بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

الملك

آیات ۱ تا ۵

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

تمہیدی کلمات

سورۃ التحریم مکی مدنی سورتوں کے چھٹے گروپ کی آخری سورت تھی۔ یاد دہانی کے لیے ایک مرتبہ پھر نوٹ کرلیجیے کہ اس گروپ کا آغاز سورئہ قٓ سے ہوتا ہے (سورۂ قٓ سے ہی قرآن مجید کی ساتویں اور آخری منزل کا آغاز بھی ہوتا ہے)۔ اس گروپ میں سورۂ قٓ سے سورۃ الواقعہ تک سات مکی سورتیں اور سورۃ الحدید سے سورۃ التحریم تک دس مدنی سورتیں شامل ہیں۔ اب سورۃ الملک کے مطالعہ کے آغاز کے ساتھ ہم پھر سے قرآن کی ’’مکی جنت‘‘ میں داخل ہو رہے ہیں۔ اس سورت سے مکی سورتوں کے آخری گروپ کا آغاز ہوتا ہے ۔ اس گروپ کی پہلی چھ سورتیں دو ضمنی گروپس میں تقسیم ہیں۔ ہر ضمنی گروپ میں تین سورتیں ہیں‘ جن میں ایک منفرد ہے اور دو جوڑے کی شکل میں ہیں۔ سورۃ الملک پہلے ضمنی گروپ کی منفرد سورت ہے۔ اپنے مضمون کی جامعیت کے اعتبار سے اس گروپ میں اس سورت کا وہی مقام ہے جو پچھلے گروپ میں سورۂ قٓ کا تھا۔ سورۃ الملک نبی اکرمﷺ کو بہت عزیز تھی۔ رات کو سونے سے پہلے اس سورت کی تلاوت کرنا حضورﷺ کا مستقل معمول تھا۔ آپؐ نے اُمت کو بھی اس عمل کی خصوصی تلقین فرمائی ہے۔

1-2

سلسلہ موت و حیات کی حکمت

ویڈیو

تَبٰرَکَ الَّذِیۡ بِیَدِہِ الۡمُلۡکُ ۫ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرُۨ ۙ﴿۱﴾ الَّذِیۡ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَ الۡحَیٰوۃَ لِیَبۡلُوَکُمۡ اَیُّکُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡغَفُوۡرُ ۙ﴿۲﴾

آیت 1

تَبٰرَکَ الَّذِیۡ بِیَدِہِ الۡمُلۡکُ ۫

’’بہت ہی بابرکت ہے وہ ہستی جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے‘‘

یہ دین اسلام کے سیاسی منشور کی بنیادی شق ہے ۔ یعنی پوری کائنات کا اقتدار اور اختیار کلی طور پر اللہ تعالیٰ کے دست قدرت میں ہے۔ دنیا میں اگر انسانوں کے ہاں اللہ تعالیٰ کے احکام سے کہیں بغاوت دکھائی دیتی ہے تو وہ بھی دراصل اسی کے عطا کردہ اختیار کی وجہ سے ہے ۔اس میں ایمان کے دعوے داروں کا امتحان بھی ہے کہ وہ بھلا اللہ کے اقتدار کو چیلنج کرنے والوں کے مقابلے میں کیا طرزِعمل اختیار کر تے ہیں۔ ورنہ سورج‘ چاند‘ ستارے‘ کہکشائیں‘ ہوائیں اور کائنات کا ذرّہ ذرّہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا پابند اور تابع ہے ۔

پوری کائنات پر اللہ تعالیٰ کی حکومت اور قدرت کی کیفیت یہ ہے کہ کہیں کوئی ایک ذرہ بھی اس کی مرضی کے بغیر حرکت نہیں کر سکتا اور حرکت کرتا ہوا کوئی ذرہ اس کی مشیت کے بغیر ساکن نہیں ہو سکتا۔ اپنی تمام مخلوق میں صرف انسان کو اس نے ایک حد تک ارادے اور عمل کا اختیار دیا ہے اور وہ بھی اس لیے کہ اس میں انسان کی آزمائش مقصود ہے ۔لیکن انسان ہے کہ ہلدی کی یہ گانٹھ مل جانے پر پنساری بن بیٹھا ہے ۔اب کہیں وہ فرعون بن کر اللہ کے مقابلے میں ’’میری حکومت‘ میرا ملک اور میرا مثالی نظام‘‘جیسے دعووں کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے تو کہیں کسی فرعون کی چاکری اور وفاداری کی دھن میں مقتدر حقیقی کے احکام کو پامال کرتا چلا جاتا ہے۔ جبکہ حقیقت میں انسان کی بے بسی کا عالم یہ ہے کہ خود اپنے جسم پر بھی اسے کوئی اختیار نہیں۔ ظاہر ہے انسان کے جسم کی فزیالوجی اور اناٹومی کا سارا نظام بھی تو اللہ تعالیٰ کے طے کردہ قانون کے تابع ہے۔ اگر کوئی شخص چاہے کہ وہ اپنے دل کو آرام دینے کے لیے تھوڑی دیر کے لیے بند کردے اور پھر اپنی مرضی سے دوبارہ رواں کر لے تو اس کے لیے یہ ممکن نہیں۔

وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرُۨ ۙ﴿۱﴾

’’اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

آیت 2

الَّذِیۡ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَ الۡحَیٰوۃَ لِیَبۡلُوَکُمۡ اَیُّکُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ

’’جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے اعمال کرنے والا ہے۔‘‘

وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡغَفُوۡرُ ۙ﴿۲﴾

’’ اور وہ بہت زبردست بھی ہے اور بہت بخشنے والا بھی ۔‘‘

یہ ہے انسانی زندگی اور موت کی تخلیق کا اصل مقصد۔ جو کوئی اس فلسفے کو نہیں سمجھے گا اسے زندگی‘ موت اور موت کے بعد پھر زندگی کی یہ باتیں محض افسانہ معلوم ہوں گی۔ جیسے ایک معروف جاہلی شاعر نے اپنی بیوی کو مخاطب کر کے کہا تھا :

حَیَاۃٌ ثُمَّ مَوْتٌ ثُمَّ بَعْثٌ حَدِیْثُ خَرَافَۃٍ یا اُمَّ عَمرو!

’’کہ یہ زندگی ‘پھر موت ‘پھر زندگی ‘اے اُم عمرو! یہ کیا حدیث خرافات ہے ؟‘‘(معاذ اللہ!)انسانی زندگی کا سفر دراصل عالم ارواح سے شروع ہو کر ابد الآباد کی سرحدوں تک جاتا ہے۔ انسان کی دنیوی زندگی‘ موت اور بعث بعد الموت اس طویل سلسلۂ حیات کے مختلف مراحل ہیں۔ جیسا کہ اس آیت میں آیا ہے : {وَ کُنۡتُمۡ اَمۡوَاتًا فَاَحۡیَاکُمۡ ۚ ثُمَّ یُمِیۡتُکُمۡ ثُمَّ یُحۡیِیۡکُمۡ ثُمَّ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۲۸﴾} (البقرۃ) ’’اور تم مردہ تھے‘ پھر اُس نے تمہیں زندہ کیا‘پھر وہ تمہیں مارے گا‘ پھر جلائے گا‘ پھر تم اُسی کی طرف لوٹا دیے جاؤ گے‘‘۔ زندگی کے اس تسلسل کے اندر موت کے مرحلے کی توجیہہ میر تقی میر نے ان الفاظ میں بیان کی ہے : ؎

موت اِک ماندگی کا وقفہ ہے

یعنی آگے چلیں گے دم لے کر!

بہرحال انسان کی دُنیوی زندگی ایک وقفہ امتحان ہے اور موت اس وقفے کے اختتام کی گھنٹی ہے : {نَحۡنُ قَدَّرۡنَا بَیۡنَکُمُ الۡمَوۡتَ وَ مَا نَحۡنُ بِمَسۡبُوۡقِیۡنَ ﴿ۙ۶۰﴾} (الواقعۃ)۔ اس وقفہ امتحان کا انداز بالکل اسکولوں اور کالجوں کے امتحانات جیسا ہے ۔ فرق بس یہ ہے کہ ان امتحانات کے لیے چند گھنٹوں کا وقت دیا جاتا ہے‘جبکہ انسانی زندگی کے حقیقی امتحان کا دورانیہ اوسطاً تیس چالیس برس پر محیط ہے۔ ظاہرہے انسان کی زندگی کے ابتدائی بیس پچیس برس تو بچپنے اور غیر سنجیدہ رویے کی نذر ہو جاتے ہیں ۔پھر اگر کسی کو بڑھاپا دیکھنا نصیب ہو تو اپنی آخری عمر میں وہ {لِکَیْلَا یَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا} (الحج:۵) کی عبرت ناک تصویر بن کر رہ جاتا ہے۔ لے دے کر ایک انسان کو عمل کے لیے شعور کی عمر کے اوسطاً تیس چالیس سال ہی ملتے ہیں۔ علامہ اقبال نے اپنی مشہور نظم خضر راہ میں ’’زندگی‘‘ کے عنوان کے تحت زندگی کے اس فلسفے پر کمال مہارت سے روشنی ڈالی ہے۔ اس نظم کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:

