بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

نوح

آیات ۱ تا ۲۰

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

1-4

حضرت نوح علیہ السلام کی اجمالی دعوت

ویڈیو

اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰی قَوۡمِہٖۤ اَنۡ اَنۡذِرۡ قَوۡمَکَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱﴾ قَالَ یٰقَوۡمِ اِنِّیۡ لَکُمۡ نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ۙ﴿۲﴾ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ اتَّقُوۡہُ وَ اَطِیۡعُوۡنِ ۙ﴿۳﴾ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ مِّنۡ ذُنُوۡبِکُمۡ وَ یُؤَخِّرۡکُمۡ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ اِنَّ اَجَلَ اللّٰہِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُ ۘ لَوۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴﴾

آیت 1

اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰی قَوۡمِہٖۤ

’’ہم نے بھیجا تھا نوح کو اُن کی قوم کی طرف‘‘

اَنۡ اَنۡذِرۡ قَوۡمَکَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱﴾

’’کہ خبردار کر دو اپنی قوم کو اس سے پہلے کہ آدھمکے ان پر ایک دردناک عذاب۔‘‘

آیت 2

قَالَ یٰقَوۡمِ اِنِّیۡ لَکُمۡ نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ۙ﴿۲﴾

’’آپؑ نے کہا: اے میری قوم کے لوگو! میں تمہارے لیے واضح طور پر ایک خبردار کرنے والا ہوں۔‘‘

آیت 3

اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ اتَّقُوۡہُ وَ اَطِیۡعُوۡنِ ۙ﴿۳﴾

’’کہ تم لوگ اللہ کی بندگی کرو‘ اُس کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘

یہاں نبی ؑاور رسول ؑمیں فرق کے حوالے سے یہ نکتہ نوٹ کر لیجیے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے اپنی اطاعت کا مطالبہ اللہ کے ’’رسول‘‘ کی حیثیت سے کیا تھا۔ کسی نبی علیہ السلام نے اپنی قوم سے کبھی یہ نہیں کہا کہ تم لوگ میری اطاعت کرو۔ سورۂ یوسف ؑمیں ہم حضرت یوسف علیہ السلام کے تفصیلی حالات پڑھ چکے ہیں۔ حضرت یوسف ؑنبی تھے۔ آپؑ نے مصر کے بادشاہ کو یہ نہیں کہا کہ میں نبی ہوں ‘تم میری اطاعت کرو‘ اور نہ ہی آپؑ نے مصر کے لوگوں سے مخاطب ہوکر یوں کہا کہ مجھ پر ایمان لاؤ ورنہ تم پر اللہ کی طرف سے عذاب آ جائے گا۔بلکہ حضرت یوسف علیہ السلام کے دورِ نبوت میں بادشاہ اپنی جگہ پر بادشاہ رہا۔ آپؑ اس کی بادشاہی میں ایک بڑے عہدے پر کام بھی کرتے رہے اور دعوت و تبلیغ کا فریضہ بھی ادا کرتے رہے۔ گویا انبیاء کرام علیہم السلام کی دعوت عمومی نوعیت کی تھی کہ تم لوگ اللہ کے نیک بندے بنو ‘ اللہ کا حق مانو ‘وغیرہ۔ لیکن جب کسی نبی کو کسی قوم کی طرف کوئی خاص مشن دے کر بھیجا گیا تو وہ اللہ کے ’’رسول ؑ‘‘ اور اللہ کے نمائندے بن کر اُس قوم کی طرف گئے اور اسی حیثیت سے انہوں نے متعلقہ قوم سے اپنی اطاعت کا مطالبہ کیا۔ ازروئے الفاظِ قرآنی: {وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ } (النسائ:۶۴) ’’ہم نے نہیں بھیجا کسی رسول کو مگر اس لیے کہ اُس کی اطاعت کی جائے اللہ کے حکم سے‘‘۔ اس لحاظ سے رسول کی اطاعت دراصل اللہ ہی کی اطاعت ہے : {مَنۡ یُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰہَ ۚ } (النسائ:۸۰) ’’جس نے اطاعت کی رسو ل کی اُس نے اطاعت کی اللہ کی۔‘‘

