بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

القلم

آیات ۱ تا ۱۶

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

تمہیدی کلمات

جیسا کہ سورۃ الملک کے تعارف میں بھی بیان ہو چکا ہے ‘زیر مطالعہ مکی سورتوں میں سے پہلی چھ سورتیں دو ضمنی گروپس پر مشتمل ہیں۔ ہر ضمنی گروپ میں تین سورتیں ہیں ‘جن میں ایک سورت منفرد ہے اور دو جوڑے کی شکل میں ہیں ۔ پہلے ضمنی گروپ کی پہلی سورت یعنی سورۃ الملک منفرد تھی ‘جبکہ اس کے بعد کی دو سورتیں یعنی سورۃ القلم اور سورۃ الحاقہ جوڑے کی شکل میں ہیں۔ ان دونوں سورتوں میں انباء الرسل کا پہلو زیادہ نمایاں ہے۔ سورۃ القلم اپنے گروپ کی تمام سورتوں میں اس اعتبار سے نمایاں ہے کہ اس میں حضورﷺ کی دعوت کے بالکل ابتدائی دور کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ اس حوالے سے اکثر مفسرین کا خیال ہے کہ سورۃ العلق کی ابتدائی پانچ آیات کے بعد حضورﷺ پر نازل ہونے والی دوسری وحی اس سورت کی ابتدائی سات آیات پر مشتمل تھی۔ ذاتی طور پر مجھے بھی اس رائے سے اتفاق ہے۔ ان سات آیات میں اہل مکہ کے اس ردّعمل کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے جس کا اظہار انہوں نے حضورﷺ کی پہلی وحی کی خبر پر کیا تھا۔ جب حضورﷺ نے پہلی مرتبہ لوگوں کو بتایا کہ میرے پاس اللہ کی طرف سے فرشتہ وحی لے کر آیا ہے تو لوگوں کا پہلا تاثر یہی تھا کہ آپؐ پر کسی جن یا بدروح کا اثر ہو گیا ہے۔ ان میں بیشتر لوگ اپنی اس رائے کا اظہار آپؐ سے ہمدردی کی بنا پر بھی کرتے تھے کہ دیکھیں یہ اچھے بھلے آدمی تھے‘ بیٹھے بٹھائے ان کے ساتھ یہ کیا معاملہ پیش آ گیا ہے۔ البتہ کچھ لوگ یہی باتیں آپؐ کو تنگ کرنے کے لیے طنزیہ اور استہزائیہ انداز میں بھی کرتے تھے۔ظاہر ہے حضورﷺ کے لیے یہ صورتِ حال بہت تکلیف دہ تھی کہ آپؐ کی اپنی ہی برادری کے وہ لوگ جو کل تک آپؐ کے قدموں میں نگاہیں بچھاتے تھے اور آپؐ کو اپنی آنکھوں کا تارا سمجھتے تھے آج آپؐ کو دیوانہ اور مجنون کہہ رہے تھے ۔ چنانچہ اس تکلیف دہ صورت حال میں حضورﷺ کی دلجوئی کے لیے یہ آیات نازل فرمائی گئیں۔ اس سورت کا آغاز اکیلے حرف ’’ن ‘‘سے ہوتا ہے۔ سورۂ ص اور سورئہ قٓ کے بعد ایک حرف سے شروع ہونے والی یہ تیسری اور آخری سورت ہے۔

1-4

نبی ﷺ اخلاق کے بلند ترین مرتبہ پر ہیں

ویڈیو

نٓ وَ الۡقَلَمِ وَ مَا یَسۡطُرُوۡنَ ۙ﴿۱﴾ مَاۤ اَنۡتَ بِنِعۡمَۃِ رَبِّکَ بِمَجۡنُوۡنٍ ۚ﴿۲﴾ وَ اِنَّ لَکَ لَاَجۡرًا غَیۡرَ مَمۡنُوۡنٍ ۚ﴿۳﴾ وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ ﴿۴﴾

آیت 1

نٓ وَ الۡقَلَمِ وَ مَا یَسۡطُرُوۡنَ ۙ﴿۱﴾

’’ن‘ قسم ہے قلم کی اور جو کچھ یہ لکھتے ہیں۔‘‘

یعنی قلم بھی اور جوعلمی ذخیرہ قلم کے ذریعہ نوع انسانی کے ہاں اب تک وجود میں آیا ہے وہ بھی اس حقیقت پر گواہ ہے کہ :

