اَلۡحَآقَّۃُ ۙ﴿۱﴾
’’وہ حق ہو جانے والی!‘‘
یعنی قیامت جس کا وقوع پذیر ہونا حق ہے‘اس کا واقع ہونا ایک مسلمہ صداقت اور اٹل حقیقت ہے جس میں قطعاً کوئی شک نہیں۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
تحریر
آیات ۱ تا ۱۲
بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد
قرآنترجمہتشریححدیثشعر
اَلۡحَآقَّۃُ ۙ﴿۱﴾ مَا الۡحَآقَّۃُ ۚ﴿۲﴾ وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا الۡحَآقَّۃُ ؕ﴿۳﴾ کَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ وَ عَادٌۢ بِالۡقَارِعَۃِ ﴿۴﴾ فَاَمَّا ثَمُوۡدُ فَاُہۡلِکُوۡا بِالطَّاغِیَۃِ ﴿۵﴾
اَلۡحَآقَّۃُ ۙ﴿۱﴾
’’وہ حق ہو جانے والی!‘‘
یعنی قیامت جس کا وقوع پذیر ہونا حق ہے‘اس کا واقع ہونا ایک مسلمہ صداقت اور اٹل حقیقت ہے جس میں قطعاً کوئی شک نہیں۔
مَا الۡحَآقَّۃُ ۚ﴿۲﴾
’’کیا ہے وہ حق ہو جانے والی؟‘‘
وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا الۡحَآقَّۃُ ؕ﴿۳﴾
’’اور تم نے کیا سمجھا کہ وہ حق ہونے والی کیا ہے؟‘‘
کَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ وَ عَادٌۢ بِالۡقَارِعَۃِ ﴿۴﴾
’’جھٹلایا تھا ثمود نے بھی اور عاد نے بھی اس کھڑکھڑا دینے والی کو۔‘‘
القارعۃ سے مراد بھی قیامت ہے۔ قَـرَعَ کا معنی ہے ایک سخت چیز کو دوسری چیز سے ٹکرانا‘ کوٹنا‘ ریزہ ریزہ کردینا‘ کھڑکھڑا دینا‘ یا بہت زور سے کھٹکھٹانا۔ الحاقّۃ اور القارعۃ ان دونوں الفاظ کے مابین ایک نسبت یہ بھی ہے کہ یہ دوسورتوں کے نام ہیں اور ان دونوں سورتوں کے آغاز کا انداز بھی ایک جیسا ہے ۔ چنانچہ سورۃ القارعۃ کا آغاز بھی بالکل اسی طرح ہو رہاہے : {اَلۡقَارِعَۃُ ۙ﴿۱﴾مَا الۡقَارِعَۃُ ۚ﴿۲﴾وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا الۡقَارِعَۃُ ؕ﴿۳﴾}
فَاَمَّا ثَمُوۡدُ فَاُہۡلِکُوۡا بِالطَّاغِیَۃِ ﴿۵﴾
’’پس ثمود تو ہلاک کر دیے گئے ایک حد سے بڑھ جانے والی آفت سے۔‘‘
الطاغیۃ کے لغوی معنی حد سے گزر جانے والی چیز کے ہیں ۔یعنی انتہائی شدت والی چیز ۔اس کے لیے قرآن حکیم کے مختلف مقامات پر الرَّجفۃ (زبردست زلزلہ) ‘ الصَّیحۃ (زور کا دھماکہ یا کڑک)‘ صَاعِقَۃ (گرج) الفاظ مذکور ہیں‘ جو عذاب کی مختلف کیفیات کو بیان کرتے ہیں۔
وَ اَمَّا عَادٌ فَاُہۡلِکُوۡا بِرِیۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِیَۃٍ ۙ﴿۶﴾ سَخَّرَہَا عَلَیۡہِمۡ سَبۡعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَۃَ اَیَّامٍ ۙ حُسُوۡمًا ۙ فَتَرَی الۡقَوۡمَ فِیۡہَا صَرۡعٰی ۙ کَاَنَّہُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِیَۃٍ ۚ﴿۷﴾ فَہَلۡ تَرٰی لَہُمۡ مِّنۡۢ بَاقِیَۃٍ ﴿۸﴾
وَ اَمَّا عَادٌ فَاُہۡلِکُوۡا بِرِیۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِیَۃٍ ۙ﴿۶﴾
’’اور عاد ہلاک کر دیے گئے ایک جھکڑ والی تیز آندھی سے۔‘‘
سَخَّرَہَا عَلَیۡہِمۡ سَبۡعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَۃَ اَیَّامٍ ۙ حُسُوۡمًا ۙ فَتَرَی الۡقَوۡمَ فِیۡہَا صَرۡعٰی ۙ کَاَنَّہُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِیَۃٍ ۚ﴿۷﴾
’’اللہ نے مسلط کر دیا اسے اُن پر مسلسل سات راتوں اور آٹھ دنوں تک ‘ ان کی بیخ کنی کے لیے ‘ تو تم دیکھتے ان لوگوں کو کہ وہاں ایسے پچھڑے پڑے ہیں جیسے کھجور کے کھوکھلے تنے ہوں۔‘‘
قومِ عاد کے لوگ بہت قد آور تھے ‘اس لیے انہیں کھجور کے تنوں سے تشبیہہ دی گئی ہے۔
فَہَلۡ تَرٰی لَہُمۡ مِّنۡۢ بَاقِیَۃٍ ﴿۸﴾
’’تو کیا تم ان میں سے کسی کو دیکھتے ہوباقی بچا ہوا؟‘‘
وَ جَآءَ فِرۡعَوۡنُ وَ مَنۡ قَبۡلَہٗ وَ الۡمُؤۡتَفِکٰتُ بِالۡخَاطِئَۃِ ۚ﴿۹﴾ فَعَصَوۡا رَسُوۡلَ رَبِّہِمۡ فَاَخَذَہُمۡ اَخۡذَۃً رَّابِیَۃً ﴿۱۰﴾ اِنَّا لَمَّا طَغَا الۡمَآءُ حَمَلۡنٰکُمۡ فِی الۡجَارِیَۃِ ﴿ۙ۱۱﴾ لِنَجۡعَلَہَا لَکُمۡ تَذۡکِرَۃً وَّ تَعِیَہَاۤ اُذُنٌ وَّاعِیَۃٌ ﴿۱۲﴾
وَ جَآءَ فِرۡعَوۡنُ وَ مَنۡ قَبۡلَہٗ وَ الۡمُؤۡتَفِکٰتُ بِالۡخَاطِئَۃِ ۚ﴿۹﴾
’’اور (اسی طرح) فرعون اور اس سے پہلے والوں نے‘ اور الٹ دی جانے والی بستیوں( کے باسیوں) نے بھی خطاکاری کی روش اختیار کی تھی۔‘‘
الٹائی جانے والی بستیوں سے مراد قومِ لوط کی بستیاں ہیں۔
فَعَصَوۡا رَسُوۡلَ رَبِّہِمۡ
’’تو انہوں نے نافرمانی کی اپنے رب کے رسولوں کی‘‘
فَاَخَذَہُمۡ اَخۡذَۃً رَّابِیَۃً ﴿۱۰﴾
’’تو اللہ نے ان کو اپنی سخت گرفت میں دبوچ لیا۔‘‘
اِنَّا لَمَّا طَغَا الۡمَآءُ حَمَلۡنٰکُمۡ فِی الۡجَارِیَۃِ ﴿ۙ۱۱﴾
’’جب (سیلابِ نوحؑ کا) پانی طغیانی پر آیا تھا تو ہم نے تمہیں سوار کرا لیا تھا کشتی پر۔‘‘
اس سیلاب کے بعد نوعِ انسانی کی نسل حضرت نوح علیہ السلام کے انہی تین بیٹوں سے چلی جو اس کشتی میں سوار تھے ‘اس لیے آیت کے اسلوب سے یہ تاثر ملتا ہے جیسے پوری نوعِ انسانی کشتی میں سوار تھی۔
لِنَجۡعَلَہَا لَکُمۡ تَذۡکِرَۃً وَّ تَعِیَہَاۤ اُذُنٌ وَّاعِیَۃٌ ﴿۱۲﴾
’’تاکہ ہم اس کو تمہارے لیے ایک یاددہانی بنا دیں اور وہ کان جو حفاظت کرنے والے ہیں اس کو پوری حفاظت سے یاد رکھیں۔‘‘
ان آیات میں ’’التَّذْکِیر بایَّامِ اللّٰہ‘‘ کا بیان تھا۔ اس کے بعد اب آخرت کا ذکر آ رہا ہے۔ ایک لحاظ سے تو یہ بھی اَیَّام اللّٰہ ہی کے تذکرے کا حصہ ہے ‘کیونکہ وقت کی ڈور میں ایک طرف اگر گزشتہ اقوام کے عبرت ناک واقعات پروئے ہوئے ہیں تو اسی ڈور کا دوسرا سرا آخرت ہے۔