تحریر

نوح

آیات ۲۱ تا ۲۸

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

21-24

حضرت نوح علیہ السلام کی فریاد اور بددعا

ویڈیو

قَالَ نُوۡحٌ رَّبِّ اِنَّہُمۡ عَصَوۡنِیۡ وَ اتَّبَعُوۡا مَنۡ لَّمۡ یَزِدۡہُ مَالُہٗ وَ وَلَدُہٗۤ اِلَّا خَسَارًا ﴿ۚ۲۱﴾ وَ مَکَرُوۡا مَکۡرًا کُبَّارًا ﴿ۚ۲۲﴾ وَ قَالُوۡا لَا تَذَرُنَّ اٰلِہَتَکُمۡ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا ۬ۙ وَّ لَا یَغُوۡثَ وَ یَعُوۡقَ وَ نَسۡرًا ﴿ۚ۲۳﴾ وَ قَدۡ اَضَلُّوۡا کَثِیۡرًا ۬ۚ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیۡنَ اِلَّا ضَلٰلًا ﴿۲۴﴾

آیت 21

قَالَ نُوۡحٌ رَّبِّ اِنَّہُمۡ عَصَوۡنِیۡ

’’نوحؑ نے کہا: پروردگار! انہوں نے میری نافرمانی کی‘‘

وَ اتَّبَعُوۡا مَنۡ لَّمۡ یَزِدۡہُ مَالُہٗ وَ وَلَدُہٗۤ اِلَّا خَسَارًا ﴿ۚ۲۱﴾

’’اور انہوں نے ان لوگوں کی پیروی کی جن کے مال اور اولاد نے ان کے لیے سوائے خسارے کے اور کچھ نہیں بڑھایا۔‘‘

پروردگار! تو نے مجھے ان کی طرف رسول بناکر بھیجا تھا اور ان پر کسی پس و پیش کے بغیر میری اطاعت لازم تھی‘ لیکن انہوں نے تومیری جی بھر کر نافرمانی کی اور اپنے ان سرداروں اور وڈیروں کی پیروی کرتے رہے جن کے مال و اولاد کی کثرت نے انہیں غرور و تکبر میں مبتلا کر رکھا ہے۔ یہ لوگ میری کوئی بات سننے کوتیار ہی نہیں۔

آیت 22

وَ مَکَرُوۡا مَکۡرًا کُبَّارًا ﴿ۚ۲۲﴾

’’اور ان لوگوں نے ایک چال بھی چلی بہت بڑی چال۔‘‘

یہ قومِ نوحؑ کے بڑے بڑے سرداروں کی اس چال کا ذکر ہے جس کے تحت انہوں نے مذہبی اور نسلی عصبیت کا سہارا لے کر عوام کو حضرت نوح علیہ السلام کے خلاف بھڑکایا تھا۔ انہوں نے اپنے اسلاف میں سے بڑے بڑے اولیاء اللہ کے بت بنا کر رکھے ہوئے تھے اور انہی بتوں کی وہ لوگ پوجا کرتے تھے۔ جب حضرت نوح علیہ السلام نے انہیں ان بتوں کو چھوڑنے اور ایک اللہ کو معبود ماننے کی دعوت دی تو قوم کے سرداروں کو آپؑ کے خلاف یہ دلیل مل گئی کہ آپؑ ان کے بزرگوں اور اولیاء اللہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔چنانچہ اس ’’مضبوط اور مؤثر‘‘ دلیل کو بنیاد بنا کر انہوں نے اپنے عوام کو اس نعرے پر متحد کر لیا کہ اب جو ہو سو ہو ہم اپنے ان معبودوں کو نہیں چھوڑیں گے۔

