تحریر

الجن

آیات ۱۸ تا ۲۸

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

18-19

مساجد میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو

ویڈیو

وَّ اَنَّ الۡمَسٰجِدَ لِلّٰہِ فَلَا تَدۡعُوۡا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا ﴿ۙ۱۸﴾ وَّ اَنَّہٗ لَمَّا قَامَ عَبۡدُ اللّٰہِ یَدۡعُوۡہُ کَادُوۡا یَکُوۡنُوۡنَ عَلَیۡہِ لِبَدًا ﴿ؕ٪۱۹﴾

آیت 18

وَّ اَنَّ الۡمَسٰجِدَ لِلّٰہِ

’’اور یہ کہ مسجدیں اللہ ہی کے لیے ہیں‘‘

یہاں ’’مساجد ‘‘ سے مراد سجدہ کرنے کی جگہیں یعنی عبادت گاہیں بھی ہیں اور سجدے کے اعضاء ( پیشانی‘ ناک‘ ہاتھ‘ پاؤں‘گھٹنے) بھی ۔یعنی تمام مساجد اور انسانوں کے اعضائے سجدہ سب اللہ کی ملکیت ہیں۔

فَلَا تَدۡعُوۡا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا ﴿ۙ۱۸﴾

’’تو تم اللہ کے ساتھ کسی اور کو مت پکارو!‘‘

آیت 19

وَّ اَنَّہٗ لَمَّا قَامَ عَبۡدُ اللّٰہِ یَدۡعُوۡہُ

’’اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ اُس کو پکارنے کے لیے کھڑا ہوتاہے‘‘

کَادُوۡا یَکُوۡنُوۡنَ عَلَیۡہِ لِبَدًا ﴿ؕ٪۱۹﴾

’’تو معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اس پر ہجوم کر کے آ جائیں گے۔‘‘

اللہ کے بندے سے مراد یہاں رسول اللہﷺ ہیں۔ جب آپؐ نماز کے لیے کھڑے ہوتے اور اس میں قرآن کی تلاوت فرماتے تو مشرکین یہ کلام سننے کے لیے آپﷺ کے گرد بڑے تجسس سے جمع ہو جاتے تھے ‘لیکن ایمان لانے کو تیار نہیں تھے۔اس کا ایک مفہوم یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ مشرکین آپﷺ کو نماز میں کھڑا دیکھتے تو ان کے عناد کی آگ بھڑکنے لگتی اور ان کا جی چاہتا کہ آپﷺ پر ہلہ بول دیں اور اس شمع ہدایت کو گل کر دیں۔

20-25

نبی اکرم ﷺ کا اظہارِ عاجزی و انکساری

ویڈیو

قُلۡ اِنَّمَاۤ اَدۡعُوۡا رَبِّیۡ وَ لَاۤ اُشۡرِکُ بِہٖۤ اَحَدًا ﴿۲۰﴾ قُلۡ اِنِّیۡ لَاۤ اَمۡلِکُ لَکُمۡ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا ﴿۲۱﴾ قُلۡ اِنِّیۡ لَنۡ یُّجِیۡرَنِیۡ مِنَ اللّٰہِ اَحَدٌ ۬ۙ وَّ لَنۡ اَجِدَ مِنۡ دُوۡنِہٖ مُلۡتَحَدًا ﴿ۙ۲۲﴾ اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰہِ وَ رِسٰلٰتِہٖ ؕ وَ مَنۡ یَّعۡصِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَاِنَّ لَہٗ نَارَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ﴿ؕ۲۳﴾ حَتّٰۤی اِذَا رَاَوۡا مَا یُوۡعَدُوۡنَ فَسَیَعۡلَمُوۡنَ مَنۡ اَضۡعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا ﴿۲۴﴾ قُلۡ اِنۡ اَدۡرِیۡۤ اَقَرِیۡبٌ مَّا تُوۡعَدُوۡنَ اَمۡ یَجۡعَلُ لَہٗ رَبِّیۡۤ اَمَدًا ﴿۲۵﴾