؎

برتر از اندیشۂ سود و زیاں ہے زندگی

ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں ہے زندگی!

؎

تو اسے پیمانۂ امروز و فردا سے نہ ناپ

جاوداں‘ پیہم دواں‘ ہر دم جواں ہے زندگی!

؎

قلزمِ ہستی سے تو اُبھرا ہے مانندِ حباب

اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی!

ان اشعار میں علامہ اقبال نے دراصل قرانی آیات ہی کی ترجمانی کی ہے۔ مندرجہ بالا آخری شعر (قلزمِ‘ہستی…) آیت زیر مطالعہ کے مفہوم کا ترجمان ہے‘ جبکہ پہلے شعر میں سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۵۴ {وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ یُّقۡتَلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَمۡوَاتٌ ؕ بَلۡ اَحۡیَآءٌ …} کا بنیادی فلسفہ بیان ہوا ہے۔ ظاہر ہے عام طور پر تو زندہ جان کو ہی زندگی کانام دیا جاتا ہے‘لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ حقیقی اور دائمی زندگی جان دے دینے (تسلیمِ جاں) سے حاصل ہوتی ہے۔

3-5

اللہ کی تخلیق ہر نقص سے پاک ہے

ویڈیو

الَّذِیۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ؕ مَا تَرٰی فِیۡ خَلۡقِ الرَّحۡمٰنِ مِنۡ تَفٰوُتٍ ؕ فَارۡجِعِ الۡبَصَرَ ۙ ہَلۡ تَرٰی مِنۡ فُطُوۡرٍ ﴿۳﴾ ثُمَّ ارۡجِعِ الۡبَصَرَ کَرَّتَیۡنِ یَنۡقَلِبۡ اِلَیۡکَ الۡبَصَرُ خَاسِئًا وَّ ہُوَ حَسِیۡرٌ ﴿۴﴾ وَ لَقَدۡ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنۡیَا بِمَصَابِیۡحَ وَ جَعَلۡنٰہَا رُجُوۡمًا لِّلشَّیٰطِیۡنِ وَ اَعۡتَدۡنَا لَہُمۡ عَذَابَ السَّعِیۡرِ ﴿۵﴾

آیت 3

الَّذِیۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ؕ

’’(وہ اللہ کہ) جس نے بنائے سات آسمان ایک دوسرے کے اوپر۔‘‘

یہ آیت آیاتِ متشابہات میں سے ہے ۔ ابھی تک انسان سات آسمانوں کی حقیقت کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔

مَا تَرٰی فِیۡ خَلۡقِ الرَّحۡمٰنِ مِنۡ تَفٰوُتٍ ؕ

’’تم نہیں دیکھ پاؤ گے رحمن کی تخلیق میں کہیں کوئی فرق۔‘‘

اس کائنات کا نظام اور اس میں موجود ایک ایک چیز کی تخلیق اس قدر خوبصورت‘ محکم ‘ مربوط اور کامل ہے کہ اس میں کسی خلل‘ نقص‘ رخنے ‘بدنظمی یا عدمِ تناسب کا کہیں شائبہ تک نظر نہیں آتا ۔ اس حقیقت کی گواہی نسل انسانی نے اپنے اجتماعی علم کی بنیاد پر ہر زمانے میں دی ہے ۔ ہر زمانے کے سائنس دانوں نے فلکیات‘ ارضیات‘ طبیعیات‘ حیوانیات‘ نباتات غرض سائنس کے تمام شعبوں میں حیران کن تحقیقات کی ہیں ‘لیکن آج تک کوئی ایک محقق یا سائنسدان یہ نہیں کہہ سکا کہ قدرت کی بنائی ہوئی فلاں چیز میں فلاں نقص ہے یا یہ کہ فلاں چیز اگر ایسے کی بجائے ویسے ہوتی تو زیادہ بہتر ہوتی۔

