تحریر

المعارج

آیات ۱۹ تا ۳۵

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

19-21

اللہ کی نگاہ میں ناپسندیدہ کردار

ویڈیو

اِنَّ الۡاِنۡسَانَ خُلِقَ ہَلُوۡعًا ﴿ۙ۱۹﴾ اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوۡعًا ﴿ۙ۲۰﴾ وَّ اِذَا مَسَّہُ الۡخَیۡرُ مَنُوۡعًا ﴿ۙ۲۱﴾

آیت 19

اِنَّ الۡاِنۡسَانَ خُلِقَ ہَلُوۡعًا ﴿ۙ۱۹﴾

’’یقینا انسان پیدا کیا گیا ہے تھڑدلا۔‘‘

یہ انسان کی فطری اور جبلی کمزوری ہے کہ وہ تھڑدلا اور بے صبرا ہے۔ قرآن مجید میں انسان کی کئی اور کمزوریوں کا ذکر بھی آیا ہے ‘ مثلاً: {وَ خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ ضَعِیۡفًا ﴿۲۸﴾} (النسائ) کہ انسان فطری طور پر کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ سورۃ الاحزاب کی آیت ۷۲ میں انسان کو ظَلُوْمًا جَھُوْلًا قرار دیا گیا ہے‘ جبکہ سورۃ الانبیاء کی آیت۳۷ میں انسان کی طبعی عجلت پسندی کا ذکر آیا ہے : {خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ عَجَلٍ ؕ} ۔ظاہر ہے ایک انسان جسم اور روح سے مرکب ہے ۔ انسان کے جسم کا تعلق عالم خلق سے ہے‘جبکہ انسانی روح کا تعلق عالم امر سے ہے : {وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الرُّوۡحِ ؕ قُلِ الرُّوۡحُ مِنۡ اَمۡرِ رَبِّیۡ } (بنی اسراء یل:۸۵) ’’اور (اے نبیﷺ!) یہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں روح کے بارے میں۔آپ فرما دیجیے کہ روح میرے رب کے امر میں سے ہے ‘‘۔ چنانچہ مذکورہ سب کمزوریوں کا تعلق انسان کی جسمانی خلقت سے ہے۔ جہاں تک انسانی وجود کے اصل حصے یعنی اس کی روح کا تعلق ہے‘ بنیادی طور پر اس کا مقام بہت بلند ہے اور اس میں ایسی کوئی کمزوری نہیں ہے۔ انسان کی تخلیق کے اس پہلو کا ذکر سورۃ التین کی اس آیت میں آیا ہے : {لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِیۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِیۡمٍ ۫﴿۴﴾} ’’بے شک ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا‘‘۔لیکن افسوس کہ ہم انسانوں کی اکثریت اپنی روح سے بیگانہ ہو چکی ہے ۔اس کی بنیادی وجہ اللہ کی یاد سے غفلت ہے۔ جو انسان اللہ تعالیٰ سے غافل ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ سزا کے طور پر اسے خود اپنی ذات (روح) سے غافل کر دیتا ہے۔ سورۃ الحشر کی آیت ۱۹ میں اہل ایمان کو اس حوالے سے یوں متنبہ کیا گیا ہے : {وَ لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنۡسٰہُمۡ اَنۡفُسَہُمۡ ؕ } ’’(اے مسلمانو دیکھنا!) تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انہیں اپنے آپ سے غافل کر دیا۔‘‘

اگلی دو آیات ہَلُوْعًا کی وضاحت پر مشتمل ہیں:

آیت 20

اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوۡعًا ﴿ۙ۲۰﴾

’’جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جانے والاہے۔‘‘

جب کوئی انسان اپنی روح سے بیگانہ ہوجاتا ہے تو وہ نرا حیوان بن کر رہ جاتا ہے۔ ایسے حیوان نما انسان کو جب کسی تکلیف کا سامناکرنا پڑتا ہے تو وہ صبر کرنے کی بجائے فوراً چیخنا چلانا شروع کر دیتا ہے اور جزع فزع کرنے لگتا ہے۔

