بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

الجن

آیات ۱ تا ۱۷

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

تمہیدی کلمات

سورۃ الجن منفرد سورت ہے ‘اس کا کوئی جوڑا نہیں ۔یہ قرآن مجید کی واحد سورت ہے جس میں جنات کا تفصیلی ذکر آیا ہے۔ اس کے علاوہ سورۃ الرحمن اور سورۃ الاحقاف میں بھی جنات کا تذکرہ ہے۔ سورۃ الاحقاف میں ان جنات کے بارے میں بتایا گیا ہے جو حضورﷺ سے قرآن مجید سن کر ایمان لے آئے تھے‘ جبکہ سورۃ الرحمن میں انسانوں اور جنوں کو {یٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ…} ایک ساتھ مسلسل مخاطب کیا گیا ہے ۔ اس حوالے سے سورۃ الرحمن کی ترجیعی آیت {فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿﴾} پوری سورت میں اکتیس (۳۱)مرتبہ دہرائی گئی ہے۔

زیر مطالعہ سورت میں جنات کے ایک گروہ کے کچھ افراد کی باہمی گفتگو کا ذکر ہے۔ ممکن ہے یہ وہی گروہ ہو جس کا ذکر سورۃ الاحقاف میں آ چکا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ کوئی دوسرا گروہ ہو۔

1-3

قرآن کی عظمت جنّات کی زبانی

ویڈیو

قُلۡ اُوۡحِیَ اِلَیَّ اَنَّہُ اسۡتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الۡجِنِّ فَقَالُوۡۤا اِنَّا سَمِعۡنَا قُرۡاٰنًا عَجَبًا ۙ﴿۱﴾ یَّہۡدِیۡۤ اِلَی الرُّشۡدِ فَاٰمَنَّا بِہٖ ؕ وَ لَنۡ نُّشۡرِکَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًا ۙ﴿۲﴾ وَّ اَنَّہٗ تَعٰلٰی جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَۃً وَّ لَا وَلَدًا ۙ﴿۳﴾

آیت 1

قُلۡ اُوۡحِیَ اِلَیَّ اَنَّہُ اسۡتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الۡجِنِّ

’’(اے نبیﷺ!) آپ کہہ دیجیے : میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جنات کی ایک جماعت نے بڑے غور سے سنا‘‘

جنات کی جماعت نے کیا سنا؟ اس کا جواب اگلے جملے میں ہے۔

فَقَالُوۡۤا اِنَّا سَمِعۡنَا قُرۡاٰنًا عَجَبًا ۙ﴿۱﴾

’’تو انہوں نے (جا کر دوسرے جنات سے) کہا کہ ہم نے سنا ہے ایک بہت ہی دل کو لبھانے والا قرآن۔‘‘

آیت 2

یَّہۡدِیۡۤ اِلَی الرُّشۡدِ فَاٰمَنَّا بِہٖ ؕ

’’جو راہِ راست کی طرف راہنمائی کرتا ہے‘تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘

قرآن کے بارے میں جنات کا یہ ردِّعمل ہم انسانوں کے لیے باعث عبرت اور لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے ایک مرتبہ قرآن سنا اور وہ اس پر فوراً ایمان لے آئے ‘بلکہ قرآن کو سن کر نہ صرف اس پر فوراً ایمان لے آئے بلکہ داعی بن کر اس کا پیغام اپنی قوم تک پہنچانے کے لیے نکل کھڑے ہوئے ۔ دوسری طرف ہم ہیں کہ قرآن کو بار بار پڑھتے ہیں‘ بار بار سنتے ہیں‘ لیکن ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم قرآن مجید کو اس نیت سے اور اس انداز سے پڑھتے یا سنتے ہی نہیں کہ وہ ہمارے دِلوں میں اُترے۔ ہم تو رمضان کے قیام اللیل کے لیے بھی اس مسجد کاانتخاب کرتے ہیں جہاں کے قاری صاحب کم سے کم وقت میں ’’منزل‘‘ طے کر لیتے ہوں۔ بلکہ آج کل تو باقاعدہ اشتہارات کے ذریعے مختلف مساجد میں ایک سے بڑھ کر ایک ’’پرکشش پیکج‘‘ پیش کیا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں صرف اتنے دنوں میں قرآن ختم کرا دیا جاتا ہے … ہماری مسجد میں نماز تراویح صرف تیس منٹ میں پڑھا دی جاتی ہے ‘وغیرہ و غیرہ ---- اندازہ کیجیے! جہاں قرآن مجید کم از کم وقت میں ختم کرنے کے لیے دوڑیں لگی ہوں وہاں سمجھنے‘ سمجھانے کی فرصت کسے ہو گی؟ اب ذرا اس طرزِعمل کے مقابلے میں مذکورہ جنات کے رویے کا تصور کریں جو ایک ہی مرتبہ قرآن مجید کو سن کر کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔ قرآن پر ایمان لانے کا اعلان کرنے کے بعد انہوں نے کہا:

وَ لَنۡ نُّشۡرِکَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًا ۙ﴿۲﴾

’’اور اب ہم کبھی بھی اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔‘‘

آیت 3

وَّ اَنَّہٗ تَعٰلٰی جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَۃً وَّ لَا وَلَدًا ۙ﴿۳﴾

’’اور یہ کہ ہمارے ربّ کی شان بہت بلند ہے ‘اُس نے اپنے لیے نہ کوئی بیوی بنائی ہے اور نہ کوئی اولاد۔‘‘

4-7

گمراہی کا سبب . . . انکارِ آخرت

ویڈیو

وَّ اَنَّہٗ کَانَ یَقُوۡلُ سَفِیۡہُنَا عَلَی اللّٰہِ شَطَطًا ۙ﴿۴﴾ وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنۡ لَّنۡ تَقُوۡلَ الۡاِنۡسُ وَ الۡجِنُّ عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا ۙ﴿۵﴾ وَّ اَنَّہٗ کَانَ رِجَالٌ مِّنَ الۡاِنۡسِ یَعُوۡذُوۡنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الۡجِنِّ فَزَادُوۡہُمۡ رَہَقًا ۙ﴿۶﴾ وَّ اَنَّہُمۡ ظَنُّوۡا کَمَا ظَنَنۡتُمۡ اَنۡ لَّنۡ یَّبۡعَثَ اللّٰہُ اَحَدًا ۙ﴿۷﴾

آیت 4

وَّ اَنَّہٗ کَانَ یَقُوۡلُ سَفِیۡہُنَا عَلَی اللّٰہِ شَطَطًا ۙ﴿۴﴾

’’اور یقیناہمارا بے وقوف (سردار) اللہ کے بارے میں خلافِ حقیقت باتیں کہتا رہا ہے۔‘‘

اپنے ’’بے وقوف‘‘ سے ان کا اشارہ اپنے سب سے بڑے جن عزازیل (ابلیس) کی طرف ہے۔

آیت 5

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنۡ لَّنۡ تَقُوۡلَ الۡاِنۡسُ وَ الۡجِنُّ عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا ۙ﴿۵﴾

’’اور یہ کہ ہم تو اس گمان میں رہے کہ جن اور انسان اللہ پر ہرگز کوئی جھوٹ نہیں باندھیں گے۔‘‘

وہ بدبخت اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا رہا اور ہم اس خوش فہمی میں اس کی باتوں کو مانتے رہے کہ کوئی انسان یا جن اللہ کے بارے میں کبھی کوئی خلافِ حق بات نہیں کر سکتا۔

آیت 6

وَّ اَنَّہٗ کَانَ رِجَالٌ مِّنَ الۡاِنۡسِ یَعُوۡذُوۡنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الۡجِنِّ فَزَادُوۡہُمۡ رَہَقًا ۙ﴿۶﴾

’’اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ مرد جنات میں سے کچھ مردوں کی پناہ پکڑتے تھے‘ تو انہوں نے ان (جنات) کی سرکشی میں مزید اضافہ کیا۔‘‘

عربوں کے ہاں جنات سے پناہ طلب کرنے کا رواج عام تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہر جنگل اورہر ویرانے میں جنات کا بسیرا ہوتا ہے۔ اس لیے جب ان کا کوئی قافلہ صحرا میں کہیں پڑاؤ کرتا تو قافلے کا سردار بآوازِ بلند پکارتا کہ ہم اس وادی کے سردار جن کی پناہ میں آتے ہیں۔ اب ظاہر ہے جنات تو انسانوں کی ایسی حماقتوں پر ہنستے ہوں گے کہ دیکھو! آج اسی آدم ؑکی اولاد ہمیں معبود بنائے بیٹھی ہے جسے سجدہ نہ کرنے پر ہمارے جدامجد کو جنت سے نکال دیا گیا تھا۔ چنانچہ انسانوں کی ایسی حرکتوں سے جنات کے غرور اور سرکشی میں اور بھی ا ضافہ ہوتا چلا گیا۔

آیت 7

وَّ اَنَّہُمۡ ظَنُّوۡا کَمَا ظَنَنۡتُمۡ اَنۡ لَّنۡ یَّبۡعَثَ اللّٰہُ اَحَدًا ۙ﴿۷﴾

’’اور یہ کہ انہوں نے بھی ایسا ہی سمجھا جیسا کہ تم نے سمجھا ہوا ہے کہ اللہ کسی کو ہرگز نہیں اٹھائے گا۔‘‘

اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو بھی مرنے کے بعد دوبارہ نہیں اٹھائے گا ‘یعنی بعث بعد الموت کے عقیدے میں کوئی حقیقت نہیں۔ اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اب اللہ تعالیٰ کسی کو بھی رسول بنا کر نہیں بھیجے گا۔ سورۃ الاحقاف میں جنات کے تذکرے کے حوالے سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ جنات تورات سے واقف تھے اور وہ اس حقیقت سے بھی آگاہ تھے کہ پچھلے چھ سو برس سے دنیا میں کوئی رسول نہیں آیا (حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضورﷺ کے درمیان تقریباً چھ سو برس کا زمانہ انسانی تاریخ میں سلسلہ رسالت کے انقطاع کا طویل ترین وقفہ ہے) ۔ چنانچہ اپنی ان معلومات کی بنیاد پر جنات یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ رسالت کا دروازہ اب ہمیشہ کے لیے بند ہوچکا ہے اور یہ کہ اب دنیا میں کوئی رسول نہیں آئے گا۔

8-10

آسمان پر وحی کی خصوصی حفاظت

ویڈیو

وَّ اَنَّا لَمَسۡنَا السَّمَآءَ فَوَجَدۡنٰہَا مُلِئَتۡ حَرَسًا شَدِیۡدًا وَّ شُہُبًا ۙ﴿۸﴾ وَّ اَنَّا کُنَّا نَقۡعُدُ مِنۡہَا مَقَاعِدَ لِلسَّمۡعِ ؕ فَمَنۡ یَّسۡتَمِعِ الۡاٰنَ یَجِدۡ لَہٗ شِہَابًا رَّصَدًا ۙ﴿۹﴾ وَّ اَنَّا لَا نَدۡرِیۡۤ اَشَرٌّ اُرِیۡدَ بِمَنۡ فِی الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِہِمۡ رَبُّہُمۡ رَشَدًا ﴿ۙ۱۰﴾

آیت 8

وَّ اَنَّا لَمَسۡنَا السَّمَآءَ

’’اور یہ کہ ہم نے ٹٹولا آسمان کو‘‘

ہم نے غیب کی خبروں کی ٹوہ میں آسمان کی پہنائیوں میں حسب معمول بھاگ دوڑ کی۔

فَوَجَدۡنٰہَا مُلِئَتۡ حَرَسًا شَدِیۡدًا وَّ شُہُبًا ۙ﴿۸﴾

’’تو ہم نے دیکھا کہ وہ سخت پہروں اور اَنگاروں سے بھرا ہوا ہے۔‘‘

ہم نے دیکھا کہ آسمان میں اب جگہ جگہ پہرے مقرر کر دیے گئے ہیں اور شہابِ ثاقب کی قسم کے میزائل نصب کر کے حفاظتی انتظامات غیر معمولی طور پر سخت کر دیے گئے ہیں۔ جیسا کہ قبل ازیں بھی کئی مرتبہ ذکر ہو چکا ہے‘ آگ اور نور کی کچھ خصوصیات مشترک ہونے کے باعث جنات اور فرشتوں کے مابین تخلیقی اعتبار سے کچھ نہ کچھ قربت پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرشتے جب عالم بالا سے احکام لے کر زمین کی طرف آتے ہیں تو شیاطینِ جن ان سے اللہ تعالیٰ کے فیصلوں اور احکام سے متعلق پیشگی خبریں حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی خبریں وہ اپنے ان انسان ساتھیوں تک پہنچانے کے لیے حاصل کرنا چاہتے ہیں جو دنیا میں کاہنوں اور جادوگروں کے روپ میں شرک و ضلالت کی دکانیں کھولے بیٹھے ہیں۔ عام حالات میں تو اللہ تعالیٰ کی مشیت سے شاید ان جنات کو ایسی خبروں تک کسی نہ کسی حد تک رسائی ہو جاتی ہو مگر نزولِ وحی کے زمانے میں انہیں حساس حدود کے قریب بھی پھٹکنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ آیات زیر مطالعہ میں اسی حوالے سے جنات کی چہ میگوئیوں کا ذکر ہورہا ہے۔

آیت 9

وَّ اَنَّا کُنَّا نَقۡعُدُ مِنۡہَا مَقَاعِدَ لِلسَّمۡعِ ؕ

’’اور یہ کہ (اس سے پہلے) ہم اس کے بعض ٹھکانوں میں بیٹھا کرتے تھے کچھ سن گن لینے کے لیے۔‘‘

فَمَنۡ یَّسۡتَمِعِ الۡاٰنَ

’’لیکن اب اگر کسی نے کچھ سننے کی کوشش کی‘‘

یَجِدۡ لَہٗ شِہَابًا رَّصَدًا ۙ﴿۹﴾

’’تو وہ پائے گا اپنے واسطے ایک انگارہ گھات میں لگا ہوا۔‘‘

آیت 10

وَّ اَنَّا لَا نَدۡرِیۡۤ اَشَرٌّ اُرِیۡدَ بِمَنۡ فِی الۡاَرۡضِ

’’اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے لیے کسی شر کا ارادہ کیا جا رہا ہے‘‘

اَمۡ اَرَادَ بِہِمۡ رَبُّہُمۡ رَشَدًا ﴿ۙ۱۰﴾

’’یا ان کے لیے ان کے رب نے کسی بھلائی کا ارادہ کیا ہے۔‘‘

جنات کی اس بات سے ایسے لگتا ہے جیسے وہ تورات کے عالم تھے ۔ وہ جانتے تھے کہ جب کسی قوم کی طرف کوئی رسول مبعوث ہوتا ہے تو اس کے دو امکانی نتائج میں سے ایک نتیجہ ضرور سامنے آتا ہے۔ یا تو متعلقہ قوم اپنے رسول پر ایمان لا کرہدایت کے راستے پر چل پڑتی ہے یا اس کا انکار کر کے تباہ و برباد ہوجاتی ہے۔ اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ اگر کسی قوم پر عذاب بھیجنا چاہتا ہے تو اس قوم میں رسول مبعوث کر کے اتمامِ حجت ضرور کرتا ہے‘جیسا کہ سورۂ بنی اسرائیل کی اس آیت میں واضح کیاگیا ہے : {وَ مَا کُنَّا مُعَذِّبِیۡنَ حَتّٰی نَبۡعَثَ رَسُوۡلًا ﴿۱۵﴾} ’’اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ کسی رسول کو نہ بھیج دیں‘‘۔چنانچہ آسمانوں پر غیر معمولی سخت حفاظتی انتظامات دیکھ کر جنات یہ تو سمجھ گئے کہ اہل زمین کے لیے وحی و رسالت کا سلسلہ پھر سے شروع ہو چکا ہے‘ لیکن انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ اس سلسلے کا حتمی نتیجہ کیا نکلے گا۔ کیا اللہ تعالیٰ کو اپنے اس فیصلے سے انسانوں کی بھلائی مطلوب ہے یا اس نے اہل زمین کو قومِ نوحؑ‘ قومِ ہودؑ اور قومِ صالحؑ کی طرح ایک مرتبہ پھر تباہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور ان پر عذاب بھیجنے سے پہلے رسول مبعوث کر کے وہ ان لوگوں پر اتمامِ حجت کرنا چاہتا ہے۔ ظاہر ہے نبوت و رسالتِ محمدیﷺ تو انسانیت کے حق میں سراسر خیر ہی خیر ہے ‘لیکن ان جنات کو اس وقت تک اس بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔

11-13

ایمان لانے ہی میں خیر ہے

ویڈیو

وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوۡنَ وَ مِنَّا دُوۡنَ ذٰلِکَ ؕ کُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًا ﴿ۙ۱۱﴾ وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنۡ لَّنۡ نُّعۡجِزَ اللّٰہَ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَنۡ نُّعۡجِزَہٗ ہَرَبًا ﴿ۙ۱۲﴾ وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعۡنَا الۡہُدٰۤی اٰمَنَّا بِہٖ ؕ فَمَنۡ یُّؤۡمِنۡۢ بِرَبِّہٖ فَلَا یَخَافُ بَخۡسًا وَّ لَا رَہَقًا ﴿ۙ۱۳﴾

آیت 11

وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوۡنَ وَ مِنَّا دُوۡنَ ذٰلِکَ ؕ

’’اور یہ کہ ہم میں نیک لوگ بھی ہیں اور کچھ اس سے مختلف قسم کے بھی ہیں۔‘‘

یہاں نیک کے مقابل میں ان کا اشارہ تو ظاہر ہے سرکش اور فسادی جنات ہی کی طرف ہے‘ لیکن انہوں نے ان کا ذکر ایسے الفاظ کے ساتھ نہیں کیا۔ یہ دراصل حکمت تبلیغ کا اہم اصول ہے کہ برے کو بھی برا نہ کہو۔

کُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًا ﴿ۙ۱۱﴾

’’ہم مختلف راستوں پر پھٹے ہوئے تھے۔‘‘

طَرَائِق جمع ہے طَرِیْقَۃ کی اور قِدَد جمع ہے قِدَّۃٌ کی ‘ یعنی مختلف الرائے فرقے۔ قَدَّ یَقُدُّ قَدًّا کے معنی پھاڑنے یا کاٹنے کے ہیں۔جیسے سورۂ یوسف کی آیت ۲۵ میں آیا ہے: {قَدَّتۡ قَمِیۡصَہٗ مِنۡ دُبُرٍ} ’’اُس (عورت) نے پھاڑ دی آپؑ کی قمیص پیچھے سے۔‘‘

آیت 12

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنۡ لَّنۡ نُّعۡجِزَ اللّٰہَ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَنۡ نُّعۡجِزَہٗ ہَرَبًا ﴿ۙ۱۲﴾

’’اور یہ کہ ہمیں یقین ہوگیا تھا کہ ہم زمین میں اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے اور نہ بھاگ کر اُسے ہرا سکتے ہیں۔‘‘

آیت 13

وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعۡنَا الۡہُدٰۤی اٰمَنَّا بِہٖ ؕ

’’اور یہ کہ ہم نے جونہی اس ہدایت (الہدیٰ) کو سنا ہم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘

فَمَنۡ یُّؤۡمِنۡۢ بِرَبِّہٖ فَلَا یَخَافُ بَخۡسًا وَّ لَا رَہَقًا ﴿ۙ۱۳﴾

’’تو جو کوئی بھی ایمان لائے گا اپنے رب پر اسے نہ تو کسی نقصان کا خوف ہو گا اور نہ زیادتی کا۔‘‘

اللہ تعالیٰ ہر کسی کے نیک اعمال کا پورا پورا اجر دے گا ‘کسی کے ساتھ کوئی زیادتی یا حق تلفی کا معاملہ نہیں ہو گا۔

14-17

اچھے اور برے کردار کا انجام

ویڈیو

وَّ اَنَّا مِنَّا الۡمُسۡلِمُوۡنَ وَ مِنَّا الۡقٰسِطُوۡنَ ؕ فَمَنۡ اَسۡلَمَ فَاُولٰٓئِکَ تَحَرَّوۡا رَشَدًا ﴿۱۴﴾ وَ اَمَّا الۡقٰسِطُوۡنَ فَکَانُوۡا لِجَہَنَّمَ حَطَبًا ﴿ۙ۱۵﴾ وَّ اَنۡ لَّوِ اسۡتَقَامُوۡا عَلَی الطَّرِیۡقَۃِ لَاَسۡقَیۡنٰہُمۡ مَّآءً غَدَقًا ﴿ۙ۱۶﴾ لِّنَفۡتِنَہُمۡ فِیۡہِ ؕ وَ مَنۡ یُّعۡرِضۡ عَنۡ ذِکۡرِ رَبِّہٖ یَسۡلُکۡہُ عَذَابًا صَعَدًا ﴿ۙ۱۷﴾

آیت 14

وَّ اَنَّا مِنَّا الۡمُسۡلِمُوۡنَ وَ مِنَّا الۡقٰسِطُوۡنَ ؕ

’’اور یہ کہ ہم میں فرمانبردار بھی ہیں اور بے انصافی کرنے والے بھی ۔‘‘

قَسَطَ ( ثلاثی مجرد میں) عدل اور ناانصافی دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور قَاسِط (اسم فاعل) کے معنی ’’ناانصاف‘‘ کے ہوتے ہیں‘ لیکن اَقْسَطَ (باب افعال میں ) صرف عدل و انصاف کے معنی میں مستعمل ہے۔

فَمَنۡ اَسۡلَمَ فَاُولٰٓئِکَ تَحَرَّوۡا رَشَدًا ﴿۱۴﴾

’’تو جن لوگوں نے اطاعت قبول کر لی تو انہوں نے ڈھونڈ نکالی نیکی کی راہ۔‘‘

آیت 15

وَ اَمَّا الۡقٰسِطُوۡنَ فَکَانُوۡا لِجَہَنَّمَ حَطَبًا ﴿ۙ۱۵﴾

’’اور جو بے انصاف ہیں تو وہ جہنم کا ایندھن بن کر رہیں گے۔‘‘

یہ تو تھا جنات کی اس تقریر کا اقتباس جو انہوں نے قرآن سننے کے بعد اپنی قوم کے لوگوں کے سامنے تبلیغ کی غرض سے کی تھی ۔ اس کے بعد خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے کلام کیا گیا ہے۔

آیت 16

وَّ اَنۡ لَّوِ اسۡتَقَامُوۡا عَلَی الطَّرِیۡقَۃِ لَاَسۡقَیۡنٰہُمۡ مَّآءً غَدَقًا ﴿ۙ۱۶﴾

’’اور (اے نبیﷺ! آپ کہیے کہ مجھ پر یہ وحی بھی کی گئی ہے) کہ اگر یہ لوگ درست طریقے پر چلتے رہتے تو ہم انہیں خوب سیراب کرتے ۔‘‘

