فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ نَفۡخَۃٌ وَّاحِدَۃٌ ﴿ۙ۱۳﴾
’’تو جب صور میں پھونکا جائے گا یکبارگی۔‘‘
یعنی اُس وقت کو یاد رکھو جب ایک ہی بار صور میں پھونک مار دی جائے گی۔
قرآنترجمہتشریححدیثشعر
فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ نَفۡخَۃٌ وَّاحِدَۃٌ ﴿ۙ۱۳﴾ وَّ حُمِلَتِ الۡاَرۡضُ وَ الۡجِبَالُ فَدُکَّتَا دَکَّۃً وَّاحِدَۃً ﴿ۙ۱۴﴾ فَیَوۡمَئِذٍ وَّقَعَتِ الۡوَاقِعَۃُ ﴿ۙ۱۵﴾ وَ انۡشَقَّتِ السَّمَآءُ فَہِیَ یَوۡمَئِذٍ وَّاہِیَۃٌ ﴿ۙ۱۶﴾ وَّ الۡمَلَکُ عَلٰۤی اَرۡجَآئِہَا ؕ وَ یَحۡمِلُ عَرۡشَ رَبِّکَ فَوۡقَہُمۡ یَوۡمَئِذٍ ثَمٰنِیَۃٌ ﴿ؕ۱۷﴾ یَوۡمَئِذٍ تُعۡرَضُوۡنَ لَا تَخۡفٰی مِنۡکُمۡ خَافِیَۃٌ ﴿۱۸﴾
فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ نَفۡخَۃٌ وَّاحِدَۃٌ ﴿ۙ۱۳﴾
’’تو جب صور میں پھونکا جائے گا یکبارگی۔‘‘
یعنی اُس وقت کو یاد رکھو جب ایک ہی بار صور میں پھونک مار دی جائے گی۔
وَّ حُمِلَتِ الۡاَرۡضُ وَ الۡجِبَالُ فَدُکَّتَا دَکَّۃً وَّاحِدَۃً ﴿ۙ۱۴﴾
’’اور جب زمین اور پہاڑوں کو اُٹھا کر ایک ہی بار میں پاش پاش کر دیاجائے گا۔‘‘
فَیَوۡمَئِذٍ وَّقَعَتِ الۡوَاقِعَۃُ ﴿ۙ۱۵﴾
’’تو اُس روز وہ واقعہ رونما ہو جائے گا۔‘‘
وَ انۡشَقَّتِ السَّمَآءُ
’’اور آسمان پھٹ جائے گا‘‘
فَہِیَ یَوۡمَئِذٍ وَّاہِیَۃٌ ﴿ۙ۱۶﴾
’’تو وہ اُس دن بہت بودا سا ہو جائے گا۔‘‘
وَّ الۡمَلَکُ عَلٰۤی اَرۡجَآئِہَا ؕ
’’اور فرشتے ہوں گے اس کے کناروں پر۔‘‘
وَ یَحۡمِلُ عَرۡشَ رَبِّکَ فَوۡقَہُمۡ یَوۡمَئِذٍ ثَمٰنِیَۃٌ ﴿ؕ۱۷﴾
’’اور اُس دن تیرے رب کے عرش کو اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے آٹھ فرشتے۔‘‘
یَوۡمَئِذٍ تُعۡرَضُوۡنَ
’’اُس دن تمہاری پیشی ہو گی‘‘
لَا تَخۡفٰی مِنۡکُمۡ خَافِیَۃٌ ﴿۱۸﴾
’’تمہاری کوئی مخفی سے مخفی بات بھی چھپی نہیں رہے گی۔‘‘
فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِیَ کِتٰبَہٗ بِیَمِیۡنِہٖ ۙ فَیَقُوۡلُ ہَآؤُمُ اقۡرَءُوۡا کِتٰبِیَہۡ ﴿ۚ۱۹﴾ اِنِّیۡ ظَنَنۡتُ اَنِّیۡ مُلٰقٍ حِسَابِیَہۡ ﴿ۚ۲۰﴾ فَہُوَ فِیۡ عِیۡشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ ﴿ۙ۲۱﴾ فِیۡ جَنَّۃٍ عَالِیَۃٍ ﴿ۙ۲۲﴾ قُطُوۡفُہَا دَانِیَۃٌ ﴿۲۳﴾ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا ہَنِیۡٓـئًۢا بِمَاۤ اَسۡلَفۡتُمۡ فِی الۡاَیَّامِ الۡخَالِیَۃِ ﴿۲۴﴾
فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِیَ کِتٰبَہٗ بِیَمِیۡنِہٖ ۙ
’’تو وہ شخص جس کو اس کا اعمال نامہ دیا جائے گا اس کے داہنے ہاتھ میں‘‘
فَیَقُوۡلُ ہَآؤُمُ اقۡرَءُوۡا کِتٰبِیَہۡ ﴿ۚ۱۹﴾
’’تووہ کہے گا :آؤ آؤ! دیکھو میر ا اعمال نامہ!‘‘
اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ! آمین!