آیت 4

یَغۡفِرۡ لَکُمۡ مِّنۡ ذُنُوۡبِکُمۡ

’’اللہ تمہارے کچھ گناہ معاف کر دے گا‘‘

یہاں پر حرف مِنْ (تبعیضیہ) بہت معنی خیز ہے۔ یعنی سب کے سب گناہ معاف ہونے کی ضمانت نہیں‘ البتہ کچھ گناہ ضرور معاف ہو جائیں گے۔ اس کی تاویل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے حقوق تو جسے چاہے گا اور جب چاہے گا معاف کر دے گا ‘لیکن حقوق العباد کے تنازعات کے حوالے سے وہ انصاف کے تقاضے پورے کرے گا۔ اس کے لیے روزِ محشر متعلقہ فریقوں کے درمیان باقاعدہ لین دین کا اہتمام کرایا جائے گا۔ مثلاً کسی شخص نے اگر کسی کا حق غصب کیا ہو گا‘ کسی کی عزت پر حملہ کیا ہو گا یا کسی بھی طریقے سے کسی پر ظلم کیا ہو گا تو ایسے ظالم کی نیکیوں کے ذریعے سے متعلقہ مظلوم کی تلافی کی جائے گی۔ اس لین دین میں اگر کسی ظالم کی نیکیاں کم پڑ جائیں گی تو حساب برابر کرنے کے لیے اس کے ظلم کا شکار ہونے والے مظلوموں کے گناہ اس کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے۔

وَ یُؤَخِّرۡکُمۡ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ

’’اور تمہیں مہلت دے دے گا ایک وقت معین تک۔‘‘

یعنی اگر تم لوگ اللہ کو معبود مانتے ہوئے اس کا تقویٰ اختیار کرو گے اور میرے احکام کی تعمیل کرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ کچھ مدت کے لیے تمہیں بحیثیت قوم دنیا میں زندہ رہنے کی مزید مہلت عطا فرما دے گا۔ لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ مہلت بھی ایک وقت معین تک ہی ہو گی۔ اس معاملے میں اللہ تعالیٰ کے قوانین بہت سخت اور اٹل ہیں۔

اِنَّ اَجَلَ اللّٰہِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُ ۘ لَوۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴﴾

’’ اللہ کا مقرر کردہ وقت جب آجائے گا تو اسے مؤخر نہیں کیا جاسکے گا۔کاش کہ تمہیں معلوم ہوتا!‘‘

جب کوئی قوم اپنے رسول کی دعوت کو ٹھکرا دیتی ہے اور اسے غور و فکر کرنے کے لیے جو مہلت دی گئی ہو وہ ختم ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق اس قوم کو نیست و نابود کرنے کا قطعی فیصلہ کر لیتا ہے تو پھر کوئی طاقت اس فیصلے کو مؤخر نہیں کر سکتی۔

آئندہ آیات میں حضرت نوح علیہ السلام کے اندازِ دعوت کا پورا نقشہ نظر آتا ہے کہ آپؑ نے اپنی قوم کو راہِ راست پر لانے کے لیے خود کو کس کس طرح سے ہلکان کیا۔قوم کو دعوت و تبلیغ کرتے اور پیغامِ حق سناتے ہوئے نوصدیاں بیت گئیں لیکن قوم اس دعوتِ حق پر کان دھرنے پر آمادہ نہیں ہوئی۔ جب آپؑ کو ان کے ایمان لانے کی امید نہ رہی تو آپؑ نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ عرض داشت پیش کی۔

5-7

مخالفین کا ردّ عمل

ویڈیو

قَالَ رَبِّ اِنِّیۡ دَعَوۡتُ قَوۡمِیۡ لَیۡلًا وَّ نَہَارًا ۙ﴿۵﴾ فَلَمۡ یَزِدۡہُمۡ دُعَآءِیۡۤ اِلَّا فِرَارًا ﴿۶﴾ وَ اِنِّیۡ کُلَّمَا دَعَوۡتُہُمۡ لِتَغۡفِرَ لَہُمۡ جَعَلُوۡۤا اَصَابِعَہُمۡ فِیۡۤ اٰذَانِہِمۡ وَ اسۡتَغۡشَوۡا ثِیَابَہُمۡ وَ اَصَرُّوۡا وَ اسۡتَکۡبَرُوا اسۡتِکۡبَارًا ۚ﴿۷﴾

آیت 5

قَالَ رَبِّ اِنِّیۡ دَعَوۡتُ قَوۡمِیۡ لَیۡلًا وَّ نَہَارًا ۙ﴿۵﴾

’’نوح نے عرض کیا: پروردگار! میں نے تو اپنی اس قوم کو رات دن دعوت دی ہے۔‘‘

آیت 6

فَلَمۡ یَزِدۡہُمۡ دُعَآءِیۡۤ اِلَّا فِرَارًا ﴿۶﴾

’’لیکن میری اس دعوت نے ان میں کچھ اضافہ نہیں کیا سوائے فرار کے۔‘‘

یعنی میری اس شب و روز کی دعوتی مساعی کے نتیجے میں ان کے گریز اور فرار ہی میں اضافہ ہوا۔ جتنا جتنا میں ان کو پکارتا گیا اتنے ہی زیادہ یہ دور بھاگتے گئے۔

آیت 7

وَ اِنِّیۡ کُلَّمَا دَعَوۡتُہُمۡ لِتَغۡفِرَ لَہُمۡ جَعَلُوۡۤا اَصَابِعَہُمۡ فِیۡۤ اٰذَانِہِمۡ

’’اور میں نے جب بھی انہیں پکارا تاکہ تو ان کی مغفرت فرما دے توانہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں‘‘

وَ اسۡتَغۡشَوۡا ثِیَابَہُمۡ

’’اور اپنے کپڑے بھی اپنے اوپر لپیٹ لیے‘‘

وَ اَصَرُّوۡا وَ اسۡتَکۡبَرُوا اسۡتِکۡبَارًا ۚ﴿۷﴾

’’اور وہ ضد پر اَڑ گئے‘ اور انہوں نے استکبار کیا بہت بڑااستکبار۔‘‘

اَصَرَّ یُصِرُّ اِصْرَارًا کے معنی اپنی روش پر اَڑ جانے کے ہیں۔ کفر کی روش پر اَڑ جانے اور جم جانے کے علاوہ ان کا رویہ اپنے رسول ؑ کے ساتھ از حد متکبرانہ تھا۔ وہ کہتے تھے کہ ہم کیسے آپ کو اپنا پیشوا تسلیم کر لیں جبکہ نچلے درجے کے رذیل قسم کے لوگ آپ کے متبعین ہیں! -----اردو میں لفظ اصرار اسی معنی میں مستعمل ہے۔

8-13

استغفار کی برکتیں

ویڈیو

ثُمَّ اِنِّیۡ دَعَوۡتُہُمۡ جِہَارًا ۙ﴿۸﴾ ثُمَّ اِنِّیۡۤ اَعۡلَنۡتُ لَہُمۡ وَ اَسۡرَرۡتُ لَہُمۡ اِسۡرَارًا ۙ﴿۹﴾ فَقُلۡتُ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّکُمۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا ﴿ۙ۱۰﴾ یُّرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَیۡکُمۡ مِّدۡرَارًا ﴿ۙ۱۱﴾ وَّ یُمۡدِدۡکُمۡ بِاَمۡوَالٍ وَّ بَنِیۡنَ وَ یَجۡعَلۡ لَّکُمۡ جَنّٰتٍ وَّ یَجۡعَلۡ لَّکُمۡ اَنۡہٰرًا ﴿ؕ۱۲﴾ مَا لَکُمۡ لَا تَرۡجُوۡنَ لِلّٰہِ وَقَارًا ﴿ۚ۱۳﴾

آیت 8

ثُمَّ اِنِّیۡ دَعَوۡتُہُمۡ جِہَارًا ۙ﴿۸﴾

’’پھر (اے پروردگار) میں نے انہیں بلند آواز سے بھی پکارا۔‘‘

آیت 9

ثُمَّ اِنِّیۡۤ اَعۡلَنۡتُ لَہُمۡ وَ اَسۡرَرۡتُ لَہُمۡ اِسۡرَارًا ۙ﴿۹﴾

’’پھر میں نے انہیں علانیہ دعوت بھی دی اور خفیہ طور پر بھی سمجھایا۔‘‘

اَسَرَّ یُسِرُّ اِسْرَارًا کے معنی بھید ہیں چھپانا یا چپکے سے بیان کرنا۔ حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم کو کھلم کھلا تبلیغ بھی کرتے اور لوگوں سے تنہائی میں انفرادی ملاقاتیں کر کے بھی ایک ایک کو سمجھاتے۔

آیت 10

فَقُلۡتُ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّکُمۡ ؕ

’’پس میں نے ان سے کہا کہ تم اپنے رب سے استغفار کرو۔‘‘

اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا ﴿ۙ۱۰﴾

’’یقینا وہ بہت بخشنے والا ہے۔‘‘

آیت 11

یُّرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَیۡکُمۡ مِّدۡرَارًا ﴿ۙ۱۱﴾

’’وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا۔‘‘

یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندے بن کر رہو گے تو وہ تمہاری دنیوی زندگی میں بھی تمہارے لیے آسانیاں پیدا کر دے گا اور تمہارے علاقے میں خوب بارشیں برسائے گا ‘جس سے تمہارے رزق میں اضافہ ہو گا۔ ان الفاظ سے یوں لگتا ہے جیسے حضرت نوح علیہ السلام کی بعثت کے بعد کسی دور میں اس قوم پر خشک سالی اور قحط کا عذاب آیا تھا۔ جیسے قومِ فرعون پر قحط اور دوسرے عذاب بھیجے گئے تھے (الاعراف: رکوع۱۶)۔ یا جیسے حضورﷺ کی بعثت کے بعد مکہ میں بہت سخت قحط پڑا تھا (سورۃ الدخان:رکوع۱)۔ ایسے چھوٹے چھوٹے عذاب دراصل ہر رسول کی بعثت کے بعد متعلقہ قوم کے لوگوں پر وقتاً فوقتاً اس لیے مسلط کیے جاتے تھے تاکہ وہ خوابِ غفلت سے جاگ جائیں اور اپنے رسول کی دعوت کو سنجیدگی سے سنیں۔

آیت 12

وَّ یُمۡدِدۡکُمۡ بِاَمۡوَالٍ وَّ بَنِیۡنَ

’’اور وہ بڑھا دے گا تمہیں مال اور بیٹوں سے ‘‘

وَ یَجۡعَلۡ لَّکُمۡ جَنّٰتٍ وَّ یَجۡعَلۡ لَّکُمۡ اَنۡہٰرًا ﴿ؕ۱۲﴾

’’اور تمہیں باغات عطا کرے گا اور تمہارے لیے (چشمے اور) نہریں رواں کر دے گا ۔‘‘

آیت 13

مَا لَکُمۡ لَا تَرۡجُوۡنَ لِلّٰہِ وَقَارًا ﴿ۚ۱۳﴾

’’تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی عظمت کے امیدوار نہیں ہو؟‘‘

اس آیت کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عظمت کو تسلیم کیوں نہیں کرتے ؟ اور دوسرا یہ کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کی عظمت و سطوت سے خوف کیوں نہیں آتا؟ فی الحال اللہ تعالیٰ تمہیں ڈھیل دے رہا ہے ‘لیکن اس کی ڈھیل کی بھی ایک حد ہے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے: {اِنَّ بَطۡشَ رَبِّکَ لَشَدِیۡدٌ ﴿ؕ۱۲﴾} (البروج) کہ اللہ تعالیٰ جب کسی کو پکڑنے پرآتا ہے تو اس کی گرفت بہت سخت ہوتی ہے۔ تم ان سب باتوں کا خیال کیوں نہیں کرتے ہو؟آخرتم لوگ اس کی نافرمانیاں کرتے ہوئے اور اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہوئے اس کے غصے اور اس کی گرفت سے بے خوف کیوں ہو گئے ہو؟

14-20

اللہ کی آیات کے ذریعہ تذکیر

ویڈیو

وَ قَدۡ خَلَقَکُمۡ اَطۡوَارًا ﴿۱۴﴾ اَلَمۡ تَرَوۡا کَیۡفَ خَلَقَ اللّٰہُ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ﴿ۙ۱۵﴾ وَّ جَعَلَ الۡقَمَرَ فِیۡہِنَّ نُوۡرًا وَّ جَعَلَ الشَّمۡسَ سِرَاجًا ﴿۱۶﴾ وَ اللّٰہُ اَنۡۢبَتَکُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ نَبَاتًا ﴿ۙ۱۷﴾ ثُمَّ یُعِیۡدُکُمۡ فِیۡہَا وَ یُخۡرِجُکُمۡ اِخۡرَاجًا ﴿۱۸﴾ وَ اللّٰہُ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرۡضَ بِسَاطًا ﴿ۙ۱۹﴾ لِّتَسۡلُکُوۡا مِنۡہَا سُبُلًا فِجَاجًا ﴿٪۲۰﴾

آیت 14

وَ قَدۡ خَلَقَکُمۡ اَطۡوَارًا ﴿۱۴﴾

’’اور اس نے تمہیں پیدا کیا ہے درجہ بدرجہ۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے رحم مادر کے اندر تمہیں خلقت کے کئی مراحل سے گزار کر انسانی صورت میں ڈھالا ہے۔

آیت 15

اَلَمۡ تَرَوۡا کَیۡفَ خَلَقَ اللّٰہُ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ﴿ۙ۱۵﴾

’’کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ نے کیسے پیدا کیا ہے سات آسمانوں کو تہ بر تہ!‘‘

آیت 16

وَّ جَعَلَ الۡقَمَرَ فِیۡہِنَّ نُوۡرًا وَّ جَعَلَ الشَّمۡسَ سِرَاجًا ﴿۱۶﴾

’’اور ان کے اندر اُس نے چاند کو روشنی اور سورج کو (درخشاں) چراغ بنا یا!‘‘

آیت 17

وَ اللّٰہُ اَنۡۢبَتَکُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ نَبَاتًا ﴿ۙ۱۷﴾

’’اوراللہ نے تمہیں اُگایا ہے زمین سے جیسے (سبزہ) اُگایا جاتاہے ۔‘‘

اُس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ہے۔ نہ صرف تمہارے جسم کے تمام اجزاء زمین سے لیے گئے ہیں بلکہ اس جسم کی پرورش اور بقا کے لیے تمہیں خوراک بھی اسی زمین سے مل رہی ہے ۔ نظریہ ارتقاء (evolution theory) کے ماننے والے لوگ اس آیت کو اپنے حق میں دلیل کے طور پر لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ زمین سے اُگانے کے مفہوم میں پہلے چھوٹے چھوٹے جانور وں کی تخلیق کے آغاز اور پھر رفتہ رفتہ اس مخلوق کے مختلف ارتقائی مراحل سے گزار کر انسانی نسل (Homo sapiens) تک پہنچنے کا اشارہ موجود ہے۔

آیت 18

ثُمَّ یُعِیۡدُکُمۡ فِیۡہَا وَ یُخۡرِجُکُمۡ اِخۡرَاجًا ﴿۱۸﴾

’’پھر وہ تمہیں لوٹا دے گا اسی میں اور پھر نکالے گا تمہیں جیسے نکالا جاتا ہے۔‘‘

آیت 19

وَ اللّٰہُ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرۡضَ بِسَاطًا ﴿ۙ۱۹﴾

’’اور اللہ نے تمہارے لیے زمین کو بچھا دیا ہے بچھونے کی طرح۔‘‘

آیت 20

لِّتَسۡلُکُوۡا مِنۡہَا سُبُلًا فِجَاجًا ﴿٪۲۰﴾

’’تاکہ تم چلو پھرو اس میں کشادہ راستوں پر۔‘‘

اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی عرضداشت اور رودادِ الم پیش کرتے ہوئے آخر کار حضرت نوح علیہ السلام یوں فریادکناں ہوئے:

یوٹیوب پر دیکھیے