آیت 23

وَ قَالُوۡا لَا تَذَرُنَّ اٰلِہَتَکُمۡ

’’اور انہوں نے کہا کہ تم اپنے ان معبودوں کو ہرگزچھوڑ نہ بیٹھنا۔‘‘

اس سے ملتا جلتا نعرہ سردارانِ قریش نے بھی حضورﷺ کے خلاف اپنے عوام کو سکھایا تھا : {وَ انۡطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡہُمۡ اَنِ امۡشُوۡا وَ اصۡبِرُوۡا عَلٰۤی اٰلِہَتِکُمۡ ۚۖ اِنَّ ہٰذَا لَشَیۡءٌ یُّرَادُ ۖ﴿ۚ۶﴾} (صٓ) ’’اور چل پڑے ان کے سردار (یہ کہتے ہوئے) کہ چلو جائو اور جمے رہو اپنے معبودوں پر‘یقینا اس بات میں تو کوئی غرض پوشیدہ ہے۔‘‘

وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا ۬ۙ وَّ لَا یَغُوۡثَ وَ یَعُوۡقَ وَ نَسۡرًا ﴿ۚ۲۳﴾

’’ہرگز مت چھوڑنا وَد کو‘ سواع کو ‘ یغوث کو‘ یعوق کو اور نسر کو۔‘‘

یہ سب اس قوم کے بتوں کے نام ہیں اور ان میں سے بیشتر اولیاء اللہ کی شخصیات کے بت تھے۔ یَغُوْث کے تلفظ میں ’’غیاث‘‘ یا’’ غوث‘‘ کی مشابہت سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اولیاء اللہ میں سے کسی ایسی شخصیت کا بت تھا جسے وہ لوگ اپنافریاد رس سمجھتے تھے۔ دراصل حضرت آدم اور حضرت نوح علیہما السلام کے درمیانی زمانے میں بہت سے انبیاء کرام ؑگزرے ہیں۔ حضرت شیث اور حضرت ادریس علیہما السلام اسی دور کے نبی ہیں۔ ظاہر ہے ان پیغمبروں کے پیروکاروں میں بہت سے نیک لوگ اور اولیاء اللہ بھی ہوں گے ۔ چنانچہ بعد کی نسلوں کے لوگوں نے عقیدت و احترام کے جذبے کے تحت ان اولیاء اللہ کی مورتیاں بنا لیں ۔شروع شروع میں وہ ان مورتیوں کو احتراماً سلام کرتے ہوں گے ‘لیکن بعد میں رفتہ رفتہ ان کی باقاعدہ پوجا شروع کر دی گئی ۔اسی طرح آج ہمارے ہاں بھی بعض لوگ اپنے گھروں میں اولیاء اللہ اور پیروں کی تصاویر بڑے اہتمام کے ساتھ آویزاں کرتے ہیں‘ بلکہ ان تصویروں کے گلوں میں باقاعدہ ہار بھی ڈالے جاتے ہیں۔ میں نے اپنی آنکھوں سے ایک صاحب کے گھر میں ایک تصویر آویزاں دیکھی جس میں خواجہ معین الدین اجمیری‘ حضرت بختیار کاکی اور بابا فرید شکرگنج رحمہم اللہ تینوں بیک وقت جمع تھے اور تصویر پر ہار ڈالے گئے تھے ۔ایسی روایات جب نسل در نسل آگے بڑھتی ہیں تو تدریجاً بت پرستی کی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔ ظاہر ہے عقائد و نظریات میں بگاڑ ایک دم توپیدا نہیں ہوتا بلکہ ملتان کی زبان میں اس عمل کو یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ ’’بندہ تھیندا تھیندا تھی ویندا اے ‘‘۔بہرحال بعض اوقات انسان نظریاتی طور پر رفتہ رفتہ اس قدر بدل جاتا ہے کہ اسے خود بھی پتا نہیں چلتا کہ وہ کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہے۔

آیت 24

وَ قَدۡ اَضَلُّوۡا کَثِیۡرًا ۬ۚ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیۡنَ اِلَّا ضَلٰلًا ﴿۲۴﴾

’’اور انہوں نے تو بہتوں کو بہکا دیا ہے۔اور (اے اللہ!) اب توان ظالموں کے لیے سوائے گمراہی کے اور کسی چیز میں اضافہ نہ فرما!‘‘

حضرت نوح علیہ السلام کے ان الفاظ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس مرحلے پر آپؑ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ اب آپ ؑکی حمیت دینی کو اس ناہنجار قوم کا ایمان لانا بھی گوارا نہیں‘بلکہ اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد کناں ہیں کہ پروردگار! اب تو ان گمراہوں کی گمراہی میں ہی اضافہ فرما ---- بالکل ایسی ہی کیفیت کی جھلک حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اس دعا میں بھی نظر آتی ہے :

دوسرے مقام کی آیت

وَ قَالَ مُوۡسٰی رَبَّنَاۤ اِنَّکَ اٰتَیۡتَ فِرۡعَوۡنَ وَ مَلَاَہٗ زِیۡنَۃً وَّ اَمۡوَالًا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِکَ ۚ رَبَّنَا اطۡمِسۡ عَلٰۤی اَمۡوَالِہِمۡ وَ اشۡدُدۡ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ فَلَا یُؤۡمِنُوۡا حَتّٰی یَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِیۡمَ ﴿۸۸﴾

(یونس)

’’اور موسیٰؑ نے عرض کیا : اے ہمارے پروردگار! تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو سامانِ زیب و زینت اور اموال عطا کر دیے ہیں دنیا کی زندگی میں۔ پروردگار! اس لیے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کریں تیرے راستے سے!اے ہمارے رب! اب ان کے اموال کو برباد کر دے اور ان کے دلوں میں سختی پیدا کر دے کہ یہ ایمان نہ لائیںجب تک کہ یہ کھلم کھلا دیکھ نہ لیں عذابِ الیم کو۔‘‘

25

قومِ نوح علیہ السلام پر عذابِ قبر

ویڈیو

مِمَّا خَطِیۡٓــٰٔتِہِمۡ اُغۡرِقُوۡا فَاُدۡخِلُوۡا نَارًا ۬ۙ فَلَمۡ یَجِدُوۡا لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَنۡصَارًا ﴿۲۵﴾

آیت 25

مِمَّا خَطِیۡٓــٰٔتِہِمۡ اُغۡرِقُوۡا فَاُدۡخِلُوۡا نَارًا ۬ۙ

’’اپنی خطاؤں کی وجہ سے ہی وہ غرق کیے گئے اور داخل کر دیے گئے آگ میں‘‘

فَلَمۡ یَجِدُوۡا لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَنۡصَارًا ﴿۲۵﴾

’’تو نہ پایا انہوں نے اپنے لیے اللہ کے مقابل کوئی مددگار۔‘‘

حضرت نوح علیہ السلام کی اس فریاد کا سخت ترین حصہ آگے آ رہا ہے:

26-28

دکھی دل کی صدا

ویڈیو

وَ قَالَ نُوۡحٌ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَی الۡاَرۡضِ مِنَ الۡکٰفِرِیۡنَ دَیَّارًا ﴿۲۶﴾ اِنَّکَ اِنۡ تَذَرۡہُمۡ یُضِلُّوۡا عِبَادَکَ وَ لَا یَلِدُوۡۤا اِلَّا فَاجِرًا کَفَّارًا ﴿۲۷﴾ رَبِّ اغۡفِرۡ لِیۡ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنۡ دَخَلَ بَیۡتِیَ مُؤۡمِنًا وَّ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ ؕ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیۡنَ اِلَّا تَبَارًا ﴿٪۲۸﴾

آیت 26

وَ قَالَ نُوۡحٌ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَی الۡاَرۡضِ مِنَ الۡکٰفِرِیۡنَ دَیَّارًا ﴿۲۶﴾

’’اور نوحؑ نے کہا: اے میرے پروردگار! اب تو اس زمین پر کافروں کا بستا ہوا ایک گھر بھی مت چھوڑ۔‘‘

آیت 27

اِنَّکَ اِنۡ تَذَرۡہُمۡ یُضِلُّوۡا عِبَادَکَ وَ لَا یَلِدُوۡۤا اِلَّا فَاجِرًا کَفَّارًا ﴿۲۷﴾

’’اگر تو نے ان کو چھوڑ دیاتو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اوران کی نسلوں میں بھی اب فاجر اور کافر لوگوں کے سوا اور کوئی پیدا نہیں ہو گا۔‘‘

ان لوگوں کی فطرتیں مسخ ہوچکی ہیں جس کی وجہ سے ان کی آئندہ نسلوں سے بھی کسی خیر کی توقع نہیں ہے۔ اس لیے ان کا نیست و نابود ہوجانا ہی بہتر ہے۔ انسانی تاریخ میں اللہ کے کسی بندے نے شاید ہی ایسی سخت دعا مانگی ہو۔لیکن حضرت نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو برس تک جس طرح صبر و استقامت کے ساتھ اپنی قوم کی زیادتیوں کو برداشت کیا ‘اس پس منظر میں آپؑ کا یہ غصہ حق بجانب تھا۔

آیت 28

رَبِّ اغۡفِرۡ لِیۡ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنۡ دَخَلَ بَیۡتِیَ مُؤۡمِنًا

’’پروردگار! مغفرت فرما دے میری اور میرے والدین کی اور جو کوئی بھی میرے گھر میں داخل ہو جائے ایمان کے ساتھ اس کی بھی ‘‘

وَّ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ ؕ

’’اور تمام مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کی بھی(مغفرت فرمادے )‘‘

یہ دعا اس لحاظ سے خصوصی اہمیت کی حامل ہے کہ اس میں اگلے اور پچھلے زمانوں کے تمام اہل ایمان شامل ہو گئے ہیں۔

وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیۡنَ اِلَّا تَبَارًا ﴿٪۲۸﴾

’’اور ان ظالموں کے لیے تو اب کسی چیز میں اضافہ مت کر سوائے تباہی اور بربادی کے۔‘‘

سورۃ المعارج اور سورۂ نوح کے مطالعے کے بعد یہ نکتہ بھی اچھی طرح سے سمجھ لیجیے کہ اگر ’’نظم قرآن‘‘ کو مدنظر رکھتے ہوئے ان دونوں سورتوں کا مطالعہ جوڑے کی حیثیت سے کیا جائے تو نہ صرف سورۃ المعارج کی پہلی آیت کا مفہوم واضح ہو جاتا ہے ‘بلکہ سورۂ نوح کے نزول کا سبب اور حضرت نوح علیہ السلام کی مذکورہ دعا کا جواز بھی سمجھ میں آجاتا ہے۔ بہرحال اس پہلو سے ان دونوں سورتوں پر غور کرنے سے یہ نکتہ خود بخود واضح ہو جاتا ہے کہ سورۃ المعارج کی ابتدائی آیت خود حضورﷺ ہی سے متعلق ہے اور یہ بھی کہ سورۃ المعارج کی آیت ۵ میں آپﷺکو {فَاصۡبِرۡ صَبۡرًا جَمِیۡلًا ﴿۵﴾} کی تلقین بھی اسی حوالے سے کی گئی‘بلکہ اس کے بعد ایک پوری سورت (سورۂ نوح) نازل کر کے آپﷺ کی تسلی کے لیے حضرت نوح علیہ السلام کے حالات و مصائب کا نقشہ بھی دکھادیا گیا کہ آپؐ کی دعوتی مہم کو شروع ہوئے تو ابھی چار پانچ سال ہی ہوئے ہیں ‘آپؐ ہمارے اس بندے کی ہمت اور استقامت کو بھی مدنظر رکھیں جو ایسے مشکل حالات کا سامنا ساڑھے نو سوسال تک کرتا رہا۔

یوٹیوب پر دیکھیے