحق بننے کے لیے کوشاں ہو گا۔ جیسا کہ سورۂ بنی اسرائیل میں فرمایاگیا ہے : {وَ مَنۡ اَرَادَ الۡاٰخِرَۃَ وَ سَعٰی لَہَا سَعۡیَہَا وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓئِکَ کَانَ سَعۡیُہُمۡ مَّشۡکُوۡرًا ﴿۱۹﴾}

یعنی جس شخص نے آخرت کو اپنا اصل مقصود بنا لیا اور اس کے لیے اس نے مقدور بھر محنت بھی کی اور وہ مؤمن بھی ہو‘ تو اس کی وہ محنت اور کوشش اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول و مشکورہوگی۔

وَ الظّٰلِمِیۡنَ اَعَدَّ لَہُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿٪۳۱﴾

’’اور رہے ظالم ‘تو ان کے لیے اُس نے بہت دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘

اَللّٰھُمَّ اَعِذْنَا مِنْ ذٰلِکَ ! اَللّٰھُمَّ اَجِرْنَا مِنْ ذٰلِکَ!

یوٹیوب پر دیکھیے