وَ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِرَبِّہِمۡ عَذَابُ جَہَنَّمَ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۶﴾
’’اور جو لوگ اپنے رب کا کفر کریں (چاہے وہ انسان ہوں یا جنات) ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے ‘اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔‘‘
قرآنترجمہتشریححدیثشعر
وَ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِرَبِّہِمۡ عَذَابُ جَہَنَّمَ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۶﴾ اِذَاۤ اُلۡقُوۡا فِیۡہَا سَمِعُوۡا لَہَا شَہِیۡقًا وَّ ہِیَ تَفُوۡرُ ۙ﴿۷﴾ تَکَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الۡغَیۡظِ ؕ کُلَّمَاۤ اُلۡقِیَ فِیۡہَا فَوۡجٌ سَاَلَہُمۡ خَزَنَتُہَاۤ اَلَمۡ یَاۡتِکُمۡ نَذِیۡرٌ ﴿۸﴾ قَالُوۡا بَلٰی قَدۡ جَآءَنَا نَذِیۡرٌ ۬ۙ فَکَذَّبۡنَا وَ قُلۡنَا مَا نَزَّلَ اللّٰہُ مِنۡ شَیۡءٍ ۚۖ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا فِیۡ ضَلٰلٍ کَبِیۡرٍ ﴿۹﴾
وَ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِرَبِّہِمۡ عَذَابُ جَہَنَّمَ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۶﴾
’’اور جو لوگ اپنے رب کا کفر کریں (چاہے وہ انسان ہوں یا جنات) ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے ‘اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔‘‘
اِذَاۤ اُلۡقُوۡا فِیۡہَا سَمِعُوۡا لَہَا شَہِیۡقًا وَّ ہِیَ تَفُوۡرُ ۙ﴿۷﴾
’’جب وہ اس میں جھونکے جائیں گے تو اسے سنیں گے دھاڑتے ہوئے اور وہ بہت جوش کھا رہی ہو گی۔‘‘
جہنم انہیں دیکھ کر غصے سے دھاڑرہی ہو گی جیسے کوئی بھوکا بھیڑیااپنے شکار پر جھپٹتے ہوئے غراتا ہے۔ سورئہ قٓ میں جہنم کے غیظ و غضب کی ایک کیفیت یوں بیان ہوئی ہے : {یَوۡمَ نَقُوۡلُ لِجَہَنَّمَ ہَلِ امۡتَلَاۡتِ وَ تَقُوۡلُ ہَلۡ مِنۡ مَّزِیۡدٍ ﴿۳۰﴾} ’’جس دن کہ ہم پوچھیں گے جہنم سے کہ کیا تو بھر گئی؟ اور وہ کہے گی کیا کچھ اور بھی ہے؟‘‘
تَکَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الۡغَیۡظِ ؕ
’’قریب ہو گا کہ وہ غصے سے پھٹ جائے۔‘‘
ایسے معلوم ہوگا کہ ابھی شدتِ غضب سے پھٹ پڑے گی۔
کُلَّمَاۤ اُلۡقِیَ فِیۡہَا فَوۡجٌ سَاَلَہُمۡ خَزَنَتُہَاۤ اَلَمۡ یَاۡتِکُمۡ نَذِیۡرٌ ﴿۸﴾
’’جب بھی ڈالا جائے گا اس میں کسی ایک گروہ کو تو اس کے داروغے ان سے پوچھیں گے:کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیاتھا؟‘‘
قیامت کے دن ہر قوم کا علیحدہ علیحدہ حساب ہو گا‘ جیسا کہ سورۃ النمل کی اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے: {وَ یَوۡمَ نَحۡشُرُ مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍ فَوۡجًا مِّمَّنۡ یُّکَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَہُمۡ یُوۡزَعُوۡنَ ﴿۸۳﴾} ’’اور ذرا تصور کرو اُس دن کا جس دن ہم جمع کریں گے ہر اُمت میں سے ایک فوج اُن لوگوں میں سے جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے ‘ پھر ان کی درجہ بندی کی جائے گی‘‘۔گویا جیسے جیسے حساب ہوتا جائے گا ‘اسی ترتیب سے ہر قوم کے مجرمین کو جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔ ہر گروہ کے پہنچنے پر جہنم پر متعین فرشتے ان سے سوال کریں گے کہ کیا اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا؟
قَالُوۡا بَلٰی قَدۡ جَآءَنَا نَذِیۡرٌ ۬ۙ
’’وہ کہیں گے کیوں نہیں! ہمارے پاس خبردار کرنے والا آیا تھا‘‘
فَکَذَّبۡنَا
’’لیکن ہم نے اسے جھٹلا دیا‘‘
وَ قُلۡنَا مَا نَزَّلَ اللّٰہُ مِنۡ شَیۡءٍ ۚۖ
’’اور ہم نے کہا کہ اللہ نے کوئی شے نہیں اتاری ۔‘‘
ہم نے اپنے رسولوں ؑ سے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف کوئی کتاب وغیرہ نہیں بھیجی‘ بلکہ ہم نے تو انہیں یہاں تک کہہ دیا تھا کہ:
اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا فِیۡ ضَلٰلٍ کَبِیۡرٍ ﴿۹﴾
’’تم تو کھلی گمراہی میں مبتلا ہو گئے ہو۔‘‘
وَ قَالُوۡا لَوۡ کُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا کُنَّا فِیۡۤ اَصۡحٰبِ السَّعِیۡرِ ﴿۱۰﴾ فَاعۡتَرَفُوۡا بِذَنۡۢبِہِمۡ ۚ فَسُحۡقًا لِّاَصۡحٰبِ السَّعِیۡرِ ﴿۱۱﴾ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَیۡبِ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ اَجۡرٌ کَبِیۡرٌ ﴿۱۲﴾
وَ قَالُوۡا لَوۡ کُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ
’’اور وہ کہیں گے کہ اگر ہم سنتے اور عقل سے کام لیتے‘‘
مَا کُنَّا فِیۡۤ اَصۡحٰبِ السَّعِیۡرِ ﴿۱۰﴾
’’تو ہم نہ ہوتے ان جہنم والوں میں سے۔‘‘
اس آیت میں انبیاء و رسل علیہم السلام کی تکذیب کرنے والوں کے اصل گناہ کی نشاندہی کر دی گئی ہے ۔اس اعتبار سے قرآن مجید کا یہ مقام خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ ایسے تمام لوگوں کابنیادی اور اصل جرم یہ تھا کہ انہوں نے اپنے پیغمبروں کی دعوت سنی اَن سنی کر دی تھی۔ اس دعوت پر انہوں نے کبھی سنجیدگی سے غو رہی نہ کیا اور نہ ہی پیغمبروں کی باتوں کو کبھی عقل کی کسوٹی پر پرکھنے کی زحمت گوارا کی۔ظاہر ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو دیکھنے‘ سننے ‘ سمجھنے وغیرہ کی صلاحیتیں اسی لیے تو دی ہیں کہ وہ ان صلاحیتوں کو کام میں لائے اور اپنے نفع ونقصان کے حوالے سے درست فیصلے کرے ۔ اسی بنیاد پر آخرت میں انسان کی ان تمام صلاحیتوں کا احتساب بھی ہو گا: {اِنَّ السَّمۡعَ وَ الۡبَصَرَ وَ الۡفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنۡہُ مَسۡـُٔوۡلًا ﴿۳۶﴾} (بنی اسرائیل) ’’یقینا سماعت‘بصارت اور عقل سبھی کے بارے میں بازپرس کی جائے گی‘‘۔بہرحال اللہ تعالیٰ نے تو انسان کو یہ صلاحیتیں استعمال میں لانے کے لیے دی ہیں‘ لیکن واقعہ یہ ہے کہ حق کی دعوت کے جواب میں اکثر لوگ ان صلاحیتوں سے بالکل بھی کام نہیں لیتے۔ بلکہ اگر بات سمجھ میں آبھی جائے اور دل اس کی صداقت کی گواہی بھی دے دے ‘تب بھی عملی طور پر قدم آگے نہیں بڑھتا۔ صرف اس لیے کہ آباء و اَجداد کے اعتقادات و نظریات ہیں‘ برادری کے رسم و رواج ہیں! انہیں کیسے چھوڑ دیں؟ اور اگر چھوڑیں گے تو لوگ کیا کہیں گے؟ اسی نوعیت کی ایک مجبوری یہ بھی ہے کہ پرانے مسلک سے روگردانی بھلا کیونکر ممکن ہے؟ اتنے عرصے سے اس جماعت میں ہیں‘اب یکدم اس سے کیسے بے وفائی کردیں؟
فَاعۡتَرَفُوۡا بِذَنۡۢبِہِمۡ ۚ
’’پس وہ اپنے اصل گناہ کا اعتراف کر لیں گے۔‘‘
فَسُحۡقًا لِّاَصۡحٰبِ السَّعِیۡرِ ﴿۱۱﴾
’’پس پھٹکار ہے جہنمی لوگوں کے لیے۔‘‘
اب تقابل کے طور پر آگے اہل جنت کا تذکرہ آ رہا ہے ۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَیۡبِ
’’بے شک وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں غیب میں رہتے ہوئے‘‘
لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ اَجۡرٌ کَبِیۡرٌ ﴿۱۲﴾
’’ان کے لیے مغفرت بھی ہے اور بہت بڑا اجر بھی ۔‘‘
وَ اَسِرُّوۡا قَوۡلَکُمۡ اَوِ اجۡہَرُوۡا بِہٖ ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۱۳﴾ اَلَا یَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ ؕ وَ ہُوَ اللَّطِیۡفُ الۡخَبِیۡرُ ﴿٪۱۴﴾
وَ اَسِرُّوۡا قَوۡلَکُمۡ اَوِ اجۡہَرُوۡا بِہٖ ؕ
’’اور (دیکھو!) چاہے تم اپنی بات کو چھپا کر بیان کرو یا بلند آواز سے بیان کرو(وہ اس کو جانتاہے)۔‘‘
اِنَّہٗ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۱۳﴾
’’وہ تو اس سے بھی واقف ہے جو تمہارے سینوں کے اندر پنہاں ہے۔‘‘
اَلَا یَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ ؕ
’’کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے؟‘‘
یہ آیت اپنے مضمون اور اسلوب کے اعتبار سے بہت اہم ہے۔ ہم میں سے جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے دعوت کا فریضہ ادا کرنے کی توفیق دی ہے‘ انہیں ایسی آیات اَزبر ہونی چاہئیں۔ ایک شخص نے اگر گھڑی بنائی ہے توظاہر ہے اس سے بڑھ کر بھلا اور کون اس گھڑی کے بارے میں جان سکتا ہے؟ چنانچہ اللہ تعالیٰ جو انسان کا خالق ہے ‘اس سے اس کے ظاہر اور باطن کا کوئی پہلو بھلا کیسے پوشیدہ رہ سکتا ہے!
وَ ہُوَ اللَّطِیۡفُ الۡخَبِیۡرُ ﴿٪۱۴﴾
’’اور وہ بہت باریک بین ہے ‘ہر شے کی خبر رکھنے والا ہے۔‘‘