آیت 20

قُلۡ اِنَّمَاۤ اَدۡعُوۡا رَبِّیۡ

’’(اے نبیﷺ!) آپ کہہ دیجیے کہ میں تو اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں‘‘

وَ لَاۤ اُشۡرِکُ بِہٖۤ اَحَدًا ﴿۲۰﴾

’’اور اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔‘‘

آیت 21

قُلۡ اِنِّیۡ لَاۤ اَمۡلِکُ لَکُمۡ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا ﴿۲۱﴾

’’آپؐ کہہ دیجیے کہ مجھے کوئی اختیار نہیں تمہارے لیے کسی نقصان کا اور نہ راہ پر لانے کا۔‘‘

سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے‘ میں خود کسی کو ہدایت نہیں دے سکتا۔ اس حوالے سے سورۃ القصص کی یہ آیت بہت واضح ہے: {اِنَّکَ لَا تَہۡدِیۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ } (آیت ۵۶) ’’آپؐ ہدایت نہیں دے سکتے جس کو چاہیں ‘بلکہ اللہ ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے ۔‘‘

آیت 22

قُلۡ اِنِّیۡ لَنۡ یُّجِیۡرَنِیۡ مِنَ اللّٰہِ اَحَدٌ ۬ۙ

’’آپؐ کہہ دیجیے کہ مجھے اللہ (کی پکڑ) سے کوئی پناہ نہیں دے سکتا‘‘

وَّ لَنۡ اَجِدَ مِنۡ دُوۡنِہٖ مُلۡتَحَدًا ﴿ۙ۲۲﴾

’’اور نہ ہی میں اس کے علاوہ سر چھپانے کی کوئی جگہ پاؤں گا۔‘‘

آیت 23

اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰہِ وَ رِسٰلٰتِہٖ ؕ

’’بس (میرا فرض) اللہ کی طرف سے تبلیغ اور اس کے پیغامات کا پہنچا دینا ہے۔‘‘

یعنی اگر میں نے یہ فریضہ انجام دینے میں کوتاہی کی تو میری جواب دہی ہو گی۔ اس حوالے سے اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاعراف کی اس آیت میں اپناقانون واضح طور پر بیان فرما دیا ہے: {فَلَنَسۡـَٔلَنَّ الَّذِیۡنَ اُرۡسِلَ اِلَیۡہِمۡ وَ لَنَسۡـَٔلَنَّ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ۙ﴿۶﴾} ’’پس ہم لازماً پوچھ کر رہیں گے ان سے بھی جن کی طرف ہم نے رسولوں کو بھیجا اور لازماً پوچھ کر رہیں گے رسولوں سے بھی۔‘‘

وَ مَنۡ یَّعۡصِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ

’’اور جو کوئی بھی اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی نافرمانی کرے گا‘‘

فَاِنَّ لَہٗ نَارَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ﴿ؕ۲۳﴾

’’تو اُس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا۔‘‘

آیت 24

حَتّٰۤی اِذَا رَاَوۡا مَا یُوۡعَدُوۡنَ

’’یہاں تک کہ جب وہ دیکھیں گے وہ چیز جس کی انہیں دھمکی دی جا رہی ہے‘‘

فَسَیَعۡلَمُوۡنَ مَنۡ اَضۡعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا ﴿۲۴﴾

’’اُس وقت انہیں معلوم ہو جائے گا کہ کون کمزور ہے مددگاروں کے اعتبار سے اور کون اقلیت میں ہے تعداد کے لحاظ سے۔‘‘