اِنِّیۡ ظَنَنۡتُ اَنِّیۡ مُلٰقٍ حِسَابِیَہۡ ﴿ۚ۲۰﴾
’’(وہ کہے گا:) مجھے یقین تھا کہ مجھے اپنے حساب سے دوچار ہونا ہے۔‘‘
مجھے یقین تھا کہ مجھے میرے اعمال کا بدلہ ضرور ملے گا۔
فَہُوَ فِیۡ عِیۡشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ ﴿ۙ۲۱﴾
’’پس وہ پسندیدہ زندگی بسر کرے گا۔‘‘
وہ خوش نصیب دل پسند عیش میں ہو گا۔ اسے ایسی زندگی عطا کی جائے گی جس میں ہر طرح کی رضا ہی رضاہو گی۔
فِیۡ جَنَّۃٍ عَالِیَۃٍ ﴿ۙ۲۲﴾
’’بڑے ہی بلند باغ میں۔‘‘
قُطُوۡفُہَا دَانِیَۃٌ ﴿۲۳﴾
’’اس کے خوشے جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘
کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا ہَنِیۡٓـئًۢا بِمَاۤ اَسۡلَفۡتُمۡ فِی الۡاَیَّامِ الۡخَالِیَۃِ ﴿۲۴﴾
’’(کہہ دیا جائے گا) کھاؤ اور پیو رچتا پچتا ان اعمال کے صلے میں جو تم نے گزرے دنوں میں کیے۔‘‘
وَ اَمَّا مَنۡ اُوۡتِیَ کِتٰبَہٗ بِشِمَالِہٖ ۬ۙ فَیَقُوۡلُ یٰلَیۡتَنِیۡ لَمۡ اُوۡتَ کِتٰبِیَہۡ ﴿ۚ۲۵﴾ وَ لَمۡ اَدۡرِ مَا حِسَابِیَہۡ ﴿ۚ۲۶﴾ یٰلَیۡتَہَا کَانَتِ الۡقَاضِیَۃَ ﴿ۚ۲۷﴾ مَاۤ اَغۡنٰی عَنِّیۡ مَالِیَہۡ ﴿ۚ۲۸﴾ ہَلَکَ عَنِّیۡ سُلۡطٰنِیَہۡ ﴿ۚ۲۹﴾
وَ اَمَّا مَنۡ اُوۡتِیَ کِتٰبَہٗ بِشِمَالِہٖ ۬ۙ
’’اور جس شخص کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیاجائے گا‘‘
فَیَقُوۡلُ یٰلَیۡتَنِیۡ لَمۡ اُوۡتَ کِتٰبِیَہۡ ﴿ۚ۲۵﴾
’’وہ کہے گا :اے کاش! مجھے میرا اعمال نامہ دیا ہی نہ گیاہوتا۔‘‘
؏’’مرا اے کاش کہ مادر نہ زادے ‘‘ کاش! میری ماں نے مجھے جنا ہی نہ ہوتا!
وَ لَمۡ اَدۡرِ مَا حِسَابِیَہۡ ﴿ۚ۲۶﴾
’’اور مجھے معلوم ہی نہ ہوتا کہ میرا حساب کیا ہے!‘‘
یٰلَیۡتَہَا کَانَتِ الۡقَاضِیَۃَ ﴿ۚ۲۷﴾
’’اے کاش کہ وہی موت قصہ پاک کر دینے والی ہوتی!‘‘
کاش کہ وہی موت جو مجھے دنیا میں آئی تھی فیصلہ کن ہوتی‘ اُس موت کے بعد میں معدوم ہو گیا ہوتااور میرے دوبارہ زندہ ہونے کی نوبت نہ آتی۔
مَاۤ اَغۡنٰی عَنِّیۡ مَالِیَہۡ ﴿ۚ۲۸﴾
’’میرا مال و اسباب کچھ بھی میرے کام نہ آیا۔‘‘
ہَلَکَ عَنِّیۡ سُلۡطٰنِیَہۡ ﴿ۚ۲۹﴾
’’میرا اقتدار بھی مجھ سے چھن گیا۔‘‘
میرے دُنیوی اختیار و اقتدار اور میری شان و شوکت میں سے کچھ بھی باقی نہ بچا‘ سب کچھ نیست و نابود ہوگیا۔ ایسے ہر شخص کے لیے فرشتوں کو حکم دیا جائے گا :
خُذُوۡہُ فَغُلُّوۡہُ ﴿ۙ۳۰﴾ ثُمَّ الۡجَحِیۡمَ صَلُّوۡہُ ﴿ۙ۳۱﴾ ثُمَّ فِیۡ سِلۡسِلَۃٍ ذَرۡعُہَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا فَاسۡلُکُوۡہُ ﴿ؕ۳۲﴾ اِنَّہٗ کَانَ لَا یُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ الۡعَظِیۡمِ ﴿ۙ۳۳﴾ وَ لَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الۡمِسۡکِیۡنِ ﴿ؕ۳۴﴾ فَلَیۡسَ لَہُ الۡیَوۡمَ ہٰہُنَا حَمِیۡمٌ ﴿ۙ۳۵﴾ وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِیۡنٍ ﴿ۙ۳۶﴾ لَّا یَاۡکُلُہٗۤ اِلَّا الۡخَاطِـُٔوۡنَ ﴿٪۳۷﴾
خُذُوۡہُ فَغُلُّوۡہُ ﴿ۙ۳۰﴾
’’پکڑو اسے اور اس کی گردن میں طوق ڈال دو!‘‘
ثُمَّ الۡجَحِیۡمَ صَلُّوۡہُ ﴿ۙ۳۱﴾
’’پھر اسے جہنم کے اندر جھونک دو!‘‘
ثُمَّ فِیۡ سِلۡسِلَۃٍ ذَرۡعُہَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا فَاسۡلُکُوۡہُ ﴿ؕ۳۲﴾
’’پھر ایک زنجیر میں اس کو باندھ دو جس کا طول ستر گزہے۔‘‘
اِنَّہٗ کَانَ لَا یُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ الۡعَظِیۡمِ ﴿ۙ۳۳﴾
’’ یہ اللہ پر ایمان نہیں رکھتا تھا جو عظمت والا ہے۔‘‘
وَ لَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الۡمِسۡکِیۡنِ ﴿ؕ۳۴﴾
’’اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔‘‘
اسے خود تو کسی مسکین کو کھانا کھلانے کی کبھی توفیق نہیں ہوئی‘ کسی دوسرے شخص کو بھی اس نے بھلائی کے اس کام کی کبھی ترغیب نہیں دی۔
فَلَیۡسَ لَہُ الۡیَوۡمَ ہٰہُنَا حَمِیۡمٌ ﴿ۙ۳۵﴾
’’تواس کے لیے یہاں کوئی گرم جوش دوست نہیں ہے۔‘‘
وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِیۡنٍ ﴿ۙ۳۶﴾
’’اور نہ ہی کچھ کھانے کو ہے سوائے زخموں کے دھوون کے۔‘‘
لَّا یَاۡکُلُہٗۤ اِلَّا الۡخَاطِـُٔوۡنَ ﴿٪۳۷﴾
’’نہیں کھائیں گے اس کو مگر وہی جوخطاکار تھے۔‘‘