آیت 21

وَّ اِذَا مَسَّہُ الۡخَیۡرُ مَنُوۡعًا ﴿ۙ۲۱﴾

’’اور جب اسے بھلائی ملتی ہے تو بہت بخیل بن جاتا ہے۔‘‘

جب اسے کشادگی حاصل ہوتی ہے تو سب کچھ سمیٹ کر اپنے ہی پاس رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

اب اگلی آیات میں ان انسانی کمزوریوں پر قابو پانے کے لیے راہنمائی فراہم کی گئی ہے۔ اپنے مضمون کے اعتبار سے ان آیات (آیت ۲۲ تا ۳۵) کا سورۃ المؤمنون کی ابتدائی گیارہ آیات کے ساتھ خصوصی تعلق ہے۔ قرآن مجید کے یہ دو مقامات نہ صرف باہم مشابہ ہیں بلکہ ’’اَلْقُرْآنُ یُفَسِّرُ بَعْضَہٗ بَعْضًا‘‘ کے اصول کے مطابق ایک مقام کی بعض آیات دوسرے مقام کی بعض آیات کی وضاحت بھی کرتی ہیں۔ یہاں ضمنی طورپر یہ بھی جان لیجیے کہ ہمارے ’’مطالعہ قرآن حکیم کا منتخب نصاب ‘‘کے تیسرے حصے کا پہلا سبق ان ہی دو مقامات کی آیات (سورۃ المؤمنون کی ابتدائی گیارہ آیات اور زیر مطالعہ سورۃ کی آیت ۲۲ سے آیت ۳۵ تک چودہ آیات) پر مشتمل ہے۔ ان آیات میں دراصل بندۂ مؤمن کی سیرت و کردار کے ان اوصاف کی فہرست دی گئی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مطلوب اور پسندیدہ ہیں۔ گویا یہ اوصاف وہ اینٹیں ہیں جنہیں کام میں لا کر ایک بندۂ مؤمن کو اپنی سیرت کی عمارت تعمیر کرنا ہے۔ اگر یہ اینٹیں کچی ہوں گی تو ان سے بنائی گئی عمارت کمزور اور بودی ہونے کے باعث کفر و الحاد کے سیلاب کا سامنا نہیں کر سکے گی۔چنانچہ سیل باطل کی بلاخیزیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان ’’اینٹوں‘‘ کو خوب پختہ کر کے اپنی سیرت کی عمارت استوار کریں۔ بقول اکبر الٰہ آبادی: ؎

تو آگ میں جل اور خاک میں مل ‘جب خشت بنے تب کام چلے

ان خام دلوں کے عنصر پر بنیاد نہ رکھ‘ تعمیر نہ کر!

بہرحال گزشتہ آیات میں جن انسانی کمزوریوں کا ذکر ہے‘ عمومی طور پر انسان ان میں مبتلا ہو کر ان کا شکار ہو جاتے ہیں۔ لیکن یہ پیدائشی کمزوریاں ناقابل تغیر و تبدل نہیں‘ بلکہ انسان ان سے نجات پا سکتا ہے۔ چنانچہ مندرجہ ذیل اوصاف کے حامل لوگ ان سے مستثنیٰ ہیں:

22-35

اللہ کی نگاہ میں پسندیدہ کردار

ویڈیو

اِلَّا الۡمُصَلِّیۡنَ ﴿ۙ۲۲﴾ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَلٰی صَلَاتِہِمۡ دَآئِمُوۡنَ ﴿۪ۙ۲۳﴾ وَ الَّذِیۡنَ فِیۡۤ اَمۡوَالِہِمۡ حَقٌّ مَّعۡلُوۡمٌ ﴿۪ۙ۲۴﴾ لِّلسَّآئِلِ وَ الۡمَحۡرُوۡمِ ﴿۪ۙ۲۵﴾ وَ الَّذِیۡنَ یُصَدِّقُوۡنَ بِیَوۡمِ الدِّیۡنِ ﴿۪ۙ۲۶﴾ وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ مِّنۡ عَذَابِ رَبِّہِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ ﴿ۚ۲۷﴾ اِنَّ عَذَابَ رَبِّہِمۡ غَیۡرُ مَاۡمُوۡنٍ ﴿۲۸﴾ وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ لِفُرُوۡجِہِمۡ حٰفِظُوۡنَ ﴿ۙ۲۹﴾ اِلَّا عَلٰۤی اَزۡوَاجِہِمۡ اَوۡ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُمۡ فَاِنَّہُمۡ غَیۡرُ مَلُوۡمِیۡنَ ﴿ۚ۳۰﴾ فَمَنِ ابۡتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡعٰدُوۡنَ ﴿ۚ۳۱﴾ وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ لِاَمٰنٰتِہِمۡ وَ عَہۡدِہِمۡ رٰعُوۡنَ ﴿۪ۙ۳۲﴾ وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ بِشَہٰدٰتِہِمۡ قَآئِمُوۡنَ ﴿۪ۙ۳۳﴾ وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَلٰی صَلَاتِہِمۡ یُحَافِظُوۡنَ ﴿ؕ۳۴﴾ اُولٰٓئِکَ فِیۡ جَنّٰتٍ مُّکۡرَمُوۡنَ ﴿ؕ٪۳۵﴾

آیت 22

اِلَّا الۡمُصَلِّیۡنَ ﴿ۙ۲۲﴾

’’سوائے نمازیوں کے۔‘‘

ان کمزوریوں اور خامیوں سے محفوظ رکھنے والی ایک چیز نماز ہے۔ گویا نماز تعمیر سیرت کی بنیاد کا پہلا پتھر ہے۔ لیکن صرف وہ نماز جو خاص اہتمام سے مداومت کے ساتھ ادا کی جاتی ہو۔ چنانچہ مذکورہ استثناء کے اہل صرف وہی نمازی ہوں گے:

آیت 23

الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَلٰی صَلَاتِہِمۡ دَآئِمُوۡنَ ﴿۪ۙ۲۳﴾

’’جو اپنی نمازوں پر مداومت کرتے ہیں۔‘‘

یعنی وہ لوگ جو اپنے رو ز مرہ معمولات میں نماز کو اوّلین ترجیح دیتے ہیں اور کبھی اس میں کوتاہی نہیں کرتے۔چنانچہ ایسے ’’نمازی‘‘ اس وصف کے مصداق نہیں بن سکتے جو ’’فارغ وقت ‘‘میں تو نماز اد ا کر لیتے ہیں لیکن جب کوئی اور مصروفیت ہو تو انہیں نماز کا خیال تک نہیں آتا ‘اور نہ ہی انہیں نماز کے ضائع ہو جانے کا دکھ ہوتا ہے۔ اس آیت کے مشابہ سورۃ المؤمنون میں یہ آیت ہے: {الَّذِیۡنَ ہُمۡ فِیۡ صَلَاتِہِمۡ خٰشِعُوۡنَ ۙ﴿۲﴾} ’’وہ جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرنے والے ہیں۔‘‘

آیات 24–25

وَ الَّذِیۡنَ فِیۡۤ اَمۡوَالِہِمۡ حَقٌّ مَّعۡلُوۡمٌ ﴿۪ۙ۲۴﴾لِّلسَّآئِلِ وَ الۡمَحۡرُوۡمِ ﴿۪ۙ۲۵﴾

’’اور وہ جن کے اموال میں معین حق ہے ‘مانگنے والے کا اور محروم کا۔‘‘

ایسے لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ جو کچھ انہوں نے کمایا ہے یا جو کچھ بھی انہیں مل گیا ہے وہ سب ان کا ہے‘ بلکہ وہ اپنے اموال میں سے ایک معین حصہ معاشرے کے ان محروم اور نادار افراد کے لیے مختص کیے رکھتے ہیں جو اپنی کسی مجبوری کی وجہ سے دوسروں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلا سکتے۔ دراصل اللہ تعالیٰ آزمائش کے لیے بعض لوگوں کے حصے کا کچھ رزق بعض دوسرے لوگوں کے رزق میں شامل کر دیتا ہے۔ چنانچہ متمول افراد کو چاہیے کہ وہ اپنے اموال میں سے مساکین و فقراء کا حصہ الگ کر کے ’’حق بہ حق دار رسید‘‘ کے اصول کے تحت خود ان تک پہنچانے کا اہتمام کریں۔ یادرہے سورۃ المؤمنون میں اس آیت کے مقابل یہ آیت ہے : {وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ لِلزَّکٰوۃِ فٰعِلُوۡنَ ۙ﴿۴﴾} ’’اور وہ جو ہر دم اپنے تزکیے کی طرف متوجہ رہنے والے ہیں‘‘۔ان دونوں آیات پر غور کرنے سے یہ نکتہ واضح ہوتا ہے کہ زکوٰۃ (غرباء و مساکین کا حق) ادا کر دینے سے نہ صرف بقیہ مال پاک ہو جاتا ہے بلکہ یہ انفاق انسان کے تزکیہ باطن کا باعث بھی بنتا ہے ۔اس نکتے کی وضاحت سورۃ الحدید کی آیت ۱۷ اور ۱۸ کے ضمن میں بھی کی جا چکی ہے۔ دراصل مال کی محبت جب کسی دل میں گھر جاتی ہے تو یوں سمجھ لیجیے کہ اس دل میں گندگی کے انبار لگ جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں دل کی صفائی یعنی تزکیہ باطن کا مؤثر ترین طریقہ یہی ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ کے ذریعے مال کی محبت کو دل سے نکالا جائے۔ لیکن اس کے برعکس اگر کوئی شخص اپنے مال کو تو سینت سینت کر رکھتا ہے اور محض مراقبوں کے بل پر اپنے باطن اور نفس کا ’’تزکیہ‘‘ چاہتا ہے وہ گویا سراب کے پیچھے بھاگ بھاگ کر خود کو ہلکان کر رہا ہے۔

آیت 26

وَ الَّذِیۡنَ یُصَدِّقُوۡنَ بِیَوۡمِ الدِّیۡنِ ﴿۪ۙ۲۶﴾

’’اور جو فیصلے کے دن کی تصدیق کرتے ہیں۔‘‘

زیر مطالعہ آیات کی سورۃ المؤمنون کی ابتدائی آیات کے ساتھ مناسبت کے حوالے سے اس آیت کا تعلق سورۃ المؤمنون کی اس آیت سے ہے : {وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ مُعۡرِضُوۡنَ ﴿ۙ۳﴾} ’’اورجو لغو باتوں سے اعراض کرنے والے ہیں‘‘۔ گویازیر مطالعہ آیت سورۃ المؤمنون کی مذکورہ آیت کی وضاحت کر رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے لغویات سے اعراض کیوں کرتے ہیں؟اس لیے کہ وہ قیامت اور جزا و سزا کے دن پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔ ظاہر ہے جو شخص آخرت پر یقین رکھتا ہے اس کے لیے تو اس زندگی کا ایک ایک لمحہ اَمر (کبھی نہ مرنے والا‘ دائمی) ہے۔ بظاہر تو انسان کی یہ زندگی فانی (finite) ہے ‘لیکن درحقیقت بالقوہ (potentially) یہ دائمی (infinite) ہے۔ اس لیے کہ اس فانی زندگی کے اعمال کا نتیجہ آخرت کی دوامی زندگی میں نکلے گا۔ دنیا میں انسان اچھے برے جو اعمال بھی کمائے گا‘ ان اعمال کے اثرات و نتائج آخرت کی زندگی میں ہمیشہ ہمیش کے لیے ہوں گے۔ چنانچہ آخرت کی دوامی زندگی کے لیے جو پونجی انسان کو درکار ہے وہ تو دنیوی زندگی کے ’’اوقات‘‘ میں ہی کمائی جا سکتی ہے۔ سورۃ العصر کی پہلی آیت میں تیزی سے گزرتے ہوئے وقت کی قسم کے پردے میں بھی دراصل یہی فلسفہ بیان ہوا ہے۔ گویا انسان کا اصل سرمایہ اس کی مہلتِ عمر یعنی زندگی کے وہ قیمتی لمحات ہیں جو تیزی سے اس کے ہاتھ سے نکلے جارہے ہیں ؎

غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی

گردوں نے گھڑی عمر کی اِک اور گھٹا دی!

آیت 27

وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ مِّنۡ عَذَابِ رَبِّہِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ ﴿ۚ۲۷﴾

’’اور جو اپنے رب کے عذاب سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔‘‘

آیت 28

اِنَّ عَذَابَ رَبِّہِمۡ غَیۡرُ مَاۡمُوۡنٍ ﴿۲۸﴾

’’یقینا ان کے رب کا عذاب ایسا نہیں ہے کہ کوئی اس سے نڈرہو جائے۔‘‘

آیت 29

وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ لِفُرُوۡجِہِمۡ حٰفِظُوۡنَ ﴿ۙ۲۹﴾

’’اورجو اپنی شرم گاہوںکی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘

آیت 30

اِلَّا عَلٰۤی اَزۡوَاجِہِمۡ اَوۡ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُمۡ فَاِنَّہُمۡ غَیۡرُ مَلُوۡمِیۡنَ ﴿ۚ۳۰﴾

’’سوائے اپنی بیویوں یا اپنی لونڈیوں کے‘ تو ان لوگوں پر کوئی ملامت نہیں۔‘‘

آیت 31

فَمَنِ ابۡتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡعٰدُوۡنَ ﴿ۚ۳۱﴾

’’تو جو کوئی بھی اس کے علاوہ کچھ چاہے گا تو وہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں۔‘‘

آیت 32

وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ لِاَمٰنٰتِہِمۡ وَ عَہۡدِہِمۡ رٰعُوۡنَ ﴿۪ۙ۳۲﴾

’’اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس کرنے والے ہیں۔‘‘

یہ چاروں آیات سورۃ المؤمنون میں بھی (آیت۵‘۶‘۷ اور۸کے طور پر) جوں کی توں آئی ہیں۔ البتہ اگلی آیت میں اہل ایمان کی سیرت کی ایک اضافی صفت کا ذکر ہے جو سورۃ المؤمنون کی مذکورہ آیات میں بیان نہیں ہوئی:

آیت 33

وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ بِشَہٰدٰتِہِمۡ قَآئِمُوۡنَ ﴿۪ۙ۳۳﴾

’’اور وہ جو اپنی گواہیوں پر قائم رہنے والے ہیں۔‘‘

دراصل گواہی بھی ایک امانت ہے اور جو شخص غلط گواہی دیتا ہے یا گواہی کو چھپا لیتا ہے وہ امانت میں خیانت کا مرتکب ہوتا ہے۔سورۃ البقرۃ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : {وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ کَتَمَ شَہَادَۃً عِنۡدَہٗ مِنَ اللّٰہِ ؕ} (آیت۱۴۰)

’’اور (کان کھول کر سن لو) اُس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو گا جس کے پاس اللہ کی طرف سے ایک گواہی تھی جسے اس نے چھپا لیا؟‘‘ علمائے یہود کے پاس نبی آخر الزماںﷺ کی بعثت کے بارے میں اللہ کی طرف سے گواہی تھی‘ انہوں نے اس گواہی کو چھپا کر اللہ کی امانت میں خیانت کی۔ سورۃ البقرۃ کی اس آیت میں اسی گواہی کو چھپانے کا ذکر ہے۔

آیت 34

وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَلٰی صَلَاتِہِمۡ یُحَافِظُوۡنَ ﴿ؕ۳۴﴾

’’اور وہ لوگ کہ جو اپنی نماز کی محافظت کرتے ہیں۔‘‘

آیت 35

اُولٰٓئِکَ فِیۡ جَنّٰتٍ مُّکۡرَمُوۡنَ ﴿ؕ٪۳۵﴾

’’یہی لوگ ہیں جو جنتوں میں ہوں گے اور وہاں ان کا اعزازو اکرام ہو گا۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے