ہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرۡضَ ذَلُوۡلًا
’’وہی ہے جس نے تمہارے لیے بنا دیا ہے زمین کو پست‘‘
اُس نے زمین کو تمہارے ماتحت اور تابع حکم کر رکھا ہے۔
فَامۡشُوۡا فِیۡ مَنَاکِبِہَا
’’تو تم چلو پھرو اس کے کندھوں کے مابین‘‘
زمین کے کندھوں سے مراد اس کے وہ میدان ہیں جو انسان کو بہت وسیع اور کشادہ نظر آتے ہیں۔ جیسے ایک چیونٹی اگر ہاتھی کے کندھوں کے درمیان چل پھر رہی ہوگی تو ظاہر ہے اس جگہ کو وہ بہت وسیع میدان سمجھے گی۔
وَ کُلُوۡا مِنۡ رِّزۡقِہٖ ؕ وَ اِلَیۡہِ النُّشُوۡرُ ﴿۱۵﴾
’’اور اُس کے (دیے ہوئے)رزق سے کھاؤ پیو‘ اور (یاد رکھو کہ تم نے)اسی کی طرف زندہ ہو کر جانا ہے۔‘‘
ءَاَمِنۡتُمۡ مَّنۡ فِی السَّمَآءِ اَنۡ یَّخۡسِفَ بِکُمُ الۡاَرۡضَ فَاِذَا ہِیَ تَمُوۡرُ ﴿ۙ۱۶﴾
’’کیا تم بے خوف ہو گئے ہو اُس سے جو آسمان میں ہے کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے اوروہ یکایک لرزنے لگے۔‘‘
کیا تم اس بات سے خائف نہیں ہو کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے زمین پر زلزلہ آ جائے‘ زمین شق ہو جائے اور تم اس کے اندر دھنس جاؤ؟
اَمۡ اَمِنۡتُمۡ مَّنۡ فِی السَّمَآءِ اَنۡ یُّرۡسِلَ عَلَیۡکُمۡ حَاصِبًا ؕ
’’کیا تم بے خوف ہو گئے ہو اُس سے جو آسمان میں ہے کہ وہ تم پر پتھر برسانے والی آندھی بھیج دے؟‘‘
فَسَتَعۡلَمُوۡنَ کَیۡفَ نَذِیۡرِ ﴿۱۷﴾
’’پھر تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میرا خبردار کرنا کیسا تھا!‘‘
وَ لَقَدۡ کَذَّبَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَکَیۡفَ کَانَ نَکِیۡرِ ﴿۱۸﴾
’’اور یقینا ان سے پہلے والوں نے بھی جھٹلایا تھا‘تو کیسا ہوا (ان پر) میرا عذاب؟‘‘