سردارانِ قریش کے طعنوں میں سے حضورﷺ کے لیے ایک طعنہ یہ بھی تھا کہ آپؐ کی محفل کے مقابلے میں ہماری محفلیں زیادہ باوقار اور پررونق ہوتی ہیں۔ آپ ؐتو نچلے طبقے کے چند غریب ‘کمزور اور نادار افراد کو لے کر بیٹھے ہوتے ہیں جبکہ ہماری محفلوں میں بڑے بڑے لوگ شریک ہوتے ہیں۔ اس آیت میں ان کے اس طعنے کا جواب دیا گیا ہے کہ قیامت کے دن انہیں معلوم ہو جائے گا کہ اپنے حمایتیوں کی طاقت اور تعداد کے لحاظ سے کس کی کیا حیثیت ہے۔ سورۂ مریم میں یہ مضمون زیادہ واضح انداز میں آیا ہے۔

آیت 25

قُلۡ اِنۡ اَدۡرِیۡۤ اَقَرِیۡبٌ مَّا تُوۡعَدُوۡنَ اَمۡ یَجۡعَلُ لَہٗ رَبِّیۡۤ اَمَدًا ﴿۲۵﴾

’’آپؐ یہ بھی کہہ دیجیے کہ مجھے معلوم نہیں کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیاجا رہا ہے وہ قریب آ چکی ہے یا میرا رب اس کی مدت اور لمبی کر دے گا۔‘‘

مَا تُوْعَدُوْنَ کا ترجمہ یوں بھی ہو سکتا ہے کہ وہ چیز جس کی تم لوگوں کو وعید یا دھمکی دی جا رہی ہے ۔ وعدہ اور وعید دونوں الفاظ ایک ہی مادہ (وعد) سے مشتق ہیں۔ اس لحاظ سے وعید (دھمکی) کی حیثیت بھی گویا ایک وعدے کی سی ہے۔ اس آیت کا مضمون ملتے جلتے الفاظ میں سورۃ الانبیاء کی اس آیت میں بھی آ چکا ہے: {وَ اِنۡ اَدۡرِیۡۤ اَقَرِیۡبٌ اَمۡ بَعِیۡدٌ مَّا تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۱۰۹﴾} کہ اے نبی (ﷺ) آپ انہیں بتادیں کہ میں نہیں جانتا کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ قریب آ چکی ہے یا ابھی دور ہے۔

26-28

رسولوں کو غیب کا کچھ علم دیا جاتا ہے

ویڈیو

عٰلِمُ الۡغَیۡبِ فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا ﴿ۙ۲۶﴾ اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ فَاِنَّہٗ یَسۡلُکُ مِنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَ مِنۡ خَلۡفِہٖ رَصَدًا ﴿ۙ۲۷﴾ لِّیَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ اَبۡلَغُوۡا رِسٰلٰتِ رَبِّہِمۡ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیۡہِمۡ وَ اَحۡصٰی کُلَّ شَیۡءٍ عَدَدًا ﴿٪۲۸﴾

آیت 26

عٰلِمُ الۡغَیۡبِ

’’وہی ہے غیب کا جاننے والا‘‘

فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا ﴿ۙ۲۶﴾

’’پس وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔‘‘

آیت 27

اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ

’’سوائے اُس کے جس کو اُس نے پسند فرما لیا ہو اپنے رسولوں میں سے‘‘

اس آیت میں علم غیب کے بارے میں بہت اہم اصول بتا دیا گیا ہے ۔ یعنی غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ۔وہ اپنے رسولوں ؑمیں سے جسے چاہتا ہے اور جس قدر چاہتا ہے اس بارے میں مطلع فرماتا ہے۔ اس اصول کے تحت دیکھا جائے تو حضورﷺ کی ذات سے متعلق علم غیب کا مسئلہ خواہ مخواہ متنازعہ بنا دیا گیا ہے۔ا گر تو کوئی شخص علم غیب سے مراد ایسا علم لیتا ہے جو بغیر کسی کے بتائے ہوئے حاصل ہو تو ایسا کوئی علم اللہ کی مخلوق میں سے کسی کے پاس بھی نہیں۔ ہر کسی کو جو بھی علم ملا ہے کسی نہ کسی کے سکھانے سے ہی ملا ہے۔ حضورﷺ کا علم بھی اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے۔ حضرت جبرائیل ؑ کو بھی علم اللہ تعالیٰ نے ہی عطا کیا ہے۔ ہم جیسے عام انسان بھی اپنے والدین ‘ اساتذہ اور بڑوں سے ہی سیکھتے ہیں۔