آیت 2

مَاۤ اَنۡتَ بِنِعۡمَۃِ رَبِّکَ بِمَجۡنُوۡنٍ ۚ﴿۲﴾

’’آپ اپنے رب کے فضل و کرم سے مجنون نہیں ہیں۔‘‘

اے نبیﷺ! جو لوگ آپ کو مجنون کہہ رہے ہیں وہ خود احمق ہیں جو یہ تک نہیں جانتے کہ مجنون کیسے ہوتے ہیں۔ کیا ان لوگوں کو آپؐ کی پاکیزہ اور اعلیٰ اخلاق کی حامل سیرت نظر نہیں آتی؟ کیا یہ لوگ واقعتا سمجھتے ہیں کہ مجنون لوگوں کی زندگی کا نقشہ بھی ایسا ہی ہوتا ہے؟ تو اے نبیﷺ! آپ ان لوگوں کی فضول اور لایعنی باتوں سے رنجیدہ نہ ہوں۔

آیت 3

وَ اِنَّ لَکَ لَاَجۡرًا غَیۡرَ مَمۡنُوۡنٍ ۚ﴿۳﴾

’’اور یقینا آپ کے لیے تو وہ اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہو گا۔‘‘

آیت 4

وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ ﴿۴﴾

’’اور آپؐ یقینا اخلاق کے بلند ترین مرتبے پر فائز ہیں۔‘‘

آپؐ اپنے اخلاق اور کردار کے بلند ترین معیار کے باعث پہلے سے ہی معراجِ انسانیت کے مقام پر فائز تھے‘ جبکہ اب آپؐ معراجِ نبوت و رسالت کے سفر کا آغاز کر رہے ہیں۔

5-7

جلد ظاہرہوجائے گا کون بھٹک گیا ہے؟

ویڈیو

فَسَتُبۡصِرُ وَ یُبۡصِرُوۡنَ ۙ﴿۵﴾ بِاَىیِّکُمُ الۡمَفۡتُوۡنُ ﴿۶﴾ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ۪ وَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۷﴾

آیت 5

فَسَتُبۡصِرُ وَ یُبۡصِرُوۡنَ ۙ﴿۵﴾

’’تو عنقریب آپؐ بھی دیکھ لیں گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے۔‘‘

یہ بڑا پیارااور ناصحانہ انداز ہے۔ جیسے کوئی بڑا کسی چھوٹے کو سمجھاتا ہے کہ آپ مخالفانہ باتوں پر آزردہ نہ ہوں‘ کچھ ہی دنوں کی بات ہے ‘اصل حقیقت بہت جلد کھل کر سامنے آ جائے گی ۔ پھر کسی کو کوئی شک و شبہ نہیں رہے گا :

آیت 6

بِاَىیِّکُمُ الۡمَفۡتُوۡنُ ﴿۶﴾

’’کہ تم میں سے کون فتنے میں مبتلا تھا!‘‘

بہت جلد دنیا پر واضح ہو جائے گا کہ تم دونوں فریقوں میں سے کون فتنے میں مبتلا ہو گیا تھا اور کون راہِ راست پر تھا۔ کیا محمد بن عبداللہ (ﷺ)کو جنون کا عارضہ لاحق ہو گیا تھا (معاذ اللہ!) یا آپؐ کے مخالفین جوشِ تعصب میں پاگل ہوگئے تھے؟

آیت 7

اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ۪

’’یقینا آپؐ کا رب خوب جانتا ہے کہ کون اُس کی راہ سے بھٹک گیا ہے ‘‘

وَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۷﴾

’’اور وہ ان کو بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘

یہ وہ آیات تھیں جو اکثر مفسرین کے نزدیک دوسری وحی میں نازل ہوئی تھیں۔ یہاں سے آگے نیا مضمون شروع ہو رہا ہے۔

8-9

باطل کے ساتھ سمجھوتا نہیں ہو سکتا

ویڈیو

فَلَا تُطِعِ الۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۸﴾ وَدُّوۡا لَوۡ تُدۡہِنُ فَیُدۡہِنُوۡنَ ﴿۹﴾

آیت 8

فَلَا تُطِعِ الۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۸﴾

’’تو(اے نبیﷺ!) آپ ان جھٹلانے والوں کی باتوں پر دھیان نہ دیں۔‘‘

آیت 9

وَدُّوۡا لَوۡ تُدۡہِنُ فَیُدۡہِنُوۡنَ ﴿۹﴾

’’وہ تو چاہتے ہیں کہ آپؐ ذرا ڈھیلے پڑیں تووہ بھی ڈھیلے پڑ جائیں۔‘‘

باطل کا تو وطیرہ ہے کہ پہلے وہ حق کو جھٹلاتا ہے ‘پھر جب اس کے مقابلے میں کھڑے ہونا مشکل نظر آتا ہے تو مداہنت (compromise) پر اتر آتا ہے ۔لیکن حق کسی قسم کی مداہنت یا کسی درمیانی راستے کو نہیں جانتا۔ بقول اقبال ؎

باطل دوئی پسند ہے حق لا شریک ہے

شرکت میانۂ حق و باطل نہ کر قبول!

