عٰلِمُ الۡغَیۡبِ
’’وہی ہے غیب کا جاننے والا‘‘
فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا ﴿ۙ۲۶﴾
’’پس وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔‘‘
اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ
’’سوائے اُس کے جس کو اُس نے پسند فرما لیا ہو اپنے رسولوں میں سے‘‘
اس آیت میں علم غیب کے بارے میں بہت اہم اصول بتا دیا گیا ہے ۔ یعنی غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ۔وہ اپنے رسولوں ؑمیں سے جسے چاہتا ہے اور جس قدر چاہتا ہے اس بارے میں مطلع فرماتا ہے۔ اس اصول کے تحت دیکھا جائے تو حضورﷺ کی ذات سے متعلق علم غیب کا مسئلہ خواہ مخواہ متنازعہ بنا دیا گیا ہے۔ا گر تو کوئی شخص علم غیب سے مراد ایسا علم لیتا ہے جو بغیر کسی کے بتائے ہوئے حاصل ہو تو ایسا کوئی علم اللہ کی مخلوق میں سے کسی کے پاس بھی نہیں۔ ہر کسی کو جو بھی علم ملا ہے کسی نہ کسی کے سکھانے سے ہی ملا ہے۔ حضورﷺ کا علم بھی اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے۔ حضرت جبرائیل ؑ کو بھی علم اللہ تعالیٰ نے ہی عطا کیا ہے۔ ہم جیسے عام انسان بھی اپنے والدین ‘ اساتذہ اور بڑوں سے ہی سیکھتے ہیں۔
اس ضمن میں سب سے پہلے علم غیب کی درست تعریف (definition) طے کرنا ضروری ہے۔یہ حقیقت ہر کوئی تسلیم کرتا ہے کہ ’’غیب‘‘ کا تعلق مخلوق سے ہے‘ اللہ تعالیٰ کے لیے تو کوئی چیز ’’غیب‘‘ ہے ہی نہیں‘ ہر شے ہر آن اُس کے سامنے موجود ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں یا خبریں ہم انسانوں سے پوشیدہ رکھی ہیں وہ ہمارے لیے ’’عالم غیب‘‘ ہے۔ مثلاً جنت‘ دوزخ‘ فرشتے وغیرہ۔ اس بارے میں بھی کسی کو کوئی اختلاف نہیں کہ انبیاء و رسل علیہم السلام کو غیب کی خبریں بھی دی جاتی ہیں اور کسی حد تک انہیں عالم غیب کا مشاہدہ بھی کرایا جاتا ہے: {وَ کَذٰلِکَ نُرِیۡۤ اِبۡرٰہِیۡمَ مَلَکُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ لِیَکُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِیۡنَ ﴿۷۵﴾} (الانعام) ’’اور اسی طرح ہم دکھاتے رہے ابراہیم ؑکو آسمانوں اور زمین کے ملکوت تا کہ وہ پوری طرح یقین کرنے والوں میں سے ہو جائے‘‘۔ حضورﷺ کو معراج کے موقع پر جنت ‘دوزخ اور بہت سی دوسری کیفیات کا مشاہدہ کرایا گیا‘ بلکہ غیب سے متعلق ایسے مشاہدات آپؐ کو عام معمول کی زندگی میں بھی کرائے جاتے تھے ۔مثلاً ایک مرتبہ آپؐ نمازِاستسقاء پڑھا رہے تھے تو نماز کے دوران آپؐ اچانک ایک دفعہ آگے بڑھے اور پھر اسی انداز میں پیچھے ہٹے۔ بعد میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپؐ کے اس عمل کا سبب دریافت کیا تو آپؐ نے فرمایا کہ میرے سامنے اچانک جنت لے آئی گئی تو میں نے چاہا کہ اس کا پھل توڑ لوں۔ چنانچہ میرا ہاتھ بے اختیار اس کی طرف بڑھ گیا۔ اس کے بعد میرے سامنے دوزخ لے آئی گئی تو اس کی تپش کی وجہ سے میں بے اختیار پیچھے ہٹ گیا۔بہرحال علم کے اعتبار سے ایک عام انسان اور ایک نبی میں بنیادی طور پر یہی فرق ہے کہ نبی کو عالم غیب کا علم بھی دیا جاتا ہے ۔ورنہ جہاں تک امورِ دنیاکے علم کا تعلق ہے اس بارے میں حضورﷺ کا واضح فرمان موجود ہے۔ ایک موقع پر آپؐ نے صحابہؓ کو مخاطب کر کے فرمایا تھا : حدیث((اَنْتُمْ اَعْلَمُ بِاَمْرِ دُنْیَاکُمْ))۱ کہ دنیاداری کے اپنے معاملات کے بارے میں تم لوگ بہتر جانتے ہو۔چنانچہ اصل حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انبیاء و رسلعلیہم السلام کو جب چاہے جس قدر چاہے عالم غیب کا مشاہدہ کرا دے یا غیب کے علم میں سے جتنا علم چاہے عطا فرما دے۔ البتہ جو کوئی یہ مانے کہ نبی مکرمﷺ کو کل غیب کا علم تھا وہ کافر ہے۔
حضورﷺ کے علم غیب کے بارے میں بریلوی مکتبہ فکر کے علماء کا نقطہ نظر کیا ہے؟اس سوال کا جواب جاننے کے لیے میں نے اپنے زمانہ طالب علمی میں ذاتی طور پر متعدد بریلوی علماء سے ملاقاتیں کیں ۔ میں جتنے علماء سے ملا ان سب کو میں نے مندرجہ ذیل تین نکات پر متفق پایا:
(۱) حضورﷺ کا علم ذاتی نہیں‘ عطائی ہے ‘یعنی اللہ کا عطا کردہ ہے۔
(۲) آپؐ کا علم قدیم نہیں حادث ہے۔یعنی پہلے نہیں تھا ‘جب اللہ نے عطا کیا تو آپؐ کو علم ہو گیا۔
(۳) آپﷺ کا علم لامحدود نہیں ‘محدود ہے۔
دراصل ان تین نکات کے بارے میں مسلمانوں کے کسی مکتبہ فکر میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔چنانچہ اس کا سیدھا سادہ مطلب یہ ہے کہ یہ مسئلہ سرے سے بحث طلب ہے ہی نہیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کو علم غیب عطا فرمایا ‘جب چاہا اور جتنا چاہا عطا فرمایا۔اب کیا میں اور آپ اس بارے میں بحث کریں گے کہ حضورﷺ کو کس چیز کا علم تھا اور کس چیز کا علم نہیں تھا؟ میری اور آپ کی حیثیت ہی کیا ہے کہ ہم حضورﷺ کے علم کے بارے میں ناپ تول کریں۔ معاذ اللہ!
فَاِنَّہٗ یَسۡلُکُ مِنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَ مِنۡ خَلۡفِہٖ رَصَدًا ﴿ۙ۲۷﴾
’’تو اُس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتاہے۔‘‘
یعنی جب اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے غیب کے حقائق کا علم رسول کے پاس بھیجتا ہے تو اس کی حفاظت کے لیے ہر طرف فرشتے مقرر کر دیتا ہے تاکہ وہ علم نہایت محفوظ طریقے سے رسول تک پہنچ جائے۔
(۱) صحیح مسلم‘ کتاب الفضائل‘ باب وجوب امتثال ماقالہ شرعًا…ح:۲۳۶۳‘ عن انس ابن مالک رضی اللہ عنہ ۔
لِّیَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ اَبۡلَغُوۡا رِسٰلٰتِ رَبِّہِمۡ
’’تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے واقعتا اپنے رب کے پیغامات پہنچادیے ہیں‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ یہ بات واضح کر دے۔ اسی حوالے سے اتمامِ حجت کے لیے حضورﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر حاضرین سے پوچھا تھا : حدیث((اَلَا ھَلْ بَلَّغْتُ؟))’’کیا میں نے اللہ کا پیغام تم لوگوں تک پہنچادیا؟‘‘ اس پر تمام حاضرین نے یک زبان ہو کر کہا تھا: نَشْھَدُ اَنَّکَ قَدْ بَلَّغْتَ وَاَدَّیْتَ وَنَصَحْتَ ۱
وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیۡہِمۡ وَ اَحۡصٰی کُلَّ شَیۡءٍ عَدَدًا ﴿٪۲۸﴾
’’اور وہ احاطہ کیے ہوئے ہے اس سب کچھ کا جو اُن کے پاس ہے اور اُس نے ہر چیز کا حساب کتاب رکھا ہوا ہے گنتی کے ساتھ۔‘‘
(۱) صحیح مسلم‘ کتاب الحج‘ باب حجۃ النبیﷺ‘ ح:۱۲۱۸۔