اس ضمن میں سب سے پہلے علم غیب کی درست تعریف (definition) طے کرنا ضروری ہے۔یہ حقیقت ہر کوئی تسلیم کرتا ہے کہ ’’غیب‘‘ کا تعلق مخلوق سے ہے‘ اللہ تعالیٰ کے لیے تو کوئی چیز ’’غیب‘‘ ہے ہی نہیں‘ ہر شے ہر آن اُس کے سامنے موجود ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں یا خبریں ہم انسانوں سے پوشیدہ رکھی ہیں وہ ہمارے لیے ’’عالم غیب‘‘ ہے۔ مثلاً جنت‘ دوزخ‘ فرشتے وغیرہ۔ اس بارے میں بھی کسی کو کوئی اختلاف نہیں کہ انبیاء و رسل علیہم السلام کو غیب کی خبریں بھی دی جاتی ہیں اور کسی حد تک انہیں عالم غیب کا مشاہدہ بھی کرایا جاتا ہے: {وَ کَذٰلِکَ نُرِیۡۤ اِبۡرٰہِیۡمَ مَلَکُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ لِیَکُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِیۡنَ ﴿۷۵﴾} (الانعام) ’’اور اسی طرح ہم دکھاتے رہے ابراہیم ؑکو آسمانوں اور زمین کے ملکوت تا کہ وہ پوری طرح یقین کرنے والوں میں سے ہو جائے‘‘۔ حضورﷺ کو معراج کے موقع پر جنت ‘دوزخ اور بہت سی دوسری کیفیات کا مشاہدہ کرایا گیا‘ بلکہ غیب سے متعلق ایسے مشاہدات آپؐ کو عام معمول کی زندگی میں بھی کرائے جاتے تھے ۔مثلاً ایک مرتبہ آپؐ نمازِاستسقاء پڑھا رہے تھے تو نماز کے دوران آپؐ اچانک ایک دفعہ آگے بڑھے اور پھر اسی انداز میں پیچھے ہٹے۔ بعد میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپؐ کے اس عمل کا سبب دریافت کیا تو آپؐ نے فرمایا کہ میرے سامنے اچانک جنت لے آئی گئی تو میں نے چاہا کہ اس کا پھل توڑ لوں۔ چنانچہ میرا ہاتھ بے اختیار اس کی طرف بڑھ گیا۔ اس کے بعد میرے سامنے دوزخ لے آئی گئی تو اس کی تپش کی وجہ سے میں بے اختیار پیچھے ہٹ گیا۔بہرحال علم کے اعتبار سے ایک عام انسان اور ایک نبی میں بنیادی طور پر یہی فرق ہے کہ نبی کو عالم غیب کا علم بھی دیا جاتا ہے ۔ورنہ جہاں تک امورِ دنیاکے علم کا تعلق ہے اس بارے میں حضورﷺ کا واضح فرمان موجود ہے۔ ایک موقع پر آپؐ نے صحابہؓ کو مخاطب کر کے فرمایا تھا : حدیث((اَنْتُمْ اَعْلَمُ بِاَمْرِ دُنْیَاکُمْ))۱ کہ دنیاداری کے اپنے معاملات کے بارے میں تم لوگ بہتر جانتے ہو۔چنانچہ اصل حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انبیاء و رسلعلیہم السلام کو جب چاہے جس قدر چاہے عالم غیب کا مشاہدہ کرا دے یا غیب کے علم میں سے جتنا علم چاہے عطا فرما دے۔ البتہ جو کوئی یہ مانے کہ نبی مکرمﷺ کو کل غیب کا علم تھا وہ کافر ہے۔

حضورﷺ کے علم غیب کے بارے میں بریلوی مکتبہ فکر کے علماء کا نقطہ نظر کیا ہے؟اس سوال کا جواب جاننے کے لیے میں نے اپنے زمانہ طالب علمی میں ذاتی طور پر متعدد بریلوی علماء سے ملاقاتیں کیں ۔ میں جتنے علماء سے ملا ان سب کو میں نے مندرجہ ذیل تین نکات پر متفق پایا:

(۱) حضورﷺ کا علم ذاتی نہیں‘ عطائی ہے ‘یعنی اللہ کا عطا کردہ ہے۔

(۲) آپؐ کا علم قدیم نہیں حادث ہے۔یعنی پہلے نہیں تھا ‘جب اللہ نے عطا کیا تو آپؐ کو علم ہو گیا۔

(۳) آپﷺ کا علم لامحدود نہیں ‘محدود ہے۔

دراصل ان تین نکات کے بارے میں مسلمانوں کے کسی مکتبہ فکر میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔چنانچہ اس کا سیدھا سادہ مطلب یہ ہے کہ یہ مسئلہ سرے سے بحث طلب ہے ہی نہیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کو علم غیب عطا فرمایا ‘جب چاہا اور جتنا چاہا عطا فرمایا۔اب کیا میں اور آپ اس بارے میں بحث کریں گے کہ حضورﷺ کو کس چیز کا علم تھا اور کس چیز کا علم نہیں تھا؟ میری اور آپ کی حیثیت ہی کیا ہے کہ ہم حضورﷺ کے علم کے بارے میں ناپ تول کریں۔ معاذ اللہ!

فَاِنَّہٗ یَسۡلُکُ مِنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَ مِنۡ خَلۡفِہٖ رَصَدًا ﴿ۙ۲۷﴾

’’تو اُس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتاہے۔‘‘

یعنی جب اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے غیب کے حقائق کا علم رسول کے پاس بھیجتا ہے تو اس کی حفاظت کے لیے ہر طرف فرشتے مقرر کر دیتا ہے تاکہ وہ علم نہایت محفوظ طریقے سے رسول تک پہنچ جائے۔

(۱) صحیح مسلم‘ کتاب الفضائل‘ باب وجوب امتثال ماقالہ شرعًا…ح:۲۳۶۳‘ عن انس ابن مالک رضی اللہ عنہ ۔

آیت 28

لِّیَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ اَبۡلَغُوۡا رِسٰلٰتِ رَبِّہِمۡ

’’تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے واقعتا اپنے رب کے پیغامات پہنچادیے ہیں‘‘

یعنی اللہ تعالیٰ یہ بات واضح کر دے۔ اسی حوالے سے اتمامِ حجت کے لیے حضورﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر حاضرین سے پوچھا تھا : حدیث((اَلَا ھَلْ بَلَّغْتُ؟))’’کیا میں نے اللہ کا پیغام تم لوگوں تک پہنچادیا؟‘‘ اس پر تمام حاضرین نے یک زبان ہو کر کہا تھا: نَشْھَدُ اَنَّکَ قَدْ بَلَّغْتَ وَاَدَّیْتَ وَنَصَحْتَ ۱

وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیۡہِمۡ وَ اَحۡصٰی کُلَّ شَیۡءٍ عَدَدًا ﴿٪۲۸﴾

’’اور وہ احاطہ کیے ہوئے ہے اس سب کچھ کا جو اُن کے پاس ہے اور اُس نے ہر چیز کا حساب کتاب رکھا ہوا ہے گنتی کے ساتھ۔‘‘

(۱) صحیح مسلم‘ کتاب الحج‘ باب حجۃ النبیﷺ‘ ح:۱۲۱۸۔

یوٹیوب پر دیکھیے