اگلی آیات میں نام لیے بغیر انتہائی سخت الفاظ میں ایک کردار کا ذکر ہوا ہے۔ کسی معتبر روایت سے تو ثابت نہیں لیکن زیادہ تر مفسرین کا خیال ہے کہ ان آیات کا مصداق ولید بن مغیرہ تھا :

10-16

اہلِ باطل کا ایک خبیث کردار

ویڈیو

وَ لَا تُطِعۡ کُلَّ حَلَّافٍ مَّہِیۡنٍ ﴿ۙ۱۰﴾ ہَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیۡمٍ ﴿ۙ۱۱﴾ مَّنَّاعٍ لِّلۡخَیۡرِ مُعۡتَدٍ اَثِیۡمٍ ﴿ۙ۱۲﴾ عُتُلٍّۭ بَعۡدَ ذٰلِکَ زَنِیۡمٍ ﴿ۙ۱۳﴾ اَنۡ کَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیۡنَ ﴿ؕ۱۴﴾ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیۡرُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۱۵﴾ سَنَسِمُہٗ عَلَی الۡخُرۡطُوۡمِ ﴿۱۶﴾

آیت 10

وَ لَا تُطِعۡ کُلَّ حَلَّافٍ مَّہِیۡنٍ ﴿ۙ۱۰﴾

’’اور آپؐ مت مانیے کسی ایسے شخص کی بات جو بہت قسمیں کھانے والا انتہائی گھٹیاہے۔‘‘

ان دونوں خصوصیات کا آپس میں فطری تعلق ہے۔ اپنی شخصیت کے ہلکے پن کی تلافی کرنے کے لیے بات بات پر قسمیں کھانا ہر گھٹیا آدمی کی ضرورت ہوتی ہے۔لفظ ’’ مَہِیْن‘‘ ذلیل و حقیر اور گھٹیا آدمی کے لیے بولا جاتا ہے۔

آیت 11

ہَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیۡمٍ ﴿ۙ۱۱﴾

’’رُو در رُو طعنے دیتا ہے ‘ چغلیاں کھاتا پھرتا ہے۔‘‘

آیت 12

مَّنَّاعٍ لِّلۡخَیۡرِ مُعۡتَدٍ اَثِیۡمٍ ﴿ۙ۱۲﴾

’’خیر سے روکنے والا‘ حد سے بڑھنے والا ‘گنہگار۔‘‘

آیت 13

عُتُلٍّۭ بَعۡدَ ذٰلِکَ زَنِیۡمٍ ﴿ۙ۱۳﴾

’’بالکل گنوار ہے ‘اس کے بعد یہ کہ بداصل بھی ہے۔‘‘

یعنی مذکورہ بالا خصلتیں تو اس کی شخصیت میں ہیں ہی‘ سب سے بڑی بات یہ کہ وہ بے نسب بھی ہے۔

آیت 14

اَنۡ کَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیۡنَ ﴿ؕ۱۴﴾

’’صرف اس گھمنڈ پر کہ وہ مال و دولت اور بیٹوں والا ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے ولید بن مغیرہ کو کثیر مال و دولت کے علاوہ بہت سے بیٹوں سے بھی نواز رکھا تھا۔ اور بیٹے بھی ایسے کہ ان میں سے ایک کو قبولِ اسلام کے بعد ’’سَیْفٌ مِنْ سُیُوْفِ اللّٰہِ‘‘ کا مرتبہ ملا۔ یعنی حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ!

آیت 15

اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیۡرُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۱۵﴾

’’جب اسے ہماری آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔‘‘

آیت 16

سَنَسِمُہٗ عَلَی الۡخُرۡطُوۡمِ ﴿۱۶﴾

’’ہم عنقریب اس کی سونڈ پر داغ لگائیں گے۔‘‘

ممکن ہے اس کی ناک زیادہ لمبی اور نمایاں ہو۔وہ خود بھی ازراہِ تکبر اپنے آپ کو بڑی ناک والا سمجھتا تھا‘ جس کے لیے حقارت کے طور پر سونڈ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور ناک پر داغ لگانے سے مراد تذلیل ہے۔

اب آئندہ آیات میں ایمان بالآخرت کے حوالے سے بہت عمدہ اور عام فہم تمثیل کے طور پر باغ والوں کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔

یوٹیوب پر دیکھیے