یعنی اگر نسل انسانی کے لوگ انبیاء و رسل علیہم السلام کے راستے پر چلتے رہتے تو آخرت کی نجات کے ساتھ ساتھ ہم انہیں دنیا میں بھی خوب نوازتے۔ یہاں پرجس مفہوم میں لفظ ’’طَرِیْقَۃ‘‘ آیا ہے عین وہی مفہوم لفظ ’’شَرِیْعَۃ‘‘ اس آیت میں ادا کر رہا ہے: {ثُمَّ جَعَلۡنٰکَ عَلٰی شَرِیۡعَۃٍ مِّنَ الۡاَمۡرِ} (الجاثیۃ:۱۸) ’’پھر (اے نبیﷺ!) ہم نے آپ کوقائم کر دیا دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ (شریعت) پر‘‘۔ گویا ان دونوں الفاظ کا مفہوم تو ایک ہی ہے لیکن ہمار ے ہاں عام طور پر لفظ ’’شریعت‘‘ دین کے ظاہری اور قانونی پہلو کے لیے استعمال ہوتا ہے جبکہ ’’طریقت‘‘ سے دین کا باطنی پہلو مراد لیاجاتا ہے۔ مثلاً نماز کے فرائض اور واجبات کیا ہیں؟ مختلف ارکان کی ادائیگی کا درست طریقہ کیاہے؟ کن چیزوں سے نماز ٹوٹ جاتی ہے ؟یہ شریعت کا موضوع ہے۔ظاہر ہے ایسے مسائل معلوم کرنے کے لیے آ پ کو کسی فقیہہ یا مفتی سے رجوع کرنا ہو گا۔لیکن نماز کی اصل روح کیا ہے؟ نماز میں خشوع و خضوع اور حضورِ قلب کس طرح پیداہوتا ہے؟ اور اس کے اثرات کیا ہیں؟ اس قسم کے سوالات طریقت سے متعلق ہیں اور ان کے جوابات آپ کو کسی صوفی سے ملیں گے۔اوّلین اَدوار کے بزرگانِ دین تو جامع الصفات تھے۔ جو صوفی تھے وہ بہت بڑے عالم اور مفتی بھی ہوا کرتے تھے۔ برصغیر میں قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ علیہ ایسی ہی ایک جامع شخصیت تھے۔ آپ مفتی‘ مفسر اور محدث بھی تھے اور بہت بڑے صوفی اور مرشد بھی۔ آپ مرزا مظہر جانِ جاناں شہید رحمہ اللہ علیہ(آپ اہل تشیع کے ہاتھوں شہید ہوئے تھے) کے خلیفہ تھے۔ آپ کا تعلق شیخ احمد سرہندی رحمہ اللہ علیہ کے سلسلہ مجددیہ نقشبندیہ سے تھا۔ بہرحال ایسی شخصیات کی موجودگی میں توشریعت اور طریقت کے درمیان کوئی بعد نہیں تھا‘لیکن آج بدقسمتی سے دین کے ان دونوں پہلوؤں کو پھاڑ کر بالکل الگ الگ کر دیا گیا ہے۔

آیت 17

لِّنَفۡتِنَہُمۡ فِیۡہِ ؕ

’’تاکہ ہم اس (فراوانی) میں ان کی آزمائش کریں۔‘‘

یعنی ہم لوگوں کو خوب سیراب کر کے اور انہیں مختلف النوع نعمتوں سے نواز کر ان کا امتحان لیتے ہیں۔

ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کی آزمائش کے انداز مختلف ہیں ‘وہ کسی کو تونگری اور خوشحالی میں آزماتا ہے تو کسی کو فاقوں میں مبتلا کرکے اس کا امتحان لیتا ہے۔

وَ مَنۡ یُّعۡرِضۡ عَنۡ ذِکۡرِ رَبِّہٖ

’’اور جو کوئی بھی اعراض کرے گا اپنے رب کے ذکر سے‘‘

یَسۡلُکۡہُ عَذَابًا صَعَدًا ﴿ۙ۱۷﴾

’’تووہ ڈال دے گا اس کو چڑھتے عذاب میں۔‘‘

یعنی اللہ تعالیٰ انہیں ایسے عذاب میں ڈالے گا جس کی شدت ہر لمحہ بڑھتی ہی چلی جائے گی۔

یوٹیوب پر دیکھیے