یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ تَوۡبَۃً نَّصُوۡحًا ؕ
’’اے اہل ایمان! توبہ کرو اللہ کی جناب میں خالص توبہ۔‘‘
یہ آیت اپنے مضمون اور اسلوب کے اعتبار سے زیر مطالعہ سورتوں کے گروپ میں منفرد حیثیت کی حامل ہے۔ اس میں پل صراط کے اس ماحول کی جھلک بھی دکھائی گئی ہے جس کی تفصیل سورۃ الحدید میں آئی ہے۔اس آیت کے ابتدائی حصے میں اہل ایمان کو توبہ سے متعلق جو حکم دیا گیا ہے اس حکم میں بہت جامعیت ہے۔ اس سے مراد صرف کسی ایک برے عمل کی توبہ نہیں کہ کوئی شخص شراب نوشی سے توبہ کر لے یا کوئی رشوت خوری سے باز آجائے‘بلکہ اس سے مراد غفلت کی زندگی اور معصیت کی روش سے توبہ ہے ۔بلکہ یوں سمجھئے کہ یہ زندگی کا رخ بدلنے کا حکم ہے‘ کہ اے ایمان کے دعوے دارو! ذرااپنی زندگی کے شب و روز پر غور تو کرو کہ تمہارا رخ کس طرف ہے؟تمہاری زندگی کے سفر کی منزل کیا ہے؟ تم محمد رسول اللہﷺ کے نقش قدم پر چل رہے ہو یا کسی اور کی پیروی کر رہے ہو؟ {فَاَیۡنَ تَذۡہَبُوۡنَ ﴿ؕ۲۶﴾} (التکویر) ----- تو اے اللہ کے بندو!اپنی زندگی کے شب و روز اور معمولات کاجائزہ لو‘ اپنی دوڑ دھوپ اور اپنی ترجیحات پر غور کرو۔پھر اگر تم محسوس کرو کہ تم غلط رخ پر جا رہے ہو تو اپنے بڑھتے ہوئے قدم فوراً روک لو {فَفِرُّوۡۤا اِلَی اللّٰہِ ؕ } (الذاریات:۵۰) اور کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر اپنے رب کی طرف پلٹ آؤ ! تمہارے پلٹنے کے لیے اللہ کی رحمت کا دروازہ اس وقت تک کھلا ہے جب تک تمہاری موت کے آثار ظاہر نہیں ہوتے۔چنانچہ ابھی موقع ہے کہ اس کے حضور سجدہ ریز ہو کر اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرو ‘ زندگی کے جو ماہ و سال غفلت کی نذر ہو گئے ہیں ان پر اشک ندامت بہاؤ ‘ صدقِ دل اور اخلاصِ نیت سے معافی مانگو اور غلط روش کو ترک کرنے کے بعد زندگی کا سفر از سرنو شروع کرو۔
یہاں پر یہ نکتہ بھی سمجھ لیجیے کہ سفر زندگی کی سمت درست کرنے کے لیے فرائض دینی کا درست فہم اور ادراک بھی ضروری ہے۔ظاہر ہے دین صرف نمازیں پڑھنے اور رمضان کے روزے رکھنے ہی کا نام نہیں‘ بلکہ ایک بندۂ مؤمن کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی معاشرت اور معیشت کو بھی ’’مسلمان‘‘ کرے۔ پھر یہ کہ جو ہدایت اسے نصیب ہوئی ہے اسے دوسروں تک پہنچانے کا اہتمام کرے اور کسی جماعت میں شامل ہو کر دین کے سب سے اہم فرض کی ادائیگی یعنی باطل نظام کے خاتمے اور اللہ تعالیٰ کی حکومت کے قیام کی جدوجہدمیں سرگرمِ عمل ہوجائے۔ اس کے لیے انقلابِ نبویؐ کے منہج کو سمجھنا اور اس منہج کی پیروی کرنا بہت ضروری ہے۔ آج ہماری جدوجہد میں حضور اکرمﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محنت اور کوشش کی سی کیفیت تو پیدا نہیں ہو سکتی کہ ؏
’’وہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا!‘‘
لیکن ہمیں آپؐ کے منہج پر چلنے کی کوشش تو کرنی چاہیے۔ ادنیٰ سے ادنیٰ درجے میں سہی آپؐ کی تحریک کے ساتھ اپنی جدوجہد کی کچھ نہ کچھ مماثلت اور مشابہت تو پیدا کرنی چاہیے۔ چنانچہ ایک ایک گھر اور ایک ایک فرد تک دعوت پہنچانے کا اہتمام‘ دعوت پر لبیک کہنے والوں کی تنظیم و تربیت کا انتظام‘ صبر و مصابرت کی حکمت عملی‘جیسے ضروری مراحل ہمیں اسی طریقے سے طے کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جس طریقے سے خود حضورﷺ نے یہ مراحل طے فرمائے تھے۔ اس موضوع پر مزید معلومات کے لیے میری کتاب ’’منہجِ انقلابِ نبویؐ‘‘ اور اسی عنوان سے تقاریر کی ریکارڈنگ سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
عَسٰی رَبُّکُمۡ اَنۡ یُّکَفِّرَ عَنۡکُمۡ سَیِّاٰتِکُمۡ
’’امید ہے تمہارا رب تم سے تمہاری برائیوں کو دور کردے گا‘‘
تمہارے توبہ کرنے سے اللہ تعالیٰ تمہارے نامہ اعمال سے تمام دھبے دھو ڈالے گااور تمہارے دامنِ کردار کے تمام داغ صاف کر دے گا۔ حضورﷺ کا ارشادہے: حدیث((اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لاَ ذَنْبَ لَـہٗ))۱ کہ گناہ سے توبہ کرنے والا ایسے ہو جاتا ہے جیسے اس نے وہ گناہ کبھی کیا ہی نہ ہو۔
وَ یُدۡخِلَکُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۙ
’’اور تمہیں داخل کرے گا ایسے باغات میں جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی‘‘
یَوۡمَ لَا یُخۡزِی اللّٰہُ النَّبِیَّ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ ۚ
’’جس دن اللہ اپنے نبی(ﷺ) کو اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو رسوا نہیں کرے گا۔‘‘
نُوۡرُہُمۡ یَسۡعٰی بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ بِاَیۡمَانِہِمۡ
’’(اُس دن) ان کانور دوڑتا ہو گا ان کے سامنے اور ان کے داہنی طرف‘‘
یہ مضمون اس سے پہلے انہی الفاظ میں سورۃ الحدید کی آیت ۱۲ میں بھی آ چکا ہے۔نورِ ایمان ان کے سامنے ہو گا جبکہ اعمالِ صالحہ کا نور داہنی طرف ہو گا۔
یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اَتۡمِمۡ لَنَا نُوۡرَنَا
’’وہ کہتے ہوں گے: اے ہمارے رب! ہمارے لیے ہمارے نور کو کامل کر دے‘‘
وَ اغۡفِرۡ لَنَا ۚ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۸﴾
’’اور تو ہمیں بخش دے‘ یقینا تو ہر شے پر قادر ہے۔‘‘
ہر بندۂ مؤمن کا نور اس کے ایمان اور اعمالِ صالحہ کی مناسبت سے ہو گا۔ حضرت قتادہؒ سے مرسلاً روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’کسی کا نور اتنا تیز ہو گا کہ مدینہ سے عدن تک کی مسافت کے برابر فاصلے تک پہنچ رہا ہو گا اور کسی کا نور مدینہ سے صنعاء تک‘ اور کسی کا اس سے کم‘ یہاں تک کہ کوئی مؤمن ایسابھی ہوگا جس کا نور اس کے قدموں سے آگے نہ بڑھے گا۔‘‘ (ابن جریر) ۱
حضورﷺ کے اس فرمان کے مطابق تصور کریں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نور کا کیا عالم ہو گا۔ بہرحال ہم جیسے مسلمانوںکو اس دن اگر ٹارچ کی روشنی جیسا نور بھی مل جائے تو غنیمت ہے۔ لیکن ہمارے لیے یہاں توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ اس دن کچھ لوگوں کا نور کم کیوں ہو گا۔ یقینا وہ ایسے لوگ ہوں گے جن کے ایمان میں کسی پہلو سے کوئی کمزوری رہ گئی ہو گی اور اعمال میں کوتاہیاں سرزدہوئی ہوں گی۔ یقینا انہوں نے اپنی استعداد کو‘ اپنے مال کو اور اپنی خداداد صلاحیتوں کو بچا بچا کر رکھا ہو گا اور اللہ کے راستے میں انہیں اس حد تک خرچ نہیں کیا ہو گا جس حد تک خرچ کرنے کے وہ مکلف تھے۔ اس حوالے سے علامہ اقبال کی یہ نصیحت ہمیں حرزِجاں بنا لینی چاہیے : ؎
تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے‘ ترا آئینہ ہے وہ آئینہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں!
بہرحال پل صراط کے کٹھن اور نازک راستے پر جن اہل ایمان کا نور کم ہو گا وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ اے اللہ !تو اپنے فضل اور اپنی شانِ غفاری سے ہماری کوتاہیوں کو ڈھانپ لے اور ہمارے نور کو بھی مکمل فرمادے۔
(۱) سنن ابن ماجہ‘ کتاب الزھد‘ باب ذکر التوبۃ- صحیح الجامع للالبانی‘ح:۳۰۰۸۔ راوی: عبداللّٰہ بن مسعود وابوسعید الخدری رضی اللّٰہ عنھما۔ السنن الکبریٰ للبیھقی: ۱۰/۱۵۴۔
(۱) اس ضمن میں ایک حدیث میں یہ الفاظ بھی وارد ہوئے ہیں: ((… فَمِنْھُمْ مَنْ یُعْطٰی نُوْرَہٗ مِثْلَ الْجَبَلِ الْعَظِیْمِ یَسْعٰی بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ‘ وَمِنْھُمْ مَنْ یُعْطٰی نُوْرَہٗ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِکَ ‘ وَمِنْھُمْ مَنْ یُعْطٰی مِثْلَ النَّخْلَۃِ بِیَدِہٖ‘ وَمِنْھُمْ مَنْ یُعْطٰی اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِکَ‘ حَتّٰی یَکُوْنَ آخِرُھُمْ یُعْطٰی نُوْرَہٗ عَلٰی اِبْھَامِ قَدَمِہٖ یُضِیْئُ مَرَّۃً وَیُطْفِأُ مَرَّۃً…)) ]الترغیب والترھیب للمنذری:۴/۲۹۶ راوی : عبداللّٰہ بن مسعودرضی اللہ عنہ۔ امام البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔[ ’’… پس ان میں سے بعض کو اتنا نور عطا کیا جائے گا جو بہت بڑے پہاڑ کی مانند ہو گا اور وہ ان کے دائیں طرف دوڑتا ہو گا‘ اور کسی کو اس سے کم نور عطا کیا جائے گا۔ اور ان میں کسی کو اتنا نور عطا کیا جائے گا گویا اس کے ہاتھ میں کھجور کا درخت ہے اور کسی کو اس سے کم نور عطا ہو گا۔ حتیٰ کہ ان میں سے سب سے آخری شخص کاحال یہ ہوگا کہ اس کو بس اتنا سا نور عطا کیا جائے گا جو اس کے پائوں کے انگوٹھے پر ہو گا‘ جو کبھی جلتا اور کبھی بجھتا ہو گا… ‘‘ (حاشیہ از مرتب)