تحریر

المعارج

آیات ۳۶ تا ۴۴

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

36-39

کیا نبی ﷺ کے دشمن جنت میں جائیں گے؟

ویڈیو

فَمَالِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا قِبَلَکَ مُہۡطِعِیۡنَ ﴿ۙ۳۶﴾ عَنِ الۡیَمِیۡنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ عِزِیۡنَ ﴿۳۷﴾ اَیَطۡمَعُ کُلُّ امۡرِیًٔ مِّنۡہُمۡ اَنۡ یُّدۡخَلَ جَنَّۃَ نَعِیۡمٍ ﴿ۙ۳۸﴾ کَلَّا ؕ اِنَّا خَلَقۡنٰہُمۡ مِّمَّا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۹﴾

آیت 36

فَمَالِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا قِبَلَکَ مُہۡطِعِیۡنَ ﴿ۙ۳۶﴾

’’تو (اے نبیﷺ!) ان کافروں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ آپ کی طرف دوڑے چلے آتے ہیں۔‘‘

آیت 37

عَنِ الۡیَمِیۡنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ عِزِیۡنَ ﴿۳۷﴾

’’دائیں اور بائیں سے غول در غول۔‘‘

دراصل مشرکین کو ہر وقت یہ دھڑکا لگتا رہتا تھا کہ جس کسی نے بھی حضورﷺ سے قرآن سن لیا وہ ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا ۔اس لیے حضورﷺ جب لوگوں کو قرآن سنانے کے لیے کہیں کھڑے ہوتے تو وہ ہر طرف سے دوڑیں لگا کر آپؐ کے پاس پہنچ جاتے ۔ ایسا دراصل وہ لوگوں کو حضورﷺ کے گرد جمع ہونے سے روکنے کے لیے کرتے تھے ‘تاکہ وہ آپﷺ کی زبان مبارک سے قرآن نہ سن سکیں۔

آیت 38

اَیَطۡمَعُ کُلُّ امۡرِیًٔ مِّنۡہُمۡ اَنۡ یُّدۡخَلَ جَنَّۃَ نَعِیۡمٍ ﴿ۙ۳۸﴾

’’کیا ان میں سے ہر ایک واقعتا اس کا خواہش مند ہے کہ وہ نعمت بھری جنت میں داخل کیا جائے گا؟‘‘

آیت 39

کَلَّا ؕ اِنَّا خَلَقۡنٰہُمۡ مِّمَّا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۹﴾

’’ہرگز نہیں! ہم نے ان کو پیدا کیا ہے اُس چیز سے جس کو وہ جانتے ہیں۔‘‘

یعنی ہر انسان جانتا ہے کہ اس کی تخلیق گندے پانی کی ایک بوند سے ہوئی ہے۔

40-44

نبی ﷺ کے دشمن ذلیل و رسوا ہوں گے

ویڈیو

فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِرَبِّ الۡمَشٰرِقِ وَ الۡمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوۡنَ ﴿ۙ۴۰﴾ عَلٰۤی اَنۡ نُّبَدِّلَ خَیۡرًا مِّنۡہُمۡ ۙ وَ مَا نَحۡنُ بِمَسۡبُوۡقِیۡنَ ﴿۴۱﴾ فَذَرۡہُمۡ یَخُوۡضُوۡا وَ یَلۡعَبُوۡا حَتّٰی یُلٰقُوۡا یَوۡمَہُمُ الَّذِیۡ یُوۡعَدُوۡنَ ﴿ۙ۴۲﴾ یَوۡمَ یَخۡرُجُوۡنَ مِنَ الۡاَجۡدَاثِ سِرَاعًا کَاَنَّہُمۡ اِلٰی نُصُبٍ یُّوۡفِضُوۡنَ ﴿ۙ۴۳﴾ خَاشِعَۃً اَبۡصَارُہُمۡ تَرۡہَقُہُمۡ ذِلَّۃٌ ؕ ذٰلِکَ الۡیَوۡمُ الَّذِیۡ کَانُوۡا یُوۡعَدُوۡنَ ﴿٪۴۴﴾

آیت 40

فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِرَبِّ الۡمَشٰرِقِ وَ الۡمَغٰرِبِ

’’تو نہیں! قسم ہے مجھے مشرقوں اور مغربوں کے ربّ کی‘‘

قرآن مجید میں صیغہ واحد کے طور پر تو مشرق اور مغرب کا ذکر بہت مرتبہ آیا ہے۔ سورۃ الرحمن کی آیت ۱۷ میں رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَیْنِ بھی ہے‘ جبکہ آیت زیر مطالعہ میں دونوں سمتوں کے لیے جمع کے صیغے آئے ہیں۔ مشرق و مغرب سے متعلق ان تینوں صیغوں (واحد‘ تثنیہ اور جمع) کی وضاحت سورۃ الرحمن کی آیت ۱۷ کے تحت کی جا چکی ہے۔

اِنَّا لَقٰدِرُوۡنَ ﴿ۙ۴۰﴾

’’ یقینا ہم قادر ہیں۔‘‘

آیت 41

عَلٰۤی اَنۡ نُّبَدِّلَ خَیۡرًا مِّنۡہُمۡ ۙ

’’اس پر کہ ہم ان کو ہٹاکر ان سے بہتر لوگ لے آئیں‘‘

یعنی ہم انہیں ختم کر کے ان کی جگہ کسی اور قوم کے افراد کو لے آئیں گے‘ جو ان سے بہتر ہوں گے۔ جیسے قومِ نوح کو ختم کر کے قومِ عاد کو پیدا کیا گیا اور پھر قومِ عاد کے بعد قومِ ثمود کو عروج بخشا گیا۔ اس فقرے کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ آخرت میں ہم انہیں جو جسم دیں گے وہ ان کے موجودہ جسموں سے بہترہوں گے۔ اس بارے میں سورۃ الواقعہ ‘آیت ۶۱ اور سورۃ الدھر ‘آیت ۲۸ میں تو یہ اشارہ ملتا ہے کہ آخرت میں انسانوں کو جو جسم دیے جائیں گے وہ ان کے دنیا والے جسموں جیسے ہوں گے ‘لیکن زیر مطالعہ آیت کے مذکورہ مفہوم سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسانوں کو آخرت میں دیے جانے والے جسم ان کے دنیا والے جسموں سے بہتر ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بظاہر تو وہ جسم ان کے دنیا والے جسموں جیسے ہی ہوں گے ‘لیکن برداشت وغیرہ کے حوالے سے ان سے کہیں بڑھ کر ہوں گے۔ مثلاً جہنم کی آگ جو دنیا کی آگ سے کہیں زیادہ گرم اور شدید ہو گی جب انسانوں کو جلائے گی تو وہ جل کر راکھ نہیں بن جائیں گے ‘بلکہ اس کی تپش کو برداشت کریں گے۔ اہل جہنم کے جسموں کی ایک خصوصیت یہ بھی ہو گی کہ ان کی کھالیں جل جانے کے بعد پھر سے اپنی اصل حالت پر آجائیں گی۔ بہرحال آخرت میں ان لوگوں کو جو جسم دیے جائیں گے وہ خصوصی طور پر آخرت کی سختیاں جھیلنے کے لیے بنائے جائیں گے ۔وہ سختیاں جو دنیا کی سختیوں سے کہیں بڑھ کر ہوں گی۔

وَ مَا نَحۡنُ بِمَسۡبُوۡقِیۡنَ ﴿۴۱﴾

’’اور (اس معاملے میں) ہم ہارے ہوئے نہیں ہیں۔‘‘

ہم ان کے ساتھ جیسا چاہیں سلوک کریں ‘وہ ہماری گرفت سے نکل نہیں سکیں گے۔

آیت 42

فَذَرۡہُمۡ یَخُوۡضُوۡا وَ یَلۡعَبُوۡا

’’تو (اے نبیﷺ!) آپ چھوڑ دیجیے انہیں‘ یہ لگے رہیں بے ہودہ باتوں اور کھیل کود میں‘‘

حَتّٰی یُلٰقُوۡا یَوۡمَہُمُ الَّذِیۡ یُوۡعَدُوۡنَ ﴿ۙ۴۲﴾

’’یہاں تک کہ یہ ملاقات کریں اپنے اُس دن سے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے ۔‘‘

قبل ازیں سورۃ الطور ‘آیت ۴۵ میں بھی ہم یہی الفاظ {فَذَرۡہُمۡ حَتّٰی یُلٰقُوۡا } پڑھ آئے ہیں۔ یہ اسلوب ابتدائی دور کی سورتوں میں عام ملتا ہے۔ اس میں ایک طرف حضورﷺ کی دلجوئی اور تسلی کا پہلو ہے تو دوسری طرف مشرکین سے نفرت اور غصے کا اظہار بھی ہے۔

آیت 43

یَوۡمَ یَخۡرُجُوۡنَ مِنَ الۡاَجۡدَاثِ سِرَاعًا کَاَنَّہُمۡ اِلٰی نُصُبٍ یُّوۡفِضُوۡنَ ﴿ۙ۴۳﴾

’’جس دن وہ نکلیں گے اپنی قبروں سے دوڑتے ہوئے‘ جیسے کہ وہ مقرر نشانوں کی طرف بھاگے جا رہے ہوں۔‘‘

’’نُصُب‘‘ سے مراد وہ نشان ہیں جو دوڑ کا مقابلہ کرنے کے لیے لگائے جاتے ہیں تاکہ ہر دوڑنے والا دوسر ے سے پہلے مقرر نشان پر پہنچنے کی کوشش کرے۔

آیت 44

خَاشِعَۃً اَبۡصَارُہُمۡ تَرۡہَقُہُمۡ ذِلَّۃٌ ؕ

’’ان کی نگاہیں زمین میں گڑی ہوئی ہوں گی‘ ذلت ان پر چھائی ہوئی ہو گی۔‘‘

ذٰلِکَ الۡیَوۡمُ الَّذِیۡ کَانُوۡا یُوۡعَدُوۡنَ ﴿٪۴۴﴾

’’یہ ہے وہ دن جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے