قُلۡ ہُوَ الَّذِیۡ ذَرَاَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ وَ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۲۴﴾
’’کہہ دیجیے اُسی نے تمہیں پھیلا دیا ہے زمین میں اور اُسی کی طرف تم اکٹھے کر دیے جاؤ گے۔‘‘
قرآنترجمہتشریححدیثشعر
قُلۡ ہُوَ الَّذِیۡ ذَرَاَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ وَ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۲۴﴾ وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۲۵﴾ قُلۡ اِنَّمَا الۡعِلۡمُ عِنۡدَ اللّٰہِ ۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۲۶﴾ فَلَمَّا رَاَوۡہُ زُلۡفَۃً سِیۡٓـَٔتۡ وُجُوۡہُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ قِیۡلَ ہٰذَا الَّذِیۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ تَدَّعُوۡنَ ﴿۲۷﴾
قُلۡ ہُوَ الَّذِیۡ ذَرَاَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ وَ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۲۴﴾
’’کہہ دیجیے اُسی نے تمہیں پھیلا دیا ہے زمین میں اور اُسی کی طرف تم اکٹھے کر دیے جاؤ گے۔‘‘
وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۲۵﴾
’’وہ کہتے ہیں کب پورا ہو گا یہ وعدہ؟ اگر تم سچے ہو (تو بتاؤ)!‘‘
قُلۡ اِنَّمَا الۡعِلۡمُ عِنۡدَ اللّٰہِ ۪
’’کہہ دیجیے کہ یہ علم تو اللہ ہی کے پاس ہے‘‘
قیامت کے وقوع کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی کچھ نہیں جانتا: {اِنَّ اللّٰہَ عِنۡدَہٗ عِلۡمُ السَّاعَۃِ ۚ } (لقمان:۳۴) ’’یقینا اللہ ہی ہے جس کے پاس ہے قیامت کا علم ۔‘‘
وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۲۶﴾
’’اور میں تو بس ایک واضح طور پر خبردار کر دینے والا ہوں۔‘‘
فَلَمَّا رَاَوۡہُ زُلۡفَۃً سِیۡٓـَٔتۡ وُجُوۡہُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا
’’پھر جب وہ دیکھیں گے اس کو اپنے قریب آتے تو ان کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے‘‘
وَ قِیۡلَ ہٰذَا الَّذِیۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ تَدَّعُوۡنَ ﴿۲۷﴾
’’اور کہا جائے گا ‘یہ ہے وہ چیز جس کا تم مطالبہ کرتے‘تھے۔‘‘
ہماری وعیدوں اور تنبیہات کے جواب میں تم لوگ طنزیہ انداز میں کہا کرتے تھے کہ لاؤ دکھاؤ کیسی ہے وہ جہنم! لاؤ ابھی لے آؤ ہمارے اوپر وہ عذابِ موعود! تو لو دیکھ لو اب‘ یہ ہے جہنم !تمہارا اصل اور دائمی ٹھکانہ!
قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ اَہۡلَکَنِیَ اللّٰہُ وَ مَنۡ مَّعِیَ اَوۡ رَحِمَنَا ۙ فَمَنۡ یُّجِیۡرُ الۡکٰفِرِیۡنَ مِنۡ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۲۸﴾ قُلۡ ہُوَ الرَّحۡمٰنُ اٰمَنَّا بِہٖ وَ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡنَا ۚ فَسَتَعۡلَمُوۡنَ مَنۡ ہُوَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۲۹﴾
قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ اَہۡلَکَنِیَ اللّٰہُ وَ مَنۡ مَّعِیَ اَوۡ رَحِمَنَا ۙ فَمَنۡ یُّجِیۡرُ الۡکٰفِرِیۡنَ مِنۡ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۲۸﴾
’’(اے نبیﷺ!) ان سے کہیے کہ اگر اللہ مجھے اور جو لوگ میرے ساتھ ہیں‘ ان کو ہلاک کردے یا وہ ہم پر رحم کرے ‘ تو کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچائے گا؟‘‘
یعنی ہم نے تو اپنا معاملہ اپنے اللہ کے سپرد کر رکھا ہے ۔ہم اللہ کے بتائے ہوئے جس راستے پر چل رہے ہیں اس میں یا تو ہماری جانیں چلی جائیں گی یا ہم فتح یاب ہوں گے۔ ان میں سے جو صورت بھی ہو ‘ہمارے لیے تو کامیابی ہی کامیابی ہے۔ بلکہ ہماری اصل اور ابدی کامیابی تو وہ ہے جسے تم ہلاکت سمجھتے ہو۔ بہرحال صورتِ حال جو بھی ہو ‘ان دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی (اِحْدَی الْحُسْنَـیَیْنِ) (التوبۃ:۵۲) تو ہمیں مل کر ہی رہے گی۔ ہمارے غلبے اور فتح کی صورت میں تو تم بھی ہمیں کامیاب قرار دو گے‘ لیکن ہم اگر بقول تمہارے ہلاک بھی ہو گئے تو تم اپنے بارے میں بھی تو سوچو کہ تم لوگوں کو اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا؟
قُلۡ ہُوَ الرَّحۡمٰنُ اٰمَنَّا بِہٖ وَ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡنَا ۚ
’’(اے نبیﷺ!) آپ کہیے کہ وہ تو رحمن ہے‘ ہم اس پر ایمان لاچکے ہیں اور اُسی پر ہمارا توکل ہے۔‘‘
یاد رہے کہ زیر مطالعہ مکی سورتیں بالکل ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی تھیں‘اسی لیے ان میں حضورﷺ اور اہل ایمان کے ساتھ کفار و مشرکین کی بالکل ابتدائی ردّوقدح کا عکس نظرآتا ہے ۔اس کشمکش کا نقطہ عروج سورۃ الانعام‘ سورۃ الاعراف اور سورۂ ہود میں دیکھا جا سکتا ہے۔
فَسَتَعۡلَمُوۡنَ مَنۡ ہُوَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۲۹﴾
’’تو عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کھلی گمراہی میں کون تھا!‘‘
آنے والا وقت واضح کر دے گا کہ ہم گمراہ تھے یا تم۔
قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ اَصۡبَحَ مَآؤُکُمۡ غَوۡرًا فَمَنۡ یَّاۡتِیۡکُمۡ بِمَآءٍ مَّعِیۡنٍ ﴿٪۳۰﴾
قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ اَصۡبَحَ مَآؤُکُمۡ غَوۡرًا فَمَنۡ یَّاۡتِیۡکُمۡ بِمَآءٍ مَّعِیۡنٍ ﴿٪۳۰﴾
’’آپؐ کہیے کہ ذرا سوچو! اگر تمہارا پانی گہرائی میں اُتر جائے تو کون ہے جو لائے گا تمہارے پاس صاف ‘ نتھرا ہواپانی؟‘‘
آج کے دور میں اس آیت کا مفہوم واضح تر ہو کر دنیا کے سامنے آیا ہے۔ آج متعلقہ ماہرین بار بار اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ پانی کے بڑھتے ہوئے استعمال اور بارشوں کی کمی کے باعث مستقبل قریب میں زیرزمین پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے جا سکتی ہے۔ بیشتر علاقوں میں انسانی‘ حیوانی اور نباتاتی زندگی کا زیادہ تر دار و مدار زیرزمین پانی پر ہی ہے جو عموماً آسانی سے دستیاب بھی ہے۔ صاف شفاف اور میٹھے پانی کا یہ عظیم الشان ذخیرہ ’’زندگی‘‘ کے لیے قدرت کا بہت بڑا عطیہ ہے۔ اگر یہ پانی واقعی ایسی گہرائی میں چلا جائے جہاں سے اس کا نکالنا ناممکن یا مشکل ہو جائے تو اس کے نتائج کا تصور بھی روحِ فرسا ہے۔