فَارۡجِعِ الۡبَصَرَ ۙ ہَلۡ تَرٰی مِنۡ فُطُوۡرٍ ﴿۳﴾

’’پھر لوٹاؤ نگاہ کو‘ کیا تمہیں کہیں کوئی رخنہ نظر آتا ہے؟‘‘

آیت 4

ثُمَّ ارۡجِعِ الۡبَصَرَ کَرَّتَیۡنِ یَنۡقَلِبۡ اِلَیۡکَ الۡبَصَرُ خَاسِئًا وَّ ہُوَ حَسِیۡرٌ ﴿۴﴾

’’پھر لوٹاؤ نگاہ کو بار بار(کوئی رخنہ ڈھونڈنے کے لیے) ‘پلٹ آئے گی نگاہ تمہاری طرف ناکام تھک ہار کر۔‘‘

اندازہ کیجیے کہ کس قدر پرزور اسلوب ہے اور کتنا بڑا چیلنج ہے! بار بار دیکھو‘ ہر پہلو اور ہر زاویے سے دیکھو! اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں تمہیں کہیں کوئی خلل‘ نقص یا رخنہ نظر نہیں آئے گا! ظاہر ہے یہ چیلنج پوری انسانیت کے لیے ہے اور قیامت تک کے لیے ہے۔بہرحال آج تک کوئی سائنس دان اور کوئی دانشور اس چیلنج کا جواب نہیں دے سکا۔ گویا اب تک پوری نوعِ انسانی اس نکتے پر متفق ہے کہ یہ کائنات اور اس کی ایک ایک تخلیق مثالی اور کامل ہے۔ دراصل دنیا بھر کے داناؤں اور دانشوروں کی توجہ اس مثالی تخلیق کی طرف دلا کر انہیں پیغام تو یہ دینا مقصود ہے کہ اے عقل کے اندھو! کائنات کی خوبصورتی اور کاملیت کو دیکھ کر اس پر حیرت کا اظہار کرنے کے بجائے اس کے خالق کو پہچانو اور اس کی عظمت کے سامنے اپنا سر نیازخم کرو۔ لیکن مقامِ حیرت ہے کہ ستاروں اور کہکشاؤں کی دنیا کے اسرار و عجائب کا کھوج لگانے والے بڑے بڑے سائنسدان اور ماہرین فلکیات بھی اس معاملے میں اپنے ناک تلے کے پتھر سے ٹھوکریں کھاتے رہے۔ ان لوگوں نے اپنی تحقیقات کے دوران بہت کچھ دریافت بھی کیا اور بہت کچھ دیکھا بھی۔ لیکن اس ساری چھان بین میں انہیں اگر نہیں نظر آیا تو اس کائنات کا خالق کہیں نظر نہیں آیا۔ بقول اقبال : ؎

ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا

اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا!

آیت 5

وَ لَقَدۡ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنۡیَا بِمَصَابِیۡحَ

’’اور ہم نے سب سے قریبی آسمان کو سجا دیا ہے چراغوں سے‘‘

یعنی زمین سے قریب ترین آسمان کو ستاروں سے مزین کر دیا گیا ہے۔

وَ جَعَلۡنٰہَا رُجُوۡمًا لِّلشَّیٰطِیۡنِ

’’اور ان کو بنا دیا ہے ہم نے شیاطین کو نشانہ بنانے کا ذریعہ‘‘

ان ستاروں میں ایسے میزائل نصب کر دیے گئے ہیں جو غیب کی خبروں کی ٹوہ میں عالم بالا کی طرف جانے والے شیاطینِ جن کو نشانہ بناتے ہیں۔

وَ اَعۡتَدۡنَا لَہُمۡ عَذَابَ السَّعِیۡرِ ﴿۵﴾

’’اور ان کے لیے ہم نے تیار کر رکھا ہے جلا دینے والا عذاب۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے