سورۃ المعارج تین سورتوں پر مشتمل دوسرے ضمنی گروپ کی پہلی سورت ہے۔ اس گروپ میں پہلی دو سورتیں یعنی سورۃ المعارج اور سورۂ نوح جوڑے کی شکل میں ہیں‘ جبکہ تیسری سورت (سورۃ الجِن) منفرد ہے۔
’’مانگا ایک مانگنے والے نے ایک ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہو ‘کافروں کے لیے‘ جس کو کوئی ٹال نہ سکے گا۔‘‘
یہاں سَاَلَ سَآئِلٌ سے کون مراد ہے؟اس بارے میں مفسرین کے درمیان بہت اختلاف پایا جاتا ہے ۔ میری رائے بہت پہلے سے یہ تھی کہ یہ عذاب طلب کرنے والے خود حضورﷺ ہیں‘ لیکن مجھے اپنی رائے پر اطمینان اس وقت ہوا جب مجھے معلوم ہوا کہ شاہ عبدالقادر دہلویؒ کی رائے بھی یہی ہے ۔ عام مفسرین میں سے بہت کم لوگ شاہ صاحب ؒکی اس رائے سے متفق ہیں کہ اس آیت میں حضورﷺ کی خواہش یا دعا کا ذکر ہے ۔
اس آیت کو سمجھنے کے لیے دراصل اس دور کا نقشہ ذہن میں لانا ضروری ہے جب حضورﷺ پر ہرطرف سے طرح طرح کے الزامات کی بوچھاڑ ہو رہی تھی اور مکے کی گلیوں میں آپؐ کو شاعر‘ مجنون‘ ساحر اور کذاب جیسے ناموں سے پکارا جارہا تھا (معاذ اللہ) ۔اعلانِ نبوت کے بعد تین سال تک تویوں سمجھئے کہ پورے شہر کی مخالفت کا نشانہ صرف حضورﷺکی ذات تھی ۔ مشرکین کا خیال تھا کہ اگر وہ آپؐ کی قوتِ ارادی اور ہمت توڑنے یا کسی بھی طریقے سے آپؐ کو آپؐ کے موقف سے ہٹانے میں کامیاب ہو گئے تو یہ تحریک خود بخود ختم ہو جائے گی۔ چنانچہ اس دور میں عام اہل ایمان کو نظرانداز کر کے صرف آپﷺ کی ذات کو نشانے پر رکھا گیا تھا۔ اس دوران اگرچہ آپؐ کو کوئی جسمانی اذیت تو نہ پہنچائی گئی لیکن باقاعدہ ایک منظم مہم کے تحت آپﷺ کے خلاف ذہنی‘ نفسیاتی اور جذباتی تشدد کی انتہا کر دی گئی۔ ان لوگوں کی اس مذموم مہم کی وجہ سے حضورﷺ مسلسل ایک کرب اور تکلیف کی کیفیت میں تھے۔ اس کا اندازہ ان الفاظ اور جملوں سے بھی ہوتا ہے جو اس دور میں نازل ہونے والی سورتوں میں آپؐ کی تسلی کے لیے جگہ جگہ آئے ہیں۔
بہرحال حضورﷺ بھی تو آخر انسان تھے۔ مسلسل شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرتے ہوئے ردّعمل کے طور پر آپؐ کے دل میں ایسی خواہش کاپیدا ہونا ایک فطری امر تھا کہ اب ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آجانا چاہیے۔ چنانچہ ان آیات میں آپﷺ کی اسی خواہش یا دعا کا ذکر ہے۔ اس حوالے سے یہاں یہ نکتہ بھی مدنظر رہے کہ اس سورت کا سورۂ نوح کے ساتھ جوڑے کا تعلق ہے اور سورۂ نوح میں بھی حضرت نوح علیہ السلام کی اس دعا کاذکر ہے جس میں آپؑ نے اللہ تعالیٰ سے اپنی قوم کے لیے سخت عذاب مانگا تھا۔ گویا ان دونوں سورتوں کے اس مضمون کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ اس تعلق میں یہ مناسبت بھی بہت اہم ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام پہلے رسول اور حضورﷺ آخری رسول ہیں۔
(۱) اس مقام پر جمہور مفسرین کی رائے حضرت شاہ صاحب اور محترم ڈاکٹر صاحب رحمہما اللہ کی رائے سے مختلف ہے۔ بعض مفسرین نے یہاں ’’سَاَلَ‘‘ کو دریافت کرنا کے معنی میں لیا ہے۔ ان کے نزدیک آیت کا مفہوم یہ ہے کہ پوچھنے والے نے پوچھا ہے کہ وہ عذاب جس کی ہمیں خبر دی جا رہی ہے ‘کن لوگوں پر نازل ہو گا؟ تو اس سوال کا جواب دیا گیا کہ وہ کفار پر نازل ہو گا اور جب نازل ہو گا تو کوئی اس کو ٹال نہیں سکے گا۔ لیکن اکثر مفسرین نے اس جگہ ’’سَاَلَ‘‘ کو مانگنے اور طلب کرنے کے معنی میں لیا ہے۔ ان کے نزدیک ان الفاظ میں نضر بن حارث کی اس دعا کی طرف اشارہ ہے جو سورۃ الانفال میں بایں الفاظ بیان ہوئی ہے : {اللّٰہُمَّ اِنْ کَانَ ہٰذَا ہُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآئِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ} علیہم السلام ’’ اے اللہ! اگر یہ (قرآن) تیری ہی طرف سے برحق ہے تو برسا دے ہم پر پتھر آسمان سے یابھیج دے ہم پر کوئی دردناک عذاب۔‘‘مزید برآں قرآن حکیم میں متعدد مقامات پر کفارِ مکہ کے اس چیلنج کا ذکر کیا گیا ہے کہ جس عذاب سے آپ ہمیں ڈراتے رہتے ہیں وہ لے کیوں نہیں آتے! اس مطالبے کا جواب یہ دیا گیا کہ وہ عذاب کفار کے لیے تیار ہے‘ وہ ضرور انہیں چکھایا جائے گا‘ لیکن اپنے وقت پر۔ اور جب وہ مقررہ گھڑی آ جائے گی تو دنیا کی کوئی طاقت اس عذاب کو ٹال نہیں سکے گی۔ (حاشیہ از مرتب)
آیت 3
مِّنَ اللّٰہِ ذِی الۡمَعَارِجِ ؕ﴿۳﴾
’’(وہ عذاب اپنے وقت پرآئے گا) اُس اللہ کی طرف سے جو بہت بلند درجات والا ہے۔‘‘
’’چڑھتے ہیں فرشتے اور روح اس کی جانب ایک دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہے۔‘‘
یہ آیت ہمارے لیے آیاتِ متشابہات میں سے ہے ۔بعض مفسرین کے نزدیک یہ اللہ تعالیٰ کے ’’ذِی الْمَعَارِجِ‘‘ ہونے کی وضاحت ہے کہ اس کی بارگاہِ بلند تک پہنچنے کے لیے فرشتوں اور جبریل ؑکو بھی پچاس ہزار سال کی مسافت کے برابر فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ پچاس ہزار برس کے دن سے یہاں قیامت کا دن مراد ہے جو کفار کے لیے تو بہت طویل اور سخت ہو گا‘ البتہ اہل ایمان کو وہ دن ایسے محسوس ہو گا جیسے انہوں نے دن کا کچھ حصہ یا ایک فرض نماز ادا کرنے کے برابر وقت گزارا ہو۔حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ سے اس دن کے بارے میں پوچھا گیا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہو گی تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: حدیث((وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ اِنَّـہٗ لَیُخَفَّفُ عَلَی الْمُؤْمِنِ حَتّٰی یَـکُوْنَ اَھْوَنَ عَلَیْہِ مِنْ صَلَاۃٍ مَکْتُوْبَۃٍ یُصَلِّیْھَا فِی الدُّنْیَا)) ’’اُس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! یہ دن مؤمن کے لیے بہت مختصر کر دیا جائے گا ‘ یہاں تک کہ جتنے وقت میں وہ دنیا میں ایک فرض نماز ادا کرتا ہے اس سے بھی اسے مختصر معلوم ہو گا۔‘‘
آیت 5
فَاصۡبِرۡ صَبۡرًا جَمِیۡلًا ﴿۵﴾
’’تو آپؐ بڑی خوبصورتی سے صبر کیجیے۔‘‘
یہ ہے وہ اصل پیغام جو ان آیات کے ذریعے حضورﷺ کو دینا مقصود تھا ‘کہ ابھی تو سفر کا آغاز ہوا ہے ‘ آنے والا وقت اور بھی کٹھن ہو گا ۔ لہٰذا آپؐ اپنے راستے میں آنے والی ہر مشکل کا صبر اور استقامت کے ساتھ سامنا کریں۔ اس سے پہلے سورۃ القلم میں بھی آپؐ کو ایسی ہی ہدایت کی گئی ہے : {فَاصۡبِرۡ لِحُکۡمِ رَبِّکَ وَ لَا تَکُنۡ کَصَاحِبِ الۡحُوۡتِ ۘ } (آیت ۴۸) ’’تو آپؐ انتظار کیجیے اپنے رب کے حکم کا‘ اور دیکھئے! آپؐ اُس مچھلی والے کی طرح نہ ہو جایئے گا !‘‘
’’یہ لوگ تو اس (عذاب) کو دور سمجھ رہے ہیں‘ اور ہم اسے نہایت قریب دیکھ رہے ہیں۔‘‘
ظاہر ہے انسان تو صرف اپنے سامنے کی چیز کو ہی دیکھ سکتا ہے‘مستقبل میں جھانکنا تو اس کے بس میں نہیں ہے۔ اسی لیے مستقبل کی چیزیں یاخبریں اسے عام طور پر دور محسوس ہوتی ہیں ۔لیکن اللہ تعالیٰ کے لیے تو مستقبل وغیرہ کچھ نہیں اور نہ ہی کوئی چیز اس سے غائب ہے۔ وہ تو ہر چیز کو بیک وقت اپنے سامنے دیکھ رہا ہے۔ ہمارا مشاہدہ ہے کہ سڑک پر سفر کرتے ہوئے ایک شخص صرف اسی شہر یا مقام کو دیکھ سکتا ہے جو اس کے سامنے ہے جبکہ اس سے اگلا شہر مستقبل میں ہونے کی وجہ سے اس کی نظروں سے اوجھل ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں جو شخص ہوائی جہاز پر سفر کر رہا ہے وہ ان دونوں شہروں کو بیک وقت اپنے سامنے دیکھ سکتا ہے ۔ بقول آئن سٹائن every thing is relative کہ دنیا کی ہر چیز کسی دوسری چیز سے متعلق و مشروط ہے۔ چنانچہ کسی بھی چیز یا صورت حال کو صرف ایک ہی زاویے سے دیکھ کر کوئی رائے قائم نہیں کر لینی چاہیے۔ دنیا میں ہمارے اعتبار سے بھی قریب اور بعید relative ہیں‘ جبکہ اللہ تعالیٰ کے لیے تو کوئی شے بھی بعید نہیں‘ ہر چیز اُس کے سامنے ہے۔ ماضی ‘ حال اور مستقبل آنِ واحد میں اس کے سامنے موجود ہیں۔
’’اُس روز مجرم چاہے گا کہ کاش وہ اُس دن کے عذاب سے بچنے کے لیے فدیے میں دے دے اپنے بیٹوں کو ‘اور اپنی بیوی کو اور اپنے بھائی کو ‘اور اپنے کنبے کو جو اسے پناہ دیتا تھا‘اور روئے زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کو ‘پھر یہ (فدیہ)اس کو بچا لے!‘‘
یہ اس کیفیت کی ایک جھلک ہے جس کے بارے میں ہمارے ہاں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ اس روز نفسانفسی کا عالم ہو گا۔ ہر شخص کو اپنی فکر ہو گی اور وہ چاہے گا کہ خواہ اس کے بیوی بچوں اور عزیز و اقارب سمیت سب کو عذاب میں جھونک دیا جائے لیکن اسے چھوڑ دیا جائے ۔ اس کیفیت کا بالکل ایسا ہی نقشہ سورۂ عبس کی ان آیات میں بھی دکھایا گیا ہے: {یَوۡمَ یَفِرُّ الۡمَرۡءُ مِنۡ اَخِیۡہِ ﴿ۙ۳۴﴾وَ اُمِّہٖ وَ اَبِیۡہِ ﴿ۙ۳۵﴾وَ صَاحِبَتِہٖ وَ بَنِیۡہِ ﴿ؕ۳۶﴾لِکُلِّ امۡرِیًٔ مِّنۡہُمۡ یَوۡمَئِذٍ شَاۡنٌ یُّغۡنِیۡہِ ﴿ؕ۳۷﴾} ’’اُس دن بھاگے گا انسان اپنے بھائی سے ‘ اور اپنی ماں سے اور اپنے باپ سے ‘اور اپنی بیوی سے اور اپنے بیٹوں سے۔ اُس دن ان میں سے ہر انسان کی ایسی حالت ہو گی جو اسے دوسروں سے بے خبر کر دے گی‘‘۔احادیث میں آتا ہے کہ اُس روز اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر علیہم السلام بھی نَفْسِیْ نَفْسِیْ پکار رہے ہوں گے۔
آج تم سے نہ تو کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا‘ اور نہ ہی کوئی تمہاری مدد کو آئے گا۔ آج جہنم کی اس شعلہ فشاں آگ کا سامنا تمہیں خود ہی کرنا ہو گا۔جیسا کہ سورۂ مریم کی اس آیت میں واضح کیا گیا ہے : {وَ کُلُّہُمۡ اٰتِیۡہِ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فَرۡدًا ﴿۹۵﴾} ’’اور قیامت کے دن سب کے سب آنے والے ہیں اس کے پاس اکیلے اکیلے۔‘‘
آیت 16
نَزَّاعَۃً لِّلشَّوٰی ﴿ۚۖ۱۶﴾
’’جو کلیجوں کو کھینچ لے گی۔‘‘
شدت کے اعتبار سے جہنم کی آگ کا دنیا کی آگ سے کوئی موازنہ نہیں کیاجا سکتا۔سورۃ الہمزہ میں جہنم کی آگ کی ایک خصوصیت یہ بتائی گئی ہے : {تَطَّلِعُ عَلَی الۡاَفۡـِٕدَۃِ ؕ﴿۷﴾} کہ وہ براہِ راست دلوں میں جلن پیدا کرے گی۔ آج کل اس کیفیت کو ultra violet rays کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ان شعاعوں کی حرارت کھال کے اندر پہنچ کر اپنا اثر دکھاتی ہے۔
آیت 17
تَدۡعُوۡا مَنۡ اَدۡبَرَ وَ تَوَلّٰی ﴿ۙ۱۷﴾
’’وہ پکارے گی ہر اُس شخص کو جس نے پیٹھ موڑ لی تھی اور رُخ پھیر لیا تھا ۔‘‘
جہنم کی آگ ہر اُس شخص کو پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی اور ڈھونڈ ڈھونڈ کر شکارکرے گی جس نے حق سے اعراض کیا تھا اور اللہ کے کلام کو پسِ پشت ڈال دیا تھا۔دین کی دعوت اور نبی کریمﷺ کے مشن کو کبھی لائق اعتناء نہیں سمجھا تھا۔
آیت 18
وَ جَمَعَ فَاَوۡعٰی ﴿۱۸﴾
’’اور جو مال جمع کرتا رہا پھر اسے سینت سینت کر رکھتا رہا۔‘‘
جس نے اپنی ساری زندگی مال جمع کرنے اور اسے سنبھال سنبھال کر رکھنے میں بتا دی تھی۔