فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِمَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿ۙ۳۸﴾
’’تو میں قسم کھاتا ہوں اُس کی جو تم دیکھتے ہو۔‘‘
قرآنترجمہتشریححدیثشعر
فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِمَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿ۙ۳۸﴾ وَ مَا لَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿ۙ۳۹﴾ اِنَّہٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ کَرِیۡمٍ ﴿ۚۙ۴۰﴾ وَّ مَا ہُوَ بِقَوۡلِ شَاعِرٍ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تُؤۡمِنُوۡنَ ﴿ۙ۴۱﴾ وَ لَا بِقَوۡلِ کَاہِنٍ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿ؕ۴۲﴾ تَنۡزِیۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۴۳﴾
سورۃ الحاقہ کے دوسرے رکوع کی سورۃ الواقعہ کے آخری رکوع سے گہری مشابہت ہے۔ چنانچہ اگلی آیات کو پڑھتے ہوئے سورۃ الواقعہ کی ان آیات کو بھی ذہن میں تازہ کر لیجیے : {فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوۡمِ ﴿ۙ۷۵﴾وَ اِنَّہٗ لَقَسَمٌ لَّوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عَظِیۡمٌ ﴿ۙ۷۶﴾اِنَّہٗ لَقُرۡاٰنٌ کَرِیۡمٌ ﴿ۙ۷۷﴾} ’’تو نہیں! قسم ہے مجھے ان مقامات کی جہاں ستارے ڈوبتے ہیں۔ اور یقینا یہ بہت بڑی قسم ہے اگر تم جانو!یقینا یہ بہت عزت والا قرآن ہے۔‘‘
فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِمَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿ۙ۳۸﴾
’’تو میں قسم کھاتا ہوں اُس کی جو تم دیکھتے ہو۔‘‘
وَ مَا لَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿ۙ۳۹﴾
’’اور اُس کی بھی جو تم نہیں دیکھتے ہو۔‘‘
اِنَّہٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ کَرِیۡمٍ ﴿ۚۙ۴۰﴾
’’یہ قول ہے ایک رسولِ کریم کا۔‘‘
اصل میں تو یہ اللہ کا کلام ہے ۔اللہ تعالیٰ سے حضرت جبرائیل ؑنے سنا۔ پھر حضرت جبرائیل سے حضرت محمدﷺ نے سنا اور اب وہ لوگوں کو سنا رہے تھے۔ چنانچہ ایک لحاظ سے یہ جبرائیل ؑ کا قول تھااور دوسرے لحاظ سے حضورﷺ کا قول۔
وَّ مَا ہُوَ بِقَوۡلِ شَاعِرٍ ؕ
’’اور یہ کسی شاعر کا قول نہیں ہے۔‘‘
قَلِیۡلًا مَّا تُؤۡمِنُوۡنَ ﴿ۙ۴۱﴾
’’کم ہی ہے جو تم یقین کرتے ہو۔‘‘
وَ لَا بِقَوۡلِ کَاہِنٍ ؕ
’’اور نہ ہی یہ کسی کاہن کا کلام ہے۔‘‘
قَلِیۡلًا مَّا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿ؕ۴۲﴾
’’کم ہی ہے جو تم غور کرتے ہو۔‘‘
تَنۡزِیۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۴۳﴾
’’اس کا اتارا جانا ہے تمام جہانوں کے رب کی طرف سے۔‘‘
یہ آیت جوں کی توں سورۃ الواقعہ (آیت ۸۰) میں بھی ہے۔
وَ لَوۡ تَقَوَّلَ عَلَیۡنَا بَعۡضَ الۡاَقَاوِیۡلِ ﴿ۙ۴۴﴾ لَاَخَذۡنَا مِنۡہُ بِالۡیَمِیۡنِ ﴿ۙ۴۵﴾ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡہُ الۡوَتِیۡنَ ﴿۫ۖ۴۶﴾ فَمَا مِنۡکُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡہُ حٰجِزِیۡنَ ﴿۴۷﴾
وَ لَوۡ تَقَوَّلَ عَلَیۡنَا بَعۡضَ الۡاَقَاوِیۡلِ ﴿ۙ۴۴﴾
’’اور اگر یہ (نبیﷺ) خود گھڑ کر بعض باتیں ہماری طرف منسوب کرتا۔‘‘
تَقَوَّلَ باب تفعل ہے ‘ اس باب میں تکلف کے معنی پائے جاتے ہیں‘ یعنی ارادے‘ محنت اور کوشش سے کوئی بات کہنا۔
لَاَخَذۡنَا مِنۡہُ بِالۡیَمِیۡنِ ﴿ۙ۴۵﴾
’’تو ہم پکڑتے اس کو داہنے ہاتھ سے۔‘‘
اس فقرے کے مفہوم میں دو امکانات ہیں۔ ایک یہ کہ ہم اپنے دائیں ہاتھ سے اسے پکڑتے‘ یا یہ کہ ہم اسے اس کے داہنے ہاتھ سے پکڑتے۔
ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡہُ الۡوَتِیۡنَ ﴿۫ۖ۴۶﴾
’’پھر اس کی گردن کاٹ ڈالتے۔‘‘
اس اسلوب اور لہجے میں جو سختی ہے یہ دراصل ان لوگوں کے لیے ہے جو قرآن کو کلام اللہ ماننے کے لیے تیار نہیں تھے اور کہتے تھے کہ محمد(ﷺ) خود اپنی طرف سے باتیں بنا کر اللہ کی طرف منسوب کررہے ہیں۔ انہیں بتایا جا رہا ہے کہ بدبختو !تم ہمارے رسول کریمﷺ کے مرتبے کو کیا سمجھو! کسی رسول کا یہ مقام نہیں ہے کہ وہ اپنے رب کے کلام میں اپنی طرف سے کوئی ملاوٹ کرے۔وہ تم لوگوں تک ٹھیک ٹھیک وہی کچھ پہنچا رہے ہیں جو ہمارا کلام ہے۔ بفرضِ محال اگر وہ اپنی طرف سے کوئی بات گھڑ کر ہماری طرف منسوب کر دیں تو یہ کوئی معمولی سا جرم نہیں ہے جس کا نوٹس نہ لیا جائے۔
فَمَا مِنۡکُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡہُ حٰجِزِیۡنَ ﴿۴۷﴾
’’پھر تم میں سے کوئی بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا نہ ہوتا۔‘‘
وَ اِنَّہٗ لَتَذۡکِرَۃٌ لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۴۸﴾ وَ اِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡکُمۡ مُّکَذِّبِیۡنَ ﴿۴۹﴾ وَ اِنَّہٗ لَحَسۡرَۃٌ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۵۰﴾ وَ اِنَّہٗ لَحَقُّ الۡیَقِیۡنِ ﴿۵۱﴾ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الۡعَظِیۡمِ ﴿٪۵۲﴾
وَ اِنَّہٗ لَتَذۡکِرَۃٌ لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۴۸﴾
’’اور یقینا یہ تو ایک یاد دہانی ہے متقین کے لیے۔‘‘
یہ کلام ان لوگوں کے لیے نصیحت ہے جو اللہ کا تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور نیکی و بدی میں تمیز کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔
وَ اِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡکُمۡ مُّکَذِّبِیۡنَ ﴿۴۹﴾
’’اور ہمیں خوب معلوم ہے کہ تم میں کچھ لوگ جھٹلانے والے بھی ہیں۔‘‘
وہ ہمارے کلام کو جھٹلانے پر کمربستہ ہو چکے ہیں کہ جو چاہے ہو وہ اسے اللہ کا کلام نہیں مانیں گے۔
وَ اِنَّہٗ لَحَسۡرَۃٌ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۵۰﴾
’’اور یقینا یہ کافروں کے لیے حسرت کا باعث بن جائے گا۔‘‘
ایک وقت آئے گا جب قرآن ان جھٹلانے والوں کے لیے حسرت اور پچھتاوے کا سبب بن جائے گا۔ حضورﷺ کا فرمان ہے : حدیث((اَلْـقُرْآنُ حُجَّۃٌ لَکَ اَوْ عَلَیْکَ))۱ ۔کہ یہ قرآن حجت ہے تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف۔ اگر تو تم اس کے حقوق ادا کرو گے ‘اس پر ایمان لاؤ گے‘ اسے اپنا امام بنا کر اس کے پیچھے چلو گے اور اس کا پیغام دوسروں تک پہنچانے کا اہتمام کرو گے تو یہ قیامت کے دن تمہاری شفاعت کرے گا اور اگر تم اس کے حقوق اد ا کرنے میں کوتاہی کرو گے تو قیامت کے دن یہ تمہارے خلاف گواہ بن کر کھڑا ہو گا۔
(۱) صحیح مسلم‘ کتاب الطھارۃ‘ باب فضل الوضوئ۔ وسنن الترمذی‘ ابواب الدعوات‘ باب منہ۔
وَ اِنَّہٗ لَحَقُّ الۡیَقِیۡنِ ﴿۵۱﴾
’’اور یقینا یہ (قرآن) بالکل یقینی حق ہے۔‘‘
یہ ایسا یقین ہے جو سراسر حق ہے ‘ جس میں باطل کی ذرا ملاوٹ تک نہیں۔
فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الۡعَظِیۡمِ ﴿٪۵۲﴾
’’پس آپؐ تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو کہ بہت عظمت والا ہے۔‘‘
نوٹ کیجیے‘ سورۃ الواقعہ کا اختتام بھی اسی آیت پر ہوتا ہے۔